شوہر باہرسے آیا تھا اس نے شراب پی رکھی تھی بیوی اس کے پا س آئی اس نے کہا کہ مجھے خرچے کے لیے تھوڑے سے پیسے دے دو ۔شوہر نے دینے سے انکار کر دیا ،بیوی نے اس کی جیب میں سے پیسے نکال لیے ۔شوہر نےکہنا شروع کر دیا تم نے پیسے تو نکال لیے ہیں لیکن میں نے تمہیں رکھنا نہیں ہے ،تمہیں چھوڑ دینا ہے ۔ بیوی نے کہا :چھوڑنا اتنا آسان تو نہیں ۔ شوہر نے کہا کہ جاؤ اپنے بھائیوں کو بلا لاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ،میں نے تمہیں طلاق دی ۔بیوی چیختے ہوئے اٹھی ،ٹھنڈے پانی کا گلاس اس کے سر میں ڈالا ،اس کی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارے اور اسے کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ کو ہوش تو ہے؟شوہر نے کہا ہاں مجھے ہوش ہے ،میں نے تمہیں کہا جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ، اس سے تھوڑی دیر بعد وہ کہتا ہے میں نے یہ الفاظ نہیں کہے، شوہر نے یہ اکیلے میں کہا ہے ،بعد میں مکر گیا۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مذكوره ميں شوہر کے ان الفاظ ” میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی “سے دو طلاق رجعی واقع ہو گئیں اور بعد میں اس کے ان الفاظ ” میں نے تمہیں کہا جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ” سے ہماری رائے کے مطابق تیسری طلاق نہیں ہوئی ، بلکہ وه پہلے الفاظ کو دہرا رہا ہے۔لہذا عدت کے دوران شوہر رجوع کرسکتا ہے اور عدت کے بعد نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔

لمافی بدائع الصنائع:( 3/158، رشیدیہ)
اماالسکران : اذا طلق امراتہ، فان کان سکرہ بسبب محظور بان شرب الخمر او النبیذ طوعاحتی سکروزال عقلہ فطلاقہ واقع عند عامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم.
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6883،رشیدیہ)
اما السکران بطریق محرم، وھو الغالب بان شرب الخمر عالما بہ ، مختارا لشربہ او تناول المخدر من غیر حاجۃ او ضرورۃ عند الجمھور غیر الحنابلۃ، فیقع طلاقہ فی الراجح فی المذاھب الاربعۃ، عقوبۃ وزجرا عن ارتکاب المعصیۃ.
وکذا فی البحرا لرائق:(3/431،32،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(4/394،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/391،بیروت)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/168،الطارق)
وکذا فی الھداية:(2/337،38،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/353،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(4/432،رشیدیہ)
وکذافی البناية:(5/26،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :167

ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے ،یہ کہے کہ تو میری طرف سے فارغ ہے اور دل میں نیت ایک طلاق کی ہو تو اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہو گی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/427،429،بیروت)
فالاصل فی جمیع الفاظ الکنایات ان لا یقع الطلاق بھا الا بالنیۃ ،و بعد صفحۃ :وان نوی فی الخلیۃ والبریۃ والبتۃ والبائن والحرام، ثلاثا او واحدۃ بائنۃ فھو علی ما نوی.
و فی المبسوط للسرخسی:(6/73،دارالمعرفة)
ولو قال انت منی بائن او بتۃ او خلیۃ او بریۃ فان لم ینو الطلاق لا یقع الطلاق۔۔۔۔ وان نوی الطلاق فھو کما نوی
وکذا فی الھداية:(2/352،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/521،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(3/297،سعید)
وکذ افی التاتارخانية:(4/459،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6900،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:2/35،36،المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/170،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :154

