طاہر اور زبیر دو بھائی ہیں،طاہر نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے،کیا اس کا بھائی زبیر اس عورت کی بیٹی سے شادی کرسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی کر سکتا ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /398، رشیدیہ)
وتحل اخت اخیہ رضاعا کما تحل نسبا مثل الاخ لاب اذاکانت لہ اخت من امہ یحل لاخیہ من ابیہ ان یتزوجھاکذا فی الکافی
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: ( 4/ 398 ، رشیدیہ)
وتحل اخت اخیہ رضاعا) یصح اتصالہ بالمضاف کان یکون لہ اخ نسبی لہ اخت رضاعیۃوبالمضاف الیہ کان یکون لاخیہ رضاعااخت نسباوبھما،وھو ظاھر(و)کذا( نسبا) بان یکو ن لاخیہ لابیہ اخت لام،فھو متصل بھما لا باحدھماللزوم التکرارکما لا یخفی؟
وکذافی الھدایة: (2/ 74 ،حسن )
وکذافی المبسوط : (5 /137 ،دارالمعرفة )
وکذا فی البحرالرائق: (3 /396 ،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیة: (4 /365 ،فاروقیہ )
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ: (9 /6635 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایة : (4 /818 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق: ( 2/ 84 ،امدادیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (2 /302 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
احتشام مجیدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:116

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا “میں تینوں طلاق دے دتی اے، میں تینوں نہیں رکھنا، نہیں رکھنا، نہیں رکھنا” اس شخص کی بیوی کو کتنی طلاقیں ہوئیں؟ اور دوبارہ اکٹھے رہنے کی کیا صورت ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

“میں تینوں طلاق دے دتی اے” ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، اور “میں تینوں نہیں رکھنا، نہیں رکھنا، نہیں رکھنا” ہماری ناقص رائے کے مطابق سابقہ طلاق کی تاکید اور پختگی کے لئے ہے۔ اس لئے اس سے پچھلی طلاق بائنہ ہوجائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں ایک طلاقِ بائنہ ہوئی ہے۔
عدت گزرنے پر نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔

لما فی المختصر للقدوری: (173، ط: مکتبہ الخلیل)
وإذا وصف الطلاق بضرب من الزيادة والشدة كان بائنا مثل أن يقول: أنت طالق بائن أو طالق أشد الطلاق أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان والبدعة وكالجبل وملأ البيت
و فی التنویر: (4/485-487، ط: رشیدیہ)
و یقع بأنت طالق بائن أو البتۃ …أو افحش الطلاق أو طلاق الشیطان أو البدعۃ أو أشر الطلاق او کالجبل او کألف او ملأ البیت أو تطلیقۃ شدیدۃ أو طویلۃ أو عریضۃ أو أسوأہ أو أشدہ أو أخبثہ …أو أکبرہ أو أعرضہ أو أطولہ أو أغلظہ أو أعظمہ واحدۃ بائنۃ …ان لم ینو ثلاثا
و کذا فی تقریرات الرافعی علی ھامش الشامیہ (4/509، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الشامیہ (4/447، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (3/174، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (3/176، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الھدایہ (2/349، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی (4/411، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی فتح القدیر (4/46، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر مع الدر (4/528، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/07/1442/ 2021/03/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:39

لڑکے اور لڑکی نے ایک ایسی عورت کا دودھ پیا ہے جو لڑکے کی دادی اور لڑکی کی نانی ہے،اب لڑکے کا اس لڑکی کی بہن سے نکاح ہوسکتا ہےیانہیں؟مطلب یہ ہے کہ رضاعی بہن کی بہن سے نکاح ہوسکتا ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رضاعی بہن کی حقیقی بہن سے اگرچہ نکاح ہوسکتا ہے،لیکن صورتِ مسؤلہ میں یہ لڑکی اس لڑکے کی رضاعی بھانجی بھی لگتی ہے اور رضاعی بھانجی سے نکاح نہیں ہوسکتا۔

