اگرکسی شخص نےمزاح کےوقت،بطورمزاح اپنی بیوی کوکہ دیاکہ تجھےطلاق ہے،توکیااس کےان الفاظ کی وجہ سےطلاق واقع ہوجائےگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!ایک طلاق رجعی واقع ہوجائےگی۔

لما فی الموسوعةالفقہیة:(29/16،اسلامیہ)
وقداتفق الفقہاءعلی صحۃطلاق الہازل،وھو:من قصداللفظ،ولم یردبہ مایدل علیہ حقیقۃاومجازا،وذلک لحدیث النبیﷺ:((ثلاث جدھن جد،وھزلھن جد؛النکاح والطلاق والرجعۃ))ولأن الطلاق ذوخطرکبیرباعتباران محلہ المرأۃ،وھی انسان،والإنسان اکرم مخلوقات اللہ تعالی،فلاینبغی أن یجری فی أمرہ الھزل،ولأن الھازل قاصدللفظ الذی ربط الشارع بہ وقوع الطلاق،فیقع الطلاق بوجودہ مطلقا
وفی الشامیة:(3/238،سعید)
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبداأومکرھا)…(أوھازلا)لایقصدحقیقۃکلامہ.
قولہ :أوھازلا)ای فیقع قضاءودیانۃ
وفی المحیط البرھانی:(4/392،ادارةالقرآن)
وطلاق الھازل واللاعب واقع،وکذلک الرجل یریدان یتکلم بکلام فسبق لسانہ بالطلاق،فالطلاق واقع. وفی’’المنتقی‘‘ قال: ابوحنیفۃ لایجوزالغلط فی الطلاق
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6886،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(3/160،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(3/426،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/168،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(4/396،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(6/177،دارالمعرفة)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(2/75،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1443/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:113

ایک آدمی اسٹام فروش کےپاس جاتاہےاورتین اسٹام پیپرتیارکرواکر،تینوں پرطلاق کےدستخط کردیتاہےاورنیت یہ ہوتی ہےکہ ایک ابھی بھیجوں گا،باقی دوکچھ وقفہ کےبعد،پھرایک پیپربھیجنےکےبعدصلح کی صورت بن جاتی ہے۔توآیااس سےایک طلاق واقع ہوگی یاتینوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

طلاق کےواقع ہونےکےلیےاسٹام پیپروغیرہ کاپہنچناضروری نہیں،بلکہ صرف دستخط کرنےسےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/484،ادارةالقرآن)
یجب أن یعلم بأن الکتابۃ نوعان:مرسومۃ،وغیرمرسومۃ،فالمرسومۃ:أن یکتب علی صحیفۃمصدراًومعنوناً،وإنھاعلی وجھین،الأول:أن یکتب’’ھذاکتاب فلان ابن فلان الی فلانۃ،امابعد:فأنت طالق‘‘وفی ھذاالوجہ یقع الطلاق علیھافی الحال.واذاقال:لم أعن بہ الطلاق،لم یصدق فی الحکم؛وھذالأن الکتابۃالمرسومۃبمنزلۃالمقال
وفی الھندیة:(1/378،رشیدیہ)
الکتابۃ علی نوعین: مرسومۃ،وغیرمرسومۃ،ونعنی بالمرسومۃأن یکون مصدراًومعنوناًمثل مایکتب الی الغائب… وإن کانت مرسومۃیقع الطلاق نوی أولم ینو.ثم المرسومۃلاتخلوإماان أرسل الطلاق بأن کتب:’’أمابعد: فأنت طالق‘‘ فکماکتب ھذایقع الطلاق وتلزمھاالعدۃمن وقت الکتابۃ
وکذافی البدائع:(3/174،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(3/433،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(4/528،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(29/24،اسلامیہ)
وکذافی الشامیه:(4/442،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(4/61،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(6/143،دارالمعرفة)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(2/91،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6902،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1443/2202/2/12

