ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ تیرےخاندان کا کوئی بھی فرد اس گھر میں داخل ہوا تو تجھے تین طلاق ،اب سوال یہ ہے کہ خاندان سے کون لوگ مراد ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیا

ماں باپ کی طرف سے قریب و بعید کے وہ تمام رشتہ دار جن کو عرفاً خاندان میں شمار کیا جاتا ہے،مراد ہوں گے۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(33/67،علوم اسلامیہ)
الاتجاه السابع: إطلاق القرابة على أي قرابة وإن بعدت من جهة الأب أو من جهة الأم أو من الأولاد، ويحمل عليها الزوجية والولاء والرضاع ،وهذا الاتجاه مستنبط من كلام العلماء في أبواب متفرقة
وفی الشامیة:(9/678،رشیدیہ)
قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتها قال قوم: هي قرابة كل ذي رحم محرم وقال آخرون. كل قريب محرما كان أو غيره اهـ والثاني ظاهر إطلاق المتن قال النووي في شرح مسلم: وهو الصواب واستدل عليه بالأحاديث. نعم تتفاوت درجاتها ففي الوالدين أشد من المحارم، وفيهم أشد من بقية الأرحام
وکذا فی لسان العرب:(9/220،داراحیاء)
وکذا فی روح المعانی:(19/134،داراحیاء)
وکذا فی التفسیر المنیر:(2/556،امیر حمزہ)
وکذا فی التفسیر المظھری:(5/309،رشیدیہ)
وکذافی لغات القرآن:(4/316،دارالاشاعت)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(5/7،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 5

ایک شخص نے اپنی بیوی کو صاف طور پرتین طلاقیں دیں،ایک صاحب نے ان دونوں کا نکاح (بلاحلالہ) پڑھایااس نکاح خواں کے لیے تجدید ایمان و نکاح کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

حرمت مغلظہ ثابت ہونے کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ نکاح کرنا حرام ہے ،نکاح خواں نے اگر حرمت جانتے ہوئے نکاح پڑھایا تو سخت گناہ گار،فاسق اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ،لہذا فورا توبہ و استغفار کرے،اگر حلال سمجھتے ہوئے نکاح پڑھایا تو احتیاطا تجدید ایمان و نکاح کر ے۔

لما فی الشرح لملا علی قاری رحمہ اللہ:(/117،قدیمی)
ولا نکفر مسلما بذنب من الذنوب وان کانت کبیرۃ اذا لم یستحلھا ولا نزیل عنہ اسم الایمان ونسمیہ مؤمنا حقیقۃ ،ویجوز ان یکون مؤمنا فاسقا غیر کافر ، قولہ:(اذا لم یستحلھا) أی لکن اذا لم یکن یعتقد حلھا لان من استحل معصیۃ قد ثبت حرمتھا بدلیل قطعی فھو کافر ……(فاسقا) ای بعصیانہ واصرارہ
وفی البحر:(5/206،رشیدیہ)
والأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر. وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر وإلا فلا وقيل التفصيل في العالم أما الجاهل فلا يفرق بين الحلال والحرام لعينه ولغيره وإنما الفرق في حقه إنما كان قطعيا كفر به وإلا فلا
وکذافی الشامیة:(6/353،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(2/283،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(7/313،فاروقیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/12،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 59

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ازدواجی حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے تین بار طلاق،طلاق،طلاق دے کر اپنے اوپر حرام کر دیا ہے،اب طلاق دینے کے بعدطلاق دہندہ کا دعوی ہے کہ یہ میں نے بیوی کو ڈرانے دھمکانے کے لیےکیا ہے،لہذا مذکورہ صورت حال کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

صریح الفاظ سے دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اگرچہ ڈرانے دھمکانے کے لیے ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے وہ اس کے لیے حلال ہو سکتی ہے۔

لما فی القرآن المجید:(سورہ بقرہ:229،230)
الطلاق مرتان فامساک بمعروف أو تسریح باحسان….. .فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما أن یتراجعا
وفی الصحیح للبخاری:(2/791،قدیمی)
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
وکذافی السنن لابی داؤد:(1/316،رحمانیہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة
وکذا فی الھندیہ:(1/473،رشیدیہ)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
وکذا فی البحر:(4/94،رشیدیہ)
وکذا فی عمدة القاری:(20/233،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/8/1442/2021/04/13
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 77

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق نامہ بھیجا،بیوی کے گھر والوں نے اس کو کہا آپ اس پر دستخط نہ کرو اسی طرح واپس بھیج دو،بیوی نے واپس بھیج دیا،اب عورت کے گھر والے کہتے ہیں کہ چونکہ ہم نے دستخط نہیں کیےلہذا طلاق بھی نہیں ہوئی تو کیا شرعاً طلاق ہوئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

خاوند کے طلاق نامہ تحریر کرنے سے ہی طلاق واقع ہو گئی،اگرچہ طلاق نامہ پر بیوی نے دستخط نہ کیے ہوں۔

