شوہر ملک سے باہر ہے ،بیوی ساس کے پاس رہتی ہے۔گھر کا خرچ سسر چلاتے ہیں جو کہ قومی بچت میں فکس کروائی ہوئی رقم پر ملنے والا منافع ہے۔بیوی کیا کرئے؟جبکہ شوہر سمیت سب لوگ اس کو جائز سمجھتےہوں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

قومی بچت میں فکس کروائی ہوئی رقم سے ملنے والا منافع خالصتاًسود ہے، اس سے اجتناب لازم ہےاور بیوی کے اخراجات شوہر پر لازم ہیں، لہذا وہ شوہر سے رزق حلال کا پر زور مطالبہ کرتی رہے۔
اگر بیوی کے لیے حلال آمدن کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے،مثلاً وہ شوہر کے نام قرض نہیں لے سکتی یا کوئی دوسرا شخص اس پر خرچ کرنے والا بھی نہیں ہے تو بوجہ مجبوری عورت بقدر ضرورت یہ مال استعمال کر سکتی ہے ان شاء اللہ گناہگارنہ ہو گی تاہم ساتھ ساتھ استغفار کرتی رہے اب اس صورت حال میں اہل و عیال کےلئے رزق حلال کا انتظام نہ کرنے کی وجہ سے خاوند گناہگار ہو گا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/254،الطارق)
ذھب بعض العلماء المعاصرین الی القول بحل فوائد البنوک وشھادات الاستثمار . . . . وھی دعوی باطلۃ لان تلک المعاملات تعتبر من القرض بفائدۃ مشروطۃ فھی تندرج تحت ربا النسیئۃ المحرم بالنصوص الصحیحۃ والاجماع ولم یخالف فی حرمتھا مسلم قبلھا
وفی فقہ البیوع:(2/1063،معارف القرآن)
وحساب التوفیر حساب یعطی الحق لصاحب الحساب ان یسحب حداً معیناً من المبالغ المودعۃ فیہ ویعطی البنک علی ذلک فائدۃ ربویۃ بنسبۃ ادنی من النسبۃ التی تعطی لصاحب الودیعۃالثابتۃالتی تودع فیھا الاموال الی مدۃ معینۃ وتعطی البنوک لاصحابھا فائدۃ بنسبۃ اعلی، وکل واحد من الحسابین ربوی بحت ولایداع فی ھذین الحسابین حرام شرعاً لکونہ تعاقداً بالربوا
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3745،3746،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/64،73،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(7/307،413،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/158،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(3/400،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/12/2020/1442/5/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:62

ایک مذبح خانے میں روزانہ 100 جانور ذبح ہوتے ہیں۔ان کا بہت سارا خون جمع ہو جاتا ہے،اس خون میں پانی،مذبح خانے کی گندگی،گوبر اورآلائشیں وغیرہ بھی ڈال دی جاتی ہیں۔کیا اس خون کی اس طرح خرید وفروخت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خالص خون کی خرید و فروخت جائز نہیں ،البتہ اس کے ساتھ پانی اور دیگر آلائشیں وغیرہ کثیر مقدار میں مل جائیں تو پھر جائز ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
واما العذرۃ ولا یجوز الانتفاع بھا ما لم تختلط با لتراب ویکون التراب غالباً وکذا بیع العذرۃ لا یجوز ما لم تختلط بالتراب ویکون التراب غالباً
وفی التنویر مع الشرح:(9/634، رشیدیہ)
کرہ بیع الذرۃ ) رجیع الٰادمی(خالصۃلا)یکرہ بل یصح بیع(السرقین)ای الزبل(خلافا للشافعی(وصح)بیعھا (مخلوطۃبتراب او رماد غلب علیھا)
وکذافی الھدایة:(4/472،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/214،علوم اسلامیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(21/25،علوم اسلامیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/308،311،312 ،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:61

میزان بینک نے”میرا گھر،میرا پاکستان“کے نام سے گھر بنانے کے لیے قرض دینے کی اسکیم شروع کی ہے۔یہ اسکیم دوسرے بینک بھی چلا رہے ہیں۔کیا میزان بینک سے اس اسکیم کے تحت قرض لینا درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