جلد نمبر:26 فتوی نمبر:148

ایک عورت نے چند وجوہ کی بنیاد پر عدالت سے خلع کی:(1)خرچہ نہ ملنے پر(2)سسر کے مارنے پر(3)شرعی پردہ کو نا پسند سمجھنے کی وجہ سے۔ساتھ ساتھ لڑکی کے اولیاء کی طرف سےصلح کی کوشش چار ماہ تک جاری رہی مگر صلح کی کوئی صورت پیدا نا ہو سکی تو مجبوراً عدالت کی طرف رجوع کر لیا،مقدمہ چلتا رہا،بالاخر فیصلہ کے وقت شوہر کو بھی بلا لیا گیا اور اس سے پوچھا گیاکہ تم اسے بسانا چاہتے ہو؟اس نے کہا میں بسانا چاہتا ہوں،لڑکی نے کہا میں اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی،اس پر عدالت نے نکاح فسخ کر دیا۔ اس لڑکی کے اولیاء نے اس کے شوہر سے مطالبہ کیاکہ اب وہ از خود بھی اسے طلاق دے دے!شوہر نے کہا میں اسے اس وقت تک طلاق نہیں دوں گا جب تک اس کے سر کے بال اس کے دانتوں کی طرح سفید نہ ہو جائیں اور نہ اسے بساؤں گا۔ کیا عدالت کے اس فیصلے سے نکاح ختم ہوا یا نہیں؟نیز اس معاملہ کو چار سال ہو چکے ہیں شوہر کا اب تک اس سے کوئی تعلق نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں،شوہر بیوی کو بسانے پرعدالت میں اپنی رضامندی ظاہر کر چکا ہے تو عدالت کے حکم سے نکاح ختم نہیں ہوا،شوہر کی موجودہ ضد تو اس بیان کی وجہ سے ہے جو بیوی نے جج کے سامنے دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی۔
بہر حال! یہ خاتون فی الحال آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش کی جائے ورنہ شوہر کو مجبور کر کےیاکچھ دے دلا کر طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر ایسا نہ ہو سکے تو دوبارہ عدالت کی طرف رجوع کیا جائے،اب عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ نافذ ہو گا۔

لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔ولانْ النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءة وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً بالتراضی بالخلع کالبیع
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(2/182،المنار )
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،قدیمی)
وکذا فی رد المحتار:( 5/90،رشیدیة)
وکذا فی النھرالفائق:(2/510،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/182،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/239،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/550،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:135

اگر کوئی شخص طلاق کے حالات وواقعات سناتے ،لکھتےاور پڑھتے وقت ذہن میں اپنی بیوی کا تصور کر لے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ حالانکہ یقینی طور پر اس کا اپنی بیوی پر طلاق واقع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا،محض خیال اور وسوسہ آ جاتا ہے۔اس کی وضاحت فرما دیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں محض خیال اور وسوسہ کے آ جانے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(43/148،علوم إسلامیة)
ولو حدث نفسہ أنّہ یطلّق زوجتہ أو ینذر للہ تعالی شیأ ولم ینطق بذالک لم یقع طلاقہ ولم یصح نذرہ
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(29/24،علوم إسلامیة)
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(1/81،قدیمی)
وکذا فی شرح المجلة:(1/209،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/485،إدارة القرآن)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/400،إدارة القرآن)
وکذا فی غمز عیون البصائر:(1/222،إدارة القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:22

