ایک آدمی گاؤں سے پرانے برتن خرید کر ساتھ کچھ پیسے لیتا ہے اور نئے برتن دیتا ہے ، کیا یہ معاملہ درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر دونوں طرف کے برتن الگ جنس کے ہوںمثلاً پرانے برتن سلور کے ہوں اور نئے برتن پیتل یا لوہے کے ہوں تو بہر صورت خریدو فروخت جائز ہوگی اور اگر ایک جنس کے ہوں تو پھر دیکھا جائے گا کہ یہ برتن اس علاقے میں گنتی کے حساب سے ملتے ہیں تو پھر جائز ہے اور اگر تول کر فروخت ہوتے ہیں تو پھر یہ ناجائز ہوگا ۔

لما فی الھندیة:(3/221،رشیدیہ)
وفی التجرید الاوانی المتخذۃ من الصفر والحدید تصیر عادۃ عددیۃ بالتعامل یجوز بیع بعضھا ببعض کیفما کان کذا فی التاتارخانیۃ ، لو تعارفوا بیع ھذہ الاوانی بالوزن لابالعدد لایجوز بیعھا بجنسھا الا متساویا
وفی البدائع الصنائع:(4/404،رشیدیہ)
واما بیع الاوانی الصفریۃ واحد باثنین کبیع قمقمۃبقمقمتین ونحو ذالک ، فان کان یباع عددا یجوز ، لان العدد فی العددیات لیس من اوصاف علۃ الربا، وان کان یباع وزنا لایجوز لانہ بیع مال الربابجنسہ مجازفۃ
وکذافی الشامیة:(5/258،سعید)
وکذافی المبسوط:(14/56،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(6/323،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(3/531،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/478،بیروت)
وکذافی فتح القدیر:(7/129،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبد القدوس بن خیر الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلدنمبر:23 فتوی نمبر:197

بھائی عبدالجبار نے میرے دس ہزار روپے دینے تھے ، میں نے کہا مجھے میرے پیسے دو ،میں نے موبائل لینا ہے، بھائی عبدالجبار نے مجھے کہا کہ میں آپ کو موبائل لے کر دیتا ہوں ،بھائی عبدالجبار نے دکاندار سے قسطوں پر موبائل لیا ، جس کی نقد قیمت 20000 ہے اورقسطوں پر 21000ہے،اس نےقسطوں پر موبائل لیا اس نے مجھے موبائل دیا،میں نے وہ موبائل اسی دکاندار سے نقد20000 کا واپس بیچ دیا،تو کیا یہ جائز ہے کہ وہ دکاندار اسی موبائل کونقد20000 کا لے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائزہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(9/383، بیروت)
ولو باع مشتری المشتری من رجل ،ثم ان البائع الاول اشترٰی من المشتری الثانی بأقل مما باع جاز
وکذا فی الھندیة :(3/132،رشیدیة)
ولو باع المشتری من رجل ،ثم ان البائع الاول اشترٰہ من المشتری الثانی بأقل مما باع جاز
وکذا فی الشامیة:(7/268،سعید)
وکذافی مجع الانھر:(3/88، المنار)
وفی البحرالرائق:(6/136،بیروت)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/55،امدادیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(8/408،فاروقیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(3/173، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:191

سونا خرید کر رکھ لیں اور قیمت بڑھ جانے پر بیچ دیں ۔یہ کاروبار کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لمافی الھندیة:(3/230،رشیدیة)
إذا اشترى ذہبا بعشرۃ دراہم فباعہ بربح درہم جاز كذا فی الحاوي
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(3/95،96، رشیدیة)
صورتہ اذا اشتری بعشرة و باعہ بخمسۃ عشر ة ثم اشترٰہ بعشرۃ فانہ یبیعہ مرابحۃ بخمسۃ ویقول قام علی بخمسۃ
وکذا فی الھدایة:(3/113،رحمانیة)
وکذا فی العنایة:(7/137 ،رشیدیة)
وکذا فی مجع الانھر:(3/166،المنار)
وکذا فی کنز الدقائق:(262، حقانیة)
وکذا فی ملتقٰی الابحر:(3/166، المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(6/320،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/463،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(3/458،535،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:186

