اگر کسی نے اپنی سوتیلی ماں کوشہوت سے چھولیاتواس کے باپ کانکاح ٹوٹ جائےگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی نکاح بھی ٹوٹ جائے گا اور وہ باپ پرہمیشہ کے لیے حرام بھی ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: (1 /274 ،رشیدیہ)
وکماتثبت ھذہ الحرمۃبالوطءتثبت بالمس والتقبیل والنظرالی الفرج بشھوۃکذافی الذخیرۃ
وفی الشامیہ: (4 /121 ،رشیدیہ)
وإن ادعت الشھوۃ)فی تقبیلہ أوتقبیلھاابنہ(وأنکرھاالرجل فھومصدق)لاھی(إلاان یقول الیھامنتشراً) آلتہ(فیعانقھا)لقرینۃکذبہ او یاخذ ثدیھااویرکب معھا او یمسھا علی الفرج او یقبلھا علی الفم
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 213 ، رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/537،رشیدیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/101،امدادیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/480،المنار)
وکذا فی کنزالدقائق:(98،حقانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /48 ،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /179 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/86،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر57

اگرکوئی نشے کی حالت میں ہواوروہ اپنی بیوی کوتین طلاق دے کیاطلاق واقع ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!طلاق واقع ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: ( 1/ 353 ،رشیدیة )
وطلاق السکران واقع اذاسکرمن الخمراولنبیذ
وفی بدائع الصنائع: (3 /158 ، رشیدیة )
واماالسکران:اذاطلق امراتہ،فان کان سکرہ بسبب محظوربان شرب الخمراوالنبیذطوعاحتی سکروزال عقلہ فطلاقہ واقع عندعامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم
وکذافی الھدایة: (2 /83 ،بشری ) وکذافی القدوری: (173 ،الخلیل )
وکذافی المحیط البرھانی: (4 /391 ،داراحیاء ) وکذافی التاتارخانیة: (4 /394 ،فاروقیة )
وکذافی الشامیة: (4 /432 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (5 /27 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (2 /194 ،امدادیة ) وکذا فی الفقہ الحنفی: ( 2/ 168 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:181

کمال احمد نسرین سے شادی کرنا چاہتا ہے،لیکن اسے معلوم ہے کہ اسکے نانا نے،نسرین کی ماں سے زنا کیا ہوا ہے تو کیا اب ان دونوں کا نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں :کمال احمد ،نسرین سے شادی کر سکتا ہے۔

لما فی ردالمحتار: ( 4/ 113،رشییدیہ )
ویحل لاصول الزانی وفروعہ أصول المزنی بھا وفروعھا
وفی مجمع االانھر: ( 1/ 481، المنار)
والزنا یوجب حرمۃ المصاھرۃ)حتی لو زنا بامرأۃ حرمت علیہ اصولھا وفروعھا،وحرمت المزنیۃ علی اصولہ وفروعہ ولا تحرم اصولھا وفروعھا علی ابن الواطئ وأبیہ کما فی المخیط للسرخسی
وکذافی الھدایہ : ( 2/ 13 ، بشری)
وکذافی النھر الفائق: (2 /193،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی فتح القدیر: (3 /210 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (4 /526،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ: (1/274،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیہ: (4 /49 ،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط: 4(/204 ،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (2/535،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ حفظہ اللہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/3/1444/ 6 /11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:93

 

شریعت مطہرہ میں منگنی کی کیاحیثیت ہے اوریہ کرناگناہ میں شامل ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منگنی کی شرعی حیثیت وعدہ نکاح ہے،اگردیگرناجائزامورناپائے جائیں توگناہ نہیں ہے۔

لما فی سنن النسائی: (2 /495 ،رحمانیة )
عن عبد اللہ بن بریدۃ عن ابیہ قال خطب ابوبکروعمررضی اللہ عنھمافاطمۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھاصغیرۃ فخطبھاعلی فزوجھامنہ
وفی الشامیة: ( 3/ 11 ،سعید )
لوقال ھل اعطیتنیھافقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقد فنکاح
وکذافی سنن ابی داؤد: (1 /301 ،رحمانیة )
وکذافی مشکاة المصابیح: (2 /276 ،رحمانیة )
وکذافی البحرالرائق: (3 /148 ،رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (9 /6492 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/23/1/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:158

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی اور دینے کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری بھی کی جس کے نتیجے میں بچہ ہوگیا اب آیا اس بچہ کا نسب اس آدمی سے شمار ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بچہ کا نسب اس آدمی سے ثابت نہیں ہوگا۔