میرے دوبھائیوں کی شادی ایک ہی ماموں کی دو بیٹیوں سے ہوئی تھی۔میرے بڑے بھائی شادی کے کچھ عرصے کے بعدسعودی عرب چلے گئے ۔کچھ عرصے کے بعد ان کی بیوی ان کی اجازت سےاپنے میکے چلی گئی،وہ اپنے والدین کو پٹیاں پڑھاتی رہی ۔اور کچھ عرصے بعد انہوں نے آکر ہمارے گھر سے بلا وجہ بتلائے اپنی بیٹی کے جہیز کا سامان اٹھا لیا،چنانچہ کچھ عرصے کے بعدوہ خود بلا وجہ میرے بڑے بھائی یعنی اپنے شوہر سے موبائل فون پر طلاق کامطالبہ کرنے لگی حالانکہ بھائی نان نفقہ وغیرہ سب بھیجتے رہتے تھے۔چنانچہ اس کے گھر والے یعنی میرے ماموں اندر ہی اندر اپنی بیٹی کی پاسداری کرتے رہےجبکہ بڑے بھائی نے ماموں سے خود بھی بات کی اور میری بہنوں نے نیز میری چھوٹی بھابھی نے بھی،جو کہ ان کی بیٹی ہے ،انہوں نے کہا کہ لڑکی نہیں مان رہی ،ہم کچھ نہیں کر سکتے۔چنانچہ اندر ہی اندرانہوں نے عدالت میں جا کر خلع دائر کیااور عدالت نے ہماری رضا مندی کے بغیر یعنی شوہر کی رضا مندی کے بغیرنکا ح کو فسخ کر دیا ۔جبکہ بڑے بھائی نےاب تک طلاق نہیں دی ۔ان لوگوں نے اپنی بیٹی کا نکاح آگے کر دیاہے محض عدالتی طلاق کی بنیاد پر،اس کی میرے بھائی سے بھی ایک بیٹی ہےاور جہاں دوسری جگہ نکاح ہوا ہے وہاں پر بھی ایک بیٹی ہو چکی ہے۔اب دوسرے ما موں کی بیٹی کی شادی ہے جو کہ مذکورہ عدالتی خلع میں اپنے بھائی کے ساتھ رہا ہےاور اب بھی ان کے ساتھ ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے،اس ماموں کی بیٹی کی شادی ہےاور انہوں نے ہمیں بھی مدعو کیا ہے۔اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ہم ان لوگوں سے رشتہ داری کے تعلقات رکھ سکتے ہیں اور شادی میں جا سکتے ہیں یا نہیں۔شریعت مطہرہ اس بارے میں کیا فرماتی ہے ؟

الجواب حامدًاومصلّیا

سوال میں بیان کی گئی تفصیلات اگر درست ہیں توصورت مسئولہ کا جواب یہ ہے
بلا کسی شرعی سبب کے ،شوہر کی مرضی کے بغیر،عدالت کاطلاق کا فیصلہ کرنا شرعا غیر معتبر ہے ؛لہذا،صورت مسئولہ میں انہوں نے نکاح پر نکاح کر کے بہت بڑے سخت حرام کام اورگناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے جس سے توبہ کرنا اور دونوں میں جدائی کرنا واجب ہے،نہ کرنے کی صورت میں تمام مسلمانوں کو ان سے تعلقات ختم کرنے چاہیں۔
آپ کے جو ماموں ان کی حمایت کر رہے ہیں اگر وہ مسئلے سے آگاہ ہونے اور سمجھانے کے با وجود بھی ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں اور ان سے تعلقات ختم نہ کریں تو اس ماموں سے بھی تعلقات نہیں رکھنے چاہیں۔

لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔ولأن النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءۃ وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً با التراضی بالخلع کالبیع
وفی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
نکاح معتدۃ الغیر یعتبر من الأنکحۃ الفاسدۃ المتفق علی فسادہا ویجب التفریق بینہما.وہذا با تفاق
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،،قدیمی)
وکذا فی مجمع الأنہر:(2/182،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(17،دار الحدیث)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(14/125،علوم اسلامیة)
وکذا فی تکملة فتح الملہم:(5/356،دار العلوم کراچی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(42/166،علوم اسلامیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/550،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/07/1443/2022/02/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:144

اگر شوہر دوران ِجماع بیوی کا دودھ پی لے تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ نیز شوہر گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس سے نکاح تو نہیں ٹوٹے گا البتہ شوہر کا یہ فعل حرام اور نا جائز ہے جس سے وہ گناہگار ہو گا۔اس لیے ایسی صورت میں شوہر کو دودھ تھوک دینا چاہیے۔

