فریحہ نام رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

فریحہ کا معنی ہے :خوش ہونے والی،راضی ہونے والی،چونکہ معنی درست ہے ،لہذا نام رکھنا درست ہے۔

لما فی السنن لابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم
وفی الھندیہ:(5/362،رشیدیہ)
وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط
وکذافی القاموس الوحید:(976،ادارہ اسلامیات)
فرح – فرحاً :راضی ہونا،حدیث میں ہے:أللہ اشد فرحا بتوبۃ عبدہ
وکذا فی الشامیہ:(9/688، رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/228،فاروقیہ)
وکذا فی التفسیر المحیط:(7/455،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/18/03
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 68

ایک آدمی نے نماز میں سورۃ ” قلم “ کی آیت مبارکہ ” عتل بعد ذٰلك زنیم “ تلاوت کی ، پھر دوبارہ آیتِ مبارکہ کو ” عتل بعد ذٰلك زنین “ پڑھ دیا۔کیا یہ نماز درست ہوگئی؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

صورتِ مسئولہ میں معنیٰ میں تغیرِ فاش نہ ہونے کی وجہ سےنماز ہوگئی۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/62،دار احیاء التراث العربی بیروت)
ان الکلمۃ مع حروف البدل اذا کانت لا توجد فی القرآن ، والحرفان من مخرج واحد ، او بینھما قرب المخرج ،ویجوز ابدال احدی الحرفین عن الآخر ، لا تفسد صلاتہ عند بعض المشایخ ، وعلیہ الفتویٰ
وفی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/42،رشیدیة کوئٹہ)
ان قرأ حرفا مکان حرف آخر ولم یتغیر المعنی وھو فی القرآن کمسلمین مکان مسلمون لا تفسد عند الکل اما اذا لم یتغیر المعنی لکنہ لیس فی القرآن کالحی القیام عندھما لا تفسد
وکذافی الھندیة:(1/79، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(33/51،علوم اسلامیة چمن)
وکذافی الفقه الاسلامی وادلته:(2/1038، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/106.110، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/141، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الدر المختار:(1/633،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:13

ایک بڑھیا عو رت کی یاد دا شت بہت کمزو رہو چکی ہے پہلے وہ نما زو ں کی پا بند تھی مگر اب اسے نماز تو یا د ہے مگر رکوع ، سجد ے اور رکعا ت کا پتا نہیں چلتا اب اس بڑ ھیا کےلیےنما ز کا کیا حکم ہے، اگر اس سے نما ز معا ف ہے تو کیا ان نمازوں کا فد یہ دینا ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال سےمعلوم ہو تا ہے کہ بڑ ھیا کو رکو ع ،سجد ے اور رکعا ت کی تعد اد میں تر د د اور شک ہو جا تا ہے اگر صو رت حال ایسی ہی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ یہ بڑ ھیا ایک اور دو یا دو اور تین میں شک کی صو رت میں اسے کم پر محمو ل کر کے آخر میں سجد ہ سہو کر لے مثلا اسے یہ شک ہو ا کہ میں نے دو رکعت پڑ ھی ہے یا تین تو و ہ خا تو ن اسے دو فرض کر ے اسی طرح سجد وں میں اگر شک ہو کہ ایک سجد ہ کیا یا دو تو وہ ایک سجد ہ سمجھتے ہو ئے ایک اور سا تھ ملالے اور آ خر میں سجد ہ سہو کر لے لیکن اگر نسیا ن کا اس قد ر غلبہ ہے کہ ضبط رکعا ت پر اور رکوع وسجو د میں تمییز پر با لکل قا در نہیں تو نما زذ مہ سے سا قط ہے ، اور اس مر ض کی و جہ سے رہ جا نے و الی نما زو ں کا فد یہ بھی لا ز م نہیں ہو گا۔