راکھ کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے ۔

لما فی الموسوعة:(23/123،علومِ اسلامیة)
وعلى ذلك فالرماد الطاھر مال متقوم یصح بیعہ وشراؤہ عند الفقھاء، لأنہ مما یباح الانتفاع بہ شرعا
وکذا فی التاتارخانیة:(8/338،فاروقیة)
والصحیح أنہ یجوز بیع کل شئ ینتفع بہ
وکذافی الفقہ الاسلا می وادلتہ:(5/3320،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(3/3،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(12/123 ،دار المعرفة)
وکذا فی مجع الانھر:(3/5،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(3/336،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(5/433،رشیدیة)
وکذا فی رد المحتار:(4/505،سعید)
وکذا فی البحوث (1/87،المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:10

کہ ہم نے ایک بیو پاری کو 1760 کے حساب سے چاول فروخت کئے وہ چاول لے گیا اور کچھ پیسے اس نے ادا کر دیئےہیں ، جبکہ کچھ ا سکی طرف باقی ہیں ۔اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے 4 تاریخ تک مہلت دےدیں اور موجود ہ ریٹ کے قریب قریب کا ریٹ تقریبا 1230 روپے کے حساب سے میں آپ کو ادائیگی کر دوں گا ۔ کیا اب نئی قیمت کے حساب سے وصولی کرنا درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں یہ شخص پرانی قیمت لینے کا پابند ہے ، اس کے لئے نئی قیمت لینا جائز نہیں ۔

لما فی فقہ البیوع:(1/545،معارف القرآن)
وان زیادة الثمن من أجل الأجل ،وان کان جائزا عند بدایة العقد ،ولٰکن لاتجوز الزیادة عند التخلف فی الأداء ، فانہ ربا فی معنی”ا تقضی أم تربی
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3462، رشیدیة)
والواقع يختلف البیع لأجل أو بالتقسیط عن الربا، وإن وجد تشابہ بینہما فی كون سعر الأجل أو التقسیط فی مقابل الأجل، ووجہ الفرق أن اللہ أحل البیع لحاجۃ، وحرَّم الربا بسبب كون الزیادۃ متمحضۃللأجل.
وکذافی مؤطا الامام مالک :(606،قدیمی )
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(3/117،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(12/109 ،دار المعرفة)
وکذا فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/15،معارف القرآن)
وکذا فی الھدایة:(3/250، رشیدیة)
وکذا فی الأ شباہ والنظائر فی الفقہ الحنفی:( 257، قدیمی)
وکذا فی السنن الکبرٰی للبیہقی:(5/573،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:74

ایک مستری دس ہزار10000 کے کام کا ٹھیکہ لے کر دوسرے مستری کو سات ہزار7000جبکہ تین ہزار3000خود رکھتا ہے،تین ہزار ٹھیکیدار کے لئے رکھنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے بشرطیکہ مالک کو پتہ ہو ورنہ نہیں۔

لمافی الھدایة:(3/294،رشیدیة)
قال:وإذا شرط على الصانع أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره لأن المعقود عليه العمل في محل بعينه فيستحق عينه كالمنفعة في محل بعينه “وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/11،رشیدیة)
بأن یقول:اعمل بنفسک او بیدک)….والذی فی الخلاصة أن یقول اعمل بنفسک او بیدک ولاتفعل بید غیرک…. (لایستعمل غیرہ) ولو غلامہ…. وان قال استأجرتک لتخیط او تقصر بنفسک فدفع الی غلامہ او تلمیذہ لایجب الاجر(کان لہ ان یستأجر غیرہ)لان الواجب عمل فی ذمتہ فیمن وفاؤہ بغیرہ بمنزلة ایفاءالدین
وکذا فی البنایة :(9/296،رشیدیة)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(2/39،قیدیمی)
وکذا فی تبیین الحقائق:(5/112،امدادیة)
وکذا فی البحرالرائق:(7/516،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/595،قدیمی)
وکذا فی العنایة:(10/78، رشیدیة)
وکذافی کنزالدقائق:( 359،حقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:42

