ایک آدمی نے کسی سے قرض لینا تھا۔جب مقروض اس کو ملا تو اس نے مقروض سے کہا کہ قرض دو۔ مقروض نے کہا ٹھیک ہے،میں دیتا ہوں۔مقروض کے پاس اس وقت موٹرسائیکل تھی۔قرض خواہ نے پوچھا کہ اس کی کتنی قیمت ہے؟ مقروض نے کہا:”تقریبا 20 ہزار“قرض خواہ نے وہ موٹرساہیکل قبضہ میں لی اور کہا کہ یہ میں نے اس قرض کے بدلہ خرید لی۔پھر قرض خواہ نے وہی موٹر سائیکل مقروض کو 25ہزار کے عوض ایک سال کی قسطوں پر فروخت کر دی۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی سے 30 ہزار روپے قرض لینا تھا۔ اب قرض خواہ مقروض کے پاس گیا تو اس کے ہاں 30ہزار سے زائد مالیت کی موٹرسائیکل کھڑی تھی۔ قرض خواہ اسے ہی اپنے قرض کے بدلےلے آیا اور پھر اسی مقروض کو 45ہزار کے عوض قسطوں پر فروخت کردی تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں صورتوں میں یہ خریدوفروخت درست ہے،بشرطیکہ ان باتوں کا لحاظ رکھا جائے:(1)قرض کے بدلے میں موٹرسائیکل خریدنا اور پھر اس کو بیچنا فریقین کی دلی رضامندی سے ہو اور خریدتے وقت دوبارہ بیچنے کی شرط بھی نہ لگائی جائے۔(2)ان معاملات کو مستقل اور حیلہ سود کے طور پر اختیار نہ کیا جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/15،الطارق)
 شروط البیع… فی العاقد وھو ان یکون عاقلا ممیزا راضیا لقولہ تعالی: یٰآیھا الذین آمنوا لاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا أن تکون تجٰرۃ عن تراض منکم
وفیہ ایضاً:(4/30،الطارق)
عن ابن عمر قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول: اذا ضمن الناس بالدینار و الدرھم وتبایعوا بالعینۃ… انزل اللہ بھم ذلاً …فی ھذا الحدیث دلالۃ علی کراھۃ العینۃ و لکن لم یقع تفسیرھا فی الحدیث و قد فسر فی أثر ابن عباس بأن یبیع الرجل حریرۃ بمائۃ ثم یشتریھا بخمسین و ھذا غیر جائز عندنا ان کان البیع الثانی قبل نقد الثمن فان کان بعد نقد الثمن فان کان البیع الاول مشروطا بالبیع الثانی فھو غیر جائز ایضا لعدم جواز البیعتین فی بیعۃ و ان لم یکن مشروطا فھو مکروہ لانہ مضطر… و الوجہ فیہ ان فیہ بخلا مذموما و ترکا للمبرۃ و الاحسان
وفی الدر المختار:(7/415،رشیدیہ)
شراء الشیٔ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز و یکرہ
وکذافی فقہ البیوع:(1/27،547،558،معارف القرآن) وکذافی الھدایة:(3/57،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ:(7/415،رشیدیہ) وکذافی البنایة:(7/229،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:81

