کیا لڑکی کا نکاح اس کی امی اور ابو دونوں کے باپ شریک چچا سے ہوسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں لڑکی کا نکاح اس کےوالدین کے باپ شریک چچا سے نہیں ہوسکتا ، کیونکہ یہ لڑکی شخص مذکور کی بھتیجے و بھتیجی کی اولاد میں آتی ہے ۔

لمافی التاتارخانیة:(4/47،فاروقیہ)
وابنۃ الاخ حرام وھی علی ثلاثۃ اصناف ابنۃ الاخ لاب وام او لاب او لام
وفی الخانیة:(1/360،رشیدیہ)
اما المحرمات بالنسب ما نص اللہ تعالی وکذالک بنات الاخ وان سفلن
وکذافی المبسوط:(4/199،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/29،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(3/164،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/476،المنار)
وکذافی الھندیة:(1/273،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(2/530،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(2/287،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:142

عرض ہے میں حلفی بیان دیتاہوں کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ۔ میں نے تین بار یہ کہہ دیا ” میں کل دو بجے تک فیصلہ کردوں گا ” ۔ اس کے بعد تین سال تک میں نے اس معاملہ میں کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی جھگڑا ہوا ۔ تین سال بعد اس نے یہ کہا “تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑدیا ہے ” ۔ یہ بات بیوی کے منہ سے سننے کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی ۔ اب میری بیوی کہہ رہی ہے کہ میرا تیرا کوئی رشتہ نہیں ہے اس نے مجھے چھوڑدیا ہے ۔ اس بات کی گواہ میری بیوی اور بیٹی ہے ۔ اسلام کے دائرہ میں رہتے ہوئے فیصلہ دیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کے کلام میں چونکہ صرف طلاق کا وعدہ اور دھمکی ہے جس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لیے صورت مسئولہ میں عورت حسب سابق شوہر کے نکاح میں رہیگی اور عورت کا یہ کہنا کہ” تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑ دیا ہے ” لغو ہے ،کیونکہ طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے نہ کہ عورت کو ۔

لما فی الھندیة:(1/384،رشیدیہ)
فقال الزوج: اطلق “طلاق می کنم” فکررہ ثلاثا، طلقت ثلاثا بخلاف قولہ:ساطلق “طلاق کنم ” لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/300،بشریٰ)
الطلاق یملکہ الرجل ولاتملکہ المراۃ فان طلقت المراۃ زوجھا لایقع الطلاق
وفی الفقہ الاسلامی:(9/6877،رشیدیہ)
جعل الطلاق بید الزوج لابید الزوجۃ ….ان المراۃ غالبااشد تاثرا بالعاطفۃ من الرجل فاذا ملکت التطلیق فربما اوقعت الطلاق لاسباب بسیطۃ لاتستحق ھدم الحیاۃ الزوجیۃ
وکذافی الدرالمختار:(3/319،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(3/545،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/230،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(3/414،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1442/2021/4/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:74

ایک شخص اپنی بیوی کے موبائل پر غیرمحرم کے ساتھ نازیبا پیغامات کا رابطہ دیکھ کر اپناہوش برقرار نہ رکھ سکا اور جیسے ہی پیغامات پڑھے فورا بغیر کسی واقعہ کے انتہائی غصہ کی حالت میں ، یہاں تک کہ اپنے ہوش و حواس بھی برقرار نہ رکھ سکا ، اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : میں تجھے طلاق دیتاہوں ، طلاق،طلاق، طلاق۔ یہاں تک کہ بیوی نے اسے بتایا کہ تم نے مجھے انتہائی غصہ کی حالت میں کیا کہہ دیا ؟ چنانچہ بیوی کے بتانے پر اسے پچھتاوا اور احساس ہوا ۔ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سائل کی بیان کردہ غصہ کی کیفیت ایسی نہیں کہ اسے پاگل پن یا جنون کہا جائے۔ لہذا صورت مسئولہ میں، تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت غلیظہ ثابت ہوچکی ہے ۔ اب یہ عورت اس کے لیے بغیر حلالہ شرعی کے حلال نہیں ہوسکتی۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة البقرة/آیة،230،229)
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان…… فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
وفی التنویر مع الدر:(3/232،سعید)
والبدعی ثلاث متفرقۃ او ثنتان بمرۃ او مرتین فی طھر واحد
وقال فی الشامیة تحتہ:(3/232،سعید)
قولہ ثلاثۃ متفرقۃ) وکذا بکلمۃ واحدۃ بالاولیٰ….. وذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلاث
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(1/302،بشری)
وکذافی ردالمحتار:(3/344،سعید)
وکذافی المختصر للقدوری:(1/170،الخلیل)
وکذافی ردالمحتار:(3/344،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/3/18
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:199

