ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دوطلاقیں دیں اور عرصہ تقریباڈیڑھ مہینہ گزرگیا ہے اور شوہر طلاق کے بعددس دن گھرپہ رہا لیکن رجوع نہیں کیا ،اس کے بعددوبئی چلا گیا۔پوچھنا یہ ہےکہ لڑکی کے سسرال والے کہتے ہیں کہ لڑکی ہمارے پاس چھوڑوں لڑکا جب سال ،دوسال کے بعد آئے گا ہم دوبارہ نکاح کروادیں گے۔1-عدت کے بعد دوبارہ نکاح ہوجائےگا؟2-عدت کے بعد سسرال میں رہنا کیساہے جبکہ شوہر دبئی ہے؟3-لڑکی کے دو چھوٹے بچے ہیں،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ،کیا ان کا خرچ باپ کے ذمہ ہےیا کسی اور پر؟ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں

الجواب حامداو مصلیا

1-

صورت مسئولہ میں عدت کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔2-باہمی رضا مندی سے سسرال بھی رہ سکتی ہے اور والدین کے ہا ں بھی۔3-چھو ٹے دونوں بچوں کا خرچ باپ کے ذمہ ہو گا۔

لما فی البحر الرائق:(4/94،رشیدیة)
“قولہ:(وینکح مبانۃفی العدۃ وبعدھا) ای المبانۃ بمادون الثلاث لان المحلیۃباقیۃ لان زوالھا معلق بالطلقۃالثالثۃ فینعدم قبلھا ومنع الغیر فی العدۃ لاشباہ النسب ولا اشباہ فی الطلاق لہ “
وفیہ ایضا:(4/340)
قولہ:(ولطفلہ الفقیر)ای تجب النفقۃ والسکنی والکسوۃ لولدہ الصغیر لقولہ تعالی(وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف) فھی عبارۃ فی ایجاب نفقۃالمنکوحات اشارۃ الی ان نفقۃ الاولاد علی الاب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/6955،رشیدیة)
اما الطلاق الرجعی :فھو الذی یملک الزوج بعدہ اعادۃالمطلقۃ الی الزوجیۃ من غیر حاجۃ الی عقد جدید مادامت فی العدۃ،ولو لم ترض،و ذلک بعد الطلاق الاول والثانی غیر البائن اذا تمت المراجعۃ قبل انقضاء العدۃ انقلب الطلاق الرجعی بائنا ، فلا یملک الزوج ارجاع زوجتہ المطلقۃ الا بعقد جدید
وکذافی البدائع الصنائع:(3/444،رشیدیة)
وکذاالشامیة:(3/612،سعید)
وکذا فی الشامیة:(3/400،سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبة الجدید:(2/203،الطارق)
وکذا فی فتح الباری فی شرح البخاری:(9/604)
وکذا فی فتح الباری فی شرح البخاری:(9/603)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن سا ہیوال
14/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:118

زید نے ا پنی بیوی سے کہا کہ اگر میرے والدین کے میرے گھر آنے پر آپ تین ماہ کے لیے اپنے والدین کے گھر نہ گئی تو آپ کو طلاق ہے ۔اس صورت میں کیا زید کی بیوی پر یہ بھی لاز م ہے کہ وہ تین ماہ اپنے والدین کے گھر رہ کر گزارے یا وہ والدین کے علاوہ کسی اور عزیز رشتہ دار کے ہا ں بھی جا سکتی ہے ؟ زید کا کہنا ہے کہ میں نے اس وقت جو کہا ”اپنے والدین کے گھر تین ماہ کے لیے جانے کا “اس سے میری نیت صرف یہ تھی کہ آپ تین ماہ میرے گھر میں نہ ٹھہریں ۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین ماہ والدین کے گھر رہنا لازم نہیں، رشتہ داروں کے گھر بھی جاسکتی ہے ۔

لما فی درر الحکام :(1/19،العربیة)
“الامور بمقاصد ھا یعنی :ان الحکم الذی یترتب علی امر یکون علی مقتضی ما ھو المقصود من ذلک الامر “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2/330،الطارق)
ولھذا شرطوا للحنث فی مثل قولہ :ان خرجت فانت طالق ،فعلہ فورا ،لانہ قصد المنع عن ذلک الفعل عرفا ومدارالایمان علی العرف کما سبق
وکذا فی الشا میة:(3/356،ایم ،سعید )
وکذا فی الولوالجیة:(2/234،الحرمین )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(9/6972،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2022/15/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:29