لما فی الفتاوٰی قاضیخان:(1/416،رشیدیة)
فکذا اذا اثبت بالرضاع تتعدٰی الی اصول المرضعة وفروعھا واخوتھا واخواتھا وھٰذہ الحرمۃ کما تثبت فی جانب الام تثبت فی جانب الاب
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/400،رشیدیة)
وکذا یجوز للرجل أن یتزوج أخت أختہ من الرضاع وھٰذاظاھر
وکذافی الھندیة:(1/343،رشیدیة)
“یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واصولھما وفروعھما من النسب والرضاع جمیعا…. اخوة الرضیع واخواتہ
وکذا فی المبسوط:(30/301،دار المعرفة)
واذا کان یجوز للرجل ان یتزوج اخت اخیہ من النسب فکذٰلک أخت أختہ من الرضاع
وکذا فی المتلتقٰی مع مجمع الانھر:(1/554،المنار)
وکذا فی المبسوط:(30/294،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(4/362،فاروقیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/396،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(1/343،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/6633،فاروقیة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/12،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:170

شوہراگر بیوی کو رخصتی سے پہلےطلاق دےدیتا ہےتو مہر اور عدت کا کیا حکم ہے(2)اور رخصتی سے پہلےکتنی طلاقوں کے بعد عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رخصتی سے پہلے طلاق دینے سے آدھا مہر دینا ہوگا ،اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو متعہ (تین کپڑے) دینے ہوں گے(2)رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلےطلاق ہوجانے پر عورت دوسرا نکاح فورا کر سکتی ہے اس پر عدت نہیں ہوتی۔

وکذافی التنویر مع الدر:(3/104،سعید)
ویجب نصفہ بطلاق قبل وطیء أ و خلوة
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/155،دار احیاء)
“وللمطلقة قبل الدخول بها نصف المفروض لقوله تعالى: {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ}
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/302،رشیدیة)
وشرط وجوبها الدخول أو ما يجري مجرى الدخول، وهو الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح دون الفاسد، فلا يجب بدون الدخول، والخلوة الصحيحة لقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها
وکذافی الھندیة:(1/526،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(6/30،63 ،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(4/220،،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(5/526،،فاروقیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/504،سعید)
وکذا فی الفتاوٰی قاضیخان:(1/377،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1442/2020/12/22
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:83

ایک آدمی نے طلاق نامے پر تین طلاقیں تحریر کیں (میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں) طلاق نامہ ابھی بیوی کو نہیں دیا تھا کہ لوگوں نے سمجھایا تو اس نے وہ طلاق نامہ بیوی کو نہیں دیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کے لکھتے ہی تین طلاقیں واقع ہوگئیں ،اگر چہ تحریر عورت کے پاس نہ پہنچی ہو۔

لما فی الھندیة :(1/378،رشیدیة)
ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی المبسوط:(6/143،بیروت)
فان کان کتب امرأتہ طالق فھی طالق سواء بعث الکتابة الیھا أو لم یبعث
وکذا فی الشامیة:(3/246،سعید)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/174، رشیدیة)
وکذافی الفتاوی قاضیخان:(1/471، رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/528،فاروقیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6902، رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(2/111، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:192

ایک آدمی کے داماد نے کچھ سال پہلے اس کی بیٹی کو زبانی طور پر تین طلاقیں دےدی تھیں ،پھر غیر مقلدین سے فتویٰ لے کر رجوع کر لیا تھا ،پھر وہ اکٹھے رہنے لگے، اب اس واقعہ کے بعد پھر معاملات خراب ہوگئےتو اس بار اس نے عدالت سے اسٹام پر تینوں طلاقوں کو تحریر کرادیا ، جس کی تفصیل ساتھ لف ہے ،اب وہ داماد دوبارہ رجوع کا کہہ رہا ہے ، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ آیا اب دوبارہ اس طلاق نامے سے رجوع کر سکتا ہے ؟یا اس کی کیا صورت ہوگی ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ اگر واقعہ کے مطابق ہے تو جب پہلی دفعہ اس کے داماد نے اس کی بیٹی کو تین طلاقیں دی تھیں ، اسی وقت سے وہ اپنے شوہر پر حرام ہو گئی تھی،اس کے بعد ان دونوں کا اکٹھے رہنا حرام اور سخت گناہ ہے،لہٰذا سابقہ گناہ پر توبہ وا ستغفار کریں۔
واضح رہے کہ احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں ،اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں

(1)

چنانچہ صحاح ستہ میں سے ”ابوداؤد شریف“ میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دی تھیں تو حضورﷺ نے اس کو نافذ فرمایا

“عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم” (سنن ابی داؤد:2/140،دار الکتب)

ترجمہ: حضرت سھل بن سعد سے اس خبر (حضرت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر عجلانی نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دی تھیں تو حضورﷺ نے اس کو نافذ فرمایا ۔

(2)

”سنن دارِ قطنی “ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا ”اذھبی فانت طالق“(جا تجھے تین طلاق) عدت گزرنے کے بعد آپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ بھیجا اس خاتون نے کہا ”متاع قلیل من حبیب مفارق“(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے) اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔جب یہ بات حضرت حسن کو معلوم ہوئی آپ رونے لگےاور فرمایا

: لولا أني سمعت جدي أو حدثني أبي أنه سمع جدي يقول: «أيما رجل طلق امرأته ثلاثا مبهمة أو ثلاثا عند الإقراء لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره» لراجعتها” (سنن الدارقطني (4/ 20،دار الکتب)

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نانا(حضورﷺ) سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقین دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقین دے دی ہوں تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے“تو میں اس سے رجوع کر لیتا۔

(3)

حضرت عبداللہ بن عمر نے حالتِ حیض میں اپنی کو طلاق دے دی ، حضورﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نےرجوع کا حکم دیا اس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمر نے دریافت کیا۔

یا رسول اللہ :افرأیت لو انی طلقتہا ثلاثا کان یحل لی ان اراجعہا ؟ قال: تبین منک وتکون معصیة
(السنن الکبری للبیہقی:7/546،دارالکتب)

ترجمہ:اے اللہ کے رسولﷺ آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقین دے دیتا تو میرے لئے رجوع حلال تھا ؟ حضورﷺ نے فرمایا :نہیں وہ تجھ سے جدا ہو جاتی اور گناہ بھی ہوتا ۔

(4)

أن حفص بن المغيرة طلق امرأته فاطمة بنت قيس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث تطليقات في كلمة واحدة فأبانها منه النبي صلى الله عليه وسلم (سنن الدار قطنی:4/10،دارالکتب)

ترجمہ:حضرت حفص بن مغیرہ نے حضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں ،تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کردیا۔

(5)

بیہقی“ اور ”مصنف بن ابی شیبہ“میں حضرت علی کا فیصلہ موجود ہے

جاء رجل الی علی فقال طلقت امرأتی الفا قال ثلاث تحرمہا علیک واقسم سائرہا بین نسائک
(السنن الکبری للبیہقی:7/548،دارالکتب، مصنف ابن ابی شیبہ:4/63، دارالکتب)

ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں ،آپ نے فرمایا تین طلاق سےتیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی طلاقیں اپنی عورتوں میں تقسیم کردے۔

(6)

ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین کا فیصلہ ملاحظہ ہو

سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امرأتہ ثلاثا فی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امرأتہ(مصنف بن ابی شیبہ:4/62،دارالکتب)

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں ،فرمایا اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی۔

آیت”الطلاق مرتٰن” سے استدلال اس لئے درست نہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآنِ کریم میں ایک یا ایک جملہ کی کوئی قیدوغیرہ نہیں ، لہٰذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاقیں دے اس آیت کی رو سے اس کے لئے رجوع کا کوئی اختیار نہیں،جب تک یہ عورت آگے دوسرا نکاح نہ کر لے، جیسا کہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ” (البقرہ:30)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1442/2021/2/1
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:10

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ”تیرے سامنے یہ تین راستے ہیں چلی جا جہاں تجھے کوئی پسند آجائے اس سے نکاح کرلینا ورنہ ادھر ہی واپس آجانا “اس سے کوئی طلاق تو نہیں ہوئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر طلاق کی نیت کی ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ،ورنہ کچھ بھی نہیں ہوا۔