كيا مہر کے بغیر نکاح ہو جاتا ہے؟اگر ہو جاتا ہے تو پھر مہرکیوں ضروری ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مہر کے بغیر نکاح ہو جاتاہے،البتہ شرعا اس لیےضروری ہے تاکہ شوہر کے دل میں بیوی کی عزت وشرافت باقی رہے،کیوں کہ جب وہ قابل قدر مالیت خرچ کرکے اس کو حاصل کرے گاتو یقینااس کےہاں معززو محترم ہوگی۔

لما فی الموسوعةالفقھیة:(39/152.53،علوم اسلامیة)
وامااذا شرط نفی المھر فی النکاح کان تزوجھا بشرط ان لا مھر لھا اختلف الفقھاء فی حکم ھذا النکاح:فذھب الحنٖفیۃوالشافعیۃ والحنابلۃ الی صحۃالنکاح…..حکمۃ وجوب المھر فی عقد النکاح:قال الکاسانی لو لم یجب المھر بنفس العقد لا یبالی الزوج عن ازالتہ ھذاالملک بادنی خشونۃ تحدث بینھما… ولان مصالح النکاح ومقاصدہ لا تحصل الا بالموافقۃ ولاتحصل الموافقۃ الااذا کانت المراۃ عزیزۃ مکرمۃ عند الزوج،ولاعزۃ الابانسداد طریق الوصول الیھا الا بمال لہ خطرعندہ.
وفي البناية فی شرح الھدایة:(4/647،رشیدیہ)
وخلو النکاح عن تسمیۃ لا یمنع صحۃ کما اذا تزوجھا ولم یسم لھا مھرا،او تزوجھا علی ان لا مھر لھا…فالنکاح جائز…(ثم المھر واجب شرعا) ھذا جواب عمایقال المھر واجب شرعا، فکیف یصح النکاح مع السکوت،فاجاب بقولہ المھر واجب شرعا،یعنی وجوبہ لیس لصحۃ النکاح وانماوجب(ابانۃ)ای اظھارالشرف المحل.
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/559،رشیدیہ) وکذا فی النھر الفائق:(2/229،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/6570،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق:(3/249،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(3/304،رشیدیہ) وکذا فی التاتارخانیة:(4/160،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/7/1440، 2019/3/24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :111

ايك بچہ(زید) نےایک عورت (خالدہ) کا دودھ پیا،اب اس عورت (خالدہ) کے خاوند(مدثر)کی بہن(شاکرہ) کے ساتھ اس بچہ(زید) کے والد(ندیم) کا نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جی ہو سکتا ہے۔

لما فی البناية فی شرح الھدایة:(4/814،رشیدیہ)
“واعلم ان کل مالا یحرم من النسب لا یحرم بالرضاع، کما ذکرنا من الصورتین،وھاھناصور اخری من الرضاع دون النسب…..الثالثہ:یجوز لہ ان یتزوج بعمۃابنہ من الرضاع دون النسب.”
وکذا فی الدرالمختار:(3/216،سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(3/390،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:3/400(،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/343،رشیدیہ)
وکذا فی شرح العینی:(1/229،اداراۃالقرآن)
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/183،امدادیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(2/95،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:( 1/553،المنار)
وكذا فی فتح القدیر:(3/429،رشيدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440، 2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :90

ایک شخص نے رخصتی سے پہلے اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی، اور نکاح کے وقت اس نے مکمل مہر ادا کر دیا تھا،اب اس کو آدھا مہر واپس لینے کا اختیار اور حق ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جی !یہ شخص آدھا مہر واپس لے سکتا ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/164،داراحیاءتراث)
ولو قبضت الصداق ووھبتہ من اجنبی ثم الاجنبی وھبہ من الزوج، ثم طلقھا قبل الدخول بھا، یرجع علیھا بنصف المھر.
وفی بدائع الصنائع:(2/594،رشیدية)
وان کان قبضتہ، فان کان دراھم او دنانیر معینۃ او غیر معینۃ او کان مکیلا او موزونا فی الذمۃ فقبضتہ وہو قائم فی یدھا فطلقھا فعلیھا رد نصف المقبوض.
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(6/66،دارالمعرفة)
وکذا فی تفسیر القر طبی:(3/205،داراحیاءتراث)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/104،سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6804،رشیدیة)
وکذا فی الھدایة:(3/304،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/253،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/509،المنار)
وکذا فی شرح العینی:(1/212،ادارۃالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :5

