ایک بندہ جس کی بیوی نے کفریہ کلمہ کہا جو کہ اس نے اپنے پورے ہوش وحواس کے ساتھ ایک معمولی بات پر کہا ،جب اس کے شوہر نے اس سے صرف ایک مشورہ کی نیت سے اس کے بھائی(بیوی کے بھائی) کے ساتھ اپنی بہن کا رشتہ کرنے کی بات کی (اور یہ بات بھی شوہرنے اپنی والدہ کے کہنے پر کی تھی) تو اس کے جواب میں بیوی نے کہا کہ میرے بھائی کےلیے تو نے خاندان میں یہی لڑکی دیکھی ہے؟اور ساتھ ہی روتے ہوئے کہنے لگی کہ آپ نے یہ بات کیوں کی؟ تو شوہر نے کہا کہ میں نے صرف ایک تجویز دی ہے ، لازمی نہیں کہ ایسا ہی ہو ،مطمئن رہو۔اس پر بھی بیوی نے کہا کہ مجھے لگتا ہےکہ اللہ نے میرے ساتھ دھوکہ کیا (معاذاللہ) ۔ شوہر نے کہا کہ ایسا مت کہو تو بھی وہ اس پر نہ رکی۔ مسئلہ کا علم اس وقت دونوں کو نہیں تھا کہ کفریہ کلمہ کی وجہ سے بندہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے،اس وجہ سے انہوں نے تجدید ایمان اور تجدید نکاح نہ کیا ۔ کچھ عرصہ بعد کسی تنازع کی وجہ سے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ کچھ عرصہ بعد ایک عالم دین سے اس مسئلہ کے بارے میں سنا تو اس کفریہ کلمہ سے متعلق پتا چلا۔ معلوم ہوا کہ نکاح سے وہ پہلے ہی خارج ہوچکی تھی،لہذا بعدوالی طلاق کی کوئی حیثیت نہ رہی۔ اس بارے میں اہلسنت والجماعت (دیوبند) کے مفتی عبید صاحب (جامعہ ابن عباس کراچی) سے واٹس ایپ پر پوچھا گیا تو صورت حال کو سمجھ کر انہوں نے بتلایا کہ وہ عورت کفریہ کلمہ کہنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگئی تھی ،لہذا نکاح بھی ختم ہوگیا تھا،اب دونوں تجدید ایمان و نکاح کرلیں، بعد والی طلاق کی تو اب کوئی حیثیت نہیں ،کیونکہ وہ کفریہ کلمہ کہنے کی وجہ سے اس کی بیوی رہی ہی نہ تھی اس لیے بعد والے معاملہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث سے راہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

علماء اہلسنت والجماعت کسی بھی مسلمان پر کفر کا حکم لگانے میں ہمیشہ انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اس کے قول و فعل کو حتی الامکان درست محمل پر محمول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں عورت نے مذکورہ کلمات چونکہ جہالت اور لاعلمی کی بنیاد پر کہے ہیں ، واقعتا اللہ تعالی کی ذات سے متعلق اس طرح کے نقص کا اعتقاد نہ تھا ،اس لیے اس عورت پر کفر وارتداد کا حکم لگانے سے احتراز کیا جائے گا،لہذا اس بناء پرنکاح ختم نہیں ہوا تھا اس لیے خاوند نے جو تین طلاقیں دی ہیں وہ واقع ہوگئیں اور عورت خاوند پر حرام ہوگئی۔
تاہم عورت نے اللہ تعالی کی ذات سے متعلق نازیبا کلمات بول کر سخت کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے ،لہذا فورا توبہ و استغفار کرے اور احتیاطا تجدید ایمان بھی کرلے۔

