ایک لڑکی کے والدین کا انتقال اس کے بچپن میں ہو گیا تھا،اور یہ اکیلی تھی اس کے چچا نے اسے اپنی کفالت میں لیا اور اپنے بیٹے سے اس کا نکاح کردیا،پھر اس کے چچاکا بھی انتقال ہو گیا تو ماموں نے اسے اپنی کفالت میں لے لیا اور بچی کو سمجھا دیا کہ جب تم بالغ ہو تو اسی وقت فورا اس نکاح سے ناراضی کا اظہار کر دینا اور اس نکاح کو ختم کر دینا ،لڑکی نے ایسا ہی کیا ،ماموں نے چند دن بعد اس کا نکاح اپنے بیٹے سے کر دیا اور رخصتی بھی ہو گئی ،آٹھ ماہ بعد چچا کے بیٹے کو علم ہوا تو اس نے واویلا مچا دیا ،پنچایت نے فتوی پر فیصلہ طے کیا ہے ،اس بارے میں شرعی حکم سے آگاہ کر دیں ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں لڑکی کا بالغ ہوتے ہی نکاح سے ناراضی کا اظہار کرنے کے بعد عدالت کے ذریعے تنسیخ نکاح ضروری تھی۔اگرعدالت کے ذریعے پہلا نکاح فسخ کرایا گیا تھا تو دوسرا نکاح ٹھیک ہے ،ورنہ دوسرا نکاح درست نہیں ہے ،لڑکی اور ماموں کے بیٹے میں فوراً جدائی کروائی جائے اب تک اکٹھے رہنے پر توبہ استغفار بھی کریں ۔

لما فی کنزالدقائق :(100،101،حقانیہ)
“وللولی انکاح الصغیر والصغیرۃ،والولی العصبۃبترتیب الارث،ولھما خیارالفسخفی غیر الاب والجد بشرط القضاء.”
وفی ردالمحتار:(4/171،رشیدیہ)
وحاصلہ :انہ اذا کان المزوج للصغیر والصغیرۃ غیر الاب والجد ،فلھما الخیار بالبلوغ اوالعلم بہ ،فان اختارالفسخ لایثبت الفسخ الا بشرط القضاء
وکذا فی القدوری علی شرح اللباب:(2/146،قدیمی) وکذا فی الھدایہ:(2/296،297،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/57،داراحیاء تراث) وکذا فی الفتاوی البزازیہ:(4/125،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/94،95،97،فاروقیہ) وکذا فی تبیین الحقائق:(2/122،امدادیہ)
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(4/168الی170،رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ:(1/185،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
22/6/1440،2019/2/28
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:47

ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا وہ یہ کہ میاں بیوی کا جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں غصہ میں آ کر شوہر “محمد سجاد ”نے اپنی بیوی کو بذریعہ اسٹام تحریری طلاق دی ہے ،اور یہ واقعہ 2016/11/7 کا ہے ،اسٹام کی نقل استفتاء کے ساتھ بھیج دی ہے ۔واضح فرما دیں کہ کتنی طلاق ہوئیں اور دوبارہ اکٹھے رہنے کی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں بعض علماء کرام کے نزدیک تحریر کے الفاظ“مسمات مذکوریہ کوطلاق دے کر ”سے ایک طلاق اور “آزاد کر دیا ”سے دوسری طلاق واقع ہو گئی اس طرح ان کے نزدیک دو طلاقیں ہو گئیں ۔
اوربعض علماء کرام کے نزدیک“مسمات مذکوریہ کوطلاق دے کر”سے ایک طلاق واقع ہو گئی اور “آزاد کر دیا ”اور“وہ مجھ پر حرام ہے”سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی کیونکہ یہ الفاظ گویا کہ طلاق کا ثمرہ اورنتیجہ بیان کرنےکےلیےیا طلاق کے حکم میں مزید سختی اور شدت پیدا کرنے کے لیے بولے گئے ہیں ۔
ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ صورت مسئولہ میں “آزاد کر دیا ”اور“وہ مجھ پر حرام ہے ”سے مزید طلاق تو واقع نہ ہو گی البتہ یہ الفاظ رجعی کوبائن سے بدل دیں گے کیونکہ عموما طلاق دینے والایہ الفاظ مزید طلاق دینے کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ سابقہ الفاظ کی نئی تعبیریا ان کا حکم اور سختی کے بیان کے لیے استعمال کرتا ہے ۔
لہذا ہماری ناقص رائے کے مطابق صورت مسئولہ میں صرف ایک طلاق بائن ہو گی ۔اور باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیۃ للشیخ فرید الدین عالم بن العلاء
وان طلق امراتہ الحرۃواحدۃثم قال لھا “انت علی حرام ”ینوی ثنتین لا تصح ھذہ النیۃ ،لان الحرمۃ الغلیظۃ لا تحصل بھا بل بھما وبما تقدم ،ففی ھذا مجرد نیۃالعدد ، ولو قال لھا بعد ما طلقھا واحدۃ “انت علی حرام ”ونوی الثلاث تصح النیۃ و تقع تطلیقتان اخریان ،نص علی ھذا محمد رحمہ اللہ ، وان نوی الطلاق فی قولہ “انت علی حرام ”ولم ینوالعدد فھی واحدۃ،وان لم ینو الطلاق فھو یمین نوی الیمین او لم ینو ،لان تحریم الحلال یمین غیر ان الیمین فی الزوجات ایلاء،فان قربھا کان علی علیہ الکفارۃ ،وان لم یقربھا حتی مضت اربعۃ اشھر بانت بالایلاء،فی الواقعات :وان لم ینو شیئا فایلاء ،وقیل ھو الطلاق للعرف وبہ یفتی ، وفی تجنیس خواہر زادہ : والفتوی علی انہ یقع الطلاق البائن ،وان لم ینو لغلبۃ استعمال ھذہ اللفظۃ فی ھذہ البلاد ۔”
(الفتاوی التاتار خانیۃ :4/448،م:فاروقیۃ)
(کذا فی البحر الرائق:3/500/501،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصارمع شرحہ :4/485/486/487،م:رشیدیہ)
(کذا فی الھدایۃ:2/348،م:رشیدیہ)
(کذا فی رد المحتار :4/519،م:رشیدیہ)
(کذا فی الفقہ الحنفی:2/170،م:الطارق )
(کذا فی تبیین الحقائق :2/212،م:امدادیہ)
کذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/14،الحرمین الشریفین)

واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللّٰہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/3/1440،2018/12/1
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:55

ایک خاتون حاملہ ہے اور اس کے شوہر نے اسےطلاق دے دی ہے ،دوران عدت اس کے چیک اپ وغیرہ اور زچگی کے اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

راجح قول کے مطابق مطلقہ حاملہ کے چیک اپ اور زچگی کے تمام اخراجات بذمہ شوہر ہوں گے ۔

لما فی القرآن المجید(الطلاق6)
“{ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}.”
و فی الموسوعہ الفقھیہ:41/57(علوم اسلامیہ)
ولانھا حامل بولدہ وھو یجب ان ینفق علیہ ،ولا یمکن الانفاق علی الحمل الااذا انفق علی امہ،فیجب علی الزوج ان ینفق علی تلک الام،کمایجب علیہ اجرۃ الارضاع
کذا فی رد المحتار:5/340(رشیدیہ)
کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(10/7381،7385،وایضا:1/7405،رشیدیہ)
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(41/41،43،علوم اسلامیہ)
کذافی رد المحتار:(5/294،رشیدیہ)
کذا فی التاتارخانیہ:(5/399،وایضا:5/369،فاروقیہ)
کذافی المحیط البرھانی:(4/319،بیروت)
کذا فی الھندیہ:( 1/549،رشیدیہ)
کذا فی البحر الرائق(4/299،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:191