ہماری ہول سیل کی دکان ہے۔ہمارےپاس ایک کمپنی کا شیمپو ہے اس کی ڈ یٹ ا ئکسپائر ہو چکی ہے،ڈیڑھ لاکھ کا سٹاک موجود ہے کمپنی یہ شیمپو واپس نہیں لیتی، اگر ہم اس ڈ یٹ والی چٹ کو اتاردیں ،یا ڈیٹ مٹا دیں تو اس کو فروخت کر سکتے ہیں؟واضح رہے کہ اس شیمپو کے معیار اور رزلٹ میں کوئی فرق نہیں آتا ۔

الجواب حامداً ومصلیا

ا یسی چیزوں کو بیچناقانونا منع ہے ۔اور حکومت کے اس جائز قانون پر عمل کرنا واجب ہے۔لہٰذاایسی چیزیں بیچنےسےواجب چھوڑنے کا گناہ ہوگا اور اگر خریدار کو بتائے بغیر بیچی تودھوکہ دہی کا گناہ بھی ہوگا ۔

لما فی الجامع للترمذی157/1،فاروقیہ
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» [ص:599] وفي الباب عن ابن عمر، وأبي الحمراء، وابن عباس، وبريدة، وأبي بردة بن نيار، وحذيفة بن اليمان: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام
وفی الصحیح لمسلم: 1/95،رحمانیة
عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا
وکذا فی سنن ابی داود:(2/133،رحمانیة)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/112،علوم اسلامیة)
وکذافی التفسیر البحر المحیط:(3/298،دارالکتب العلمیة)
وکذافی حیاة الصحابة: (2/61،دارالمعرفة)
وکذافی الدرمع الرد:(5/422،سعید)
وکذافی ا لفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/6189، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/12/2020/1442/ 5/ 6
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:43

عرض یہ ہے کہ زید کی دُکان کے سامنے بکر کا روٹیوں والا ہوٹل ہے اب زید بھی اپنی دکان پر روٹیوں والا ہوٹل شروع کرنا چاہتا ہے مگر بکر یہ کہتا ہے کہ تم ہوٹل بناؤ گے تو مُجھے نُقصان ہو گا تم ہوٹل نہ بناؤ تو میں تمہیں ماہانہ 5000 روپے دیتا رہوں گا،اب زید کے لیے بکر سے ہوٹل نہ بنانے کی شرط پر 5000 روپے لینا جائز ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مسئلہ میں زید کا بکر سے 5000روپے لینا رشوت ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

لما فی اعلاء السنن:(15/62،علومُ الاسلامیہ)
وقال ابن حزم فی المحلی ولا تحل الرشوۃ وہی ما اعطاہ المرء لیحکم لہ بباطل او لیولی ولایۃ او لیظلم لہ انسان فہٰذا یاثم بہ المعطی والآخذ
وفی کنزالعمال:(6/45،رحمانیہ)
الراشی والمُرتشی فی النار
وفی مجمع الزوائد:(4/257،دارُالعلمیہ)
الراشی والمُرتشی فی النار
وکذافی القرآن:(النساء/29)
وکذا فی الموسوعہ الفقہیہ:(22/219،اسلامیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(5/362،سعید)
وکذا فی اعلاء السنن:(15/64،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(4/257، دارُالعلمیہ)
وکذافی کنزالعمال:(6/45، رحمانیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/3/2/2021
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:85

گڈز ٹرانسپورٹ والوں کے پاس ایک آدمی آکر کہتا ہے مجھے ملتان سے اسلام آباد مال بھیجنے کے لیے گاڑی کرایہ پر چاہیے،گڈز والے اسے کہتے ہیں آپ کو 50000 روپے میں گاڑی ملے گی، پھر گڈ ز والے گاڑی والے سے 48000 روپے میں بات طےکر کے مال بھیجنے والے کو 50000 روپے میں گاڑی دیتے ہیں دو ہزار روپے اپنا کمیشن رکھتے ہیں،تو کیا گڈز والوں کا یہ دو ہزار رکھنا جائز ہے ؟ جبکہ گاڑی کرایہ پر لینے والے کو 2000 روپے رکھنے کا علم نہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