لما فی التاتارخانیة:(7/281،فاروقیہ)
یجب أن یعلم أنہ اذاکان فی المسئلۃ وجوہ توجب التکفیر و وجہ واحد یمنع التکفیر فعلی المفتی أن یمیل الی الوجہ الذی یمنع التکفیر تحسینا للظن بالمسلم
وفی الفتاوی الھندیة:(2/283،رشیدیہ)
ما کان فی کونہ کفرا اختلاف فان قائلہ یؤمر بتجدید النکاح و بالتوبۃ و الرجوع عن ذلک بطریق الاحتیاط ….اذاکان فی المسئلۃ وجوہ توجب الکفر و وجہ واحد یمنع فعلی المفتی أن یمیل الی ذلک الوجہ
وفی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیہ:(3/577،رشیدیہ)
أما الجاھل اذا تکلم بکفر و لم یدر أنہ کفر اختلفوا فیہ قال بعضھم لایکون کفرا و یعذر بالجھل و قال بعضھم یصیر کافرا و لایعذر بالجھل
وکذافی التاتارخانیہ:(7/282،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/353،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(304،زمزم)
وکذافی البحر الرائق:(5/210،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 198

اگر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرتا ہے، بلا وجہ مارپیٹ اور گالم گلوچ کرتا ہے، نان ونفقہ اور دیگر حقوق بھی ادا نہیں کرتا۔خاوند کی اس بد سلوکی کی وجہ سے عورت طلاق یا خلع کا مطالبہ کرتی ہے، مگر خاوند اس پر بھی راضی نہیں ہوتا۔ بالآخر عورت عدالت کی طرف رجوع کرتی ہے اور عدالت خاوند کی بدسلوکی ثابت ہونے پر تنسیخ نکاح کا فیصلہ کردیتی ہے تو کیا یہ فیصلہ معتبر ہوگا اور اس سے نکاح فسخ ہوجائے گا؟ اگر ہو جائے گا تو رجوع کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر خاوند واقعی نا قابل برداشت مارپیٹ اور ظلم کرتا ہے، نان ونفقہ اور دیگر حقوق ادا نہیں کرتا، عدالت میں حاضر ہوکر اپنا بری ہونا بھی ثابت نہیں کرتا اور آئندہ اس ظلم سے باز آنے سے انکاری ہے اور طلاق یا خلع کے ذریعے عورت کو چھوڑنے پر بھی راضی نہیں ہے تو ایسا شخص شریعت کی نگاہ میں متعنت کہلاتا ہے۔ مذہب مالکیہ کے مطابق بیوی ایسے متعنت خاوند سے بذریعہ عدالت خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔
ضرورت شدیدہ کے تحت علماء احناف کا فتوی بھی اسی قول پر ہے،لہٰذا عدالت کا خاوند کے قائم مقام ہوکر تنسیخ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہونے کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوگئی۔اب اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟ اس سے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ ”کفایت المفتی“ میں فرماتے ہیں:
”اگر انقضاء عدت سے قبل خاوند آجائے اور بیوی کے حقوق و نفقہ ادا کرکے اسے راضی کرلے تو بیوی اسکو مل سکتی ہے۔“
(کفایت المفتی:8/564،جامعہ فاروقیہ)
مگر چونکہ بعض فتاوی جیسے فتاوی عثمانیہ(6/313،العصر اکیڈمی) اور فتاوی فریدیہ(5/536،دارالعلوم صدیقیہ) میں تنسیخ نکاح کو طلاق بائن شمار کیا ہےاس لیے ان حضرات کے ہاں تجدید نکاح کے بغیر رجوع ممکن نہیں، لہٰذا احتیاطاً تجدید نکاح کرلینا بہتر ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/7042،رشیدیہ)
أخذ القانون في مصر وسورية بجواز التفريق القضائي بين الزوجين، عملاً بمذهب الجمهور غير الحنفية، فنصت المادة الرابعة من القانون المصري رقم (25) لسنة (1920) على حق التفريق بين الزوجة وزوجها، لعدم إنفاقه عليها، إذا طلبت الزوجة التفريق بالضرورة، سواء أكان عدم الإنفاق عليها بسبب إعساره، أم كان تعنتاً منه وظلماً
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/176،معارف القرآن)
ولکن ھناک احوالاً یجوز لھا فیھا ان ترفع امرھا الی قاضی شرعی فیفسخ ھو نکاحھا من زوجھا بولایتہ العامۃ، وذلک لاسباب معروفۃ علی اختلاف الفقھاء فیھا مثل ان یکون الزوج مفقوداً او عنیناً او مجنونا او متعنتاً لا ینفق علی زوجتہ
وفی الحیلة الناجزة:(133،دارالاشاعت)
اما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام ، فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق و الّا طلق علیہ قال محشیہ قولہ و الّا طلق علیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم
وکذافی التفسیر المنیر:(1/724،امیر حمزہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/62،علوم اسلامیة)
وکذافی الحیلة الناجزة:(73،دارالاشاعت)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/7045،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:149