لوگوں کو گھر بنانے کے لیے بینک جو رقم دیتے ہیں،اس میں روایتی سودی بینکوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ ضرورت مند کو متعین وقت تک کے لیے رقم قرض دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں۔ضرورت مند خواہ اس رقم سے گھر بنائے یا اس کو کسی دوسرے استعمال میں لائے ،بینک کو اس سے کچھ سروکار نہیں ہوتا۔یہ طریقہ چونکہ سود پر مبنی ہے،لہٰذا یہ ناجائز اور حرام ہے۔
اسلامی بینک،جن میں”میزان بینک “سرفہرست ہے،یہ گھر بنانے کے لیے شرکتِ متناقصہ کے طور پر رقم دیتے ہیں۔اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گھر بنانے کے لیے کچھ رقم ضرورت مند دیتا ہے اور باقی رقم بینک دیتا ہے۔اس طرح وہ گھر ضرورت مند اور بینک کے درمیان مشترک ہو جاتا ہے۔گھر میں بینک کے حصوں کو چھوٹے چھوٹے یونٹس پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ضرورت مند ان یونٹس کا کرایہ دیتا رہتا ہےاور ساتھ ساتھ ان یونٹس کو خریدتا بھی رہتا ہے۔جن حصوں کو وہ خرید لیتا ہےان کا کرایہ نہیں دینا پڑتا۔بینک کے حصوں کا کرایہ دینے اور ان کو خریدنے کا ضرورت مند شروع میں وعدہ کرتا ہے۔ضرورت مند جب بینک کے حصوں کوخرید لیتا ہے تو وہ اس گھر کامکمل مالک بن جاتا ہےاور بینک کو کرایہ دینا بند کر دیتا ہے۔یہ سارا معاملہ شرعاً درست ہے۔لہٰذا”میزان بینک“کی گھر بنوانے والی اسکیم”میرا گھر،میرا پاکستان“سے گھر بنانے کےلیے رقم لینا جائز اور دیگر سودی بینکوں سے گھر بنانے کے لیے سود پر قرض لینا ناجائز اور حرام ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرة:275)
اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
وفی عمدة القاری:(13/73،دار احیاءالتراث العربی بیروت)
“وحرم کل قرض جر منفعۃ.”
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/248،معارف القرآن کراچی)
ونظراً الی ھذا ظھرت فی معظم البلاد الیوم مؤسسات تقوم بتمویل الناس لشراء المساکن او بنائھا،ولکن اکثرھا انما تعمل فی اطار النظام الربوی فتقدم الی عملائھا قروضا ،وتطالبھم علی ذلک بالفائدۃ المعینۃالمتفق علیھا فی عقد التمویل ،وبما ان ھذا العقد یقوم علی اساس الربا وھو من اکبر المحرمات التی نھی عنھا اللہ سبحانہ وتعالی فی کتابہ المجید ،فانہ لا یجدر بأی مسلم ان یدخل فی عقد یقوم علی الاساس الفاسد
وفیه ایضاً:(1/261)
نعم یجوز ان تحدث بینھم اتفاقیةیتواعدان فیھا بالدخول فی ھذہ العقود ،فیتفقان علی انھما یشتریان الدار الفلانیة بمالھما المشترک،ثم یوجر الممول حصتہ الی العمیل باجرۃ معلومۃ، ثم یشتری العمیل حصۃ الممول باقساط متعددۃ الی ان یتملک الدار کلھا
وکذافیه ایضاً:(1/259)
وکذافی الھندیة:(3/209،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(300/4.84,275/5، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الدر المختار:(299,300/4.166/5.47,48/6،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:200

