زیدکی ایک رضاعی ماں ہے،جس کے شوہر نے دوسری شادی کی ہے،اس دوسری شادی سے ایک بیٹی ہے،کیا اس بیٹی سے زید کی شادی ہوسکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیا

نہیں ہو سکتی۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/343،رشیدیہ)
یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھماوفروعھمامن النسب والرضاع جمیعا
وفی الصحیح المسلم:(1 /537 ،رحمانیہ)
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحرم من الرضاع مایحرم من الولادۃ
وفی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/ 362،فاروقیہ)
ویحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع و اصولھماوفروعھمامن النسب والرضاع جمیعا
وکذافی الخانیہ:(1/416،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/365،حرمین شریفیں)
وکذافی مجمع الانھر:(1/554،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/538،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/132،دارالمعرفہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/93،ادارۃالقران)
وکذافی البحرالرائق:(3/343،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن
19،2،1443/2021،9،72
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:31

ایک آدمی نے اپنی تین سالہ بھانجی کو گود لیا بعد میں اس کی اپنی اولاد بھی ہوئی تو کیاان کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جی ہو سکتاہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(280،البشریٰ)
تحل للرجل عمّۃ عمّۃ أمہ وخالۃ خالۃ ابیہ وکذلک تحل لہ بنات العمّات وبنات الأعمام وبنات الأخوال وبنات الخالات
وکذافی شرح الوقایة:(2/12،امدادیہ)
وکذا عمات الاب والام وعمات الجد والجدۃ لکن بنات ھؤلاءان لم یکن صلبیۃ لاتحرم کبنت العمّ والعمّۃ وبنت الخال والخالۃ
وکذافی بدائع الصنائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المظہری:(2/51،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(3/199،رشیدیہ)
وکذافی در المختار:(4/110،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6626،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر: 114

ایک آدمی نے طلاق نہیں دی ،اور کہتا ہے کہ میں نے طلاق دی ہے تو اس کا کیا حکم ہے

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

اس کے اقرار کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(4/401،فاروقیہ)
”اذا قال لامرأتہ ”قد طلقتک “او قال ”انت طالق قد طلقتک امس “وھو کاذب کان طلاقا فی القضاء․“
وفی الفتاویٰ الھندیہ(4/207،رشیدیہ)
اذا اقر انہ طلقھا منذ ثلاثۃ اشھر فان کان تزوجھا منذ شھر لم یقع علیھا شئ وان کان تزوجھا منذ اربعۃ اشھر وقع الطلاق علیھا الا انھا ان صد قتہ فی الاسناد فعدتھا من حین وقع الظلاق علیھا وان کذبتہ فی الاسناد فعدتھا من وقت اقرار الزوج بہ
وکذا فی التنویر والدر(12/125،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط(18/145،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاویٰ البزازیہ علی ھامش الھندیہ(4/248،رشیدیہ)

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساھیوال
22/5/1443-2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:71

اگر شوہر بیوی سے کہے کہ اگر تو نے یہ کام کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا تو کیا وہ کام کرنے سے طلاق ہو جائے گی

الجواب حامداومصلیاومسلما

طلاق واقع نہیں ہو گی۔

لما فی المبسوط:(6/216،دارالمعرفہ بیروت)
ولو قال لھا احتاری فقالت اختار نفسی فی القیاس لا تطلق لانّ کلامھا وعد ولیس بایجاب الا تریٰ انّہ لو قال لھاطلقی نفسک فقالت انا اطلق نفسی لم یقع شیئ ولکن فی الاستحسان تطلق لان قولھا اختار وعد صورۃ وایجاب معنی․والعادۃ الظاھرۃ فی ھذا اللفظ انہ یراد بہ الحال دون الاستقبال
وفی فتح القدیر:(4/73،رشیدیہ)
فقالت انا اختار نفسی المقصود انھا ذکرت بلفظ المضارع کاختار نفسی سواء ذکرت انا اولاً، ففی القیاس لا یقع لانہ وعد، کما لو قال: طلقی نفسک فقالت انا اطلق حیث لا تطلق․
وکذا فی التنویر والدر:(4/546،رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ:(1/384،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق :(3/545،رشیدیہ) وکذا فی الھدایہ:(2/105،البشریٰ)
وکذا فی خلاصہ الفتاویٰ:(2/81،رشیدیہ) وکذا فی البنایہ:(5/129،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(2/141،رشیدیہ) وکذا فی الجوھرۃ النیرہ:(119،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/2/1443-2021/9/26
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:34

