زید شاملات ٹل اور عمرو شاملات دیہ میں حصہ دار ہے،لیکن پٹواری نے شاملات ٹل میں زید کا جو حصہ نکالا ہے وہ زیادہ بنتا ہے اور زید کے پاس جو موقع کی زمین ہے وہ کم ہے اور عمرو کا جو حصہ شاملات دیہ میں نکالا ہے وہ کم ہے ،لیکن عمرو کے پاس موجودہ زمین کا قبضہ زیادہ ہے ،یعنی حصہ زیادہ ہے تو کیا عمرو کے پاس جو زیادہ زمین ہے وہ اس کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اور زید کے پاس قبضہ کی زمین کم ہے اور اس کا حصہ زیادہ بن رہا ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیا

ان دونوں کو سرکاری ریکارڈ کے مطابق اپنے اپنے قبضے کو درست کرنا چاہیےیا پھر ایک دوسرے کو زائد حصہ ہبہ کر دینا چاہیے،لیکن اگر ہبہ کیے بغیر وہ ایک دوسرے کا حصہ آپس کی رضامندی سے استعمال کر رہے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(1/260،رحمانیہ)
عَن سعيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سبع أَرضين
وفی البدائع:(5/281،رشیدیہ)
أما) الأراضي المملوكة العامرة: فليس لأحد أن يتصرف فيها من غير إذن صاحبها؛ لأن عصمة الملك تمنع من ذلك
وفی فتح القدیر:(9/439،رشیدیہ)
قولہ:(ولو اصطلحوا فاقتسموا) یعنی لم یرفعوا الامر الی الحاکم بل اقتسموا بانفسہم باصطلاحھم،فھو جائز لما ان فی القسمۃ معنی المعاوضۃ فتثبت بالتراضی کما فی سائر المعاوضات
وکذا فی البحر:(8/269،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(5/138،الطارق)
وکذافی شرح المجلہ:(4/104،رشیدیہ)
وکذافی التتارخانیہ:(17/198،فاروقیہ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(9/444،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(6/4748،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1442/2021/2/1
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 76

ہم نے دو ایکڑ زمین فروخت کی ہے جس میں ہمارے دس کے قریب درخت لگے ہوئے تھے ،بیچتے وقت درختوں کا تذکرہ نہیں ہوا اب خریدار کا کہنا ہےکہ وہ درخت بھی میرے ہیں ،یہ درخت بیچنے والے کے ہوں گے یا خریدار کے؟

الجواب حامداً ومصلیا

یہ درخت خریدار کے ہوں گے۔

لما فی الھدایہ:(3/26،رحمانیہ)
ومن باع أرضا دخل ما فيها من النخل والشجر وإن لم يسمه” لأنه متصل بها للقرار فأشبه البناء
وفی الھندیہ:(3/33،رشیدیہ)
إذا باع أرضا أو كرما ولم يذكر الحقوق ولا المرافق ولا كل قليل وكثير فإنه يدخل تحت البيع ما ركب فيها للتأبيد نحو الغراس والأشجار والأبنية كذا في الذخيرة
وکذافی الشامیة:(7/78،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(5/491،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(3/23،منار)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/9،امدادیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(2/230،حقانیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/438،قدیمی)
وکذافی شرح المجلة:(2/141،رشیدیہ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(7/78،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:77

اگر کاروبار کی نیت سے ڈالر خریدے کہ قیمت بڑھنے پر نفع حاصل کریں گے تو کیا یہ جائز ہےاور ذخیرہ اندوزی میں تو شمار نہیں ہوتا؟

الجواب حامداً ومصلیا

مختلف ممالک کی کرنسیاں چونکہ الگ الگ جنس شمار کی جاتی ہیں،لہذا (اگر قانونی طور پر منع نہ ہو تو)ان کی کمی زیادتی کے ساتھ خریدو فروخت اور نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ذخیرہ اندوزی اس وقت منع ہےجب عام شہریوں کو تنگی کا سامنا ہو،ورنہ حرج نہیں۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(1/590،دارالعلوم کراچی)
“واما العملۃ الاجنبیۃ من الاوراق فھی جنس آخرفیجوز مبادلتھا بالتفاضل فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودی .ثم ان العملات المختلفۃ لھا قیمۃ معھودۃ فی البنوک والدوائر الحکومیۃ،فھل تجوز المبادلۃباکثر او اقل من ھذہ القیمۃالمعھودۃ،کما یفعل ذلک فی السوق السوداء؟ والجواب :اننا لما اعتبرنا العملۃ الاجنبیۃ جنسا آخر فالاصل ان التفاضل فی مثلہ جائز شرعا بالغا ما بلغ ،فلا تکون المبادلۃ علی خلاف سعرھا الحکومی ربا،ولکن یمنع من ذلک لکونہ مخالفا لاولی الامر ،اذا کانت الحکومۃ الاسلامیۃ ،ولکونہ عرضا للنفس لعقوبات قانونیۃ ،اذا کانت الحکومۃ غیر اسلامیۃ.”
وفی الھندیہ:(3/213،رشیدیہ)
الاحتكار مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به كذا في التتارخانية… والاحتكار في كل ما يضر بالعامة في قول أبي يوسف – رحمه الله تعالى – وقال محمد – رحمه الله تعالى – الاحتكار بما يتقوت به الناس والبهائم كذا في الحاوي
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/363،علوم اسلامیہ)
وقال الحنفية عدا زفر، صح بيع درهمين ودينار بدرهم ودينارين، ويجعل كل جنس مقابلا بخلاف جنسه، فيكون في الحقيقة بيع درهمين بدينارين، وبيع درهم بدينار، وهما جنسان مختلفان، ولا يشترط التساوي فيهما، فيصح العقد
وکذا فی البحر:(6/215،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(7/10،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(7/422،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(10/58،فاروقیة)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/998،معارف القرآن)
وکذا فی بحوث قضایا فقھیة:(1/168،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 182