کہ اگر لڑکا اور لڑکی والدین کی مر ضی کے خلاف چوری چھپے نکاح کر لیں اور پتہ چلنے پر دونوں کے والدین اس نکاح پر راضی نہ ہوں تو کیا یہ نکاح درست ہو گا ؟ خاص طور پر اگر لڑکی ذات پات اور رتبے کے لحاظ سے لڑکے اور اس لڑکے کے خاندان کے رتبے اور حیثیت کے برابر نہ ہو، یعنی لڑ کی کا تعلق لڑکے کی بنسبت کم حیثیت اور کم درجے والے خاندان سے ہو ، اور لڑکے کے والدین کسی بھی صورت پر اس نکاح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہو گی ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

شرعاً یہ نکاح تو درست ہے ،لیکن سرپرستوں کی اجازت کے بغیر چھپ کر نکاح کر لینا بہت نا مناسب حرکت ہے، عورت کے خاندان کا مرد کے خاندان سے کم حیثیت ہونا نکاح کے صحیح ہونے میں مضر نہیں ۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ : (1/290، رشیدیہ )
فاذا تزوجت المر اۃ رجلا خیرا فلیس للولی ان یفرق بینھما ،فان الولی لا یتعیر بان یکون تحت الرجل من لا یکا فئوہ ،کذا فی شرح المبسوط للامام السرخی
وکذا فی الموسوعةالفقھیة : (34/267،علوم الاسلامیہ )
فذھب الحنفیۃ والحنابلۃ الی ۔۔۔۔۔ ان الکفاءۃ تعتبر فی جانب الرجال للنساء ، ولا تعتبر فی جانب النساء للرجال ،لان النصو ص وردت باعتبارھا فی جانب الرجال خاصۃ۔
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/6742، رشیدیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (2/217،قدیمی )
وکذا فی البنایہ : ( 4/619، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (2/ 629، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/225 ، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار : ( 3/ 84 ،ایچ ایم سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27، 5، 1440/ 2019، 2، 3
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:111

ایک آدمی نے ایک طلاق دی پھر ایک ماہ کے بعد دوسری طلاق دی ، پهر ايك ماه كے بعد تيسری طلاق دی، تو اب وہ مطلقہ کتنی عدت گزارے گی۔

الجواب باسم ملھم الصواب

پہلی طلاق کے بعد تین حیض پورے ہونے پر عدت مکمل ہو جائے گی۔ اگر عورت کو حیض نہ آتا ہوتو پہلی طلاق کے بعد تین ماہ مکمل کرے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ: (1/ 532، رشیدیہ )
رجل قال : لامراتہ المدخولۃ کلما حضت وطھرت فانت طالق فحاضت ثلاث حیض کانت العدۃ من وقت الطلاق الاول کذا فی قاضیخان
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : (5/ 227، فاروقیہ )
وعدۃ الطلاق تارۃ تکون بالشھور وتارۃ تکون بوضع الحمل ،والشھور بدل فیمن لاتحیض بصغر او کبر او فقد حیض یعنی الآیسۃ فالحرۃ تعتد بثلاث حیض او ثلاثۃ اشھر
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 5/231،احیاء تراث العربی )
وکذا فی کتاب الفقہ : (3/ 295،حقانیہ)
وکذا فی مجمع الانھر : (2/ 149، المنار )
وکذا فی بدائع الصنائع :3/ 142، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار : (3/520، سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14، 6، 1440، 2019، 2، 20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:189