نعیم سہیل کی بیوی میکے گئی اور فون پر جھگڑا ہوگیا، بیوی نے کہا کہ مجھے لینے آؤ گے تو میں آؤں گی، اس نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں نے نہیں آنا، اس بات پر اس نے رابطہ منقطع کردیا۔ ایک ماہ بعد ہم اسے لینے گئےتو انہوں نے کافی باتیں کیں کہ وہ خود لینے آئے،مگر یہ گیا نہیں، اس بناء پر انہوں نے اسے ہمارے ساتھ بھیج دیا۔ ہم گھر آئے تو سہیل نے کہا کہ اسے کیوں لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا تھا کہ وہ خود آئے،اب کیوں آئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جیسے جیسے سوچتا گیا اس کی طبیعت خراب ہوتی گئی، ساری ساری رات جاگتے گزار دیتا،سوتا نہیں تھا۔ جمعہ والے دن صبح صبح نہا کر نکل گیا اور سارا دن فون بھی بند رہا ۔ اس دن یہ عارف والا گیا تھا، وہاں ایک لڑکی ہے ، رانے ذات کے ہیں، ان کے ساتھ ہماری دشمنی بھی ہے۔ کہتا ہے کہ میں نے اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے، حالانکہ اس کی شادی ہوچکی ہے، تین بچے بھی ہیں، کہتا ہے کہ وہ میرے دل سے نہیں نکلتی۔پہلے بھی ایک بار ایسا ہوا تھا ، اس وقت بھی اسی لڑکی کے بارے میں باتیں کرتا تھا۔ پھر کل رات کو سہیل کہنے لگا کہ میں نے اس کمرے میں نہیں سونا، میں جارہا ہوں۔ اس کی بیوی نے کہا کہ میں چلی جاتی ہوں، آپ ادھر ہی سو جاؤ۔اس سے ان کا جھگڑا ہوگیا ۔اس نے اپنی بیوی کو مارنا شروع کردیا اور اس کا بڑا بھائی باہر گیا ہوا تھا، وہ باہر سے آیا تو یہ اسے مار رہا تھا ، اس نے ہٹایا تو وہ اپنے بڑے بھائی کو ہی مارنے لگ گیا، اس سے دونوں آپس میں لڑنے لگ گئے۔ اسی دوران اس نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے دی اور اب نہ تو یہ سوتا ہے، ہر کسی کو گالیاں دیتا ہے، ماں کو بھی نہیں چھوڑتا ، چھوٹی سی بات پر لڑنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے باہر جانے دو، میں گھر نہیں رہتا ، مجھے گھر اچھا نہیں لگتا۔ ہم نے دروازے کو تالا لگایا ہوا ہے، ہم اسے باہر نہیں جانے دیتے۔غصے میں اس کا اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا، منہ میں جو آئے کہہ دیتا ہے۔ ہم اسے کل بڑی مشکل سے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے، ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا دماغ کام نہیں کررہا۔ تو اب اس کی بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کسی مسلمان دین دار ماہر ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق واقعی کسی شخص کا ذہنی مریض ہونا ثابت ہوجائے یا اس کا ذہنی مریض ہونا پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ شخص اسی ذہنی مرض کی بناء پر ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے طلاق دے دے تو ایسے آدمی کی طلاق شرعا معتبر نہیں ہوتی۔
بس اصل مدار اسی پر ہے کہ طلاق دیتے وقت وہ ذہنی مریض تھا یا نہیں۔ اگر ذہنی مریض تھا اور گھر والے افراد اسے ذہنی مریض ہی سمجھ رہے تھے تو طلاق نہیں ہوئی، ورنہ تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں

لما فی التنویر:(4/437،رشیدیہ)
لا یقع طلاق المولی علی امرأۃ عبدہ و المجنون و الصبی و المعتوہ
وفی الشامیة:(4/437،رشیدیہ)
قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة

 

وفی الموسوعة الفقھیة:(29/15،علوم اسلامیة)
ذهب الفقهاء إلى عدم صحة طلاق المجنون والمعتوه ….فإن حكم طلاق المبتلى به منوط بحاله عند الطلاق، فإن طلق وهو مجنون لم يقع، وإن طلق في إفاقته وقع لكمال أهليته
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(299،البشری)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/158،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/164،قدیمی)
وکذافی ملتقی الأبحر علی ھامش مجمع الأنھر:(2/8،المنار)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/9/1442/2021/5/2
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:152

بکر نے اپنے والد سے جھگڑا کرتے ہوئے بیوی کے بارے میں کہا ”میں اسکو نہیں رکھتا ،طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں “دو دفعہ کہا پھر نکاح خواں کو فون کرکے کہا ”مجھے طلاق نامہ دیں میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں “کیا طلاق مغلظہ ہوئی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دو مرتبہ ”طلاق دیتا ہوں “کہنے سے دو رجعی طلاقیں ہوگئیں ۔باقی فون پر جو کہا ”طلاق نامہ دیں، طلاق دیتا ہوں “یہ پہلے زبانی دی ہوئی طلاق کو تحریری طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کررہا ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/393،دار احیاء تراث عربی)
و لو قال لھا انت طالق ،فقال لہ رجل :ما قلت ؟فقال :طلقتھا او قال :قلت ھی طالق فھی طالق واحدۃ فی القضاء لان قولہ فی المرۃ الثانیۃ خرج جوابا فیکون اخبارا عن الایقاع الاول
وفی بدائع الصنائع:(3/163،رشیدیہ)
و لو قال لامراتہ انت طالق ،فقال لہ رجل :ما قلت ؟فقال :طلقتھا او قال :قلت ھی طالق فھی واحدۃ فی القضاء لان کلامہ انصرف الی الاخبار بقرینۃ الاستخبار
وکذافی الشامیہ :(4/448،547،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/11،الحرمین الشریفین )
وکذافی التاتارخانیة:(4/401،فاروقیة)
وکذافی فتاوی النوازل:(210،الحقانیة)
وکذافی الھندیة:(1/355،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(4/4،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6886،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/4/1442/13/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:39

مرد بیرون ملک تھا۔ اس نے اپنی بیوی کےلیے پرچے پر طلاق لکھ کر رکھ لی۔ پرچے پر لکھا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ۔ پھر وہ شخص تین ماہ بعد گھر آیا اور بیوی کے ہاتھ میں وہ پرچہ تھما دیا ۔اب بیوی کےلیے عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس وقت سے مرد نے یہ تحریر لکھی اسی وقت سے طلاق واقع ہوگئی،لہذا عدت (3 حیض) بھی اسی وقت سے شمار ہوگی۔

لما فی الشامیة:(4/442،رشیدیہ)
ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/471،رشیدیہ)
ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فلما كتب هذا وقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وکذافی المحیط البرھانی:(4/484،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/368،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(4/528،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/173،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/91،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:156

میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے جو کہ گونگا ہے۔ میں نے اپنے والد کی موجودگی میں اپنی بیٹی اپنے بھائی کے بیٹے کے نام کردی اور اپنے بھائی کی بیٹی اپنے گونگے بیٹے کے نام کردی۔ اس معاملے کا اس دوسرے بھائی کو اس وقت علم نہیں تھا۔ واضح رہے کہ ہمارے ہاں پختونوں میں یہ رواج ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس طرح ایک دوسرے کے نام کردیتے ہیں اور پھر جو لڑکی جس لڑکے کے نام ہوتی ہے بعد میں اس کا نکاح اسی لڑکے سے ہوگا ،کسی دوسرے سے اس کا نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ اب میرے بھائی کو علم ہوا تو اس نے اپنی بیٹی میرے اس گونگے بیٹے کے نکاح میں دینے سے انکار کردیا ۔ اب میرے والد نے میرے اس بھائی سے کہا ہے کہ تم کو اب ہر حال میں اپنی بیٹی کا نکاح اس گونگے لڑکے سے کرنا ہوگا، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو میں تم کو عاق کردوںگا اور تمہیں کبھی اپنے گھر نہ آنے دونگا اور مرتے وقت وصیت کروں گاکہ اسے میرا منہ نہ دیکھنے دیا جائے ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ: (1) کیا والد میرے اس بھائی کو مذکورہ معاملہ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے یا نہیں؟(2)کیا باپ کا بیٹے کو اس طرح عاق کردینے اور ہمیشہ کےلیے تعلق ختم کردینے کی دھمکی دینا درست ہے؟(3)کیا کوئی باپ اپنی نابالغہ بچی کا نکاح کسی گونگے شخص سے کر سکتا ہے؟(4)کیا باپ کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر بھائی اپنی چھوٹی بہن کا نکاح کروا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کا اپنی اولاد کو بچپن میں ہی کسی کے نام کردینا اور پھر بعد میں خواہ حالات کیسے ہی ہوں ،انکی مصلحت کی رعایت کیے بغیر انکا نکاح کروادینا ایک نہایت قبیح رسم ہے۔ یہ رسم گھروں کی بربادی اور معاشرے میں فساد کا ایک ذریعہ ہے ۔
مگر افسوس ہے کہ ہم آج خود ساختہ رسوم کے اس قدر پابند ہوچکے ہیں کہ ان رسوم کو بجالانے کی خاطر قرآن و سنت کی تعلیمات کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اپنی اولاد کو ان قبیح رسوم کی نذر کرکے ہمیشہ کےلیے انکے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں۔
اولاد کے نکاح کے سلسلہ میں قرآن و سنت کی تعلیم یہ ہے کہ جب بچہ اور بچی نکاح کے قابل ہوجائیں تو والدین کا فریضہ ہے کہ ان کے لیے مناسب رشتہ تلاش کریں اور مناسب رشتہ ملنے پر اپنی اولاد سے مشورہ کریں ، اولاد کی رضامندی ظاہر ہونے پر انکا نکاح کروا دیں۔اگر اولاد نابالغ ہو اور کوئی مناسب رشتہ میسر آ جائے تو شریعت سب سے پہلے باپ کو اس بات کا حق دیتی ہےکہ اپنی اولاد کی مصلحت دیکھتے ہوئے اس کا نکاح کردے۔(1) صورت مسئولہ میں بھی نابالغہ بچی کا باپ چونکہ زندہ ہےاس لیے بچی کے نکاح کا مکمل اختیار باپ کو ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو اس بچی کا نکاح کرنے کا شرعا کوئی اختیار نہیں۔ جب باپ مذکورہ نکاح کو بچی کے حق میں مفید نہیں سمجھتا تو اس کا حق بنتا ہے کہ اس نکاح سے انکار کردے ،کسی کو اس پر جبر کرنے کا شرعا کوئی حق نہیں۔(2) اس خلاف شریعت حکم کی تعمیل نہ کرنے پر باپ کا بیٹے کو عاق کردینے اور ہمیشہ کےلیے تعلق ختم کردینے کی دھمکی دینا اور بھی بڑا جرم ہے ۔ شریعت باپ کو ہرگز یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی اولاد کو وراثت سے محروم کردے۔مزید یہ کہ عاق کردینے کا شرعا کوئی اعتبار ہی نہیں ۔ عاق کرنے کے باوجود بھی بیٹا وراثت کا مستحق رہتا ہے۔(3) اگر والد گونگے شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے میں بیٹی کےلیے مصلحت سمجھے تو اس نکاح میں کوئی حرج نہیں، البتہ اگر باپ کے پیش نظر کوئی مصلحت نہ ہو، بلکہ بیٹی کا مستقبل تاریک ہونے کا اندیشہ ہو ،اس کے باوجود محض ذاتی اغراض یا رسم و رواج سے مجبور ہوکر نکاح کرنا چاہے تو اس کی شرعا کوئی گنجائش نہیں۔(4)باپ کی موجودگی میں بھائی کو ولایت نکاح حاصل نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(2/278،رحمانیة)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: لاتنکح الأیم حتی تستأمر و لاتنکح البکر حتی تستأذن
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(282،البشری)
الولی فی نکاح الصغیر و الصغیرۃ ھو الأب فإن لم یکن فالولی ھو الجد
وفی الموسوعة الفقھیة:(45/172،علوم اسلامیة)
ذھب الفقھاء الی أن للأب ولایۃ تزویج ابنہ الصغیر و ابنتہ الصغیرۃ
وفی مشکوة المصابیح:(1/272،رحمانیة)
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/278،رحمانیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(41/260،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/63،الطارق)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/166،رشیدیة)
وکذافی تکملة رد المحتار:(7/505،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1442/2021/2/20
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:90