کیا کافروں کا مال مسلمانوں کے لیے حلال ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

حربی کافر کا مال مسلمانوں کے لیے مباح ہےبشرطیکہ اس کا حصول دھوکہ دہی اور خیانت سے نہ ہو،البتہ ذمی کا مال بغیر اس کی رضا مندی کے حلال نہیں۔

لما فی السنن لابی داؤاد:(2/82،رحمانیہ)
عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس، فأنا حجيجه يوم القيامة
وفی الشامیہ:(6/268،رشیدیہ)
بخلاف المسلم المستأمن في دار الحرب، فإن له أخذ مالهم برضاهم، ولو بربا أو قمار لأن مالهم مباح لنا إلا أن الغدر حرام، وما أخذ برضاهم ليس غدرا من المستأمن، بخلاف المستأمن منهم في دارنا لأن دارنا محل إجراء الأحكام الشرعية فلا يحل لمسلم في دارنا أن يعقد مع المستأمن إلا ما يحل من العقود مع المسلمين، ولا يجوز أن يؤخذ منه شيء لا يلزمه شرعا وإن جرت به العادة
وکذافی البحر:(6/266،رشیدیہ)
ولهما الحديث «لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب» ، ولأن مالهم مباح، وبعقد الأمان منهم لم يصر معصوما إلا أنه التزم أن لا يتعرض لهم بغدر، ولا لما في أيديهم بدون رضاهم فإذا أخذ برضاهم أخذ مالا مباحا بلا غدر فيملكه بحكم الإباحة السابقة
وکذا فی الھدایہ:(3/90،رحمانیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(7/38،39،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(5/167،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/15/04
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 93

بینک سے پرانے نوٹ یا پھٹے ہوئے نوٹ دیکر نئے نوٹ لینا اس پر کچھ رقم وہ اضافی لیتے ہیں ،یہ اضافی رقم کیا اس کے چارجز ہوں یا سود ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

نئے نوٹ لینے یا پھٹے پرانے نوٹ تبدیل کرانے میں کمی پیشی سود ہے۔یہ معاملہ برابر برابر ہی ہو سکتا ہے۔

لما فی البدائع:(4/488،رشیدیہ)
ولو تبايعا فلسا بغير عينه بفلسين بغير أعيانهما أو عين أحدهما، ولم يعين الآخر لا يجوز، في الرواية المشهورة عنهم، وعن أبي يوسف أنه يجوز، والصحيح: جواب ظاهر الرواية لأن الفلس في هذه الحالة لا يخلو من أن يكون من العروض أو من الأثمان، فإن كان من العروض فالتعيين في العروض شرط الجواز، ولم يوجد، وإن كان من الأثمان فالمساواة فيها شرط الجواز، ولم يوجد
وفی الشامیہ:(7/426،رشیدیہ)
قوله وفلس بفلسين) هذا عندهما وقال محمد: لا يجوز، ومبنى الخلاف على أن الفلوس الرائجة أثمان، والأثمان لا تتعين بالتعيين، فصار عنده كبيع درهم بدرهمين
وکذافی بحوث فی قضایا فقھہة معاصرة:(1/158،معارف القرآن)
لا یجووز بیع الجنس الواحد من العملۃ الورقیۃ بعضہ ببعض متفاضلا سواء کان ذلک نسیئۃأو یدا بید،فلا یجوز بیع عشرۃ ریالات سعودیۃ ورقا باحد عشر ریالا ورقا نسیئۃأو یدا بید
وکذا فی الھدایہ:(3/83،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط:(14/11،دار المعرفہ)
وکذا فی البحر:(6/216،219،رشیدیہ)
وکذا فی تکملة:(1/590،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/9/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 183