ایک عورت کاشوہرپاکستان میں ہےاوروہ خودامریکہ میں رہتی ہے،اب وہ عورت مسلمان ہوچکی ہے(جبکہ پہلےدونوں کافرتھے)اب اس عورت کانکاح اس پاکستانی شوہرسےکیسےختم ہوگااوروہ عورت کسی مسلم مردسےنکاح کرنے کے لیے عدت گزارےگی کہ نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگراس عورت کوحیض آتاہےتوتین حیض ورنہ تین مہینےگزرنےکےبعدبائنہ ہوجائےگی اس کےبعددوسرانکاح کرسکتی ہے۔

لمافی البحراالرائق:(3 /365،رشیدیہ)
اذااسلم احدالزوجین عرض الاسلام علی الآخر فإن اسلم،والافرق بینھما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولواسلم احدھماثمۃلم تبن حتی تحیض ثلاثافاذاحاضت ثلاثابانت(وتحتہ)واطلق فی الاسلام احدہمافی دارالحرب ،فشمل مااذاکان الآخرفی دار الاسلام اوفی دارالحرب،اقام الآخرفیہااوخرج الی دارالاسلام ،فحاصلہ انہ مالم یجتمعافی دارالاسلام فإنہ لایعرض الاسلام علی المصر،سواءخرج المسلم اولآخر،لأنہ لایقضٰی لغائب ولاعلی غائب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9 /7164،رشیدیہ)
واذااسلمت المرأۃفی دارالحرب،لم تقع الفرقۃعلیھاحتی تحیض ثلاث حیضات ان کانت من ذوات الحیض،اوتمضی ثلاثۃاشہر ان کانت من ذوات الاشہر،اوتضع حملہاان کانت حاملا
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(292،البشری)
وکذافی الھدایة:(2/326،قدیمی)
وکذافی التنویروالدر:(4/358،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/272،فاروقیہ)
وکذافی الہندیة:(1/338،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(4/200،ادارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
4/7/1443/2022/2/6
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:123

گزارش ہےکہ میری شادی ہمراہ محمداخترمورخہ2009-11-7کوسرانجام پائی تھی،تقریباًگیارہ سال بعدمحمداخترنےمجھےنوٹس طلاق اول مورخہ2020-1-13،نوٹس طلاق دوم مورخہ2020-2-20اورنوٹس طلاق سوم بھی دےدیا جوکہ مجھے،اپریل2021،کوموصول ہواجس کااندراج مصالحتی عدالت /ثالثی کونسل یونین کونسل نمبر8غلہ منڈی ساہیوال میں مورخہ 2021-5-28کوکروادیاگیا،مورخہ 2021-6-12کومیں نےاپنابیان روبروانچارج مصالحتی کونسل کو قلمبند کروادیا، لیکن محمداختر(فریق اول)کونسل مذکورہ کی جانب سےنوٹسزمورخہ 2021-6-12،2021-7-29،اور2021-8-26جاری ہونے کےباوجود دانستہ طورپرحاضرنہ آیا،لہذاانچارج مصالحتی کونسل نےیہ قرار دےدیاکہ عرصہ عدت پوراہوچکاہےاوربوجہ عدم پیروی فریق اول، مثل مورخہ 2021-8-28،کوداخل دفترکردی،جبکہ طلاق کےمؤثرہونےکاسرٹیفکیٹ جاری نہ کیا،جوکہ محض دفتری مجبوری کی وجہ سےشایدایساکیاگیاہے۔جس کی وجہ سےاب جناب والاسےگزارش ہےکہ اسلامی شریعت کی روسےاس بابت فتویٰ جاری فرمایاجائے،عین نوازش ہوگی۔

الجواب حامداًومصلیاً

سوال کےساتھ جونوٹس لگائےگئےہیں ان میں مذکورہےکہ شوہرنےمورخہ2014-3-19کوطلاق دےکررجوع کرلیا تھا، لہذاشوہرکودوطلاق کااختیارباقی رہ گیاتھا،جب اس نےنوٹس بھیج کرمزیددوطلاق دےدیں توتین طلاق واقع ہوگئیں اورحرمت غلیظہ ثابت ہوگئی،اب حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔

(1)

لمافی القرآن الکریم
الطلاق مرّتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔۔۔۔۔فإن طلّقھافلاتحلّ لہ من بعد حتّٰی تنکح زوجاغیرہ فإن طلّقھا فلاجناح علیھماأن یتراجعا،الآیۃ

ترجمہ:”طلاق (زیادہ سےزیادہ )دوبارہونی چاہیےاس کےبعد(شوہرکےلیےدوہی راستےہیں)یاتوقاعدہ کےمطابق (بیوی) کو روکے رکھے(یعنی طلاق سےرجوع کرلے)یاخوش اسلوبی سےچھوڑدے…..پھراگرشوہر(تیسری)طلاق دیدےتووہ(مطلقہ عورت)اس کے لیےاس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اورشوہرسےنکاح نہ کرےہاں! اگروہ (دوسراشوہ بھی)طلاق دےدےتوان دونوں پرکوئی گناہ نہیں کہ وہ ایک دوسرےکےپاس (نیانکاح کرکے)دوبارہ واپس آجائیں۔
البقرۃ):229،230،آسان ترجمہ:ص113)

(2)

وفی الصحیح للبخاری:(2/300،رحمانیہ)
عائشۃرضی اللہ عنھا،أن رجلاً طلق امرأتہ ثلاثافتزوجت فطلق ،فسئل النبیﷺ اتحل للاول قال لا حتیٰ تذوق عسیلتھا کماذاق الاول

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہےکہ ایک صاحب نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دے دی تھیں، ان کی بیوی نےدوسری شادی کرلی پھردوسرے شوہرنےبھی (ہمبستری سےپہلے)انہیں طلاق دےدی تورسول اللہﷺ سےپوچھاگیا،کہ پہلاشوہرانکےلیےحلال ہے(کہ اس سےدوسری شادی کرلے)آنحضورﷺنےفرمایا:نہیں! یہاں تک کہ وہ(دوسرا شوہر)اس کےشہدکامزہ چکھے جیساکہ پہلےنےمزہ چکھاہے”۔

(3)

وفی سنن ابی داؤد:( 2/140،دار الکتب)
عن سہل بن سعدرضی اللہ عنہ، فی ہذا الخبر، قال: فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ:حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نےحضورﷺ کے سامنےتین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کونافذکردیا۔

(4)

“سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اذھبی فانت طالق ثلاثا” (جا تجھےتین طلاق ) عدت گزارنے کے بعدآپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا

لولا أنی سمعت جدی أو حدثنی أبی أنہ سمع جدی یقول: أیما رجل طلق امرأتہ ثلاثا مبہمۃأو ثلاثا عند الاقراء لم تحل لہ حتى تنكح زوجا غیرہ لراجعتھا
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔

(5)

وفی سنن دار قطنی
أن حفص بن المغیرۃ طلق امرأتہ فاطمۃ بنت قیس على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی كلمۃ واحدۃ ۔” فأبانہا منہ النبی صلى اللہ علیہ وسلم
(سنن الدارقطنی: 4/10، دار الکتب)

ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نےحضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔

(6)

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ موجود ہے

جاء رجل إلى علی رضی اللہ عنہ فقال: إنی طلقت امرأتی ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرہابین نسائك
(السنن الکبری للبیہقی: 7/548، دار الکتب، ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)

ترجمہ:ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کےپاس آکرکہنےلگا میں نےاپنی بیوی کوہزارطلاقیں دی ہیں۔آپ نےفرمایا تین طلاق سےتیری بیوی تجھ پرحرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔

(8)