میری بیوی پہلے سے شادی شدہ تھی جب اس کو پہلے شوہر سے طلاق ہوئی تو میں نے اس سے اس کی عدت 3 ماہ 15 دن کے بعد نکاح کر لیا جب کہ میرے نکاح کے دن بقول اس عورت کے وہ 2 ماہ سے حاملہ ہے (میرے اس عو رت سے بد کاری کر نے کی وجہ سے وہ حاملہ ہو ئی ) میری طرف سے اب سوال یہ ہے کہ کیا میرا نکاح اس سے ہو گیا؟ میرے سا تھ نکاح کے تقریبا سات ماہ بعد بچی پیدا ہو ئی اور نکاح کے 10ماہ بعد میں نے طلاق ثلاثہ کا نوٹس لکھ دیا تھا ، اور پھردوبارہ میں نے اس خاتون سے نکا ح کر لیا اب اس خاتو ن کا میرے سا تھ رہنا جا ئز ہےیا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکو رہ صو رت میں حاملہ ہو نے کی وجہ سے اس عورت کی عدت وضع حمل تھی ، اس لیے عدت میں ہو نے کی وجہ سے آپ کااس سے نکاح نہیں ہوا تھا ،لیکن دوسرے نکا ح کے بعد آپ کا اس کے سا تھ رہنا جا ئز ہے۔پہلے جو کچھ ہو ا وہ حرام اور گناہ تھا،دونو ں اس پر استغفارکریں ۔

لمافی الشامية:(5/192،رشیدیہ)
قوله: أو من زنا إلخ) ومثله ما لو كان الحمل في العدة ۔۔۔۔ وفي الحاوي الزاهدي: إذا حبلت المعتدة وولدت تنقضي به العدة سواء كان من المطلق، أو من زنا وعنه لا تنقضي به من زنا…. قال:واعلم أن المعتدة لو حملت في عدتها ذكر الكرخي أن عدتها وضع الحمل ولم يفصل، والذي ذكره محمد أن هذا في عدة الطلاق، أما في عدة الوفاة فلا تتغير بالحمل وهو الصحيح كذا في البدائع
وفی الفتاوی التا تا ر خانية: (4 /66 ، فا رو قیہ)
وفي الخانية :ولا یجوزنکاح منکو حۃالغیر ومعتدۃ الغیر عند الکل ، ولو تزوج بمنکو حۃ الغیروھو لا یعلم انھا منکو ح الغیر فوطئھا (تجب العدۃ ، وان کا ن یعلم انھا منکو حۃ الغیر فوطئھا )لا تجب العدۃ حتی لا یحرم علی الزوج وطو ھا.
وکذافی الھندية : (1 /280 ،رشیدیہ ) وکذا فی بدا ئع الصنائع : ( 3/302 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/6613 ،رشیدیہ ) وکذا فی البحر الر ائق: (4 /239 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : ( 2/76 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:196

ایک عورت نے میکے جانے کی ضد کی ،شوہر نے کہا میں پکا پکا چھوڑ آتاہوں، شوہر کا کہنا ہےکہ میری نیت یہ تھی کہ میں جاکر اس عورت کو نہیں لاؤں گا خود آگئی تو ٹھیک ہے ،اس صورت حال میں طلاق ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔

لمافی الھندیة: (1/375 ،رشیدیہ )
الفصل الخامس فی الکنایات)لایقع بھا الطلاق الا بالنیۃاو بدلالۃ الحال ….والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق . … (وحالة) الغضب…. يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية وألحق أبو يوسف رحمه الله تعالى – بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى …وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (9/6900،رشیدیہ)
“وفصل الحنفیۃ فی وقوع الطلاق قضاء بالفاظ الکنایات …واما فی حالۃالغضب فیقع الطلاق بلفظ (اعتدی)من غیر نیۃ واماالالفاظ الاخری فتحتاج الی نیۃ.
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/428،دار احیاء)
وکذافی الھدایة : (2/335،رشیدیہ )
وکذافی اللباب : (2/172،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع: (3/168 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر: (4/58 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :86

شوہر نے بیوی کو طلاق دی بیوی نے عدت پوری نہیں کی ،بیس دن کے بعد دوسری جگہ نکاح کر لیا ،کیا عدت کے دوران دوسرا نکاح درست ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