گڈز والوں کا نفع رکھنا شرعا جائز ہے،جبکہ معروف اجرت سے زائد نہ ہو۔

لما فی الشامیہ:(6/48،سعید)
اجارۃ السمسار والمنادی والحمامی والصکاک ومالا یقدر فیہ الوقت ولا العمل تجوز لما کان للناس بہ حاجۃ ویطیب الاجر الماخوذ او قدر اجرالمثل
وفی الشامیہ:(6/63،سعید)
قال فی التاترخانیۃ ،وفی الدلال والسمسا ر یجب اجرالمثل، وما تواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذاک حرام علیہم وفی الحاوی سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃالسمسارفقال ارجو انہ لاباس بہ وان کان فی الاصل فاسدالکثرۃ التعامل وکثیر منہا غیر جائز، فجوز ولحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام
وفی التاتارخانیہ:(15/136،فاروقیہ)
واذا اخذالسمسار اجرمثلہ، ہل یطیب لہ ذالک؟ قالالشیخ المعروف بنخواہر زادہ یطیب لہ ذالک
وکذا فی تکملہ فتح الملہم :(1/336،دارالعلوم)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5/3326،رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(4/411،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(4/560،)
وفی التاتارخانیہ:(15/136،فاروقیہ)
وکذا فی العالمکیریہ:(4/450،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ غفراللہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:106

ایک طالب علم کے بیوی بچوں کا اور گھر والوں کا خرچہ اس کا بڑا بھائی برداشت کرتا ہے، مگر اس بھائی کا کاروبار ایک شہر سے دوسرے شہر نشہ والی چیزیں لے جانا ہے۔کیا اس کا یہ کاروبار کرنا صحیح ہے؟ اور اگر صحیح نہیں تو گھر والوں اور اس طالب علم کو کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منشیات کی اسمگلنگ کا عمل شرعاً و قانوناً ناجائز ہے،لہذا اس کی آمدنی استعمال کرنے سے بچا جائے اور حلال ذریعہ معاش اختیار کیا جائے۔
طالب علم کو چاہیے کہ اپنے اہل وعیال کےلیے رزق حلال کا انتظام کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر تحصیل علم بھی ہوسکے تو بہت بہتر ہے ورنہ بقدر ضرورت علم کے حصول پر اکتفاء کرے اور کسب حلال میں مشغول ہو جائے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(5/24،علوم اسلامیة)
يحرم على المسلم تملك أو تمليك الخمر بأي سبب من أسباب الملك الاختيارية أو الإرادية كالبيع والشراء والهبة ونحو ذلك لقوله عليه الصلاة والسلام: إن الذي حرم شربها حرم بيعها
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(7/5512،5516،رشیدیة)
من أشهر أنواع المخدرات: الحشيشة، والأفيون، والكوكايين والمورفين والبنج ….إن الاتجار بالمخدرات بيعاً وشراء وتهريباً وتسويقاً أمر حرام كحرمة تناول المخدرات؛ لأن الوسائل في الشريعة تأخذ حكم المقاصد، ويجب سد الذرائع إلى المحرمات بمختلف الإمكانات والطاقات؛ لأن التاجر يسهِّل رواج المخدرات وتعاطيها، فيكون الثمن حراماً، والمال سُحْتاً، والعمل ضلالاً، والاتجار بها إعانة على المعصية، والبيع باطل، قال الله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى، ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}ويكون النهي عن بيع الخمر والحكم ببطلانه شاملاً المخدرات؛ لما في ذلك من الإعانة على المعصية
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/284،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،64،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/445،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(18/155،243،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/79،83،علوم اسلامیة)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة :(1/339،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:147