میرا نام جاوید ہے اور میں گورنمنٹ کے ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہوں۔ میرے ایک دوست (سعد) کو ادارے نے ان کی ملازمت کے صلہ میں بطور تحفہ ایک پلاٹ دیا ہے جو کہ اصل قیمت سے بہت کم قیمت میں دیا جا رہا ہے۔ سعد کو یہ پلاٹ 19 لاکھ کا مل رہا ہے۔ کچھ رقم ابتداء میں اور باقی کئی سالوں میں ششماہی اقساط کے ذریعہ ادا کرنی ہوں گی۔ جس کے بعد قبضہ ملے گا، اس وقت پلاٹ کا تعین بھی نہیں ہے کہ پلاٹ نمبر کیا ہے۔ سعد کی ملازمت چونکہ 2 ماہ بعد ختم ہو جائے گی اور وہ ان سب معاملات کو مزید آگے نہیں لے جانا چاہتا، اسی بناء پر وہ مذکورہ پلاٹ سرِ دست فروخت کرنا چاہتا ہے اور میں (جاوید)یہ پلاٹ خریدنا چاپتا ہوں۔ اس صورت میں تمام رقم ، جس بھی ترتیب سے ادارے کی پالیسی ہے، میں ادا کروں گا ، البتہ سعد کو ایک قسم کے نفع کے طور پرمزید 5 لاکھ ادا کروں گا۔ کیونکہ اگر یہی پلاٹ میں باہر کسی اور سے لیتا تو شاید 19 لاکھ کا نہ ملتا اور سعد کی بدولت مجھے یہ اصل رقم سے سستا مل رہا ہے۔ میں اور سعد اِس وقت ایک معاہدہ کریں گے جس کے تحت جب تما م رقم ( 19 لاکھ اور 5 لاکھ) کی ادائیگی میں کر دوں گا تو یہ پلاٹ میرا ہو جائے گا ۔ نوٹ: (ا)۔جاوید اور سعد ایک ہی ادارے کے ملازم ہیں۔(ب)۔ ادارے کی طرف سے پلاٹ کی قسطیں مکمل ہو جانے کے بعد فروخت کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔(ج)۔مذکورہ معاملہ میں تمام اقساط اگرچہ جاوید ادا کروائے گا لیکن ادارے میں یہ اقساط سعد ہی کے نام سے جمع ہوں گی۔ (د)۔سعد اور جاوید کے درمیان ابتداء ہی میں گواہوں کی موجودگی میں ایک قانونی دستاویز تیار کی جائے گی جس کی بناء پر جب اقساط مکمل ہو جائیں گی تو وہ پلاٹ جاوید کے نام منتقل ہو جائے گا۔ سوال:1۔کیا یہ خرید و فروخت کا طریقہ درست ہے؟2۔اگر نہیں تو اس کا متبادل جائز طریقہ کیا ہے کہ اس معاملہ کو مکمل کیا جا سکے؟ کیونکہ اگر میں نہیں بھی لوں گا تو سعد کسی نہ کسی کو تو فروخت کر ہی دے گا۔ 3۔کیا سعد کے لئے اس پلاٹ کو اس طرح فروخت کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب کوئی سرکاری ادارہ اپنے ملازمین کےلیے زمین الاٹ کرتا ہے تو عموماً پہلے جگہ کاانتخاب کرلیا جاتا ہے اور یہ تعیین کرلی جاتی ہے کہ فلاں جگہ پلاٹ بنا کر ملازمین میں تقسیم کیے جائیں گے اور اس زمین اور محل وقوع سے متعلق دستاویز ڈاکومنٹس کے نام پر گورنمنٹ ملازم کو بھی دیتی ہے۔اس صورت میں چونکہ پہلے سے زمین کا محل وقوع اور حدود اربعہ معلوم ہو چکی ہوتی ہیں اور اوصاف کی بھی قدرے تعیین ہوجاتی ہے،لہذا اس صورت میں اگر کوئی ملازم اپنے نام الاٹ ہونے والے پلاٹ کو فروخت کرنا چاہے تو جائز ہے، اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں،کیونکہ یہ ایک مشاع حصہ کی بیع ہے اور متعینہ زمین میں سے مشاع حصہ کی بیع جائز ہے۔
البتہ یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ بعض دفعہ کچھ سرکاری ادارے زمین کا انتخاب کرنے سے پہلے ہی ملازمین کےلیے پلاٹ الاٹ کرنے کا اعلان کردیتے ہیں ،پلاٹ کا محل وقوع اور دیگر اوصاف کا کوئی تعین نہیں ہوتا۔ اگر ایسی صورت ہو تو پھر مذکورہ پلاٹ کی فروخت جائز نہ ہوگی، کیونکہ ابھی تک پلاٹ ذات و اوصاف کے اعتبار سے مجہول ہونے کی وجہ سے بمنزلہ معدوم کے ہے اور معدوم چیز کی بیع شرعا جائز نہیں۔
