ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد مستند مفتی سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا اس نے بتایا کہ آپ کی بیوی آپ پر حرام ہو چکی ہے ،پھر اس کے بعد ایک غیر مقلد مولوی سےمسئلہ پوچھ کر اپنے ساتھ بسا رہا ہے ، اب اس آدمی کے ساتھ معاملات کرنے کا کیا حکم ہے ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

یہ آدمی احکام شریعت کی خلاف ورزی کرنے والا ہے اور سخت گناہ گار ہے۔ ایسے شخص کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، اگر بازنہ آئے تو اس سے قطع تعلق کیا جائے جب تک اس برے فعل سے توبہ نہ کرلے ۔

لمافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(3/147 ،دار احیاء)
“المراد بقولہ تعالی :(فان طلقھا )الطلقۃ الثالثۃ (فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ )۔وھذا مجمع علیہ لا خلاف فیہ.”
وفی بدائع الصنائع:( 3/155، رشیدیۃ)
أما الكتاب فقوله تعالى: {الطلاق مرتان} إلى قوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} والنص ورد في الحرة أخبر الله تعالى أن حل الحرة يزول بالثلاث من غير فصل بين ما إذا كانت تحت حر أو تحت عبد فيجب العمل بإطلاقه.”
وفی مرقات المفاتیح:(8/158،التجاریۃ)
“ولا یجوز فوقھا الااذا کان الھجران فی حق من حقوق اللہ ،فیجوز فوق ذالک ۔۔۔۔۔فان ھجرۃ اھل الھواء والبدع واجبۃ علی مر الاوقات مالم یظھر منہ التوبۃ والرجوع الی الحق.”
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:( 32/145،علوم اسلامیۃ)
وکذافی فتح الباری:(10/609،قدیمی)
وکذافی بذل الجہود :(19/79،قدیمی)
وکذافی شرح الطیبی:(9/243،دارالکتب)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1440،2019/4/6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :150

میں اور میری امی آپس میں جھگڑ رہے تھے زمین کے سلسلے میں ،اتنے میں میری بیوی آئی اور اس نے کوئی بات کی تو میں نے اس کو کہا کہ تم بھی چلی جاؤ اور امی بھی چلی جائے ،تو اس نے کہا کہ تم مجھے طلاق دے دو میں چلی جاؤں گی ،میں نےاسے ایک بار کہا کہ” تمہیں طلاق دی ،دفعہ ہو جاؤ “،میں نے ایک بار ہی کہا اس سے زیادہ نہیں کہا ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

سوال میں مذکورہ صورت حال میں بعض علماء کرام کے ہاں ”تمہیں طلاق دی “سے ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے اور” دفعہ ہو جاؤ “سے دوسری طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس طرح ان کے نزدیک دو طلاق بائنہ واقع ہو جائیں گی ،جبکہ بعض دیگر علماء کرام کے نزدیک ایک ہی طلاق ہو گی اور دوسرا جملہ” دفعہ ہو جاؤ “پہلی طلا ق ہی کا ثمرہ اور نتیجہ بیان کرنے اور اس کو پختہ کرنے کے لیے ہے ۔ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ اس صورت میں ایک طلاق ہو گی ،لیکن ”دفعہ ہوجاؤ “کی وجہ سے یہ بائنہ ہو جائے گی ۔اب اگر میاں بیوی چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ۔

لمافی الدرالمختار مع رد المحتار:(4 /509،رشیدیۃ)
“فروع : کرر لفظ الطلاق وقع الکل ،وان نو ی التاکید دین ۔””قال الرافعی : قول الشارع : ( کرر لفظ الطلاق وقع الکل الخ ) قال افندی :اقول لک ان تقول :لم لا یجوز ان یکون من قبیل قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: (فنکاحھا باطل باطل ) واحتمال کونھا جملا لا یجدی نفعا اذاالطلاق لا یثبت بالشک مع ان الحذف خلاف الاصل ،واللائق بحال المسلم ان لا یجمع الثلاث فی وقت ۔”
و فی الشامیۃ:(4 /447،رشیدیۃ)
“ففي البدائع أن الصريح نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن ۔۔۔۔۔وأما الثاني فبخلافه، وهو أن يكون بحروف الإبانة بحروف الطلاق، لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقرونا بعدد الثلاث نصا أو إشارة أو موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف، أو مشبها بعدد أو صفة تدل عليها۔”
وکذا فی الھندیۃ:(1 355/،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 3/163، رشیدیۃ)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(4/157،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار :(2/130،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1440،2019/3/11
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :38

ایک شخص کی منگنی ہوئی وہ تنہائی میں اپنی منگیتر سے ملا پھر اس نے کچھ دنوں کے بعد اپنی منگیتر کی بہن سے زنا کر لیا تو اب اس کا اپنی منگیتر سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

منگیتر سے تنہائی میں ملنا اور سالی سے زنا کرنا دونوں سنگین گناہ ہیں، اس پر خوب خوب توبہ و استغفار کرے البتہ منگیتر کی بہن (جس سے زنا کیا ہے )کو ایک حیض آنے کے بعد منگیتر سے نکاح کر سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(9/6666،رشیدیۃ )
وان زنی الرجل بامراۃ فلیس لہ ان یتزوج باختھا حتی تنقضی عدتھا
وفی البحر الرائق:(3/180،رشیدیۃ)
لو زنی باحد الاختین لا یقرب باخری حتی تحیض الاخری حیضۃ
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:) 2/74،الطارق(
وکذا فی محیط البرھانی:(4 /86،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)4 /49،فاروقیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 2/536، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:) 3/163،رشیدیۃ(
وکذافی اعلا ء السنن :11/132،ادارۃ القرآن
وکذافی التنویر وشرحہ:) 4/113،رشیدیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلد نمبر : 18فتوی :58

کتنا مہر طےہوا ہے ؟اس کا علم ہونا عورت کے لیے ضروری ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ضروری نہیں ۔

لمافی فتح القدیر :(3/304،رشیدیۃ)
“(قولہ ویصح النکاح وان لم یسم فیہ مھرا)لا خلاف فی ذالک ۔”
وفی تبیین الحقائق :(2/136،امدادیۃ)
“(صح النکاح بلا ذکرہ )ای بلاذکر المھر ۔۔۔۔۔ولنا ان النکاح عقد انضمام وازدواج وذالک یتم با لزوجین ولا ن المقصود فیہ التوالد والازدواج دون المال فلا یشترط فی ذکرہ ۔”
وکذا فی التنویر مع شرحہ :(4/77،دارلمعرفۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/267،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع :(2/485،رشیدیۃ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/120،الطارق)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی :(2/8،رشیدیۃ)
وکذافی اللباب:(1/149،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر: 149

اگرکوئی مسلمان، ہندو عورت کےساتھ ان کے مندر میں جاکرنکاح کرےتوکیساہے،اوراس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسلمان کاہندوعورت سےنکاح کرناجائزنہیں اورنہ ہی اس مجلس میں شرکت کرنادرست ہے۔

لما فی القرآن المجید:(سورۃ البقرۃ/221)
“ولا تنکحواالمشرکات حتی یؤمنّ.”
وفی الھندیہ:(1/281،رشیدیہ)
” لایجوز نکاح المجوسیات ولاالوثنیات وسوأ فی ذلک الحرائرمنھن والاماء.”
وکذافی المحیط البرھانی:(4/110،داراحیاء )
“فنکاح الکتابیۃ لایجوزلمسلم بحال.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(/ ، ) وکذا فی تفسیرالخازن:(1/960،رشیدیہ)
وکذا فی تفسیرروح المعانی:(2/118،داراحیاء) وکذا فی تفسیرمظھری:(5/145،رشیدیہ)
وکذا فی تفسیرالقرطبی:(3/80،داراحیاء ) وکذا فی التفسیرالکبیر:(2/221،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الاکلیل للامام النسفی:(2/148،دارالکتب )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

کیانکاح میں ایک مرداوردوعورتیں گواہ بن سکتےہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

بن سکتےہیں۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ:(1/237،رشیدیہ)
“ولایشترط وصف الذکورۃحتی ینعقدبحضوررجل وامراتین.”
وفی بدائع الصنائع:(2/527، رشیدیہ)
“وینعقدالنکاح بحضوررجل وامراتین عندنا.”
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(4/36،فاروقیہ) وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2/66،حقانیہ)
وکذا فی المختصرالقدوری:(157،الخلیل) وکذا فی فتاویٰ النوازل:(161،الحقانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/65،الطارق)
وکذا فی الخانیۃعلٰی ھامش الھندیہ:(1/331، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

زید اور عمرو دو بھائی ہیں اور عمرو نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے اس کی لڑکی عمروکی رضاعی بہن ہوئی اب زید کی اس کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوسکتی ہے۔

و فی المختصرالقدوری:( 169،دار احیاء)
“ویجوز ان یتزوج الرجل باخت اخیہ من الرضاع.”
وفی الھندیۃ:(1/343/،رشیدیہ)
“وتحل اخت اخیہ رضاعا.”
وکذا فی صحیح البخاری :(2/272،رحمانیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/364/،فاروقیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(207،زم زم)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

ایک شخص کی بیوی فوت ہوگئی،اس سےاس کا جوان بیٹا بھی ہےجواپنی ماں کی چھوٹی بہن سےنکاح کرناچاہتاہے۔کیایہ نکاح درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں لڑکااپنی حقیقی خالہ سےنکاح کرناچاہتاہےجوصریح ناجائزاورحرام ہے۔

لما فی القرآن لمجید:(النساء:23)
“حُرِّمَتْ عَلیْكُمْ أُمَّھَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ۔۔۔۔۔۔۔۔الآیۃ.”
وفی الفتاویٰ الھندیۃ:(1/273،رشیدیہ)
“المحرمات بالنسب :وھن الامھات والخالات۔۔۔۔الخ.”
و فی المختصرالقدوری:(157،الخلیل)
“ولایحل للرجل ان یتزوج بامہ۔۔۔۔۔۔ولابخالتہ۔۔۔۔.”
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ:(4/59،فاروقیہ) وکذا فی تنویرالابصار:(3/28،سعید)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2/67،حقانیہ) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/529،)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/71،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020