ایک دفعہ انہوں (شوہر )نے کہا مجھے تمہارا بڑھاپا بہت تاریک نظر آرہا ہے میں نے کہا میرا بڑھاپا میری جوانی سے زیادہ تاریک نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا تم اپنی جوانی روشن کرلو جاؤ چلی جاؤ میری طرف سے تمہیں اجازت ہے مجھ سے جولکھوانا ہو الکھوا لینا پھر ایک دفعہ ہماری لڑائی ہوئی انہوں نے کہا تم جس کے ماں ،باپ،بہن، بھائی مرے ہو اس سے شادی کرلو میری طرف سے عام اجازت ہے ۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا تم علیحد گی اختیا ر کرلو۔ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے ہماری لڑائی ہوئی میں نے کہا ہمارے خاندان میں کوئی ایسا نہیں کرتا انہوں نے کہا تم اپنے خاندان میں شادی کرلو پھر یہ کچھ بول رہے تھے لیکن مجھے سنائی نہیں دیا پھر انہوں نے کہا میری جان چھوڑو۔پھر لڑائی ہوئی انہوں نے کہا میری زندگی سے دفعہ ہو جاؤ میری جان چھوڑو۔مجھے ان کی نیت کی سمجھ نہیں آتی آپ خود ان سے نیت پوچھیں۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ فلاں میاں بیوی کا تعلق بہت اچھا ہے تو انہوں نے کہا تم اسی سے شادی کر والیتی میں اس کی بیوی سے کروالیتا۔ہم اب وٹا لیتے ہیں یا تبدیل کرلیتے ہیں۔ میں تینوں دنا ں طلاق تے انو کہناتو اپنی بیوی نو دے ۔ ایک دفعہ یہ میری امی سے کوئی بات کر رہے تھے لیکن امی کو سمجھ نہیں آئی بعد میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں کی۔

الجواب حامداًومصلیاً

مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ ایسے الفاظ کا استعمال نہایت نازک اور سنگین معاملہ ہےاس سے اجتناب کرنا چاہیےاور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کر کے زندگی کزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لمافی التنویر و الدر :(4/541،رشیدیہ)
قال لھا اختاری او امرک بیدک ینوی) تفویض (الطلاق)لانھا کنایۃ فلا یعملان بلا نیۃ (او طلقی نفسک فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ) مشافھۃ او اخبارا(وان طال) یومااو اکثر مالم یوقتہ و یمضی الوقت قبل علمھا (ما لم تقم) لتبدل مجلسھا حقیقۃ( او) حکمابان (تعمل ما یقطعہ) مما یدل علی الاعراض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(لا) تطلق (بعدہ) ای: المجلس ۔
وفی الفتاویٰ الھندیہ :(1/387،رشیدیہ)
اذا قال لامراتہ اختاری ینوی بذلک الطلاق او قال لھا طلقی نفسک فلھا ان تطلق نفسھا مادامت فی مجلسھاذلک و ان تطاول یوما او اکثر ما لم تقم منہ او تا خذ فی عمل آخر وکذا اذا قام ھو من المجلس فالامر فی یدھا ما دامت فی مجلسھا ۔
وکذافی بدائع الصنائع:(3/180،رشیدیہ)
وکذافی التاتا ر خانیہ:(4/476،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
4/9/1443-2022/4/6
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:81

ایک لڑکے کے کسی لڑکی سے ناجائز تعلقات قائم ہوئے جو کہ کچھ عرصہ چلے پھراس لڑکی کی شادی کسی اور سے ہو گئی اور شادی کے پانچ ماہ بعداس لڑکی نے بچہ جنا،اب اس بچے کے نسب اور مزنیہ کے غیر زانی سے ہونے والے نکاح کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیاومسلما

صورت مسئولہ میں مزنیہ کا غیر زانی سے نکاح درست ہےاور بچے کا نسب صرف ماں سے ثابت ہو گا۔