اس صورت میں اس معاملے کا درست متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ ابھی سعد جاوید سے اس طرح وعدہ بیع کرے کہ جب مجھےپلاٹ مل جائے گا تو میں 24 لاکھ کا تمہیں فروخت کردونگااور پھر اس وعدہ سے ہٹ کر الگ طور پر جاوید سے کہے کہ آپ مجھے یکمشت یا قسطوں کی صورت میں 19 لاکھ روپے قرض دے دو۔ یہ دونوں معاملے الگ الگ ہونے چاہئیں،ایک ساتھ نہ ہوں۔
پھر جب اس پلاٹ کی تعیین وغیرہ ہوجائے یا سعد کو قبضہ مل جائے تو اس وقت اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے یہ پلاٹ 24 لاکھ میں جاوید کو فروخت کردے گا ۔ اب 19 لاکھ جاوید نے بھی سعد سے وصول کرنا ہوگا تو اس رقم کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا ،باقی 5 لاکھ جاوید سعد کے سپرد کرکے پلاٹ پر قبضہ کرلے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(3/3،رشیدیة)
و منھا أن یکون المبیع معلوما و الثمن معلوما علما یمنع من المنازعۃ فبیع المجھول جھالۃ تفضی الیھا غیر صحیح
وفی فقہ البیوع:(1/376،377،378،معارف القرآن)
قد تباع قطعۃ من الارض مقدرۃ بالخطوات او الأمتار ولکن یترک تعیینھا للمستقبل و ھذا یکون عادۃ فی أرض واسعۃ تشتریھا شرکۃ ثم تبیع قطعاتھا لعامۃ الناس تقدر بالخطوات و الأمتار فمثلاً کل قطعۃ منھا بقدر خمسمائۃ متر و لکن لا یتعین محل تلک الخمسمائۃ عند الشراء وانما یتعین حسب التصمیم الذی تعملہ الشرکۃ فیما بعد فالسؤال ھل یصح ھذا البیع علی انہ بیع حصۃ مشاعۃ من تلک الارض الواسعۃ ؟ ….قال صاحباہ یجوز ذلک علی اساس انہ بیع لحصۃ مشاعۃ من الدار و بیع المشاع جائز…. و علی ھذا فإن بیع قطعۃ غیر معینۃ من جملۃ القطعات لا یجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی و یجوز عند صاحبیہ و الظاھر أنہ ان کانت جھالۃ التعیین تفضی الی المنازعۃ فالأخذ بقول الامام ابی حنیفۃ اولی و ان لم تکن مفضیۃ الی المنازعۃ فقول الصاحبین اولی بالاخذ ….حینما تباع قطعۃ من الارض فی الصورۃ المذکورۃ فانھا تقوم علی اساس محل وقوعھا فان القطعۃ الواقعۃ علی شارع عام ثمنھا مختلف عن القطعۃ التی لیست علی شارع عام ….فإن تعین محل وقوعھا وثمنھا بھذا الطریق فانہ یمکن ان تعتبر مما لایتفاوت آحادھ فیجوز ھذا البیع علی قول الشافعیۃ و الصاحبین و کذلک ینبغی ان یجوز لمن اشتراہ ان یبیعہ الی آخر علی قول ابی یوسف رحمہ اللہ لانہ یجوز بیع العقار قبل قبضہ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3463،رشیدیہ)
و اما العقار کالاراضی و الدور فیجوز بیعہ قبل القبض عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف استحسانا استدلالا بعمومات البیع من غیر تخصیص عموم الکتاب بخبر واحد ، و لاغرر فی العقار اذ لا یتوھم ھلاک العقارولایخاف تغیرہ غالبا بعد وقوع البیع و قبل القبض
وکذافی بدائع الصنائع:(4/355،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(7/383،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(9/125،علوم اسلامیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/290،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/2/2021/1442/6/23
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:34