لما فی مؤطا إمام مالک:(538،قدیمی)
عن یحیی ابن سعید أن رجلا سأل أبا موسی الأشعری فقال إنی مصصت عن إمرأتی من ثدییہا لبناً فذہب فی بطنی فقال أبو موسی الأشعری لا أراہا إلا قد حرمت علیک فقال عبد اللہ ابن مسعود انظر ما تفتی بہ الرجل فقال أبو موسی فما تقول أنت؟ فقال عبد اللہ ابن مسعود لا رضاعۃ إلا ما کان فی الحولین فقال أبو موسی لا تسئلونّی عن شیئ ما کان ہذا الحبر بین أظہرکم
وفی الدر المختار:(4/389،رشیدیة)
ویثبت التحریم) فی المدۃ فقط۔۔۔۔۔۔۔۔(ولم یبح الإرضاع بعد مدتہ) لأنہ جزء آدمیّ والإنتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح.(وفی رد المحتار)قولہ:(فی المدۃ فقط) أما بعدہا لا یوجب التحریم.بحر.۔۔۔۔۔۔۔۔قولہ:(ولم یبح الإرضاع بعد مدتہ) إقتصر علیہ الزیلعی وہو الصحیح کما فی شرح المنظومۃ.بحر
وکذا فی أوجز المسالک:(10/381،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/764،قدیمی)
وکذا فی عمدة القاری:(20/97،دار إحیاء التراث)
وکذا فی تکملة فتح الملہم:(1/51،مکتبة دار العلوم کراچی)
وکذا فی البحر الرائق:(3/386،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/342،رشیدیة
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/153،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/05/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:75

ایک آدمی نے نکاح کے بعد خلوت صحیحہ سے پہلے اپنی بیوی سے دو مرتبہ کہا:تجھے طلاق ہے اب عدت گزرنے کے بعد کیا یہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟اگر کر سکتے ہیں تو اب نکاح کر لینے کے بعد شوہر کو کتنی طلاقوں کا حق حاصل ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوئی ہےاور اس خاتون پر عدت بھی لازم نہیں ہے،لہذا باہمی رضا مندی سے جب چاہیں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
اب آئندہ شوہر کے لیے دو طلاقوں کا اختیار باقی ہو گا۔

لما فی البحر الرائق:(3/507،446،رشیدیة)
طلق غیر المدخول بہا ثلاثا وقعن وإن فرق بانت بواحدۃ)قولہ:(وإن فرق بانت بواحدۃ)أی وإن فرق الطلاق بغیر حرف العطف ویمکن جمعہ بعبارۃ واحدۃ فإنہا تبین بالأولی لا الی عدۃ فلا یقع ما بعدہ اذ لیس فی آخر کلامہ ما یغیر أولہ لیتوقف علیہ نحو أنت طالق طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أنت طالق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقید بغیر المدخولۃ لأن المدخولۃ یقع علیہا الکل ولا یصدق قضاء أنہ عنی الاول
وفی الہدایة:(2/99،86،البشری)
فإن فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ وذالک مثل أن یقول:أنت طالق طالق طالق لأن کل واحد إیقاع علی حدۃ إذ لم یذکر فی آخر کلامہ ما یغیر صدرہ حتی یتوقف علیہ فتقع الأولی فی الحال فتصادفہا الثانیۃ وہی مبانۃ(وعلی ہامشہ):لأن غیر المدخول بہا تبین بالاولی ووجہہ أن الطلاق الرجعی إنما یتصور فیمن تلزمہا العدۃ لبقاء النکاح من وجہ فی العدۃ ولا عدۃ فی غیر المدخول بہابقول اللہ تعالیٰ”ثم طلقتموہن من قبل أن تمسوہن فما لکم علیہن من عدۃ تعتدونہا”[الاحزاب:49]
وفی الفتاوی الشامیة:(4/447،498،رشیدیة)
فی البدائع أن الصریح نوعان:صریح رجعی وصریح بائن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما الثانی فبخلافہ وہو أن یکون بحروف الإبانۃ وبحروف الطلاق لکن قبل الدخول حقیقۃ أو بعدہ لکن مقروناً بعدد الثلاث نصاً أو إشارۃ أو موصوفاً بصفۃ تنبیئ عن البینونۃ أو تدل علیہا من غیر حرف العطف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی النہر الفائق:(2/420،قدیمی)
وکذا فی مجمع الأنہر:(2/89،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی علی ہامش ملتقی الأبحر:(2/88،المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/206،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/05/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:37