وفی الشامیة:(4/442،رشیدیہ)
وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نویٰ اولم ینو،ثم المرسومۃلا تخلوأماان ارسل الطلاق بأن کتب:امابعدفأنت طالق، فکما کتب ھذایقع الطلاق تلزمھاالعدۃ من وقت الکتابۃ،وان علق طلاقھابمجیئ الکتاب بان کتب:اذجاءک کتابی فانت طالق فجاءھا الکتاب فقرأتہ اولم تقرأیقع الطلاق
(9)
وفی الفقہ الاسلامی :9ـ/6902،رشیدیہ)
کتابہ مرسومۃ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کأن یکتب الرجل الی زوجتہ قائلا الی زوجتی فلانۃ،امابعد فانت طالق ،وحکمھاحکم الصریح اذاکان اللفظ صریحا،فیقع الطلاق ولومن غیرنیۃ۔”
(10)
وفیہ ایضاً:(9/6903،رشیدیہ)
ویلزم الطلاق بمجردارسالہ مع رسول ولولم یصل،فمتی قال للرسول:اخبرہابأنی طلقتھا،لزمہ الطلاق
(11)
(وفی البدائع:3/295،رشیدیہ)
اماالطلقات الثلاث،فحکمھا الاصلی ھوزوال الملک وزوال حل المحلیۃایضاًحتیٰ لایجوز نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر
(12)
وفی المبسوط:(6/8،دارالمعرفت)
“ولاتحل لہ المرأۃ بعدماوقع علیہا ثلاث تطلیقات حتیٰ تنکح زوجاًغیرہ۔”

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443/2021/12/16
جلد نمبر :25 فتوی نمبر:166

خاتون کاشوہرغیرمحرم عورتوں سےناجائزتعلقات رکھتاہےیہاں تک کہ گھرمیں بھی ان عورتوں کوبلالیتا ہے۔اپنی بیوی کوخرچ نہیں دیتا،بچوں کومعمولی خرچ کبھی کبھی دیتا ہے۔اس کی بیوی گھریلو اخراجات اپنی سلائی مشین سےچلاتی ہے،یہ عورت طلاق کامطالبہ کرتی ہےتوطلاق بھی نہیں دیتا،کیا اس کی بیوی عدالت سےطلاق لےسکتی ہے؟یاکہ وہ اس ظلم کی چکی میں پستی رہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

سوال میں ذکرکردہ صورت حقیقت کےمطابق ہےتوعورت عدالت سےطلاق لےسکتی ہےبشرطیکہ عدالت شرعی طریقہ کےمطابق طلاق دے۔

لمافی المحیط البرھانی:(4/242،داراحیاءالتراث العربی)
“وقال محمد:وللمراۃ الخیارفی الجنون والجذام وکل عیب لایمکنہ القیام معہ الابضرر،اَلا تری انہ ثبت لھاالخیار فی الجب والعنۃوانمایثبت دفعاللضررعنھا۔”
وفی بحوث فی قضایافقھیةمعاصرة:(2/253،دارالعلوم)
فلایجوزللمراۃان تطلق نفسھا،اوتفسخ نکاحھامن زوجھافی الاحوال العادیۃ،ولکن ھناک احوالاً یجوزلھافیھاان ترفع امرھاالی قاض شرعی،فیفسخ ھونکاحھامن زوجھابولایۃالعامۃ،وذلک لاسباب معروفۃ،علی اختلاف الفقہاء فیھا،مثل ان یکون الزوج مفقوداً،اوعنینا،اومتعنتاًلاینفق علی زوجتہ اویلحق بھاضرراً لایتحمل
وکذافی مجمع الانھر(فی الدرالمنتقی ):(2/141،المنار) وکذافی التاتارخانیة:(4/325،فاروقیہ)
وکذافی کتاب المبسوط:(5/97،دارالمعرفہ) وکذافی الھندیة:(1/526،الرشیدیہ)
وکذافی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/413،الرشیدیة) وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/6،علوم اسلامیہ)
وکذافیالموسوعةالفقھیة :(29/69،علوم اسلامیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(2/632،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/213،رشیدیہ) وکذافی البحرالرائق:(3/414،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/25،امدادیہ ملتان)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/1443/2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:93

اگرکوئی شخص اپنی بیوی سےحق مہرمعاف کرالے اور بیوی اپنی خوشی سے معاف کردے،اب اگر بعد میں بیوی حق مہر کا مطالبہ کرے تو کیا حق مہر ادا کرنا ضروری ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں۔

لما فی شرح معانی الاثار :(2/223،رحمانیہ)
ولکنھا امراۃ وھبت لزوجھا او زوج وھب لامراتہ فھما فی ذلک کذی الرحم المحرم ولیس لواحد منھما ان یرجع فیما وھب لصاحبہ
وفی البحر الرائق:(4/500،رشیدیہ)
” لو نکح ثم وھب لا یرجع لان المعتبر حالۃ الھبۃ . “
وکذافی صحیح البخاری:(1/454،رحمانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،البشریٰ)
وکذافی مجمع الانھر:(3/502،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/396،الطارق)
وکذافی الدر المختار:(8/596،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة(2/217،الحقانیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(3/405،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ العالمکیریہ:(4/385،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(14/448،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(3/279،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:78