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا تجھے دوسری طلاق ہے،حالانکہ اس نے پہلے طلاق نہیں دی،تو ایک طلاق واقع ہوگی یا دو؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہوگی،البتہ اگر معاملہ عدالت یا پنچايت تک چلا جائے،تو فیصلہ میں دو طلاقیں ہی شمار کی جائیں گی۔

لما فی ردالمحتار:(3/238،سعید)
کما اقر بالطلاق ھازلا او کاذبا ،فقال فی البحر،ان مرادہ لعدم الوقوع فی المشبہ بہ عدمہ دیانۃ،ثم نقل عن البزازیۃوالقنیۃ لو اراد بہ الخبر عن الماضی کذبا لایقع دیانۃ.
وکذا فی البحر الرائق:(3/428،رشیدیۃ)
وکذا فی الھدایۃ:(2/373،رشیدیۃ)
وکذا فی الولوالجیۃ:(2/89،الحرمین)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/79،80،81،المنار)
وکذا فی المبسوط:(5/19،دارالمعرفۃ)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/401،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/6987،رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440، 2019/2/17
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :8

میرےشوہر نےشادی کے ایک سال بعد ایک جھگڑ ے کے دوران یہ کہا کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ، مطلب اگر گھر کی صفائیاں وغیرہ نہ ہوئیں تو تم فارغ ہو ، اور میں صفائیوں وغیرہ کے معاملات پر پورا اتر بھی نہ سکی ۔ پھر پانچ ، چھ ماہ بعد یوں کہا ” تم دو کشتیوں میں سوار نہیں ہو سکتی ، اگر تمہار ی خوشی ہے کہ تم نے اپنے گھر جانا ہے ، گھر والے بہت عزیز ہیں ، نہیں چھوڑ سکتی، تو تم جا سکتی ہو ، میری طرف سے تم پر کوئی پابندی نہیں ، تم آزاد ہو ” اور اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ تم میری طرف سے فارغ ہو متعدد بار کہا ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں شوہر کے ان الفاظ ” کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ” سے ایک طلاق بائنہ واقع ہو گئی ، اور پانچ ، چھ ماہ بعد جتنے بھی الفاظ کہے ان سے کچھ بھی واقع نہیں ہو گا ، کیونکہ پانچ ، چھ ماہ میں عموما عورت کی عدت ( تین حیض ) گزر جاتی ہے اور عدت گزرنے کے بعد مزید طلاق واقع نہیں ہو گی ، لہذا باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی الھدایة : ( 2 / 364 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق و ھذا بالاتفاق لان الملک قائم فی الحال الظاھر بقاءہ الی وقت وجود الشرط ، فیصح یمینا او ایقاعا.
و فی الھندیة: ( 1 / 420 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا ، مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق
و کذا فی البحر الرائق للنسفی : ( 4 / 5 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/3/1440، 2018/11/15
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :54

عیسائی خا تون مسلمان ہونا چاہتی ہے، اس کا ایک عیسائی سے نکاح ہوچکا ہے ، لیکن رخصتی نہیں ہوئی اس خاتون کے مسلمان ہونے سے ہی اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا ،یا کچھ اور حکم ہے ؟ اور مسلمان ہونے کے بعد یہ عورت نکاح کرنے چاہے تو عدت گزارنا ضروری ہے یا نہیں۔