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ(1)کوئی عورت کسی مرد کو شہوت سے چھوئے اور اس مرد کوشہوت نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت ہو گی یا نہیں؟(2)اور شہوت سے چھونے کی صورت میں کپڑے کے حائل ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

مرد یا عورت میں سے کسی ایک کے دوسرے کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔(2)کپڑے کے ساتھ عورت یا مرد میں سے کوئی ایک ،دوسرے کو چھوئےاور اس کے جسم کی حرارت چھونے والے کے ہاتھ تک نہ پہنچےتو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو گی۔

لما فی التاتارخانیة:(4/52،فاروقیة)
لا یشترط شھوتھماجمیعاً بل یکفی اشتھاء احدھما اذا کان الآخر محل الشھوة واشتھاء احدھما عند المس ایھما کان الذکر او انثیٰ الماسّ او الممسوس۔۔۔۔۔(بعد اسطر)ثم انّما یوجب حرمۃ المصاھرۃ اذا لم یکن بینھما ثوب اما اذا کان بینھما ثوب فان کان ثخیناً صفیقاً لا یجد حرارۃ الممسوس وفی الخانیۃ:لینہ لا تثبت حرمۃ المصاہرہ وان انتشرت الآلۃ لذالک وان کان رقیقاً بحیث تصل حرارۃ الممسوس الی یدہ تثبت حرمۃ المصاہرۃ
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/361،رشیدیة)
وان مسّھا وعلیھا ثوب صفیق لا تصل حرارۃ الممسوسۃ ولینھا الی یدہٖ لا تثبت الحرمۃ وان کان الثوب رقیقاً تصل الیہ حرارۃ الممسوسہ ولینھا تثبت الحرمۃ۔۔۔۔۔۔
ومس المرءۃ الرجل فی الحرمۃ کمس الرجل المرءۃ
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/107،امدادیة) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/535،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/175،رشیدیة) وکذافی منحة الخالق علی البحر:(3/177،رشیدیة)
وکذا فی الھندیة:(1/275،رشیدیة) وکذافی الولوالجیة:(1/357،حرمین شریفین)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/52،حقانیة)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:79

زید کی بیوی ہندہ نے اپنی بڑی بہن عالیہ کا بچپن میں دودھ پیا ہے،کیا اب ہندہ اور عالیہ کی اولاد کا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ان کی اولاد کا نکاح آپس میں جائز نہیں،کیونکہ ہندہ اپنی بہن عالیہ کی رضائی بیٹی ہے اور اس کی اولاد کی رضائی بہن ہے،ان دونوں کی اولاد کا رشتہ آپس میں رضائی ماموں بھانجی اور رضائی خالہ بھانجے کا ہے،جیسے نسب کے ان رشتوں کا نکاح آپس میں جائز نہیں اسی طرح رضاعت کی صورت میں بھی جائز نہیں ہو گا۔