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے تمہیں فارغ کردیا ہے تواس کی بیوی کے بھائی نے کہا کیا میں اسے لے جاؤ ں؟ تو اس کے خاوند نے دو ،تین دفعہ کہا کہ لے جاؤ میں نے اس فارغ کردیاتو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں خاوند نے اپنے نسبتی بھائی کے جواب میں یہ جو کہا کہ”اسے لے جاؤمیں نے اسے فارغ کردیا ہے” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے یہ جملہ”میں نے تجھے فارغ کردیا”طلاق کی نیت سے بولا ہے،لہذا اس کی بیوی کوایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی ہے۔اب باہمی رضامندی سے نئے سرے سے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(5/427،داراحیاءتراث)
 اذا قال لھا انت خلیۃ او قال بریۃ اوقال بتۃ اوقال بائنۃ،وقال:لم انو بہ الطلاق،فالاصل فی جمیع الفاظ الکنایات ان لایقع الطلاق بھا الا بالنیۃ
وفی رد المحتار علی الدر المختار:(4/516،رشیدیہ)
 الکنایات(لاتطلق بھا)قضاء(الابالنیۃاودلالۃ الحال)…(فنحو اخرجی واذھبی وقومی)…(یحتمل رداونحوخلیۃ بریۃحرام بائن)وامرادفھاکبتہ بتلۃ
وکذافی کتاب البسوط:(6/72،دارالمعرفة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/457،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/170،الطارق)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(2/167،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6900،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع الدرایة:(2/101،البشریٰ)
وکذافی شرح ملتقی الابحر:(2/25،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1443/2022/1/31
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:137

ایک آدمی نے غصے کی حالت میں اپنی زوجہ کو پانچ سے چھ دفعہ طلاق،طلاق کہا ہے ۔اس مسئلہ کا شرعی حکم بیان کردیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صؤرت مسؤلہ میں پہلے تین لفظوں(طلاق، طلاق، طلاق) سےاس کی زوجہ کو تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ یہ عورت اپنے شوہر پر مکمل حرام ہوگئی ہے۔اب جب تک اس طلاق کی عدت مکمل کرکے کسی دوسرے مرد سے نکاح کے بعد دوبارہ طلاق ہو کر عدت مکمل نہ ہوجائے تو اس پہلے شوہر کےلیے حلال نہ ہوگی۔

ایک مجلس میں تین طلاقوں کے بارے میں تفصیل
احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں۔اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں۔

1

چنانچہ صحاح ستہ میں سے”ابوداؤد شریف”میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دیں تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ فرمادیا تھا۔

”عن سھل بن سعد فی ھذا الخبر قال فطلقھاثلاث تطلیقات عندرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانفذہ رسول اللہ ”
(سنن ابی داؤد:2/140،بیروت)

ترجمہ:حضرت سھل بن سعد سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعہ لعان)کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نافذ فرمادیا۔

2

سنن دار قطنی”میں ہے کہ کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا :اذھبی فانت طالق ثلاثا (جا تجھے تین طلاق)عدت گزرنے کے بعد آپ نے پنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجاتو اس خاتون نے کہا :متاع قلیل من حبیب مفارق(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا،جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو آپ رونے لگےاور فرمایا

”لولا انی سمعت جدی او حدثنی ابی انہ سمع جدی یقول:ایما رجل طلق امراتہ ثلاثا مبھمۃ او ثلاثا عند الاقراء لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیر لراجعتھا.”
(سنن دار قطنی4/20،بیروت)

ترجمہ”اگر میں نے اپنےنانا (حضورصلی اللہ علیہ وسلم )سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہر وں میں تین طلاقیں دی ہوں تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے تو میں رجوع کرلیتا۔

3

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے رجوع کا حکم دیا۔اس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہ نے دریافت کیا

“یارسول اللہ افرایت لو انی طلقھا ثلاثا کان یحل لی ان اراجعھا ؟قال لا کانت تیین منک وتکون معصیۃ.”
(السنن الکبریٰ للبیھقی7/576،بیروت)