ایک عورت خوشی سے اپنے ماں باپ کے گھر گئی ، وہاں اس کی والدہ نے مطالبہ کردیا کہ تم اپنے شوہرکو خلع کا کہو ، لیکن لڑکی اس بات کے لیے راضی نہیں تھی بلکہ ماں کے دباؤ میں آکر اس نے خلع کا دعوی کردیا اور عدالت نے خلع کی ڈگری بھی جاری کردی ، اب اس عورت کے پاس اپنے شوہر کے پاس جانے کیا شرعی حل ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صؤرت مسئولہ میں اگر عورت نے واقعتا کسی وجہ کے بغیر خلع کا دعوی دائر کیا ہے ، تو اس سے شرعا طلاق نہیں ہوئی ، لیکن چونکہ عدالت نے خلع کا فیصلہ دےدیا ہے اور اس سے ایک طلاق بائن ہوجاتی ہے ، اس لیے احتیاطا دوبارہ نکاح کرکے اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہے

لما فی الھدیہ:(2/383،رشیدیہ)
فاذافعل ذالک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وفی حاشیة الطحطاوی:(2/187،رشیدیہ)
وحکمہ ان الواقع بہ) ای بالخلع ولو بلفظ البیع او المباراۃ ….(طلاق بائن )لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7015،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(2/271،امدادیہ)
وکذافی المبسوط السرخسی:(6/171،بیروت)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(19/244،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:180

ایک عورت کو طلاق ہوئی ہے ۔ اس کی بیٹیاں کم عمر ہیں ۔ ان کا خرچہ باپ پر کس حساب سے ہوگا ؟ جہاں باپ رہتا ہے وہاں کے حساب سے یا جہاں لڑکیاں رہائش پذیر ہیں وہاں کے اعتبار سے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بچیوں کی حقیقی اور شرعی ضروریات کو اپنی وسعت کے بقدر کرنا باپ کی ذمہ داری ہے خواہ وہ کسی بھی جگہ ہو ۔

لما فی البحرالرائق:(4/300،رشیدیہ)
وفی المجتبیٰ ان ذالک یختلف باختلاف الاماکن والعادات فیجب علی القاضی اعتبار الکفایۃ بالمعروف فی کل وقت ومکان
وفی احکام القرآن للجصاص:(1/551،قدیمی)
وقولہ تعالی بالمعروف یدل علی ان الواجب من النفقۃ والکسوۃ ھو علی قدر حال الرجل….ویدل ایضاً علی انھا علی مقدار الکفایۃ …..وقد بین ذالک بقولہ عقیب ذالک ( لاتکلف نفسا الا وسعھا)
وکذافی التفسیرالمنیر:(1/732،امیرحمزہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/693،قدیمی)
وکذافی تفسیرالقرطبی:(3/163،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/340،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختار:(3/612،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:65

غلام سرور (جس کے متعلق اھل علاقہ کا کہنا ہے کہ چند سالوں سے مستقل مریض ہے اور اس مرض میں اکثر و غالب اپنے ہوش و حواس برقرار نہیں رکھ پاتا ) نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدی اور بعد میں حلفا کہتا ہے مجھے نہیں پتہ کہ میں نے کیا بولا ؟ جبکہ بیٹی کا بیان ہے کہ ابو کی طبیعت خراب تھی ، انہوں نے مجھ سے موبائل مانگا، میں نے دیدیا ۔ پھر انہوں نے طلاق کا لفظ بولا ۔ اس کے بعد موبائل ان کے ہاتھ سے گرگیا اور خود ابو بھی بے ہوش ہوگئے ۔ کیا اس صورت میں طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر غلام سرور پر اس وقت اپنی بیماری کی وجہ سے واقعتاً جنون اور پاگل پن طاری تھا تو طلاق نہیں ہوئی ۔اوراگر اس وقت وہ نارمل حالت میں تھا تو ایک طلاق رجعی ہوگئی ہے ۔

لما فی ردالمحتار:(3/244،سعید)
والذی یظھر لی ان کلا من المدہوش والغضبان لایلزم فیہ ان یکون بحیث لایعلم مایقول بل یکتفی فیہ بغلبۃ الھذیان واختلاط الجد بالھزل کما ہو المفتی بہ
وفی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
ولایقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی علیہ والمدہوش ھکذا فی فتح القدیر
وکذافی الھدایة:(2/373،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(3/243،سعید)
وکذافی التنویر:(3/235،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :169

عامر نے ربیعہ سے نکاح کیا ، اللہ جل جلالہ نے تین بچے عطاکیے ، اب عامر نے ربیعہ کی والدہ سے نکاح کرلیا ہے ۔ حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ عامر کے والد کا ربیعہ کی والدہ سے نکاح جائز ہے ؟اس سے عامر اور ربیعہ کے نکاح پر زد تو نہیں پڑی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض بیٹے کی ساس ہونا ، نکاح سے مانع نہیں ہے ۔ اس لیے صورت مسئلہ میں نکاح جائز ہے ، بشرطیکہ کوئی اور وجہ نکاح کے عدم جواز کی نہ ہو ۔