ایک لڑکا اپنےوالد سے کئی دفعہ کاروبار کے لیے رقم لے کر ضائع کر چکا ہے ،اب اس کا والد کہتا ہے اب جو رقم تجھے دوں گا وہ بطور قرض ہو گی اور اگر ادا نہ کیا تو میرے مرنے کے بعد وراثت سے جو رقم تمہیں ملے گی اس سے منہا کیا جائے گا،کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح ہے۔

لما فی البدائع:(6/519،رشیدیہ)
وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال
وفی الشامیہ:(6/434،رشیدیہ)
قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(33/123،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،3790،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/202/04/28
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 151

میری موبائلوں کی دوکان ہے،میں ایزی لوڈ کا کام کرتا ہوں،ہمیں کمپنی ہزار روپے کے بدلےایک ہزار پچیس روپےدیتی ہے،جو ہمارا نفع ہوتا ہے،کیا یہ پچیس روپے زیادہ لینا جائز ہے سود تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

صورت مسئولہ میں یہ معاملہ کمپنی اور اس کے نمائندہ دکاندار کے درمیان عقد اجارہ ہے،لہذا دکاندار کا اپنی خدمت کا عوض معلوم نفع لینا جائز ہے۔

لما فی التنویر وشرحہ:(9/9،رشیدیہ)
منافعها) شهرا بكذا؛ أفاد أن ركنها الإيجاب والقبول. وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة
وفی الھندیہ:(4/411،رشیدیہ)
ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا
وکذا فی البحر:(7/507،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(398،بشری)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/260،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/23/03
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 95

پاکپتن سے منچن آباد کا فاصلہ تقریبا 50 کلو میٹر ہےاور کرایہ 100 روپےہے۔گاڑی والے ہر سواری سے 100 روپیہ ہی وصول کرتے ہیں چاہے تو 5 کلو میٹر کےفاصلے پر اتر جائےیا پھر آخر تک ساتھ جائے،کیا گاڑی والوں کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اچھی سروس کی گاڑی ہو اور وہ راستے میں سواری وغیرہ نہیں اٹھاتے ،ان کا اصول یہی ہے کہ ہم اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرایہ لیں گے اگرچہ راستہ میں کوئی سواری اتر ہی کیوں نہ جائے اور سواریاں بھی اس پر بخوشی راضی ہوں تو ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، البتہ عام گاڑیاں جو راستے سے بھی سواریاں اٹھاتی رہتی ہیں تو ان کے لیے سواری کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طریقہ پر زائد کرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

لما فی البزازیة علی ھامش الھندیة:(5/66، رشیدیہ)
ان رکبت الی موضع کذا فبدرھم والی موضع کذا فبدرھمین والی موضع کذا فثلاثۃ دراھم یجوز ولا یجوز فیما زاد علی الثلاثۃ
وکذافی درر الحکام شرح مجلة الاحکام:(1/536،535،المکتبة العربیة)
وکذافی الھندیة:(4/413،414،رشیدیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(89،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیہ:(15/18،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/11،سعید)
وکذافی غمز عیون البصائر:(2/360،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق:(5/107،امدادیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 48

میرے ایک دوست آسٹریلیا میں ہوتے ہیں تو وہاں کرسمس کی سیل لگتی ہے جبکہ یہ سیل دیگر ممالک میں بھی لگتی ہے،تو کیا اس سیل سے خریداری کرنا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کرسمس سیل سے خریداری درست ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة: (7 /131،علوم اسلامیہ)
قال الجصاص من الحنفیۃ ان الذمیین فی المعاملات والتجارات کالبیوع وسائر التصرفات کالمسلمین
وفی فقہ البیوع:(1/166،معارف القرآن)
لا یشترط لصحۃ البیع اسلام المتعاقدین فیصح البیع والشراء من غیر مسلم سواء کان ذمیاً ام حربیاً او مستامناً
وکذافی کتاب الاصل:(5/207،بیروت)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/333،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختار:(10/520، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/348، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(2/276، رشیدیہ)
وکذافی کنز العمال:(9/11،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:128

ہمارے ایک آدمی نے ایک بڑی کالونی تیا رکرنے کا منصوبہ بنایا ہے،کالونی کے لیے ابھی کسی جگہ کا انتخاب نہیں کیا گیا،شہر میں جس جگہ مناسب زمین ملے گی وہاں تعمیر شروع کر دی جائے گی،لیکن ابھی سے کالونی میں بنائے جانے والے پلاٹوں کی فائلیں تیار کر کے ان کی خرید و فروخت شروع کر دی گئی ہے ۔ کیا اس طرح خرید و فروخت درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں فروخت کیا جانے والا پلاٹ محل وقوع اور دیگر اوصاف کے لحاظ سے مکمل مجھول وغیر متعین ہے،لہذا اس کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(3/3،رشیدیہ)
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح
وفی بدائع الصنائع:(4/355،رشیدیہ)
ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع
وکذافی التنویر:(7/70،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(7/70،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/369،معارف القرآن)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(9/15،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(3/6،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/18،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/3353،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:30