ترجمہ:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقیں دیتا تو میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں۔وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور گناہ بھی ہوتا۔

“ان حفص بن مغیرۃ طلق امراتہ فاطمہ بنت قیس علی عھد رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی کلمۃ واحدۃ فابانھا منہ النبی”
(سنن الدار قطنی”4/10،بیروت)

ترجمہ:حضرت حفص بن مغیرۃ نے حضور صلی اللہ علیہوسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کو ان سے جداکردیا۔

4

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبۃ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ موجود ہے۔

”جاء رجل الی علی فقال طلقت امراتی الفا قال ثلاث تحرمھا علیک واقسم سائرھابین نسائک”
(السنن الکبری للبیھقی:7/548،بیروت/مصنف ابن ابی شیبة:8/63،بیروت)

ترجمہ”ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگاکہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دی ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین طلاق سے تیری بیوی تجھ پر حرام ہوگئی اور باقی طلاقیں تو اپنی دوسری عورتوں پر تقسیم کردے۔

5

ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں

”سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امراتہ ثلاثا فی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امراتہ.”
(مصنف ابن ابی شیبة/62،بیروت)

6

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دی فرمایا:اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی۔

آیت “الطلاق مرّتان”سے استدلال اس لیے درست نہیں کہ اس آیت میں بتایا گیا کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے،تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآن کریم میں ایک مجلس یا ایک کلمہ کی کوئی قید وغیرہ بھی نہیں۔لہذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاقیں دے،اس آیت کی رو سے اس کے لیے رجوع کا اختیار نہیں جب تک یہ عورت آگے دوسرانکاح نہ کر لےجیسا کہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
”فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ.”
(البقرة:230)

ترجمہ”پھر اگر شوہر (تیسری) طلاق دیدے تو وہ( مطلقہ عورت)اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔

حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے

“عن عائشۃ ان رجلا طلق امراتہ ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول.”
(صحیح البخاری:2/300،رحمانیہ)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی پھر اس نے دوسری شادی کرلی پھر دوسرے شوہر نےبھی( ہم بستری سے پہلے )طلاق دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ شوہر ثانی اس کا شہد چکھے جیسا کہ شوہر اول نے چکھا۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:79

ایک آدمی نےاپنی بیوی کی بہن سےزناکیاتوآیاان دونوں میاں بیوی کانکاح باقی رہاکہ نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

نکاح توباقی ہےلیکن اس شخص پرتوبہ واستغفارلازم ہے۔

لمافی خلاصةالفتاوی:(2/7،رشیدیة)
“وفی الفتاوی النسفی رجل وطئ اخت امراتہ لاتحرم علیہ امراتہ.”
وفی حاشیةالطحطاوی علی الدرالمختار:(2/16،رشیدیة)
“وفی الخلاصۃوطئ اخت امراتہ لاتحرم علیہ امراتہ․”
وکذافی الدرالمختار:(4/116،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(1/274،رشیدیة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(28،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/49،فاروقیة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(36/214،علوم اسلامیة)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(2/112،قدیمی)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(2/142،قدیمی)
وکذافی فتاوی النوازل:(169،الحقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10-07-1443/2022-02-12
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:8

اگر کوئی شخص رخصتی سے پہلے بیوی کو تین طلاقیں بائنہ دے دی یعنی“تیرا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ” تین مرتبہ کہا اور اسے لکھوا بھیجا ،بعد میں پشیمان ہوا اور دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہے تو کیا اب حلالہ ضروری ہوگا۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں ایک طلاق بائنہ واقع ہوئی ہے باہمی رضامندی سے حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

لما فی الفقہ الحنفیفی ثوبہ الجدید:(2/200،الطارق)
وإذا طلق الرجل إمرأتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فإن فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیہ والثالثہ وذلک مثل أن یقول :أنت طالق طالق طالق
وکذا فی الھندیہ:(1/355،رشیدیہ)
وأذا قال لإمرأتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا وان کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ وکذا اذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق
وکذا فی التنویر والرد:(4/499،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیة:(1/460،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/406،دار احیا)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/6888،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(2/350،رشیدیہ)
وکذا فی کنز الدقائق:(120،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
26،6،1443/22،1،30
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:116