ایک آدمی گنے کا کاروبار اس طرح کرتا ہے کہ روڈ پر کھڑی ٹرالی کا سودا کرتا ہے ۔ گنے کے مالک سے کہتا ہے کہ اس ٹرالی کا جو وزن مِل میں جا کر کانٹے پر ہوگا اس کی رسید ملتے ہی میں آپ کو اس کی قیمت فی من پانچ روپے کم پر ادا کر دونگا ۔ پھر وہ اپنے نام کا ایڈنٹ لے لیتا ہے ،یعنی گنا اس کے نام پر مِل جاتا ہے پھر یہ مِل کی پالیسی کے مطابق پانچ یا دس دن بعد پیسے مِل سے لے لیتا ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ بظاہر تو وہ نقد رقم کی چیز لے کر ادھار بیچ رہا ہے ، جبکہ وہ گنے کی ٹرالی کو دیکھتا ہے، لیکن اس کی نگرانی نہیں کرتا مِل تک لے جانے کی۔ اس طرح جب عقد کرتے ہیں تو مبیعہ کے ساتھ ساتھ ثمن بھی مجہول ہوتا ہے ، کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنا گنا اور کتنے پیسے ہیں۔ یہ صورت شرعا درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جواز کی صورت کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر مالک سے بات کرنے کے بعد یہ شخص مبیع کے نفع نقصان کا ذمہ دار بنتا ہے یعنی ضمان قبول کرتا ہے تو یہ عقد جائز ہے اور مبیع و ثمن کی جہالت بھی مضر نہیں ہے، کیونکہ وزن ہوتے ہی یہ جہالت ختم ہوجائے گی اس لیے جہالت مفضی الی النزاع نہیں ہوگی۔
اگر یہ شخص ضمان قبول نہیں کرتا تو یہ عقد صرف وعدہ بیع ہوگا۔ جب گنے کا وزن ہوجائے گا تب یہ دونوں دوبارہ ایجاب و قبول کرکے عقد کریں گے اور اس کےلیے خریدار خود وہاں موجود ہو یا اس کا کوئی وکیل موجود ہو۔