لما فی الشامیہ:(4/442،رشیدیہ)
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/471،رشیدیہ)
فإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا یخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وکذافی البدائع:(3/173،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(3/433، رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/528،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/91، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/11/3
جلد نمبر :24 فتوی نمبر:10

ایک جوڑے کی شادی کو تین سال ہو چکے ہیں ،میاں بیوی میں ساس کی وجہ سے اکثر جھگڑا رہتا تھا،جھگڑے کی وجہ اولاد کا نہ ہونا ہے۔ساتھ ساس ہر وقت طعنے دیتی رہتی تھی،جس کے نتیجے میں شوہر نے ماں کے کہنے پر بیوی کو گھر سے نکال دیا ،صلح کی کوشش کی گئی مگر لڑکے کا غرور ختم نہ ہوا،الٹا اس نے بیوی کا سارا سامان اس کے گھر واپس بھیج دیا،جب لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا،اس پر لڑکی کے بھائی نے طیش میں آکر لڑکے سے گن پوائنٹ پر طلاق لے لی،اب لڑکا پچھتارہا ہے اور کہ رہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی میں نے صلح کرنی ہے،میں نےطلاق نامہ پر صرف دستخط کیے تھے،میرے دل میں کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی میری زبان پر کوئی جنبش تھی،جبکہ لڑکی بھی یونین کونسل میں پیپر پر سائن کر آئی ہے،علیحدگی کو تقریبا ایک مہینہ ہو گیا ہے،قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا اس صورتحال میں طلاق واقع ہو گی یا کوئی گنجائش باقی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر واقعی خاوند کو طلاق نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیااور اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہی اس نے زبان سے تلفظ کیاتو طلاق واقع نہ ہوئی عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے۔

لما فی الشامیہ:(4/428،رشیدیہ)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية
وفی المحیط البرھانی:(4/486،داراحیاء)
وفي «فتاوى أهل سمرقند» : إذا أكره الرجل بالحبس والضرب على أن يكتب طلاق امرأته فكتب فلانة بنت فلان طالق لا تطلق لأن الكتاب من الغائب جعل بمنزلة الخطاب من الحاضر باعتبار الحاجة، ولا حاجة ههنا حيث احتيج إلى الضرب
وکذافی الھندیہ :(1/379،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/221،حقانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/532،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/429، رشیدیہ)
وکذا فی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(6/131، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/18/03
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 66

رضاعی بہن بھائی نے شادی کر لی ،ان کےہاں اولاد بھی پیداہوگئی۔اب ان کو مسئلے کا علم ہوا،اس نکاح اور اولاد کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان دونوں کا نکاح صحیح نہیں تھا،اب یہ فوراًجدا ہو جائیں ۔ان کی اولاد کا نسب ثابت ہو گااور اولاد صرف ماں اور اس کے رشتہ داروں کی وارث بنے گی نہ کہ باپ کی۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/168،دار احیاءتراث العربی)
ثبت النسب والنکاح الفاسدبعدالدخول فی حق النسب بمنزلۃالنکاح الصحیح
وفی العالمکیریة:(1/371،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃنکاحا فاسدا فدخل بھا فجاءت بولد لستۃاشھر ثبت النسب منہ
وکذا فی المسلم:(1/537،رحمانیہ)
وکذافی الشامیة:(3/552،ایچ،ایم سعید کمپنی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/97حقانیہ،)
وکذا فی التاتارخانیة:(4/264،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی:(2/240،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/495،منار)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/89،الطارق)
وکذا فی البدائع الصنائع:(3/396،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات عفی عنہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/5/1442/2021/1/6
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 144

ایک شخص کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ،ایسا شخص اگر بیوی کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس شخص کا ذہنی توازن درست نہ ہو اسکی دی ہوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔

لمافی النسائی:(2/533،رحمانیة)
عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال رفع القلم عن ثلاث عن النائم حتی یستیقظ وعن الصغیر حتی یکبر وعن المجنون حتی یعقل او یفیق
و فی البدائع الصنائع:(3/158،رشیدیة)
فلا یقع طلاق المجنون والصبی الذی لا یعقل،لان العقل شرط اھلیۃالتصرف لان بہ یعرف کون التصرف مصلحۃ
وفی البزازیة:(4/170، رشیدیة)
النائم والمغمی علیہ والصبی والمجنون . . . . .طلق او اعتق . . . .لا یترتب علیہ الحکم فلا یقع طلاقہ
وکذا فی ابن ماجہ:(264، رحمانیہ)
وکذا فی الترمذی:(1/356،رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/434،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(4/392 ،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/168،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 9