ایک شخص نے وکیل سے کہا تم میری بیوی کو طلاق دے دو ،لیکن وکیل نے طلاق نہیں دی تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

طلاق دینے میں اصل تو یہ ہے کہ شوہر خود دے،البتہ اگر وہ طلاق دینے کے لیے کسی کو اپنا نائب (وکیل) بنا دےتو محض وکیل بنانے سے طلاق واقع نہ ہو گی،جب تک کہ وکیل طلاق نہ دے،لہذا صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

لما فی الدر المختار:(4/540،رشیدیہ)
باب تفويض الطلاق لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه. وأنواعه ثلاثة: تفويض، وتوكيل، ورسالة
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/299،بشری)
لا یصح الطلاق الا من زوج او من وکیلہ، والوکیل من وکلہ الزوج بطلاق زوجتہ فان طلق الوکیل یقع طلاقہ علی زوجۃ الموکل
وکذا فی الخانیہ:(3/52،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(5/36،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(8/322،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(3/611،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(2/126،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(7/256،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(8/17،19،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/6/1442/2021/1/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 183

ایک شخص نے اپنے والدین سے جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے کہا “جاتجھے طلاق ہو”پھر کچھ وقفے کے بعد کہا “طلاق طلاق”شوہر کا کہنا ہے یہ الفاظ محض غصے کی بڑبڑاہٹ تھےاور یہ تینوں الفاظ بلا ارادہ میری زبان پرجاری ہو گے،ورنہ طلاق دینے کا کوئی ارادہ تصور بھی نہ تھااس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی؟

الجواب حامداً ومصلیا

غصہ کی عمومی حالت میں دی گئ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔سوال میں جو کیفیت بیان کی گئ ہے وہ اتنی شدید نہیں ہے کہ ہوش وحواس برقرار نہ رہے ہوں،لہذا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔

لما فی الھندیہ:(1/353،رشیدیہ)
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة
وطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع
وفی الاشباہ والنظائر:(/57،قدیمی)
ولو کرر لفظ الطلاق فان قصد الاستئناف وقع الکل او التاکید فواحدہ دیانۃ والکل قضاء
وکذافی الشامیة:(4/439،رشیدیہ)
وکذا فی فتح الباری:(9/487،قدیمی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/229،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/442،رشیدیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(10/174،قدیمی)
وکذا فی الشامیة:(4/444،445،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی التتارخانیہ:(4/392،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6883،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:92

ایک شخص کی عادت ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ڈرانے کے لیے کہتا ہے میں تجھے طلاق دے دوں گا ،کبھی کہتا ہے کہ میں نے طلاق دے دی ہے،حالانکہ پہلے طلاق دی نہیں ہوتی ،تو کیا ماضی کے اس جملے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر واقعۃ پہلے طلاق نہیں دی تو اس جملے پر دیانۃ تو طلاق واقع نہ ہو گی ،البتہ قضاء یعنی عدالت کے ہاں یاپنجائیت وغیرہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی اور عدت میں رجوع کر سکتا ہے۔

