ایام حیض میں طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں،حیض کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے۔اگرچہ ایسا کرنے والا گناہ گار بھی ہوتا ہے۔

لما فی الھدایہ: (2/81،بشری)

واذاطلق الرجل امراتہ فی حالۃ الحیض،وقع الطلاق،لان النھی عنہ لمعنیً فی غیرہ، وھو ما ذکرنا فلا ینعدم مشروعیتہ، ویستحب لہ ان یراجعھا
وفی المبسوط: ( 5،6/ 16، مکتبہ دار المعرفہ)
قال)واذا طلق امر أ تہ وھی حائض فقد أ خطأ السنۃ، والطلاق واقع علیھا
وکذافی بدائع الصنائع: (3/149،رشیدیہ) ،وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/384،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/384،فاروقیہ)،وکذافی الھدایہ مع فتح القدیر:(3/462،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(5/17،رشیدیہ)،وکذا فی کنز الدقائق مع البحر الرائق:(3/421،رشیدیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(4/423،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/3/1444/2/10/2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:36

میں حیدر علی خلیل ولد محمد خلیل اپنے ہوش وہواس میں حجاب طارق ،زوجہ حیدر علی خلیل کو طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حیدر علی خلیل کی بیوی کو تین طلاقیں ہوگئی ہیں اور وہ اس پر حرام ہو گئی ہے، اب ان دونوں کا اکٹھا رہنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ دونوں میں فوراً علیحدگی کروائی جائے ۔

احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں

(1)

چنانچہ صحاح ستہ میں سے”ابو داؤد شریف”میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاق دی تھیں تو حضورﷺ نےانہیں نافذ فرمادیا تھا۔

عن سھل بن سعد، فی ہذا الخبر، قال: فطلقھا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ:حضرت سہل بن سعد سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کو نافذ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد: 2/140،دار الکتب)

(2)

“سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اِذْھَبِیْ فَاَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثاً”(جا تجھے تین طلاق ) عدت گزارنے کے بعد آپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”مَتَاعٌ قَلِیْلٌ مِنْ حَبِیْبِ مُفَارِقٍ”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن کو معلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا

لولا أنی سمعت جدی أو حدثنی أبی أنہ سمع جدی یقول: أیما رجل طلق امرأتہ ثلاثا مبھمۃ أو ثلاثا عند الاقراء لم تحل لھ حتى تنكح زوجا غیرہ لراجعتھا

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)

(3)
حضرت عبد اللہ بن عمر نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، حضورﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے رجوع کا حکم دیا اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے دریافت کیا

یا رسول اللہ أفرأیت لو أنی طلقتہا ثلاثا كان یحل لی أن أراجعھا؟قال:”لا كانت تبین منك وتكون معصیۃ
(السنن الکبری للبیھقی:7/546، دار الکتب)

ترجمہ: اےاللہ کے رسول!آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقیں دے دیتا، تو میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟آپﷺ نے فرمایا : نہیں، وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور گناہ بھی ہوتا۔

(4)

سنن دار قطنی”میں ہے:(4/10،دار الکتب)
أن حفص بن المغیرۃ طلق امرأتہ فاطمۃ بنت قیس على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی كلمۃ واحدۃ، فأبانھا منہ النبی صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ نے حضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔

(5)

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی کا فیصلہ موجود ہے

“جاء رجل إلى علی فقال:انی طلقت امرأتی ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرھابین نسائك. “(السنن الکبری للبیھقی: 7/548۔ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)

ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں۔آپ نے فرمایا تین طلاق سے تیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔

(6)

ایک ہی مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں

سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امرأتہ ثلاثا فی مجلس، قال: أثم بربہ، وحرمت علیہ امرأتہ
(مصنف ابن ابی شیبہ: 4/ 62، دارالکتب)

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیں، فرمایا: اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔

آیت”الطلاق مرتان”سے استدلال اس لیے درست نہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے، تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآن کریم میں ایک مجلس یا ایک جملہ کی کوئی قید وغیرہ نہیں، لہذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاق دے، اس آیت کی رو سے اس کے لیے رجوع کا اختیار نہیں، جب تک یہ عورت آگے دوسرا نکاح نہ کر لے، جیساکہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

فَإِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔۔۔۔۔۔(البقرۃ:30)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/27/6/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:41

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خلوت صحیحہ کے بعد تین طلاقیں دی تو اب اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر عورت کو حیض آتا ہے تو تین حیض اگر حیض نہیں آتا تو تین ماہ عدت ہوگی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(29/306،علوم اسلامیہ)
تجب العدۃ علی المرأۃ بالفرقۃ بین الزوجین بعد الدخول بسبب الطلاق او الموت او الفسخ او اللعان کما تجب بالموت قبل الدخول و بعد عقد النکاح الصحیح واما الخلوۃ فقد اختلف الفقھاء فی وجوب العدۃ بھا فذھب الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ الی انہ تجب العدۃ علی المطلقۃ بالخلوۃ الصحیحۃ فی النکاح الصحیح
وفی الھندیة:(1/526،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحا جائزا فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیہ العدۃ
وکذافی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(5/182،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرئق:(4/216،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/205،الطارق)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/549،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/227،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/302،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/3/2023/12/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:127

کیا طلاق کے بعد بھی کھانے وغیرہ کا خرچ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عدت کے دوران معتدہ کا خرچ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے، لیکن اگر معتدہ شوہر کے گھر عدت نہ گزارے یا نافرمان ہو تو پھر شوہر کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا۔

لما فی الھندیة:(1/557،رشیدیہ)
المعتدۃ عن الطلاق تستحق النفقۃ و السکنی کان الطلاق رجعیا او بائنا او ثلاثا حاملا کانت المرأۃ او لم تکن
وفی المحیط الرھانی:(4/328،بیروت)
قال : المعتدۃ اذا خرجت عن بیت العدۃ تسقط نفقتھا، ھکذا روی عن الضحاک مطلقا فھذا عندنا ما دامت علی النشوز
وکذافی الشامیہ:(5/340،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/210،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/338،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/7404،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(5/408،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/419،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:61

محمد عثمان نامی شخص نے اپنی بیوی زہرہ کو رخصتی سے قبل ، طلاق رجعی دی تو بچی کے والدین نے مفتیان کرام سےرجوع کیاتو مفتیان کرام کے فرمانے کے مطابق، دوبارہ نکاح ہوا اور رخصتی ہو گئی ۔کچھ وقت گزرنے کے بعد شوہر کی ،بیوی سے اور اس کی والدہ محترمہ سے لڑائی ہو گئی۔ زہرہ بی بی اپنے والدین کے پاس چلی گئی، کچھ دنوں کے بعدمحمدعثمان اپنے چچا زاداور ایک رشتہ دار کے ساتھ اپنی بیوی کومنانے گیاتوزہرہ بی بی کے والدین رضا مند نہ ہوئے،محمد عثمان کے ساتھ اس کا چچا زاد اور دوسرا رشتہ دار کہنے لگے کہ آپ ہمارے ساتھ زہرہ بی بی کو روانہ کرو توہم اس کو پابند کریں گے تووالدین نے کہا کہ سوچ لو ،اس سے بھی پوچھ لو اور مشورہ کر لو۔ کچھ دیر کے بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس کو پابند کر لیا ہے، لہذا عثمان کی والدہ اور اس کے نانکے ،اگر آپ کی بچی سے آئندہ لڑائی کریں گے تو آپ کی بچی کو طلاق ہو جائے گی، اس شرط پر محمد عثمان کے دستخط کروا کے آئے تو والدین اور زیادہ پریشان ہوئے،پھر بچی اور بچے کے والدین نے مفتیان کرام سے رجوع کیاتو ایک مفتی صاحب نے فرمایا : اس کا حل یہ ہے کہ محمد عثمان کی والدہ یا اس کے نانکوں میں سے کوئی بھی یہ شرط کرے،پھر عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کر لو، کیونکہ ایک طلاق باقی ہے ،پھر اس طرح شرط پوری کی گئی اور دوبارہ نکاح ہوا۔ دوبارہ نکاح ہوےکو تقریبا ایک سال گزراتھا کہ میاں بیوی دونوں بیٹھے تھے ۔محمد عثمان موبائل دیکھ رہا تھا ،اس کی بیوی نےاس کوکہا کہ مجھے بھی موبائل دکھاؤ تو اس چھوٹی سی بات پر آپس میں بحث ہونے لگی، محمد عثمان ناراض ہو گیا اور کمرے سے باہر چلا گیااور اپنے پڑوس میں رشتہ دار عورت کے سامنے کہنے لگا کہ:” بس میرے سے فارغ ہے“ تو بچی کے والدین محمد عثمان کولیکر مفتی صاحب کے پاس حاضر ہوئے،مفتی صاحب نےان دونوں عورتوں سےفون پر بات کی تو ایک عورت نے موبائل پر گواہی دی کہ محمد عثمان نے کہا تھا کہ” میں نے چھوڑ دیا ہے“ دوسری عورت نے بات نہیں کی تو مفتی صاحب نے محمد عثمان سے فرمایا کہ حلفاً بتا کہ تو نے کیا کہا؟ محمد عثمان کہنے لگا کہ میں نے کہا تھا کہ میں (چھوڑ دیساں،میں چھٹی کرا دیساں) میں چھوڑ دوں گا ،میں چھٹی کرا دوں گا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ گواہی کامل نہیں ہے اور محمد عثمان کے حلفا کہنے کی صورت میں نکاح باقی ہے، کچھ وقت کی بات ہے کہ محمد عثمان اپنے رشتہ داروں کےہمراہ نماز پڑھنے کے بعد ، گھرآ رہا تھا کہ راستے میں محمد ماجد اور محمد فاروق نے پوچھا کہ کیا بنا تیری بیوی کا؟ تو وہ کہنے لگا کے میں فارغ کر چکا ہوں(میں فارغ کیتی ودا ھاں) جب یہ بات زہرہ بیوی کے والدین کو معلوم ہوئی تو انہوں نے ماجد اور فاروق کو بلایا کہ اگریہ بات سچی ہے تو آپ مفتی صاحب کے سامنے قرآن سر پر رکھ کر گواہی دیں گے؟ محمد ماجد اور محمد فاروق نے کہا کہ گواہی کیلئے ہم حاضر ہیں ۔یہ تھی صورت حال۔اب پوچھنا یہ ہے کہ جب تیسری مرتبہ محمد عثمان اپنی بیوی کے بارے میں اس طرح کے الفاظ کہے ہیں تو کیا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ اگر حقیقت پر مبنی ہے تواگر محمد عثمان نے ”میں فارغ کیتی ودا ھاں“ (میں فارغ کر چکا ہوں) طلاق کی نیت سے کہا ہے تو اس کی بیوی کو تیسری طلاق بھی ہو چکی ہےاور اگر یہ جملہ اس نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو تیسری طلاق نہیں ہوئی اور نیت کے سلسلہ میں بھی شوہر ہی سے حلفا ًپوچھا جائے گا کہ آیا طلاق کی نیت تھی یا نہیں؟