لما فی فتح القدیر:(6/248،251،رشیدیہ)
قوله (ومن باع صبرة طعام كل قفيز بدرهم جاز البيع في قفيز واحد عند أبي حنيفة رحمه الله )…وقال أبو يوسف ومحمد: صح البيع في الكل وهو قول الأئمة الثلاثة …لھما أن ھذہ الجھالۃ بیدھما إزالتھا بأن یکیلا فی المجلس والجھالۃ التی ھی کذلک لاتفضی الی المنازعۃ …ثم قال الفقیہ: والفتوی علی قولھما تیسیرا للأمرعلی الناس
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3346،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(6/412،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/23،رحمانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(5/476،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/93،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 152

ایک آدمی نے اپنے لیے اور اپنی بیوی کےلیے حج کی درخواستیں جمع کروائیں، جس کی مد میں 926890 روپے بینک میں جمع کروائے۔ بینک اتنی رقم ان لوگوں سے وصول کرتا ہے جو قربانی کی سہولت حاصل نہیں کرتے۔ کرونا وباء کی وجہ سے درخواستیں منسوخ ہوگئیں تو چند ماہ بعد بینک نے رقم واپس کردی۔ اب بینک نے وہ رقم واپس کی ہے جو بینک قربانی کی سہولت حاصل کرنے والوں سے وصول کیا کرتا ہے ،یعنی 972540 روپے۔ اب 45650 روپے زائد واپس کیے جارہے ہیں۔ یہ زائد رقم بینک کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی، مگر بینک نے واپس نہیں لی اور کہا کہ ہمارے ریکارڈ کے مطابق آپ نے 972540 روپے ہی ادا کیے تھےجو آپ کو واپس کر دیے گئے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس زائد رقم کو کہاں خرچ کیا جائے؟ کیا وہ آدمی یہ زائد رقم اپنے معذور فالج زدہ داماد کو دے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ معاملہ کسی سرکاری بینک سے کیا گیا ہے تو یہ زائد رقم سرکاری خزانہ کی امانت ہے، لہٰذا اسے بینک کو واپس کرنےکی مزید کوشش کی جائے اور اس مقصد کےلیے بینک کے کسی آدمی سے راہنمائی لی جا سکتی ہے۔ اگر اس بینک کو واپسی نہ ہوسکے تو کسی دوسرے ذریعہ سے سرکاری خزانہ تک یہ رقم پہنچادی جائے۔
اور اگر یہ معاملہ کسی پرائیویٹ بینک سے کیا گیا ہے تو بھی یہ رقم اس بینک کی ملکیت ہے، اسی کو واپس کرنا ضروری ہے، تاہم اگر دونوں صورتوں میں واپسی کی کوئی صورت نہ بن سکے تو پھر یہ رقم بینک کی طرف سے فقراء پر خرچ کی جا سکتی ہے، لہٰذا مذکورہ شخص کا داماد اگر مستحق ہو تو اس پر بھی یہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔

لما فی البحر الرائق:(8/198،رشیدیہ)
قال رحمه الله:(ويجب رد عينه في مكان غصبه) لقوله عليه الصلاة والسلام :على اليد ما أخذت حتى ترد أي على صاحب اليد ولقوله عليه الصلاة والسلام لا يحل لأحد أن يأخذ مال أخيه لاعبًا ولا جادا وإن أخذه فليرده عليه
وفیہ ایضاً:(8/369،رشیدیہ)
ويردونه على أربابه إن عرفوهم، وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد
وکذافی الشامیة:(9/635،رشیدیہ) وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/434،رشیدیہ
وکذافی الھندیة:(5/349،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(18/158،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(34/245،علوم اسلامیہ) وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:161

اس تجارتی معاہدہ کے بارے میں جس کی شرائط درج ذیل ہیں: (1)فریق دوم مبلغ 350000 روپے جن کا نصف 175000 بنتا ہے فریق اول کے کاروبار میں بغرض پرافٹ انویسٹمنٹ کرے گا۔(2)فریق اول فریق دوم کو اس کی انوسٹمنٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر منافع میں سے 10% منافع دے گا۔(3)نقصان کی صورت میں فریق دوم کو اپنی انوسٹمنٹ کے تناسب سے نقصان برداشت کرنا ہوگا۔(4)فریق دوم موجودہ آئل /ڈیزل کے ریٹ کے مطابق اپنی انوسٹمنٹ فریق اول کے ساتھ کررہا ہے ۔(5)اقرار نامہ ہذا انوسٹمنٹ ایک سال کےلیے ہوگا بعدازاں ہردو فریقین کی مرضی سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔(6)اگر فریق دوم اپنی انوسٹمنٹ ایک سال سے پہلے واپس لینا چاہتا ہو تو فریق دوم ایک تحریری نوٹس فریق اول کو2 ماہ پہلے دے گا۔(7)فریق دوم کی طرف سے تحریری نوٹس برائے واپسی انویسٹمنٹ ملنے پر فریق اول 2 ماہ کا پرافٹ دینے کا پابند نہ ہوگا۔(8)فریق اول انوسٹمنٹ کے مطابق فریق دوم کو ایک گارنٹی چیک دے گا جو کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے 2 ماہ بعد پڑتال اور حساب و کتاب کرکے بقایا رقم کیش کرانے کا پابند ہوگا۔ کیا یہ معاہدہ شریعت کی نگاہ میں درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ عقد تمام شرائط سمیت شرعًا درست ہے، البتہ فریق ثانی کا شرط نمبر 7 پر بلاجبر و اکراہ خوشدلی سے راضی ہونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(5/76،رشیدیہ)
وأماالكلام في الشركة بالأموال: فأما العنان فجائز بإجماع فقهاء الأمصار؛ ولتعامل الناس ذلك في كل عصر من غير نكير
وفیہ ایضاً:(5/83،رشیدیہ)
إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا …وإن شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح؛ جاز، والربح بينهما على الشرط.
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3914،رشیدیہ)
فيجوز لكل شريك أن يفسخ العقد، إلا أن من شروط جواز الفسخ أن يكون بعلم الشريك الآخر؛ لأن الفسخ من غير علم الشريك إضرار به
وکذافی جامع الترمذی :(1/383،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/78،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(5/291،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/33،45،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3880،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(345،البشری)
وکذافی المجلہ:(26،263،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیة:(7/491،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:139