لما فی الھدایة: (2 /273 ،بشریٰ )
ثم الشبھۃنوعان:شبھۃفی الفعل،وتسمی شبھۃاشتباہ،وشبھۃفی المحل،وتسمی شبھۃ حکمیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والنسب یثبتفی الثانیۃ اذاادعی الولد،ولایثبت فی الاولی وان ادعاہ؛لان الفعل تمحض زنا فی الاولی۔ فشبھۃ الفعل فی ثمانیۃ مواضع:جاریۃابیہ وامہ وزوجتہ،والمطلقۃ ثلاثا وھی فی العدۃ،وبائنا بالطلاق علی مال وھی فی العدۃ
وفی التاتارخانیة: (6 /360 ،فاروقیة )
ولوطلق امراتہ ثلاثا او طلقھا بمال او خالعھا ثم وطأھا فی العدۃ وقال” ظننت انھا تحل لی“لا حد علیہ واذا لم یجب الحد فی ھذہ المسائل یجب العقرولا یثبت نسب الولد
وکذافی المحیط البرھانی: (6 /436 ،دار احیاء ) وکذافی الشامیة: (6 /33 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (2 /148 ،رشیدیة ) وکذافی بدائع الصنائع: ( 5/491 ،رشیدیة )
وکذافی البحر الرائق: (5 /23 ،رشیدیة ) وکذافی تبیین الحقائق: (3 /175 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (5 /237 ،رشیدیة ) وکذا فی سنن ابی داود: (1 /329 ،رحمانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:64

ایک آدمی کا نکاح ہواہے،لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی آیارخصتی سے پہلے طلاق واقع ہوسکتی ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!واقع ہوسکتی ہے۔

لما فی القرآن الکریم: (الاحزاب : 49 )
یآایھاالذین آمنوااذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا
وفی تنویرالابصار: (4 / 496 ،رشیدیة )
(قال لزوجتہ غیرالمدخول بھا انت طالق ثلاثاوقعن وان فرق بانت بالاولی لم تقع الثانیۃ)
وکذافی الھدایة: (2 / 350 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: (120 ،حقانیة )
وکذافی القدوری: (175 ،الخلیل ) وکذافی الفقہ الاسلامی: (9 /6950 ،رشیدیة )
وکذافی التاتارخانیة: (4 /428 ،فاروقیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (4 /406 ،داراحیاء )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة: (2 /23 ،الحرمین ) وکذا فی الھندیة: (1 /373 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:182

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تک میں دوسری شادی نہ کر لوں اسوقت تک تیرے قریب نہیں آؤں گا،اس بات کو چار ماہ ہو چکے ہیں،وہ بیوی کے قریب نہیں آیا،نہ تو کوئی ناراضگی ہوئی اور نہ قسم اٹھائی،تو کیا اسکی بیوی کو طلاق ہوگئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اسکی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہو گی،کیونکہ ایلاء کیلئے قسم یاکوئی ایسا لفظ جو قسم کے معنی میں ہو کہنا ضروری ہےاور صورت مسئولہ میں عبارت کے اندر الفاظ قسم موجود نہیں۔

لما فی التاتارخانیہ: ( 5/ 185، فاروقیہ)
وفی الینابیع:وینعقدالایلاءبکل لفظ ینعقد بہ الیمین کقولہ:واللہ،و:باللہ، و:تاللہ۔۔۔ (188) قال القدوری:ولایکون الایلاء الا بالحلف علی الجماع بالفرج خاصۃ
وفی الھندیہ: ( 1/ 477 ، رشیدیہ)
وفی الینابیع وینعقدالایلاء بکل لفظ تنعقد بہ الیمین کقولہ واللہ وباللہ وتاللہ وجلال اللہ وکبریاءاللہ وسائر الالفاظ التی تنعقد بھا الیمین ولا تنعقد بکل لفظ لا تنعقد بھا الیمین
وکذافی مجمع الانھر: ( 2/ 96 ، المنار)
وکذافی المبسوط: ( 7/ 19،دارالمعرفہ ) )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 3/ 363،حقانیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 5/ 65،رشیدیہ )
وکذافی الھندیہ: ( 2/ 477،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:( 2/218،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع: ( 3/ 270،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ: ( 5/ 268،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق: ( 2/ 426،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/1444/9/11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:62