لما فی البحر الرائق:(3/428،رشیدیہ)
ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة
وفی کتاب الفقہ:(3/221،حقانیہ)
فلو اقر بدون اکراہ کاذبا او ھازلا فانہ لا یقع دیانۃ بینہ وبین ربہ،ولکنہ یقع قضاء لان القاضی لہ الظاھر ولا اطلاع لہ علی ما فی قلبہ
وکذافی المحیط البرھانی:(4/393،داراحیاء)
اذاقال لامراتہ قد طلقتک او قال انت طالق قد طلقتک امس وھو کاذب کانت طالقافی القضاء
وکذا فی الشامیة:(4/431،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(2/373،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(5/19،دارالمعرفہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/401،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المنتقی فی شرح الملتقی:(2/8،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6987،رشیدیہ)
وکذا فی منحة الخالق علی البحر:(3/428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 168

ایک آدمی کا کہنا ہے کہ میرا اپنی بیوی سے جھگڑا اس وقوعہ کی رات ہوا، اور میں کچھ عرصے سے ایک دوائی کا نسخہ ایک یونانی حکیم کا تجویز کردہ استعمال کررہا تھا، اور اس کا سائیڈ ان فیکٹ یہ تھا کہ کچھ وقت کے لئے میرا دماغی توازن قدرے متخلل ہوجاتا ہے، اور میں نے اس وقت میں وہ دوائی بھی استعمال کی ہوئی تھی، بہرکیف وقوعہ کے دن میں نے کمرہ میں رکھے ہوئے آٹا ٹب کو اٹھاکر باہر پھینک دیا، اور بغیر کسی ارادہ اور سوچ سمجھ کے میری زبان پر بلااختیار یہ الفاظ چڑھ گئے، کہ “طلاق، طلاق، طلاق” چونکہ غصہ کی وجہ سے میری بددماغی اتنی زور پر تھی کہ مجھے میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ یاد نہ تھے اتنا یاد تھا کہ میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ تین ہیں، لوگوں سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ الفاظِ طلاق تھے، اس وقت میری بیوی میرے سامنے بھی نہیں تھی، بیوی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے غصے سے بیوی کی اوڑھنی سے پکڑا اور کمرہ سے باہر دھکا دیا، البتہ خاوند کا چہرہ الفاظِ طلاق کے وقت بیوی کی طرف نہ تھا۔( بیوی کا اور گواہان کاتفصیلی بیان لف ہے) یہ فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کتنی ؟

الجواب حامداً و مصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً اس دوائی کی وجہ سے دماغ میں خلل و فتور واقع ہوجاتا ہے، جس سے کچھ پتہ نہ چلے کہ کیا بول رہا ہے، جس کو جنون کی سی کیفیت کہتے ہیں، تو طلاق واقع نہ ہوگی۔البتہ اگر عقل میں فتور واقع نہ ہو تو مذکورہ غصے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ خاوند کو خوفِ خدا دلاکر حلفاً اس کی کیفیت معلوم کرلی جائے۔

لما فی الشامیہ: (4/439، ط: رشیدیہ)
وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
و فی بدائع الصنائع: (3/158، ط: رشیدیہ)
اما الذي يرجع إلى الزوج فمنها أن يكون عاقلا حقيقة أو تقديرا فلا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل لأن العقل شرط أهلية التصرف لأن به يعرف كون التصرف مصلحة وهذه التصرفات ما شرعت إلا لمصالح العباد… وجه قولهم: إن عقله زائل والعقل من شرائط أهلية التصرف لما ذكرنا ولهذا لا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل والذي زال عقله بالبنج والدواء كذا هذا
و کذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ (3/229، ط: حقانیہ)
و کذا فی الشامیہ (4/439، ط: رشیدیہ)
و کذا فی البحر الرائق (3/432، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/07/1442/ 2021/03/04
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:179