لمافی الھندیة:(1/376،رشیدیة)
رجل قال لامرأتہ:اربعۃ طرق علیک مفتوحۃ لا تقع بھٰذا شئ وان نوی الااذا قال خذی ای طریق شئت وقال نویت الطلاق ولوقال مانویت صدق،ولو قال لھا”اذھبی ای طریق شئت لا یقع بدون النیۃ وان کان فی حال مذاکرۃ الطلاق
وکذا فی الفتاوی قاضیخان:(1/468، رشیدیة)
ولو قال لہا:اربعۃ طرق علیک مفتوحۃ و نوی الطلاق لا یقع ان یقول اربعۃ طرق علیک مفتوحۃ فخذی فی ای طریق شئت فحینئذ یقع الطلاق اذانوی ولوقال”چھارراہ برتوکشادہ است”لایقع الطلاق مالم ینو
وکذافی الشامیة:(3/314،سعید)
وکذا فی المبسوط:(6/78 ،دار المعرفة)
وکذا فی البحرالرائق:(3/526،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/430،دار احیاء)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(2/98،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/461،462،463،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:72

میرا ایک بہنوئی ہے ہم نے اس کے ساتھ بدل پر شادی کی ہے،ہم نے اس کی بہن کو کچھ بھی نہیں کہا ،میرا بہنوئی روزانہ میری بہن کو کہتا رہا کہ”تو اپنے باپ کے گھر چلی جا ،جا تومجھ سے آزاد ہے “ایک دن اس نے اپنی بیوی(میری بہن )سے کہا کہ بچہ بیمار ہے اسے ہسپتال لے چلیں ،اس نے کہا چلو ،جب میاں بیوی بازار پہنچے تو میرے بہنوئی نے میری ہمشیرہ سے ایک جگہ کہا کہ بچے کو رکشے والے کے ذریعے گھر بھجوادیتے ہیں ، میں تمہیں تمہارے باپ کے گھر چھوڑ آتا ہوں ،بیوی نے کہا کہ پاگل نہ بن، بچوں کا کیا بنے گا اپنے گھر چلتے ہیں ،ہر چند اصرار مگر خاوند نہ مانا،اور مجھے فون کیا کہ ”ڈیرہ غازیخان“کی گاڑی کہاں سے آتی ہےتو میں نے کہا خیر تو ہے،اس نے کہا ہم نے آنا ہے ،میں نے پوچھا کہ کون کون آرہے ہو،اس نے جواب میں کہا ”میں اور تمہاری مصیبت(بہن)“ وہ گاڑی پر سوار ہوئے تو راستےمیں میرے بہنوئی نے میری ہمشیرہ سے کہا کہ”تومجھ سے آزاد ہے“وقفے وقفے کے بعد یہ الفاظ دہراتا رہا اور ایک بار یہ کہا کہ تیری میرے پاس اب صرف ایک طلاق باقی ہے،وہ میں تمہیں تمہارے والدین کے سامنے دے دوں گا،راستے میں یہ بھی کہا کہ اگر تو دوسرا نکاح کرنا چاہے تو تجھے اجازت ہے ،چاہے بھیک مانگ،چاہے والدین کے گھر رہ تیری مرضی ،جب میرا بہنوئی اور میری بہن دونوں گھر پہنچے، تو بہنوئی نے ہمارے سامنے کہا کہ”یہ مجھ سے آزاد ہے “جب عذر کا مطالبہ کیاگیا تو کہنے لگا ،کہ یہ اپنے بچوں کی رینٹ صاف نہیں کرسکتی،کپڑے نہیں دھو سکتی،دوران صفائی اسٹیل کی پلیٹ میں راکھ اٹھاتی ہے ،اس طرح کے عذر بیان کرتا رہا ،اس واقعہ کو چار ماہ ہوگئے،دریافت طلب امر یہ ہے اس کی بیوی کو کتنی طلاقیں ہوئیں؟اس معاملہ کے بارے میں اس کا والد بات کرنے آتا ہے ،میرے والد نے کہا کہ میں شریعت کا حکم معلوم کر کے فیصلہ کروں گا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے ،لہٰذا باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