ایک خاتون کوبچہ پیداہونے کے دس دن بعد شوہر نے طلاق دے دی تو ایسی مطلقہ پر عدت لازم ہے یا نہیں؟ اگر ہےتو مدت کتنی ہے؟ پوچھنے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس عورت کوابھی تو نفاس آرہا ہے اور اس کو پانچ یاچھ مہینے بعد حیض آنے کی عادت ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس عورت کی عدت تین حیض ہے چاہے وہ چھ ماہ بعد ہی آئیں، البتہ نفاس میں طلاق دینے کی وجہ سے شوہر سخت گنہگار ہوا ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:( 9/ 6953،رشیدیہ)
وزمن الحیض لا یحسب من العدۃ وسبب الحرمۃتضررھا بطول العدۃ فان بقیۃ الحیض لا تحسب منھا والنفاس کا لحیض
وفی المختصر القدوری:(171،الخلیل)
اذا طلق الرجل امر اتہ فی حال الحیض وقع الطلاق ویستحب لہ ان یراجعھا لحدیث ابن عمررضي الله عنهما
وکذافی رد المحتار:(1/546،رشیدیہ ) وکذافی النهر الفائق:(2/314،قديمي )
وکذا فی التاتارخانيه:( 5/254،فاروقيه) وکذا فی الهنديه:(1/352، رشیدیہ )
وکذافی المبسوط:(4/40، بيروت) وکذا فی بدائع الصنائع:(3 /153،315،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/13/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 196

امریکہ میں ایک خاتون کاشوہر اسے بہت مارتا ہےاور اب ایک عرصہ سے ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں کرتا،دوسری لڑکیوں سےتعلقات بھی رکھتاہے۔ شادی کو 22سال ہوچکے ہیں،16 سال کا ایک بیٹابھی ہے،شروع سے ہی مار پیٹ کرتاہے عورت نے وہاں کی عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کر لی ہے، لیکن اسکا شوہر کہتا ہےتم جو بھی کر لو میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا،تم اسی طرح سڑتی مرتی رہو ،کیا وہاں کی عدالت کی جاری کردہ خلع کی ڈگری معتبر ہو گی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

غیر مسلم عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرناشرعا قابل اعتبار نہیں ہے لہذا صورت مسولہ میں خلع درست نہیں ہوا،البتہ اگرشوہر واقعتاناقابل برداشت مار پیٹ کرتا ہے تو پھر وہاں کے صاحبِ رائے دین دارمسلمانوں کی ایک جماعت جنکی تعداد کم از کم تین ہو اور ان میں ایک جید عالم بھی ہو ان کے سامنےیہ مسئلہ پیش کیا جائے اگر یہ جماعت غور وفکر کے بعد متفقہ طور پرزوجین میں تفریق کا فیصلہ کر دےتو یہ تفریق مالکیہ کے ہاں شرعا معتبر ہو گی اور موجودہ دور میں ضرورت کے پیش نظر احناف کا فتوی بھی اسی پر ہے۔

لما فی البدائع الصنائع:(5/438،رشیدیہ)
الصلاحیۃ للقضاء لھا شرائط منھا العقل ومنھا البلوغ ومنھا الاسلام
وفی قضایا فقھیة معاصرة:(2/178،179،معارف القرآن)
یقول العلامۃ الدسوقی رحمہ اللہ تعالی(اعلم ان جماعۃ المسلمین العدول یقومون مقام الحاکم فی ذلک) وھذا یدل علی ان جماعۃ المسلیمن تقوم مقام القاضی
وفیہ ایضا
وتبین بھذا ان الفقھاء المالکیہ یفوضون سلطۃ القضاء الی جماعۃ المسلمین فی جمیع الامور التی تحتاج الی قضاء ولا یوجد قاض شرعی عادل. . . ولا شک ان فی ھذا القول سعۃ للمسلمین القاطنین فی بلاد غیر المسلمین. . . . فلو لم ناخذ بقول المالکیۃ فی ھذاالباب لادّی ذلک الی ما لا یحتمل من التعاسۃ والشقاء
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/5936،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(11/5،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/54،علوم اسلامیة) وکذافی الھندیہ:(3/307، رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/437، رشیدیہ) وکذافی الشامیہ:(5/354، سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1442/5/3/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 14

ایک شخص نے غصہ میں اپنی بیوی کو ایک سے زائد بار ماں کہا اور اب وہ اکھٹے رہ رہے ہیں،مہربانی فرما کر شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس لفظ سے نکاح پر تو کوئی اثرنہیں پڑا البتہ ایسے الفاظ کہنا نہایت ناپسندیدہ اور بری بات ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/507،رشیدیہ)
قال لها: أنت مثل أمي ولم يقل: علي ولم ينو شيئا لا يلزمه في قولهم كذا في فتاوى قاضي خان. . . . . لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7136،رشیدیہ)
ویکرہ ان یدعو الزوج زوجتہ بذی رحم مثل یا اخت ا و یا ام ونحوھا
وکذافی التاتارخانیہ:(5/170،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(4/165، رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(3/379،حقانیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/470،سعید)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/223،الطارق)
وکذافی النھر الفائق:(2/453،قدیمی)
وکذافی ابی داؤد:(1/319،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(5/189،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 126