ایک بندے نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں تمہیں تین لفظ کہتا ہوں اوروہ یہ ہیں کہ میں تمہیں دفع کرتا ہوں،میں تمہیں دفع کرتا ہوں،میں نے تمہیں دفع کیا،کتنی طلاق واقع ہوں گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس شخص نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے تواس عورت کوایک طلاق بائن واقع ہوگئی لہذا یہ شخص دوبارہ نکاح کے بغیر اس عورت کواپنے پاس نہیں رکھ سکتا،لیکن اگراس شخص نے ان الفاظ کے ساتھ طلاق کی نیت نہیں کی تھی توطلاق واقع نہ ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /376 ،رشیدیة )
ولوقال ابعدی عنی ونوی الطلاق یقع ومن الکنایات تنحی عنی ونجوت منی
وفی الھندیة: (1 /377 ،رشیدیة )
ولایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھاانت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ
وفی الھدایة: (2 /101 ،بشری )
وبقیۃ الکنایات اذانوی بھاالطلاق کانت واحدۃ،وان نوی ثلاثاکان ثلاثا،وان نوی ثنتین کانت واحدۃ بائنۃ،وھذامثل قولہ :انت بائن،وبتۃ وبتلۃ،وحرام،وسرحتک،وفارقتک،واذھبی،وقومی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاان یکون فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق فیقع بھاالطلاق فی القضاء،ولایقع فیمابینہ وبین اللہ تعالی الاان ینویہ
وکذافی القدوری: ( 173 ،الخلیل ) وکذافی کنزالد قائق: (120 ،حقانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (9 /6958 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (4 /516 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (2 /101 ،بشری ) وکذافی المحیط البرھانی: (4 /420 ،داراحیاء )
وکذافی الفقہ الحنفی: (2 /172 ،الطارق ) وکذا فی البنایة: (5 /105 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:109

ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا دخول سے پہلے طلاق دے دی اور اس شخص کا پہلی بیوی سے ایک بیٹا تھا اب آیا وہ بیٹا اس مطلقہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں کرسکتا۔

لما فی القرآن الکریم: (النسآء :22 )
ولاتنکحوامانکح آباءکم ،من النسآءالاماقدسلف
وفی الشامیة: (4 /111 ،رشیدیة )
وتحرم زوجۃ الاصل والفرع بمجرد العقد دخل بھا اولا
وکذافی بدائع الصنائع: (2 / 535 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: ( 4/ 48 ،فاروقیة )
وکذافی الھدایة : ( 2/ 11 ،بشریٰ ) وکذافی الھندیة: ( 1/ 274 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (4 /201 ،دارالمعرفة ) وکذافی البحرالرائق: (3 /166 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (2 /103 ،امدادیة ) وکذا فی مجمع الانھر: (1 /477 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:77

ایک عورت کانکاح ہوااوروہ 2500روپے مہرپرراضی ہوگئی توکیااس کامہریہی ہوگایاکوئی اور؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت نے مہرکی کم ازکم مقداردس درھم(تقریبا34گرام چاندی یااس کی قیمت)مقررکی ہے اورآج کل 2500روپے دس درھم چاندی کے برابرنہیں،لہذامذکورہ صورت میں عورت کا2500روپے مہرپر راضی ہوناکافی نہ ہوگا،بلکہ شریعت کی مقررکردہ مقدار(34گرام چاندی یااس کی قیمت)کی بقدرمہرلازم ہوگا۔

لما فی تنویرالابصار مع الدر: (3 /102 ،سعید )
وتجب)العشرۃ(ان سماھااودونھاو)یجب(الاکثرمنھاان سمی)الاکثرویتأکد
وفی بدائع الصنائع: (2 /562 ،رشیدیة )
واماالحدیث ففیہ اثبات الاستحلال اذاذکرفیہ مال قلیل لاتبلغ قیمتہ عشرۃ وعندناالاستحلال صحیح ثابت، لان النکاح صحیح ثابت الاتری انہ یصح من غیرتسمیۃ شئ اصلا،فعندتسمیۃ مال قلیل اولی الاان المسمی اذاکان دون العشرۃ تکمل عشرۃ
وکذافی اعلاءالسنن: (11 /80 ،ادارة القرآن )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (2 /48 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (2 /304 ،رشیدیة )
وکذافی کنزالدقائق: (103 ،حقانیة )
وکذافی التاتارخانیة: (4 /163 ،فاروقیة )
وکذافی اللباب: (2 /149 ،قدیمی )
وکذا فی الجوھرة النیرة: (2 /128 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/3/12/9/1444
جلدنمبر:30 فتوی نمبر:22