وکذافی الھندیة:(1/374،377،رشیدیة)
الفصل الخامس فی الكنایات فی الطلاق
الفصل الخامس فی الكنایات) لا یقع بہا الطلاق إلا بالنیۃأو بدلالۃ حال كذا فی الجوھرۃ النیرۃ. ثم الكنایات ثلاثۃ أقسام (مایصلح جوابا لا غیر) أمرك بیدک، اختاري، اعتدي (وما یصلح جوابا وردا لا غیر) اخرجی اذھبی اعزبی قومی تقنعی استتري تخمري (وما یصلح جوابا وشتما)خلیۃبریۃ بتۃ بتلۃ بائن حرام…وبابتغی الأزواج تقع واحدۃ بائنۃ إن نواھا أو اثنتین وثلاث إن نواھاكذا فی شرح الوقایۃ..ولا یلحق البائن البائن
وکذا فی البحر الرائق:(3/526،رشیدیة)
لوقال فی مذاکرۃ الطلاق فارقتک وباینتک اوبنت منک…او انت حرۃ او انت اعلم بشأنک فقالت اخترت نفسی یقع الطلاق
وکذا فی الھدایة:(2/352، رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/296،297،سعید)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/300،308،سعید)
وکذا فی کنزالدقائق:(121،120،حقانیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/430،436،دار احیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/167،170،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/471،523، فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:8

ایک لڑکی جس کی عمر 29 سال ہے، صوم و صلوۃ کی پابند اور با پردہ ہے، اس نے آج کل کے حالات اور اپنے خاندان میں شادیوں کے بعد کے معاملات دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کرے گی ۔ بقول اس کے اس کی ساری ضروریات بھی پوری ہورہی ہیں(وہ اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہے) اور اپنے اوپر کسی گناہ میں نہ پڑنے کا بھی یقین ہے، جبکہ اس کے والدین اسے مجبور کررہے ہیں کہ تمہارے لیے بغیر شادی کے رہنا جائز ہی نہیں،تمہیں ضرور شادی کرنا پڑے گی تو کیا اس کے والدین کا اسے شادی پر مجبور کرنا جائز ہے؟ کیا وہ بغیر شادی کے بقیہ پوری زندگی گزار سکتی ہےاگرچہ اسے اپنے اوپر اطمینان اور گناہ میں مبتلا نہ ہونے کا یقین ہو؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح ایک عظیم عبادت ہے ۔آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی مبارک سنت ہے،چنانچہ مشکوۃ شریف میں ہے

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاح. (مشکوۃ المصابیح 1/45،رحمانیہ)

ترجمہ:”حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:چار چیزیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں 1ـ حیاء کرنا (ایک روایت کے مطابق ختنہ کرنا) 2ـ عطر لگانا 3ـ مسواک کرنا 4ـ نکاح کرنا“
نکاح صرف حلال طریقہ پر انقضاء شہوت کا ذریعہ ہی نہیں ، بلکہ توالد و تناسل ، نوع انسانی کی بقاء، نسب کی حفاظت، خوشگوار معاشرے کے قیام اور عفت و پاکدامنی کا ذریعہ ہے اور دیگر کثیر شرعی و طبی حکمتوں پر مشتمل اہم عبادت ہے ، چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
”یہ امر مفیدِ صحت، اطمینان بخش، راحت رساں، سرور افزا، کفایت آمیز، ترقیِ زندگی دارین کا سبب ہے۔ اخلاقی، مذہبی نگاہ سے اس امر پر غور کروگے تو اس کو سراسر فائدوں سے معمور پاؤگے۔ تمدن کے لیے اس سے بہتر کوئی صورت نہیں، حب الوطن کی بھی جڑ ہے اور ملک و قوم کے لیے اعلیٰ ترین خدمات میں سے ہے۔ بیماریوں سے بچانے اور صدہا امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک حکمی نسخہ ہے۔“ (احکام اسلام عقل کی نظر میں :135،رحمانیہ)
نکاح کے ساتھ کئی دینی و دنیاوی مصلحتیں وابستہ ہیں اسی لیے قرآن و احادیث میں اہل ایمان کو نکاح کرنے کی صرف ترغیب ہی نہیں بلکہ واضح حکم ارشاد فرمایا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ” ( النساء: 3)

ترجمہ:” عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں“ (آسان ترجمہ قرآن : 184، معارف القرآن)
اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