الجوب باسم ملھم الصواب

قاضی یا علماء کرام کی مجلس اس کے شوہر پر اسلام پیش کرے ،اگر وہ اسلام قبول کر لے تو نکاح برقرار رہے گا ،ورنہ ان کے درمیان تفریق کر دی جائے اور یہ تفریق طلاق کے حکم میں ہو گی ،اور یہ عو رت بغیر عد ت کے نکاح کر سکتی ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ :(3/188،89،سعید)
(واذااسلم احدالزوجین المجوسین او امراۃ الکتابی عرض الاسلام علی الآخر فان اسلم )فبھا(والا)بان ابی او سکت(فرق بینھما، ولو کان )الزوج(صبیا ممیزا)اتفاقا علی الاصح.
وفی المحیط البرھانی:(4/200، بیروت۔لبنان)
اذا اسلم احدالزوجین فی دارالاسلام،فان کان الذی اسلم ھی المراۃ یعرض الاسلام علی الزوج،فان اسلم بقیا علی النکاح، والا فرق بینھما
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1/338، رشیدیۃ) وکذا فی البحر الرائق :(3/368، رشیدیۃ)
وکذا فی المدونۃ الکبری:(2/212، دارالکتب) وکذا فی الہدایۃ:(2/325، رشیدیۃ)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/272، فاروقیۃ) وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/83،الطارق)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/272، فاروقیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/6/1440، 2019/2/20
جلدنمبر :18 فتوی نمبر :9

طلاق نامہ بنام مریم عاشق بنت محمد عاشق میں مسمی محمد زاہد ولد لیاقت علی زاہد بقائمی ہوش وحواس بغیر کسی دباؤ کے اپنی بیوی کے مطالبہ ، ٹیلی فون اور message پر بار بار اصرار کرنے، خاندان کے تمام افراد کے سامنے طلاق کامطالبہ کرنے اور اپنی بیوی کے والدین اور بھائی کی طرف سے ہمارے گھر آکر اصرار کرنے کے بعد اپنی بیوی مریم عاشق بنت محمد عاشق کو طلاق دیتا ہوں ۔ میں یہاں واضح کر دوں کہ نکاح کے وقت معجّل حق مہر اداکردیا گیاتھا اور غیر معجّل حق مہر 50000 روپےنصف جن کا 25000 روپے بنتے ہیں معاف کر دیا جاوے تاکہ طلاق مؤثر ہو سکے۔ یہ سب کچھ میں اپنی منکوحہ کی طرف سے مسلسل ذہنی دباؤ اور مطالبے پر کر رہا ہوں جس میں منگنی 3سال کاعرصہ شامل ہے۔ جس کے بعد 13دسمبر2014 کو باقاعدہ ہمارا نکاح ہوا، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی اور عین بارات والے دن 7دسمبر 2018کو شادی سے انکار کر دیا اور بارات اور ولیمہ کے لیے کی گئی تما مbookingsبھی منسوخ کروانا پڑیں اور تمام مہمانوں کو فون کر کے شادی منسوخ ہونے کی اطلاع دی گئی جس سے گھر اور خاندان کے افراد کو سخت صدمہ ،ذہنی کوفت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ لہذا ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہ فیصلہ کر رہا ہوں ۔ آپ سے درخواست ہے کہ اسلام کی رُو سے اور شریعت کے مطابق میرے اس فیصلے کو تحریری شکل دی جاوے تاکہ کسی قسم کا شرعی عذر نہ رہے ۔میں فون پر یا messageیا نوٹس کے ذریعے طلاق دینےکا کو ئی مناسب طریقہ کروں ۔مناسب رہنمائی فرما کر ہدایات جاری کریں تاکہ بندہ وہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دے سکے ۔ صحیح ہدایت نامہ جاری کرکے مجھے شکریہ کاموقع دیں میں آپ کا مشکور ہوں گا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں جب مسمی محمد زاہد نے نصف حق مہر مبلغ پچیس ہزار 25000کے عوض اپنی منکوحہ کو میسج پر طلاق لکھ کر بھیجی تو طلاق بائنہ واقع ہو گئی ہے۔لہذا اب دونوں کے درمیان کسی قسم کا ازدواجی تعلق باقی نہیں رہا۔