لما فی الفتاویٰ الھند یہ:(1/280،رشیدیہ)
وقال ابو حنیفۃومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ: یجوز ان یتزوج امراۃ حاملا من الزنا ولا یطؤھا حتیٰ تضع وقال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ لا یصح والفتویٰ علیٰ قولھما
وفی فتاویٰ قاضیخان علیٰ ھامش الھندیہ:(1/366،رشیدیہ)
یجوز نکاح الحامل من الزناولا یقر بھا زوجھا حتیٰ تلد فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ وقال ابو یوسف رحمھما اللہ تعالیٰ لایجوز نکاحھا واذا رای الرجل امراۃ تزنی فتزوجھا جاز النکاح وللزوج ان یطا ھا من غیر استبراء وقال محمد رحمھ اللہ تعالیٰ لا احبّ لہ ان یطاھا من غیر ان یستبر ئھا
وفی البحر الرائق:(9/391،رشیدیہ)
ویرث ولد الزنا واللعان من جھۃ الام فقط لان نسبہ من جھۃ الاب منقطع فلا یرث بہ ومن جھۃ الام ثابت فیرث بہ امہ واختہ من الام بالفرض لا غیر
وکذا فی الشامیہ:(4/138،رشیدیہ)         ( وکذا فی بدائع الصنا ئع:(2/550،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق :(3/187،رشیدیہ)       وکذا فی الفتا ویٰ التا تار خانیہ:(4/67،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/108،دار احیاءتراث بیروت)        وکذافی مجمع الانھر:(1/485،المنار)
وکذا فی فتح القدیر:(3/232،رشیدیہ)          وکذا فی الھدایہ:(2/18،البشریٰ)
وکذا فی الموسو عہ الفقھیہ:(40/237،علوم اسلامیہ)     وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(1/239، دارالعلوم )

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/2/1443-2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:19

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خلوت صحیحہ کے بعد تین طلاقیں دیں تو اسکی عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً

صورت مذکورہ میں اگر عورت کو حیض آتا ہے تو تین حیض ورنہ تین ماہ عدت ہو گی۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ(1/526،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحاً جائزاً فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃکان علیھا العدۃ
وفی الموسوعہ الفقہیہ(29/302،مکتبہ علوم اسلامیہ)
تجب العدۃ علی المراۃ بالفرقہ بین الزوجین بعد الدخول بسبب الطلاق او الموت او الفسخ او اللعان ،کما تجب بالموت قبل الدخول و بعد عقد النکاح الصحیح․واما الخلوۃ فقد اختلف الفقھاء فی وجوب العدۃ بھا ،فذھب الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ الی انہ تجب العدۃ علی المطلقۃ بالخلوۃ الصحیحۃ فی النکاح الصحیح
وکذا فی التنویر و الدر(5/182،رشیدیہ)           وکذا فی البحرالرائق(4/216،رشیدیہ)
وکذا فی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ(1/549،رشیدیہ)        وکذا فی بدائع الصنائع(3/302،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(5/226،فاروقیہ)        وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(2/205،الطارق)
وکذا فی الفتح القدیر(4/275،رشیدیہ)        وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ(9/7166،رشیدیہ)

واللہ اعلم با لصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:199

بچوں کے اور بچوں کے گھر کے کاموں کی وجہ سے مجھ سے پوری نمازیں ادا نہیں ہوتی تھیں ،جس کی وجہ سے میاں بیوی میں اکثر جھگڑہوتا تھا، ایک دن غصہ میں شوہر نے یہ کہہ دیا کہ اگر میں تم سےہمبستری کروں تو حرام کروں، پوری نمازیں پڑھو گی تو ملوں گا، لیکن کچھ دن گزرے تو شوہر سے قسم ٹوٹ گئی اور اپنی بیوی سے مل لیئے اور بیوی نے نماز بھی پوری شروع کر دی ، شوہر نے فکر مندی سے کسی مفتی سے قسم ٹوٹنے کا پوچھا تو انہوں نے نکاح دوبارہ پڑھوا دیا۔(2)بہن کے گھر بیٹے کی ولادت ہوئی، میں ،میری خالہ اور میرا دس سال کا بیٹا ہم بچے کو دیکھنے چلے گئے ، واپسی پر شوہر نے جھگڑا کیا اور برا بھلا کہا اور کہا کہ تو توبڑی آ زاد ہے ، کچھ دن گزرنے کےبعد ناراضگی دور ہوئی تو شوہر بیوی سے مل لیئے، لیکن اب بیوی نے رولا ڈال لیا کہ آپ نے تو آزاد کہا تھا ، شوہر نے کہا کہ میں نے (آزاد خیال ) کے زمرے میں کہا تھا، ہم دونوں مفتی کے پاس چلے گئے ،انھوں نے پھر نکاح پڑھوا دیا۔(3)شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی اور شوہر نے کہا کہ ہاں ہاں تو تو میری باجی ہے اور پھر مجھے کہتے کہ باجی کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ، اب تو راضی ہے ، اب تو طلاقن ہو گئی ہے اور خود کہہ کر سخت پریشان ہو گئے، اب ہم دونوں پریشان کہ لڑائی میں یہ کیا کہہ دیا ، اب کوئی مفتی نہ ملے جس سے بات کر سکیں . اب پوچھنا یہ ہے کہ اول مسئلہ میں طلاق ہوئی یا نہیں ، دوسرے مسئلہ میں طلاق ہوئی یا نہیں، تیسرے مسئلہ میں طلاق ہوئی یا نہیں ؟