لما فی ردالمحتار:(3/31،سعید)
ولاتحرم بنت زوج الام…… ولا ام زوجۃ الابن
وفی الھندیة:(1/277،رشیدیہ)
لاباس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(2/208،قدیمی)
وکذافی تفسیرالمنیر:(3/9،امیرحمزہ)
وکذافی معالم التنزیل:(1/413،بیروت)
وکذافی البدائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/587،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:17

ایک عورت نے طلاق نامہ لکھا اور شوہر کے پاس آکر اپنے اوپر پٹرول چھڑکا اور ماچس بھی ساتھ لائی اور شوہر سے کہا اس طلاق نامہ پر دستخط کرو ، ورنہ میں خود کو آگ لگانے لگی ہوں۔ شوہر نے اس پر دستخط کردیے ،کچھ بولا نہیں۔ کیا طلاق ہوگئی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگرچہ ظاہرا اکراہ کا رجحان پایا جارہاہے ، لیکن چند وجوہ کی بناء پر اس کو اکراہ شمار نہیں کیا جا سکتا۔(1)تحقیق اکراہ کی شرائط کے سلسلہ میں فقہاء نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ کسی شخص کی دھمکی کو ،اکراہ اس وقت سمجھا جائے گا جب مکرہ(مجبور کرنے والا) اپنی دھمکی تغلباً (قوت اور غلبہ کے طور پر) اس طرح جاری کرنے پر قادر ہو کہ مکرہ(جس کومجبور کیا گیا ہو) اس کے سامنے بے بس اور مجبورمحض ہو ، جبکہ صورت مسئولہ میں عورت محض اپنی بے بسی کو مرد پر تھوپنا چاہتی ہے جس میں غلبہ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔(2)یہ صورت اگرچہ موجب غم ہے ،لیکن ہر موجب غم چیز اکراہ نہیں کہلاتی جب تک کہ اکراہ کی تعریف اس پر صادق نہ آئے۔ لہٰذا ان وجوہ کی وضاحت کے بعد ، محض بےبسی اور مغلوبیت کی بناء پر خودکشی کی دھمکی دینا، چونکہ شرعاً اکراہ کی تعریف میں داخل نہیں ، اس لیے صورت مسئولہ میں طلاق ہوگئی ہے ۔

(ملخص من خیر الفتاوی : 5/165،م:امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:119

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ کہا” کاغذ“ہے” کاغذ“ہے” کاغذ“ہےاور اس علاقے میں کاغذ سے طلاق مراد لی جاتی ہے،تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر ” کاغذہے“کا لفظ واقعتاًاس علاقے میں طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے ،تو اگر شوہرنے طلاق کی نیت سے یہ لفظ بولا تھا یا طلاق کی بات چیت کے دوران اور غصہ کی حالت میں بولا تھاتو ایک طلاق بائن ہوئی ہے ،ورنہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

لما فی ردالمحتارعلی الدر المختار:(4/516،رشیدیة)
الکنایات (لاتطلق بھا)قضاء(إلا بنیۃأودلالۃ الحال )وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب
وفی فتح القدیر:(4/54،رشیدیة)
الکنایات (لا تطلق بھا)قضاء (إلا بنیۃ أو دلالۃ الحال )لأنہا غیر موضوعۃ للطلاق بل تحتملہ وغیرہ فلا بد من التعیین أو بدلالۃ الحال
وفی المجمع الأنھر:(2/34،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/170،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/167،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیة:(4/457،فاروقیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/374،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(3/519،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/427،داراحیاتراث)
وکذافی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(9/6900،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/7/1443/2022/2/4
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:151

شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے دو طلاق دی ہیں ،جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ تین طلاق دی ہیں،وہاں موجود کئی مردوں کا کہنا ہے کہ تین طلاق دی ہیں،تو اس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں

لما فی المبسوط : (6 /147،دارالمعرفة بیروت )
واذاشہدشاہدان علی رجل انہ طلق امراتہ ثلاثاوجحد الزوج والمراۃذلک لان المشہود بہ حرمتھاعلیہ
وفی المحیط البرہانی: ( 5/156،ادارۃ القرآن )
اذاشہدشاہدان علی رجل انہ طلق احدی امراتیہ ثلاثا[ولم یسم لہا]،فالقیاس ان لاتقبل شہادتھماوفی الاستحسان تقبل
وکذافی بدائع الصنائع : (5 /435،رشیدیہ کوئٹہ )
وکذا فی الفتاوی الھندیة: ( 3/451 ،رشیدیہ کوئٹہ )
وکذافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(11/89،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/98،الحرمین الشریفین)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/115،فاروقیہ کوئٹہ)
وکذافی المبسوط:(17/3،دارالمعرفہ بیروت)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(486،زمزم کراچی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(4/66،رشیدیہ کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن،ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:23