لما فی بدائع الصنائع:(3/239،رشیدیہ)
“وأما الطلاق على مال فهو في أحكامه كالخلع؛ لأن كل واحد طلاق بعوض فيعتبر في أحدهما ما يعتبر في الآخر”
وفی فتح القدیر:(4/211و213، رشیدیہ)
وفي الخلاصة: امرأة اختلعت من زوجها على مهرها ونفقة عدتها وعلى أن تمسك ولدها منه ثلاث سنين أو عشرا بنفقته صح الخلع ويجب ذلك، ۔۔۔۔۔والاصح ان الخلع علی مھرھا کالخلع علی مال آخر
وکذافی الفتاوی الھندیة:( 1/378، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (4/528، فاروقیہ)
وکذ افی البحر الرائق :(4/120، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلة:(9/6904،، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(4/442،دار المعرفة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(5/58و79،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (2/200و229، الطارق)
وکذا فی الموسوعةالفقہیة:(29/24،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/4/1440
18/12/2018
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:61

سسر نے اپنے بیٹے کی طرف سے اپنی بہو کو طلاق دی پھر اس عورت نے جا کر دوسری شادی کر لی جب اس کا پہلا شوہر آیا تو اس نے کہا میں نے تجھے طلاق نہیں دی، تو نے دوسری شادی کیسے کی ہے؟ لڑکی نے کہا تمہارے والد نے تمہاری طرف سے طلاق دی ہے۔ کیا اس لڑکی کا دوسرا نکاح ہوگیا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا ہے تو جب یہ دوسرے شوہر کے پاس آئے گی تو جس مرد کے ساتھ نکاح درست نہیں تھا اس نے ہم بستری کی ہے، اس کی عدت گزارے گی یا نہیں؟ براہ مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مسئلہ میں اگر لڑکا اپنی بات میں سچا ہے تو اس لڑکی کا دوسرا نکاح جائز نہیں ہے۔ لہذا لڑکی فورا دوسرے شوہر سے الگ ہو جائےاور اس کا پہلا شوہر تین حیض گزر جا نے سے پہلے اس کے پاس نہیں جا سکتا۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/6883و6602الی6604 ، رشیدیہ)
طلاق غير الزوج: لا يصح طلاق غير الزوج، لحديث «لا طلاق قبل النكاح، ولا عتق قبل
ملك»
وفیہ ایضا:
والزواج الفاسد عند الحنفية: هو مافقد شرطاً من شروط الصحة، وأنواعه:۔۔۔ وزواج امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، (وعلی الصفحۃ التالیۃ)وبالرغم من كون الدخول في الزواج الفاسد معصية، فإنه عند الحنفية تترتب عليه ـ أي بالوطء في القبل لا بغيره كالخلوة ـ الأحكام التالية:(وعلی الصفحۃالآتیۃ)وجوب العدة على المرأة من حين التفريق بينهما عند جمهور الحنفية وهو الصواب في المذهب
وفی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 526،رشیدیہ )
لو كان النكاح فاسدا ففرق القاضي۔۔۔ إن فرق بعد الدخول كان عليها الاعتداد من وقت التفريق، وكذا لو كانت الفرقة بغير قضاء كذا في الظهيرية.
وکذافی المستدرک علی الصحیحین: ( 2/874 ،قدیمی ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ : ( 41/318 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی الھدایہ مع فتح القدیر : ( 4/ 288 ،رشیدیہ ) وکذا فی التاتار خانیہ: (4 /377 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذافی کنز الدقائق مع النھر الفائق: (2 /474 ،475،قدیمی )،وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: ( 29/ 14 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26-07-1440، 3-04-2019
جلدنمبر:18 فتوی نمبر :162