ایک دوکاندار کے پاس ایک گاہک آیا،اس کا مطلوبہ سامان دوکاندار کے پاس نہیں تھا۔دوکاندار نے گاہک سے پیسے لے لیے اور کہا کہ تم فلاں دوکاندار کے پاس سےیہ سامان لے لومیں اس کو فون کر دیتا ہوں۔پھر اس دوکاندار نے کچھ نفع خود رکھا اور کچھ نفع دوسرے دوکاندار کو دے دیا۔کیا یہ طریقہ درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں اور پہلے دوکاندار نے جو نفع لیا ہے،وہ بھی جائز نہیں ہے۔لہٰذا اس پر ضروری ہے کہ اگر گاہک معلوم ہو تو وہ نفع اسے واپس کرے ،ورنہ اس نفع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/286،قدیمی کراچی)
عن)ابن عبّاس یقول امّا الّذی نہی عنہ النّبیّ صلّی اللّہ علیہ وسلّم فھو الطّعام ان یّباع حتّی یقبض قال ابن عبّاس ولا احسب کلّ شیءٍ الّا مثلہ
وفی المبسوط للسّرخسی:(14/8،دار المعرفة بیروت)
ومن اشتریٰ شیئاً فلا یجوز لہ ان یّبیعہ قبل ان یّقبضہ ولا یولّیہ احداً ولا یشرک فیہ
وفی شرح المجلّة:(2/88،رشیدیة کوئٹه)
وبقی ایضاً مّن الشّروط الستّۃ الشّرط الخامس،وھو کون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ،فیبطل بیع ما لیس مملوکا لہ اذا باعہ لنفسہ وان ملکہٗ بعدہٗ
وکذافی الھندیة:(3/13،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی شرح المجلّة:(2/173.174،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/351،دار العلوم کراچی)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامد یة:(1/417،قدیمی کراچی)
وکذافی الشّامیة:(5/58.59.99،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/227،دار احیاء تراث العربی بیروت)
وکذافی بدائع الصّنائع:(4/322.340.341.394،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی فقه البیوع:(1/333.334.392.393.396.397،معارف القرآن کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:30

ایک کسان نے ایک شخص سے 30 ہزار روپے لیے اور کہا:میں اب جو چنے کی فصل کاشت کروں گا،اس کا تیسرا حصہ تمہارا ہو گا۔کاشت کار نے اس رقم سے کچھ کاشت میں لگائی اور بقیہ اپنے پاس محفوظ رکھی تھی۔اب فصل کسی وجہ سے ہلاک ہوگئی ہےتو اس معاملہ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا اب کسان پر اس رقم کا واپس کرنا لازم ہے؟جبکہ رقم دینے والا آدمی اپنی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

آدمی کچھ رقم قرض دے کر دوسرے کی فصل میں متعین حصہ کا شریک بن جائے،یہ واضح سود اور صریح حرام ہے،ایسی صورت میں شرعاً قرض دینے والا فقط اپنی رقم کا حق دار ہے۔فصل کی کسی مقدار کا نہ وہ حق دار ہے اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

لما فی السنن الکبری للبیھقی:(5/573،DKI بیروت)
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1442/2021/5/5
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:155

ایک شخص نے دوکان دار سے دو ہزار روپے کے بدلے میں ایک چیز خریدی۔خریدنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں عیب ہے۔اب خریدار وہ چیز واپس کرناچاہتاہے ،مگر دوکان دار کہتا ہے :میں پانچ سو روپے کم میں یعنی پندرہ سو کی واپس لوں گا۔کیا دوکان دار کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اگر خریدنے سے پہلے ہی وہ عیب موجود تھا تو دوکان دار کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ اس پر شرعاً لازم ہے کہ وہ خریدار کو پوری رقم واپس کرے۔

لما فی الھدایة:(3/42،رحمانیة لاھور)
وإذا اطلع المشتري على عيب في المبيع فهو بالخيار، إن شاء أخذه بجميع الثمن وإن شاء رده ،لأن مطلق العقد يقتضي وصف السلامة، فعند فواته يتخير كيلا يتضرر بلزوم ما لا يرضى به
وفی الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید:(4/135،الطارق افغانستان)
واذا اطلع المشتری علی عیب فی المبیع ،ولم یکن شرط البراءۃ من کل عیب ،فھو بالخیار ان شاء اخذ ذلک المبیع بجمیع الثمن ،وان شاء ردہ
وکذافی الھندیة:(3/66،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/31،امدادیة ملتان)
وکذافی فقه البیوع:(2/826،معارف القرآن کراچی)
وکذافی العنایة علی ھامش فتح القدیر:(6/327، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی اعلاء السنن:(14/57،اداة القرآن والعلوم الاسلامیة کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1442/2021/3/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:189