عدت کے دوران دوسرا نکاح جائز نہیں لہذا اس عورت پر فورا ًدوسرے خاوند سے علیحدہ ہو جانااور توبہ کرنا ضروری ہے۔اگر مرد اس صورت حال سے واقف ہو تووہ بھی توبہ کرے۔

لما فی بدائع الصنائع: (3/323 ،رشیدیہ )
العدة فمنها أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة لقوله تعالى {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] قيل: أي لا تعزموا على عقدة النكاح، وقيل: أي لا تعقدوا عقد النكاح حتى ينقضي ما كتب الله عليها من العدة ولأن النكاح بعد الطلاق الرجعي قائم من كل وجه، وبعد الثلاث والبائن قائم من وجه حال قيام العدة لقيام بعض الآثار، والثابت من وجه كالثابت من كل وجه في باب الحرمات احتياطا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (9 /6613 ،رشیدیہ )
والانکحۃالباطلۃللنھی عنھا کثیرۃ اھمھا تسعۃ —نکاح المعتدۃ والمستبرأۃ من غیرہ ولو من وطئی شبھۃ ،فان دخل بھا حد حد الزنا، الا ان ادعی الجھل بحرمۃ النکاح فی العدۃ والاستبراء من غیرہ فلا حد علیہ
وکذافی الھندیة: (1/280،رشیدیہ )وکذافی بدائع الصنائع: (2/549،رشیدیہ )
وفیہ ایضا: (3/302،رشیدیہ )وکذا فی التاتارخانیة: (5/226 ،فاروقیہ)
وفیہ ایضا: (4/66،رشیدیہ )وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (2/205 ،الطارق)
وفیہ ایضا: (2/76،رشیدیہ )وکذا فی الشامیة: (5/182،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :22

کیا خلع اور طلاق کی عدت میں کوئی فرق ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

لما فی البحر الرائق: (4 /120 ،رشیدیہ )
” قولہ:(الواقع بہ وبالطلاق علی مال طلاق بائن )ای بالخلع الشرعی ،اما الخلع فلقولہ علیہ الصلاۃ والسلام الخلع تطلیقۃبائنۃولانہ یحتمل الطلاق حتی صارمن الکنایات والوقع بالکنایۃ بائن.
وفی المبسوط : (6 /171 ،دار المعرفہ )
“(قال ) واذا اختلعت المرءۃ من زوجھا فالخلع جائز والخلع تطلیقۃ بائنۃ عندنا . “
وکذافی الھندیة : (1 /488 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (3 /228 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (5 /93 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (5 /59 ،دار احیاء )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/ 7007 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440ھ2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :84

جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟ جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟ جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کے شوہرکا انتقال قمری مہینے کی پہلی تاریخ کو ہواتوقمری مہینے کے اعتبار سے 4ماہ 10دن عدت ہوگی، ورنہ 130دن عدت ہوگی۔

لما فی الھندیۃ :(1/524 ،رشیدیہ)
لوطلق امرتہ وقت العصر من اول یوم من الشہر وھی ممن تعتد بالاشھرتعتبرعدتھا بالاھلۃ
وفیہ ایضاً:(1/527،رشیدیہ)
“اذاوجبت العدۃبالشھورفی الطلاق والوفاۃ فان اتفق ذالک فی غرۃ الشھوربالاھلۃ—وان اتفق فی خلالہ فعند ابی حنیفۃرحمہ اللہ تعالی—یعتبر فی ذالک عددالایام”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/ 7181 ،رشیدیہ )
وکذافی التاتارخانیۃ : ( 5/231، فاروقیہ)
وکذا فی تنویر الابصارمع الدرالمختار: (3/ 510 ، سعید)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ: ( 2/243 ،قدیمی )
وکذا فی النھر الفائق: (2 /477، قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر : (2 / 144 ، المنار)
وکذا فی البرجندی:(2/69،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019/2/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :166