الجواب حامداًومصلیا
اس مسئلہ میں تین صورتیں بیان ہوئیں ، جن کو ترتیب کے وار ذکر کیا جاتاہے۔
(1)
شوہر کا یہ کہنا کہ” میں تم سے ہمبستری کروں تو حرام کروں ” اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،بلکہ یہ قسم ہے اور قسم توڑنے کا کفارہ شوہر پر لازم ہو گا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ، یا ان کو کپڑے پہنائے جائیں ، اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے جائیں۔
(2)
شوہر کا اپنی بیوی کو کہنا کہ ” تو تو بڑی آزاد ہے” اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ یہ جملہ ڈانٹ کے طور پر کہا ، جیسا کہ سوال میں وضاحت کر دی ہے کہ یہ جملہ ‘آزاد خیال’ کے زمرے میں کہا تھا۔
(3)
شوہر کا بیوی سے کہنا کہ” تو میری باجی ہے، باجی کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ، اب تو طلاقن ہو گئی ہے ” اس سے ایک طلاق بائنہ ہو گئی ہے، اس لیے کہ جن علاقوں کے عرف میں بیوی کے لیے یہ الفاظ ‘میری بیٹی ،میری بہن ‘ طلاق کی نیت سے بولے جاتے ہیں ، وہاں ان الفاظ سے طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی اور سوال سے بھی لگ رہا ہے کہ بظاہر شوہر نے اسی نیت سے یہ الفاظ کہے ہیں ، لہذا اب دونوں عدت کے دوران یا عدت کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔
لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2 /321 ،طارق)
فمن حرم شیئا ثم فعلہ کفر لیمینہ ۔۔۔۔لو قالت المراۃ لزوجھا انت علی حرام او حرمتک علی نفسی ، فلو طاوعتہ فی الجماع او اکرھھا لزمتھا الکفارۃ
وفیہ ایضا:(2/343،طارق)
الواجب فی الکفارۃ احد الاشیاء الثلاثۃ ، وہی تحریر رقبۃ او اطعام عشرۃ مساکین او کسوتھم لان کلمۃ “او” للتخییر ، فان لم یقدر علی احد ھذہ الشیاء الثلاثۃ عند الاداء صام ثلاثۃ ایام متتابعات۔
وفی : المحیط البرہانی (4/428،ادارة القرآن)
وما یصلح ان یکون جوابا و یصلح شتیمۃ نحو قولہ خلیۃ، بریۃ ، بتۃ، بائن ،حرام لا یجعل طلاقا اذا قال لم انو بہ الطلاق و صلاحیۃ ھذہ الالفاظ للشتم اذا احتمل الشتم و الطلاق ثبت ادناھا ،وحالۃ المغایظۃ کما یدل علی الطلاق ، یدل علی الشتم ،ثبت ادناھما وھو الشتم
وفی شرح مجلة الاحکام:(1/21،العربیة)
“العبرۃ فی العقود للمقاصد والمعانی لا للالفاظ والمبانی۔ “
وکذافی الھدایة:(2/235،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/459،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/519،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/171، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/570، رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1443،2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:106