شوقیہ پالے جانے والے کتوں کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض شوقیہ طور پر پالنا اور ان کی خریدوفروخت جائز نہیں۔

لما فی الصحیح لمسلم:(2/19،قدیمی)
عن رافع بن خديج قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: شر الكسب مهر البغي وثمن الكلب وكسب الحجام
وفیہ ایضاً:(2/21،قدیمی)
عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من اقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان
وفی البحر الرائق:(6/287،رشیدیہ)
عن أبي يوسف منع بيع العقور وذلك في المبسوط أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم، وقال هذا هو الصحيح من المذهب
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/531،540،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی النھر الفائق:(3/511،قدیمی)
وکذافی أوجز المسالک:(11/345،دارالکتب)
وکذافی إعلاء السنن :(14/444،ادارة القرآن)
وکذافی مجمع الأنھر:(3/151،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:18

سودی بینک کے ملازم کو اپنا مکان کرایہ پر دے سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کا کام ایسا ہو جس کا براہ راست تعلق سودی معاملات سے نہیں مثلاً گارڈ یا ڈرائیور وغیرہ ہو تو اس کو مکان کرایہ پر دینا جائز ہے۔
البتہ اگر اس کا کام براہ راست سودی معاملات سے متعلق ہو مثلا سود کا حساب کتاب رکھنا تو اس کو مکان کرایہ پر دینا درست نہیں، لیکن اگر اس کا کوئی اور حلال ذریعہ آمدن ہو اور وہ اسی حلال آمدن سے کرایہ ادا کرنے کا یقین دلائے تو پھر اس کو مکان کرایہ پر دیا جا سکتا ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/118،رحمانیہ)
عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود عن أبیہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا و موکلہ و شاہدہ و کاتبہ
وفی تکملة فتح الملھم:(1/619،دارالعلوم کراتشی)
ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ أو الحساب فذلک حرام لوجھین الأول إعانۃ علی المعصیۃ و الثانی أخذ الأجرۃ من المال الحرام فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا و أما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال
وکذافی الشامیة:(9/635،936،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/369،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1021،معارف القرآن)
وکذافی شرح الحموی علی الاشباہ و النظائر:(1/310،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/342،343،رشیدیہ)
وکذافی إعلاء السنن:(14/482،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1442/2021/5/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:173

ایک آدمی نے اپنی بھانجی کےلیے انشورنس پالیسی لی ،اب وہ خاتون اپنے جمع شدہ پیسے نکلوانا چاہتی ہے تو کیا وہ اپنی جمع شدہ رقم (علاوہ اضافی رقم ) واپس لے سکتی ہے یا وہ بھی نہیں لے سکتی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قسطوں کی شکل میں جمع کروائی ہوئی اپنی اصل رقم واپس لینا اور اسے استعمال میں لانا بالکل جائز ہے ،البتہ اضافی ملنے والی رقم سود ہے، اسکا استعمال ناجائز ہے۔ اسے ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کر دیا جائےاور آئندہ ایسی پالیسی حاصل کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرة:279)
وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
وفی التفسیر المنیر:(2/98،امیر حمزہ)
وإن رجعتم عن الرّبا امتثالا لأمر الله، فتستحقون رؤوس أموالكم كاملة فقط، لا نقص ولا زيادة، فلا تظلمون أحدا بأخذ الرّبا، ولا تظلمون بنقص شيء من أموالكم
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/60،علوم اسلامیہ)
من اربی ثم تاب فلیس لہ الّا راس مالہ
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/290،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی احکام القرآن للعثمانی رحمہ اللہ:(1/673،ادارة القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3739،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/187،معارف القرآن)
وکذافی الشامیہ:(5/99،سعید کراتشی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(32،34/39،245،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 76