لما فی القرآن الکریم: ( النساء:23)
” وامھاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ۔۔۔۔الآیۃ . “
وفی بدائع الصنائع: ( 3/ 396،رشیدیہ )
فالاصل من یحرم بسبب القرابۃ من الفرق السبع الذین ذکرھم اللہ عزّ وجلّ فی کتابہ الکریم نصّاً او دلالۃً علیٰ ما ذکرنا فی کتاب النکاح یحرم بسبب الرضاعۃ (وبعد اسطرٍ)والاصل فی ھذہ الجملۃ قول النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلْم:یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب فیجب العمل بعمومہٖ الا ما خص بدلیلٍ
وکذافی فتاویٰ قاضیخان: (1 /416 ،رشیدیہ )
الرضاع فی اثبات حرمۃ المناکحۃ بمنزلۃ النسب والصھریّۃ لما انّ الحرمۃ بالنسب اذا ثبتت فی الامْھات والبنات تتعدّٰی الی الجدات والنوافل فکذا اذا ثبتت بالرضاع تتعدّٰی الی اصول المرضعۃ وفروعھا واِخوتِھا واَخَوَاتھا
وکذا فی صحیح البخاری:(2/270 ،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(5/132 ،دار المعرفۃ،بیروت)
وکذافی المحیط البرہانی:(4/93 ،دار احیاء التراث)
وفی الدر المختار مع تنویر الابصار:(4/393 ،رشیدیہ)
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/277 ،رشیدیہ)
وفی احکام القرآن للشیخ ظفر احمد العثمانی:(2/206 ،ادارۃ القرآن)
وفی الفتاوی النوازل:(191 ،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نوید عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/02/1443/2021/09/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:24

ایک شخص کی بیوی پر کچھ الزامات تھے ،اس نے بھری مجلس میں کہا کہ اگر میری بیوی پر الزامات سچ ثابت ہوئے تو میں اسے طلاق دے دوں گا ۔گواہوں نے گواہی دی اور الزامات سچ ثابت ہوئے ،اس نے اسی مجلس میں کہا کہ میری بیوی میرے اوپر میری ماں ،بہن کی طرح ہے ۔بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے اس مجلس میں یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے بلکہ ویسے ہی بول دیے تھے ۔تو یہ کونسی طلاق ہوئی؟

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسئولہ میں اگر وہ شخص حلفیہ بیان دے کہ اس نے یہ الفاظ اس مجلس میں بغیر کسی نیت کے بولے تھے تو اس طرح کہنے سے طلاق نہیں ہوئی ،بلکہ اس کا یہ کہنا فضول ہوگا اور اگر اس کی نیت طلاق کی تھی تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ۔

لما فی بدائع الصنائع:(3/366رشیدیة)
ولوقال لھاانت علی کامی او مثل امی یرجع الی نیتہ فان نوی بہ الظھار کان مظاہرا وان نوی بہ الکرامۃ کان کرامۃ وان نوی بہ الطلاق کا ن طلاقاوان نوی بہ الیمین کان ایلاء لان اللفظ یحتمل کل ذلک اذہو تشبیہ المراۃ بالام فیحتمل التشبیہ فی الکرامۃ المنزلۃ ای انت علی فی الکرامۃوالمنزلۃ کامی ویحتمل التشبیہ فی الحرمۃ ثم یحتمل ذلک حرمۃ الظھار ویحتمل حرمۃالطلاق وحرمۃ الیمین فای ذلک نوی فقد نوی ما یحتملہ لفظہ فیکون علی ما نوی وان لم یکن لہ نیۃ لا یکون ظھارا عند ابی حنیفۃ وہو قول ابی یوسف الاان عند ابی حنیفۃ لایکون شیئا
وفی التنویر مع الدر للخطیب التمر تاشی :(3/470،ایم سعید)
وان نوی بانت علی مثل امی) او کامی وکذالک لو حذف علی ( خانیۃ )(برا او ظھارا او طلاقا صحت نیتہ )ووقع مانواہ لانہ کنایۃ (والا) ینو شیئا اوحذف الکاف (لغا) وتعین الادنی ای البر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/169،فاروقیة) وکذا فی فتح القدیر :(4/226،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی :(5/188،دارالاحیاء) وکذافی النہرالفائق:(2/452،قدیمی )
وکذافی المبسوط للسرخسی :(6/228،دارالمعرفہ) وکذافی تبیین الحقائق:(3/4،امدادیة)
وکذا فی الموسوعةالفقہیة:(29/196،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/5/1443/15/12/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:195