يا معشر الشباب، عليكم بالباءة، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج.“(جامع الترمذی:1/333،رحمانیہ)

ترجمہ: ”اے جوانوں کے گروہ ! تمہارے لیے نکاح ضروری ہے کیونکہ نکاح کرنا نظر کو بہت جھکاتا ہے اور شرمگاہ کو بہت محفوظ رکھتا ہے۔“
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نکاح کا حکم ارشاد فرمایا وہیں بلاوجہ نکاح ترک کرنے والوں سے اظہار بیزاری بھی فرمایااور اس پر سختی سے نکیر فرمائی، چنانچہ حدیث مبارکہ ہے

واللہ انی لاخشاکم للہ و اتقاکم لہ لکنی أصوم و أفطر و أصلی و ارقد و أتزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی. ( مشکوۃ المصابیح:1/28،رحمانیہ)

ترجمہ:”اللہ کی قسم میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور تم سے زیادہ تقوی اختیار کرتا ہوں مگر اس کے باوجود روزہ بھی رکھتا ہوں ، افطار بھی کرتا ہوں ،نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ۔ جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں

اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

عن سعد بن ابی وقاص قال ردَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل
( مشکوۃ المصابیح: 2/275، رحمانیہ)

ترجمہ:” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو نکاح ترک کرنے سے منع فرما دیا۔

ان نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کرنا شرعا مطلوب ہے اور بلاوجہ ترک نکاح شرعا مذموم ہے، لہذا بلاوجہ ساری زندگی بلانکاح گزارنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
مزید یہ کہ گناہ میں مبتلا نہ ہونے سے متعلق اپنے نفس پر اعتماد کرنا درحقیقت شیطانی دھوکہ ہے۔ انسان کو کبھی بھی اپنے نفس سے مطمئن نہ ہونا چاہیے، بلکہ ہر لمحہ گناہوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنا چاہییں، چنانچہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ فرمان مذکور ہےَ

 

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي  [يوسف: 53]

ترجمہ: ”اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے ، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے ، ہاں میرا رب رحم فرما دے تو بات اور ہے۔“ (آسان ترجمہ قرآن:514،معارف القرآن)
لہذا اپنے نفس پر مطمئن ہونے کی بجائے نکاح جیسے محفوظ حصار میں آجانا ہی عقلمندی ہے۔
باقی یہ عذر پیش کرنا کہ موجودہ دور کی شادی بیاہ تقریبات کے حالات درست نہیں، منکرات و خرافات کی بھرمار ہے، شادی کے بعد زوجین کے درمیان ناخوشگواریوں کے واقعات بکثرت پیش آرہے ہیں تو یہ چیز عذر نہیں بن سکتی۔ دین دار متبع سنت لوگوں کی اگرچہ قلت ہے ،مگر ایسے لوگ بالکل معدوم تو نہیں۔ رجوع الی اللہ اور مستقل تلاش و جستجو سے ایسا رشتہ یقینا میسر آسکتا ہے جس کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم کرنے میں کسی قسم کے منکرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایسی بےشمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کہ متبع سنت خاندانوں نےشریعت کی حدود و قیود کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے نکاح کی تقریبات کا انعقاد کیا ، کسی قسم کی خرافات وبےپردگی کا وقوع نہ ہوا اور شادی کے بعد زوجین خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، لہذا محض اس چیز کو عذر بنا کر دور فتن میں نکاح جیسی پرحکمت عبادت سے پہلوتہی کرنا اور اس حفاظتی حصار سے محروم رہنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رشتہ دیکھتے وقت لڑکے کی دین داری کو مدنظررکھا جائے اور نکاح کی تقریب کو ہر طرح کے منکرات و فواحش سے محفوظ رکھا جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/32،الطارق)
و حضَّ صلی اللہ علیہ وسلم و حثَّ علی الزواج فقال یخاطب الشباب الذین بلغوا سن الزواج: یا معشر الشباب! من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج…. و ردَّ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصحابۃ الذین أرادوا التبتل و ترک الزواج لیتفرغوا للعبادۃ فقد روی عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ انہ قال: ردَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل ….التبتل ھو الانقطاع عن النساء و ترک النکاح
وفیہ ایضاً:(2/36،الطارق)
و کان السلف الصالح یکرھون ترک الزواج و یحضون غیر المتزوج علی الزواج ….قال عمر لابی الزوائد: ما یمنعک من النکاح إلاّ عجز أو فجور
وفی فتح الملھم:(6/316،318،دارالعلوم کراتشی)
اعلم أن النکاح ھو أعظم أرکان الحکمۃ المنزلیۃ و أساس الحیاۃ الاجتماعیۃ و ھو معین علی الدین و مھین للشیطان و حصن دون عدو اللہ حصین و سبب للتکثیر الذی بہ مباھاۃ سید المرسلین لسائر النبیین فما أحراہ بأن یتحری أسبابہ و تحفظ سننہ و آدابہ ….الفائدۃ الثانیۃ التحصن عن الشیطان و کسر التوقان و دفع غوائل الشھوۃ و غص البصر و حفظ الفرج….. فالنکاح بسبب دفع غائلۃ الشھوۃ مھم فی الدین لکل من لا یؤتی عن عجز و عنۃ…. و ان کان ملجما بلجام التقوی فغایتہ أن یکف الجوارح عن إجابۃ الشھوۃ فیغض البصر و یحفظ الفرج فأما حفظ القلب عن الوساوس و الفکر فلا یدخل تحت اختیارہ بل لا تزال النفس تجاذبہ و تحدثہ بأمور الوقاع و لا یفتر عنہ الشیطان الموسوس الیہ فی أکثر الاوقات

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:98

 

ایک شخص نے کسی مجلس میں اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہا۔ نکاح رجسٹرار کو بلوایا، اس نے کہا لڑکی سے دستخط کروا کر لائیں۔ والد رجسٹر پر دستخط کروا کر لے آیا، لیکن لڑکی کو کچھ نہ بتایاکہ کس کے ساتھ اور کتنے مہر میں نکاح کیا ہے۔ نکاح خوان نے لڑکے سے ایجاب و قبول کرایا اور خطبہ پڑھ کر نکاح کردیا۔ بعد میں لڑکی نے پوچھا کہ میرا نکاح کس سے کیا ہے؟ تو اس کو بتلایا گیا،وہ اس پر خاموش رہی۔ اب گھر والوں کو وسوسہ آرہا ہے کہ پتا نہیں یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوگیا ہو تو بھی وہ اپنے اطمینان کےلیے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح نامے پر دستخط کرنا بھی لڑکی کی طرف سے اجازت ہی تھی اور مزید یہ بھی کہ کنواری بالغہ کی خاموشی بھی اجازت ہوتی ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں نکاح بلاشبہ منعقد ہوگیا ہے۔اس پر یقین رکھیں، بلاوجہ وساوس کا شکار نہ ہوں۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/75،بیروت)
اعلم بأن السكوت من البكر البالغة جعل رضاً بالنكاح سواء استأمرها الولي قبل النكاح أو زوجها الولي قبل الاستئمار، فبلغها الخبر فسكتت. والأصل فيه قوله عليه السلام: البكر تستأمر في نفسها فسكوتها رضاها
وفی بدائع الصنائع:(2/507،رشیدیہ)
ولو زوجها ثم أخبرها فقالت قد كان غيره أولى منه كان إجازة؛ ….لأن قولها في الفصل الثاني قبول أو سكوت عن الرد وسكوت البكر عن الرد يكون رضا
وفی کتاب الفقہ:(3/27،حقانیہ)
و لا یشترط فی البکر ان تصرح بالقبول بل یکفی ان یصدر منھا ما یدل علی الرضا کاَن تسکت ….ھذا اذا زوجھا الولی او وکیلہ او رسولہ او زوجھا الولی ثم اخبرھا
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/287،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6718،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/155،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/114،فاروقیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(283،البشری)
وکذافی البحر الرائق:(3/200،رشیدیہ)
وکذافی المجلة:(24،قدیمی)
وکذافی درر الحکام فی شرح المجلة:(1/69،العربیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/1/2021/1442/6/4
جلدنمبر:22 فتوی نمبر:189