اگر سسر نے ساری زندگی پوری دیانت سے جاب کی اور رزق حلال کمایا، لیکن زندگی میں اپنی انشورنس کروا رکھی تھی۔ رٹائر ہونے کے بعد اب انشورنس کی رقم ملی ہے۔اگر وہ بہو کو اس میں سے کچھ خرچ کرنے کو دیں تو کیا وہ رقم جائز ہوگی؟جبکہ وہ خود انشورنس کو بالکل جائز سمجھتے ہیں،اگر سمجھائیں تو ناراضگی کا اندیشہ ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

انشورنس کمپنی کو قسطوں کی صورت میں ادا کی گئی اصل رقم تو حلال ہے ، البتہ اس پر ملنے والی اضافی رقم سود اور حرام ہے۔اب اس مخلوط رقم میں سے بقدر حلال رقم استعمال کرنا سسر، بہو، سب کے لئے جائز ہےاور اس سے زائد رقم کا استعمال سب کےلئے ناجائز ہےاور ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3423،رشیدیہ)
اما التامین التجاری او التامین ذوالقسط الثابت فھو غیر جائز شرعا ـ ـ ـ ـ و سبب عدم الجواز یکاد ینحصر فی امرین: ھما الغرر و الرباء
وفی فقہ البیوع:(2/1066،معارف القرآن)
اما شرکات التامین التقلیدیۃ التی تعمل علی اساس الربوا و الغرر فھی علی قسمین :الاول الشرکات التی تمارس التامین علی الحیاۃ ـ ـ ـ ـ اما عملیۃ التامین فعملیۃ تشتمل علی الربوا او علی الغرر او علیھما
وفیہ ایضاً:(2/1032،معارف القرآن)
اذا کان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمییز احدھما بالآخر فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال سواء اکان الحلال قلیلاً ام کثیرا
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/187،معارف القرآن)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1036،1038،معارف القرآن)
وکذافی التاتارخانیة:(16/509،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(36/39،علوم اسلامیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/64،دار احیاء تراث عربی)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1442/2020/12/29
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:97

ایک مرغ فروش نے ڈرم رکھا ہوا ہےاس میں مرغیوں کے ذبح کے وقت کا خون اور پر وغیرہ جمع کرتاہے،کیا ان چیزوں کو بیچنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

جس چیز سے جائز نفع حاصل کیا جا سکتا ہےاس کی خریدوفروخت بھی جائز ہے،چونکہ مرغیوں کی آلائشیں وغیرہ قابل انتفاع ہیں،لہذا ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔

لما فی الھندیہ:(3/114،رشیدیہ)
والصحیح انہ یجوز بیع کل شئ ینتفع بہ کذا فی التتارخانیۃ
وفی فقہ البیوع:(1/311،معارف القرآن)
ولکن الغذا الذی یعد للدواجن یکون مخلوطاباشیاء کثیرۃ،مثل الحنطہ،والذرہ،والارز وغیرہا،ونسبۃ الطاھرات فیھا اکثر،فالظاھر ان حکم ھذا المرکب حکم المتنجسات
وکذافی تکملہ فتح الملھم:(1/559،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی الدر المختار:(7/261،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3433،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(6/392،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/365،بشری)
وکذا فی التتارخانیہ:(8/342،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 44