ہمارے ہاں سردیوں کے دنوں میں کچھ لوگ لکڑی خرید کر اس کو اسٹاک کر لیتے ہیں اور وزن کی پرچی کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔چار،پانچ ماہ بعد جب وہ لکڑی کو فروخت کرتے ہیں تو سابقہ پرچی پر جووزن ہوتا ہے ،اسی وزن پر وہ نفع لے کر فروخت کرتے ہیں،حالانکہ لکڑی کاوزن کم ہو چکا ہوتا ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ سابقہ وزن پر نفع لےکر لکڑی بیچنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر موجود لکڑی یعنی ڈھیر وغیرہ کوبیچنا مقصود ہو،وزن کا ذکر صرف اندازے کے لیے ہو اور کسی قسم کا دھوکہ اور غلط بیانی نہ ہو تو اس خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں اور اگر وزن ہی کو بنیاد بنایا جائے تو جب تک وزن پورا نہ کر لیا جائےتو یہ معاملہ جائز نہیں ہو گا۔

لما فی الھدایة:(3/21،رحمانیہ لاھور)
والاعواض المشار الیہا لا یحتاج الی معرفۃ مقدارھا فی جواز البیع لان بالاشارۃ کفایۃ فی التعریف،وجھالۃ الوصف فیہ لا تفضی الی المنازعۃ
وفی فقه البیوع :(1/371،معارف القرآن کراچی)
اما معرفۃ مقدار المبیع،فشرط لصحۃ البیع ان کان البیع بمقدار،بان یقع البیع کیلا،او وزنا،او عددا فیجب ان یعرف مقدار المبیع.اما اذا وقع البیع بالاشارۃ او بالتعیین،فلا یجب معرفۃ المقدار. مثال الاشارۃ ان یقول البائع :”بعت منک ھذا القطیع من الغنم ،او ھذہ الصبرۃ من الطعام بکذا” ولا یعرف عددالغنم فی الاول،وکیل الطعام او وزنہ فی الثانی،جاز البیع،وھو ما یسمی “البیع مجازفۃ
وکذافی الھدایة:(3/79،رحمانیة لاھور)
وکذافی کنز الدقائق:(247،حقانیة ملتان)
وکذافی شرح المجلة:(2/88.89.90،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(4/529.530،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی البحر الرائق:(5/454.456.457،رشیدیہ کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:84

ایک آدمی اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر ہے۔مکانات وغیرہ حاصل کرنے کے لیےمختلف کرایہ دار اس کے پاس آتے رہتے ہیں۔اب وہ کسی کرایہ دار کو مکان لے کر دیتا ہےتو عرف کی بنیاد پر (کیونکہ یہ بات وہاں مشہور ہے)یا مالکِ مکان کی اجازت سے وہ پہلے مہینے کا پورا یا آدھا کرایہ خود رکھتا ہے ۔کیایہ کرایہ اس کے لیے درست ہے؟شرعاً اس میں کچھ کراہت وغیرہ تو نہیں ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پراپرٹی ڈیلر کا اس طرح اپنی اجرت لینا درست ہے،بشرطیکہ اجرت معلوم اور متعین ہو۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(15/115،دار المعرفة بیروت)
والسمسار اسم لمن یعمل للغیر بالاجر بیعا وشراء ومقصودہ من ایراد الحدیث بیان جواز ذلک
وفی الشامیة:(6/63،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وفی الحاوی سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃ السمسار،فقال:أرجو أنہ لا بأس بہ وان کان فی الاصل فاسدا لکثرۃ التعامل وکثیر من ھذاغیر جائز، فجوزوہ لحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام
وکذافی شرح المجلة:(1/101،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(7/530،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/303،قدیمی کراچی)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(3/116،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/336،دار العلوم کراچی)
وکذافی المختصر فی الفقه الحنفی:(398، البشری کراچی)
وکذافی الدر المختار:(6/5.46.47،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی الفقه الاسلامی وادلته:(5/3326.3822،رشیدیہ کوئٹہ)

واللہ تعالی ٰاعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2020/12/31
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:109