الجواب حامداًومصلیا

اس مسئلہ میں تین صورتیں بیان ہوئیں ، جن کو ترتیب کے وار ذکر کیا جاتاہے۔
(1)

شوہر کا یہ کہنا کہ” میں تم سے ہمبستری کروں تو حرام کروں ” اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،بلکہ یہ قسم ہے اور قسم توڑنے کا کفارہ شوہر پر لازم ہو گا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ، یا ان کو کپڑے پہنائے جائیں ، اگر اس کی گنجائش نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے جائیں۔
(2)

شوہر کا اپنی بیوی کو کہنا کہ ” تو تو بڑی آزاد ہے” اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ یہ جملہ ڈانٹ کے طور پر کہا ، جیسا کہ سوال میں وضاحت کر دی ہے کہ یہ جملہ ‘آزاد خیال’ کے زمرے میں کہا تھا۔
(3)

شوہر کا بیوی سے کہنا کہ” تو میری باجی ہے، باجی کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ، اب تو طلاقن ہو گئی ہے ” اس سے ایک طلاق بائنہ ہو گئی ہے، اس لیے کہ جن علاقوں کے عرف میں بیوی کے لیے یہ الفاظ ‘میری بیٹی ،میری بہن ‘ طلاق کی نیت سے بولے جاتے ہیں ، وہاں ان الفاظ سے طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی اور سوال سے بھی لگ رہا ہے کہ بظاہر شوہر نے اسی نیت سے یہ الفاظ کہے ہیں ، لہذا اب دونوں عدت کے دوران یا عدت کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2 /321 ،طارق)
فمن حرم شیئا ثم فعلہ کفر لیمینہ ۔۔۔۔لو قالت المراۃ لزوجھا انت علی حرام او حرمتک علی نفسی ، فلو طاوعتہ فی الجماع او اکرھھا لزمتھا الکفارۃ
وفیہ ایضا:(2/343،طارق)
الواجب فی الکفارۃ احد الاشیاء الثلاثۃ ، وہی تحریر رقبۃ او اطعام عشرۃ مساکین او کسوتھم لان کلمۃ “او” للتخییر ، فان لم یقدر علی احد ھذہ الشیاء الثلاثۃ عند الاداء صام ثلاثۃ ایام متتابعات۔
وفی : المحیط البرہانی (4/428،ادارة القرآن)
وما یصلح ان یکون جوابا و یصلح شتیمۃ نحو قولہ خلیۃ، بریۃ ، بتۃ، بائن ،حرام لا یجعل طلاقا اذا قال لم انو بہ الطلاق و صلاحیۃ ھذہ الالفاظ للشتم اذا احتمل الشتم و الطلاق ثبت ادناھا ،وحالۃ المغایظۃ کما یدل علی الطلاق ، یدل علی الشتم ،ثبت ادناھما وھو الشتم
وفی شرح مجلة الاحکام:(1/21،العربیة)
“العبرۃ فی العقود للمقاصد والمعانی لا للالفاظ والمبانی۔ “
وکذافی الھدایة:(2/235،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/459،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/519،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/171، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/570، رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1443،2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:106