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(4/516،بیروت)
الکنایات(لا تطلق بھا) قضاء(الا بنیۃ او دلالۃ الحال)وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق او الغضب
وفی الفقہ الحنفی:(2/270،الطارق)
الکنایۃ:وھو الفظ الذی لم یوضع للطلاق ولکن یحتمل الطلاق وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔ فلا یقع فیھا الطلاق الا بالنیۃ أو دلالۃ الحال وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/6642،رشیدیہ)
وکذافی القد وری:(172،الخلیل)
وکذافی الھندیة:(1/374،رشیدیہ)
وکذافی القرآن الکریم:(البقرہ آیت نمبر229،230)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/300،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/317،رحمانیہ)
وکذافی سنن الدار قطنی :(4/20،دار الکتب)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(7/546،دار الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/15/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:11

میری بیوی حاملہ ہے اور میں اسے طلاق دیتا ہوں تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (3 / 232 ،ایچ ایم سعید )
و حل طلاقھن)أی الآیسۃ و الصغیرۃ والحامل(عقیب و ط ء
وفی الھدایہ: ( 2/ 80،بشری )
وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع
وکذا فی الشامیہ: ( 3/ 232 ،ایچ ایم سعید )
وکذا فی النھر الفائق : (2 / 315 ،قدیمی )
وکذا فی الھندیة : (1 /349 ، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط : ( 6/ 10 ، دار المعرفة)
وکذا فی الھندیة : (1 / 350،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیةالتجرید : ( 10/ 4822 ، محمودیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 4/381 ، دار احیاء)
وکذا فی مجمع الانھر : ( 2/6 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:163

اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور یہ جملہ تین بار کہا تو کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوگی خواہ عورت نے وہ کام کرلیا ہو یا نہ کیا ہو۔

لما فی الدرالمختار: (3 / 319 ، سعید)
قولہ طلقی نفسک فقالت أنا طالق او أنا أطلق نفسی لم یقع لانہ وعد
وفی االفتاوی الھندیة: (1 / 384، رشیدیہ)
قالت لزوجھا (أنا لا أکون معک) من باتو غیباشم فقال الزوج (لاتکونی فقالت الطلاق بیدک طلقنی) مباش فقالت طلاق بدست تواست مرا طلاق کن فقال الزوج (أطلق أطلق )طلاق میکنم طلاق میکنم وکررثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ(سأطلق)کنتم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک لوقال بالعربیۃ أ طلق لا یکون طلاقا الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا
وکذافی الشامیہ: (3 /319 ،سعید )
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (1 /82 ، قدیمی)
وکذافی الجوھرة النیرہ : ( 2/ 189 ،قدیمی )
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (1 /83 ، قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: (3 / 545 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق : (2 / 321 ،امدادیہ )
وکذا فی النھر الفائق: (2 /377 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/12/2022/23/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:138

بیوی کو ڈرانے کے لیے کاغذ پر تین بار صرف لفظ طلاق لکھ کر اس کے بیڈ پر رکھ دیا اور اس کی طلاق کی نیت بھی نہیں تھی اور کوئی نسبت بھی نہیں تھی اور مطالبہ طلاق بھی نہیں تھا تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر سوال حقیقت پر مبنی ہے تو صورت مسئولہ میں طلاق نہیں ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع : (3 / 173، رشیدیہ)
واما النوع الثانی فھو ان یکتب علی قرطاس او لوح او ارض او حائط کتابۃ مستبینۃلکن لا علی وجہ المخاطبۃامراتہ طالق فیسال عن نیتہ فان قال نویت بہ الطلاق وقع وان قال لم أنو بہ الطلاق صدق فی القضاء
وفی الفقہ الاسلامی: ( 9/ 6902، رشیدیہ)
واما الکتابۃ غیر المرسومۃ فھی التی لا تکتب الی عنوان الزوجۃاو باسمھا ولا توجہ الیھا کالرسائل المعروفۃکأن یکتب الرجل فی ورقۃزوجتی فلانۃطالق وحکمھا حکم الکنایۃولو کان اللفظ صریحا لا یقع بھا الطلاق الا بالنیۃ
وکذافی المحیط البرھانی: (4 /485 ،دار احیاء )
وکذا فی الھندیة : (1 /378 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ : (4 /442 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشرح البحرالرائق : (2 / 433،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 / 530 ،فاروقیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ : (3 /225 ،حقانیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی : (2 / 91 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر : (4 /61 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/3/8/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:96

خاوند نے بیوی کو کہا کہ اگر آپ زندگی میں جب بھی میرے نکاح میں ملتان گئی تو میری طرف سے آپ کو طلاق ہوگی اور اپنے بارے میں بھی کہاکہ اگر میں ملتان گیا تو بھی آپ کو طلاق ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں میاں بیوی میں سے جو بھی ملتان جائے گا تو بیوی کو ہر مرتبہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفتاوی الھندیة: (1/418 ،رشیدیہ )
ولو قال کلما دخلت ھذہ الدار فان کلمت فلانا فأنت طالق فدخل الدار ثلاثا وکلم فلانا مرۃ طلقت ثلاثا
وفی بدائع الصنائع: (3/3 9، رشیدیہ)
قال لامرأتہ کلما دخلت ھذہ الدار فأنت طالق یحنث۔۔۔ثم فی کلمۃ کل اذا دخلت مرۃ فطلقت ثم دخلت ثانیا لم تطلق وفی کلمۃ کلما تطلق فی کل مرۃ تدخل وانما کان کذلک لان کلمۃ کل کلمۃ عموم وإحاطۃلما دخلت علیہ
وکذافی الھدایہ: ( 2/ 90 ،بشریٰ)
وکذا فی کنز ا لدقائق مع تبیین الحقائق: (2 / 203 ،امدادیہ)
وکذا فی رد المحتار: (4 /595 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی التاتارخانیہ: ( 4/ 584،فاروقیہ )
وکذا فی کنز ا لدقائق مع ا لبحرا لرا ئق: (3/462 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (9 /6916 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (4 /409 ،دار احیاء التراث)
وکذا فی مجمع الانھر: (2 /19 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/15/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:91

حامد کی سعدیہ سے شادی طے پائی ہے لیکن حامد نے سعدیہ کی نانی کا دودھ پیا ہے مدت رضاعت میں تو کیا ان دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان دونوں کا نکاح جائز نہیں ہے۔

لما فی الهدایہ:( 2/74،بشری)
لم یجز لأحدھماأنیتزوج بالاخری ھذا ھوالأصل لأن امھما واحدۃفھما أخ وأخت ولا یتزوج المرضعۃ أحدا من ولد التی أضعت لأنہ أخوھا ولا ولد ولدھا لأنہ ولد أخیھا
وکذافی كتاب الفقہ:(204/3، حقانیہ)
فاذا رضع الطفل الأجنی من امرأۃ كانت أمہ فیحرم علیہ أن یتزوج کما یحرم علیہ أن یتزوج بنتھا أو بنت بنتھا وإن نزلت لأنھا أختہ وبنت أختہ
وكذافي البزازیہ:(1 /416،رشیدیہ)
وكذا في الفقہ الحنفي: (2 /156 ،طارق )
وکذا في مجمع الانھر: (1 /554،المنار)
وكذا في الفتاوی التاتارخانیہ: (362/4، فاروقیہ)
وكذا في تكملة فتح الملہم : (1 /14 ، دارالعلوم )
وكذا في كنز الدقائق مع البحرار الرائق: (3/397، شیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(399/4،رشیدیہ)
وكذافي المبسوط:(30/ 294، دار المعرفتہ بیروت لبنان)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2022/19/4/1444

جلد نمبر:28 فتوی نمبر:49