ایک جھگڑے کے دوران نوجوان زخمی ہواہے۔زخم گہرا ہے لیکن ہڈی نہیں ٹوٹی۔زخمی کے والد نے عدالت میں کیس کر دیاہے۔دوسرے فریق کے والدین صلح کرنا چاہتے ہیں تو کیا زخمی کے والدین بطورِ صلح ان سے کچھ رقم وغیرہ لے سکتے ہیں؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

عدالت یا ایسی پنچائت جس میں کوئی مستند عالم بھی ہو،اس کے ذریعے جو بدلِ صلح طے ہو،وہ لیا جا سکتا ہے۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(26/74،دار المعرفة بیروت)
والجنايات فيما دون النفس توجب القصاص إذا أمكن اعتبار المساواة فيها، فأما قبل الموضحة من الشجاج ففيها حكومة عدل إذا كانت خطأ، وكذلك إن كانت عمدا…….وإيجاب حكومة العدل في هذه الشجاج مروي عن إبراهيم النخعي وعمر بن عبد العزيز رحمهما الله قالا ما دون الموضحة من الشجاج بمنزلة الخدوش ففيها حكومة عدل
وفی کنز الدقائق:(460،حقانیة ملتان)
وفي الحارصة والدامعة والدامية والباضعة والمتلاحمة والسمحاق حكومة عدل
وکذافی الھدایة:(4/584،رحمانیة لاھور)
وکذافی التنویر مع شرحه:(6/580.581،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(21/82.83…27/323.326،علوم اسلامیة چمن)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:83

جانور خرید کر ادھیے وغیرہ پر دینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جانوروں کو ادھیہ پر دینے کے بارے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔حنابلہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور حنفیہ ناجائز،البتہ موجودہ دور کے بعض علمائے کرام نے عمومِ بلوی کی وجہ سے اس کے جائز ہونے کا قول اختیار کیا ہے،چنانچہ ہندوستان کے مشہور عالمِ دین، شیخ الاسلام ،حضرت مولانا مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تحریر کیا ہے
آج کل مویشیوں میں بٹائی پر لین دین اور ادھیا پر دینے کا عام رواج ہے۔فقہائے حنابلہ رحمھم اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی اجازت ہے احناف رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے البتہ یہ حیلہ بتلایا ہے کہ اس کا آدھا حصہ پرورش کرنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور پھر اس کو قیمت سے بری الذمہ کر دے،اس طرح جانور میں دونوں کی شرکت ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع دودھ اور بچوں میں دونوں شریک ہو جائیں گے۔

والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمن ویبرئہ عنہ ثم ما یامر باتخاذ اللبن و المصل فیکون بینھما و کذا لو دفع الدجاج علی ان یکون البیض بینھما

ترجمہ:اس کے جواز کے لئے حیلہ یہ ہے کہ جانور کا نصف پالنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور پھر قیمت معاف کر دے ،پھر دودھ اور گھی وغیرہ حاصل کرنے کا حکم کرے اور حاصل ہونے والی چیزیں دونوں کے درمیان تقسیم ہوا کریں گی اور ایسا ہی حکم ہوگا اگر مرغی کو اس شرط پر دیا ہو کہ انڈے دونوں کے درمیان تقسیم ہوا کریں گے۔
راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس تکلف کی بجائے موجودہ زمانہ میں عرف و رواج کی بنیاد پر حنابلہ رحمھم اللہ تعالیٰ کا نقطۂ نظر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کارجحان بھی اسی طرف ہے۔اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔

کتب الیٰ بعض الاصحاب من فتاوی ابن تیمیۃ کتاب الاختیارات ما نصہ ولو دفع دابتہ او نخلہ الیٰ من یقوم لہ،ولہ جزء من نمائہ صح وھو روایۃ عن احمد

پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد ناجائز ہے،کما نقل فی السوال عن العالمگیریۃ.،لیکن بنا بر نقل بعض اصحاب امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے،پس تحرز احوط ہے اور جہاں ابتلاء شدید ہو توسع کیا جا سکتا ہے۔

(جدید فقہی مسائل:1/275،زمزم پبلشرز)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1442/2021/1/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:130