محمد عاشر عظیم کی شادی 2019/11/8 کو ہوئی لیکن کچھ عرصے بعد با وجہ ناچاکی ،ناراضگی ہو گئی اور وہ روٹھ کر ماں کے گھر چلی گئی صلح کی بہت کوشش کی لیکن صلح نہ ہوئی اور پھر محمد عاشر نے عدالت سے طلاق کا پہلا نوٹس مؤرخہ 2021/07/26 کوبھیج دیا، جس میں لکھا ہوا تھا ” کہ میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دیتا ہوں ، ایک ماہ بعد دوسری طلاق دے دوں گا ، پھر دو ماہ بعد تیسری طلاق دے دوں گا “لیکن اس کی بیوی حاملہ تھی اور انھوں نے نوٹس وصول بھی نہیں کیا ، پھر دوسرا نوٹس طلاق کا مؤرخہ 2021/11/20 کو بھیج دیا ،جس میں لکھا ہوا تھا “کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ” جبکہ بچہ کی پیدائش مؤرخہ 2021/09/ 18 کو ہوئی اس کے بعد بیوی مؤرخہ2021/11/29 کو گھر واپس آ گئی ، آپ سے گزارش ہے کہ فتوی دیا جائے کہ اب کتنی طلاقیں ہو گئیں ہیں اور دوبارہ اکٹھے ہونے کے بارے میں فتوی جاری کیا جائے۔

الجواب حامداًومصلیاً

جب شوہر نے پہلا نوٹس بھیجا جس میں ایک طلاق درج ہے ، تو اسی وقت بیوی کو ایک طلاق ہو گئی ، اگرچہ بیوی نے نوٹس وصول نہیں کیا، چونکہ بیوی حاملہ تھی تو بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی عدت پوری ہو گئی اور بائنہ ہو گئی اور دوسرا نوٹس چونکہ عدت کے بعد بھیجا گیا ، اسی لئے دوسرے نوٹس سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوئی ، لہذا صورت مسؤلہ میں ایک طلاق بائنہ واقع ہوئی ہے، اب اگر اکٹھے رہنا چاہیں تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں ۔

لمافی الشامیة:( 3/232 ،ایچ۔ایم۔سعید)
وحل طلاقھن) ای الآیسۃ و الصغیرۃ والحامل (عقب وطء)لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل وھو مفقود ھناہ۔ “
وفی بدائع الصنائع :(3/304،رشیدیہ)
اما عدۃ الحبل فھی مدۃ الحمل وسبب وجوبھا الفرقۃ او الوفاۃ والاصل فیہ قولہ تعالی (واولات الحمل اجلھن ان یضعن حملھن) ای انقضااجلھن ان یضعن حملھن
وفی الشامیة:(3/400،ایچ۔ایم۔سعید)
“والرجعی لا یزال الملک الا بعد مضی العدۃ۔”
وفی اللباب:(2/182،قدیمی)
“واذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی عدتھا و بعد انقضاء عدتھا لان حل المحلیۃ باق لان زوالہ معلق بالطلقۃ الثالثۃ فینعدم قبلہ ۔”
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(310،بشری)
لا تصح الرجعۃ بعد مضی العدۃ فان مضت العدۃ و لم یراجعھا فیھا فلیس لہ ان یراجعھا بعدہ و یجوز ان ینکحھا نکاحا جدیدا برضاھا ان کان طلقھا اقل من ثلاث
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/148،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/472،رشیدیہ)
وکذافی الھدایہ :(2/132،بشری)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2/136،طارق)
وکذافی فتح الباری :(9/604،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25/4/1443،2021/12/1
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:119

خاوند کہتا ہے کہ میں نے تین طلاقیں دی ہیں اورخاوند کا والد بھی یہی کہتا ہے، لیکن بیوی کہتی ہے کہ ایک طلاق دی ہے ، تو کس کی بات معتبر ہو گی ؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤ لہ میں خاوند کی بات معتبر ہو گی ،اس لیے کہ وہ تین طلا ق کا اقرار کر رہا ہے ،لہذا تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

لمافی الشامیة :(3 /236 ،ایچ۔ایم۔سعید)
لو اقر بالطلاق کاذبا او ہاذلاوقع قضاء لا دیانۃ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی :(300،بشری)
ان طلق الرجل امراتہ یقع سواء رضیت المراۃ او لم ترض…. اذا نطق الرجل بالطلاق بحیث سمع ہو وقع الطلاق سواء سمع ذلک غیرہ او لم یسمع و سواء علمت بہ المراۃ او لم تعلم
وکذافی المحیط البرہانی:(4/393،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار :(2/113،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/104،فاروقیہ)
وکذافی شرح مجلة الاحکام :(1/79،العر بیہ)
وکذافی المبسوط :(6/76،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1443،2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:124