لما فی الد ر المختا ر مع الرد:(2/688،رشید یة)
و لواشتبہ علی مر یض أ عد اد الر کعات و السجد ات لنعا س یلحقہ لا یلزمہ الأد ی) قا ل ابن عا بد ین تحت (ولو اشتبہ علی مریض الخ) ای: بأ ن وصل الی حا ل لا یمکنہ ضبط ذ لک ، ولیس المر ا د مجر د الشک و الا شتبا ہ ؟ لأ ن ذ لک یحصل للصحیح
وفی البحر الر ائق :(2/205،رشید یة)
و لو کا ن یشتبہ علی مر یض أ عد اد الر کعات و السجد ات لنعا س یلحقہ لا یلزمہ الأد ی، و لو ادا ھابتلقین غیر ہ ینبغی أ ن یجز ئہ
وکذافی النھر الفا ئق :(1/334،قد یمی )
وکذا فی الھند یة :(1/137،رشید یة)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/423،الحقا نیة)
وکذا فی الخا نیة :(1/172،رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(1/196،رشید یة)
وکذا فی البزا ز یة :(4/70،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/2021/3/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:46

ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، دوسرے نے اس سے کچھ پوچھا ، تو نماز پڑھنے والے نے جواب میں سر سے اشارہ کیا ۔ اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز ہوگئی ہے ، لیکن ایسا کرنا مکروہ (خلاف اولی )ہے۔

لما فی الھندیة :(1/98،رشیدیہ)
طلب من المصلی شیئاً فاشار بیدہ او براسہ بنعم او لا ، لاتفسد صلاتہ ھکذا فی التبیین و یکرہ
وفی الدر المختار:(2/644،سعید)
لاباس بتکلیم المصلی واجابتہ براسہ کمالوطلب منہ شیئ او اری درھما وقیل اجید ؟ فاوما بنعم او لا
وکذافی ردالمحتار : (1 644/ ،سعید)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی :(1/272،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق :(2/14،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق :(1/157،امدادیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/969،رشیدیہ)
وکذا فی غنیة المتملی:(1/351،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/ 1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:139

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ کہا” کاغذ“ہے” کاغذ“ہے” کاغذ“ہےاور اس علاقے میں کاغذ سے طلاق مراد لی جاتی ہے،تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر ” کاغذہے“کا لفظ واقعتاًاس علاقے میں طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے ،تو اگر شوہرنے طلاق کی نیت سے یہ لفظ بولا تھا یا طلاق کی بات چیت کے دوران اور غصہ کی حالت میں بولا تھاتو ایک طلاق بائن ہوئی ہے ،ورنہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

لما فی ردالمحتارعلی الدر المختار:(4/516،رشیدیة)
الکنایات (لاتطلق بھا)قضاء(إلا بنیۃأودلالۃ الحال )وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب
وفی فتح القدیر:(4/54،رشیدیة)
الکنایات (لا تطلق بھا)قضاء (إلا بنیۃ أو دلالۃ الحال )لأنہا غیر موضوعۃ للطلاق بل تحتملہ وغیرہ فلا بد من التعیین أو بدلالۃ الحال
وفی المجمع الأنھر:(2/34،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/170،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/167،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیة:(4/457،فاروقیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/374،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(3/519،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/427،داراحیاتراث)
وکذافی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(9/6900،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/7/1443/2022/2/4
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:151

ایک شخص نے فجر کی نماز ایک ہفتہ تک بیٹھ کر پڑھائی کسی عذر کی وجہ سے اور رکوع اور سجدے کا اشارہ کیا تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

امام اور جو مقتدی عذر کی بنا پر رکوع و سجدے پر قادر نہیں تھے ان کی نمازیں صحیح ہو گئیں مگر وہ مقتدی جو رکوع و سجدے پر قادر تھے انہیں وہ تمام نمازیں لوٹانا ہوں گی جو انہوں نے اس معذور امام کے پیچھے ادا کیں۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/85،رشیدیة)
ویصح اقتداء القائم بالقاعد الذی یرکع ویسجد لا اقتداء الراکع والساجد بالمؤمی ھکذا فی فتاوی قاضیخان۔۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ 86) والأصل فی ھذہ المسائل ان حال الامام ان کان مثل حال المقتدی أو فوقہ جازت صلوۃ الکل وإن کان دون حال المقتدی صحت صلوۃ الامام ولا تصح صلوۃ المقتدی
وفی المحیط البرہانی:(2/180،دار إحیاء التراث)
قال محمد فی (الجامع الصغیر):لا یؤم القاعد الذی یؤمی قوما یرکعون ویسجدون والأصل فی ھذا أن یقال:بأن صلوۃ المقتدی مبنیّ علی صلوۃ الامام[فکان کالتبع لہ والشئ یستتبع ما دونہ وما ھو مثلہ ولا یستتبع ما ھو فوقہ فإن کان حال الامام] مثل حال المقتدی أو فوقہ جاز صلوۃ الکل وإن کان حال الامام دون حال المقتدی صحت صلوۃ الامام فلا تصح صلوۃ المقتدی۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(2/391،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/254،فاروقیة)
وکذا فی الھدایة:(1/129،المیزان)
وکذا فی فتح القدیر:(1/381،رشیدیة)
وکذا فی العنایة علی ھامش فتح القدیر:(1/381،رشیدیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(29،حقانیة)
وکذا فی البحر الرائق:(1/631،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(1/252،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:21

کہ1:نماز میں اگر تکبیرتحریمہ میں تاخیر ہوجائے(جبکہ پہلی رکعت میں آدمی رکوع سے پہلے پہلے جماعت میں شریک ہوجائے)تو یہ ثنا کب پڑھے گا2:بعض لوگ سلام ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں”السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ومغفرتہ وطیب صلوٰتہ”کیا یہ الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں؟اور ان الفاظ کے ساتھ سلام کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

1

صورت مسؤلہ میں مقتدی کوچاہیئے کہ وہ ثناء نہ پڑھے ،بلکہ خاموش رہے ۔
2

احادیث مبارکہ سےسلام کے الفاظ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ”ثابت ہیں اس پر اضافہ کرنا مناسب نہیں۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1/ 281،رشیدیة)
“ثم اعلم ان الثناءیاتی بہ کل مصل فالمقتدی یاتی بہ مالم یشرع الامام فی القراۃ مطلقا سوا ءکان مسبوقا اومدرکا فی حالۃ الجھر او السر . “
وفی الفتاوی العالمکیریة للشیخ نظام والجماعة: (1/90، رشیدیة)
“انہ اذا ادرک الامام فی القراۃ فی الرکعة التی یجھر فیھا لا یاتی بالثناء کذا فی الخلاصۃ. “
وکذافی تفسیر القرآن العظیم المسمی بتاویلات اھل السنة: ( 2/ 326،الحقانیة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل: ( 3/ 516،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الموسوعة الفھیة: ( 4/ 53،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة علی المختصر القدوری: ( 1/ 60، حقانیة)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 2/ 195، فاروقیہ)
وکذا فی الشامیة للعلامة ابن عابدین: (2 / 232،رشیدیة )
وکذافی فتاوی قاضیخان : ( 1/ 104، رشیدیة)
وکذافی شرح ملتقی الابحر للامام ابراھیم: ( 1/ 142،المنار)
وکذافی غنیة المتملی فی شرح منیة المصلی: ( 304، رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی للامام برھان الدین المعالی: ( 2/ 133،دار احیا تراث)
لمافی مجمع الزوائدومنبع الفوائد : (8 / 32، دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس قال جاءثلاثۃ نفر الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال احدھم السلام علیکم، فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم( وعلیک ورحمۃ اللہ) ، فجاء الثانی فقال السلام علیکم ورحمۃ اللہ ،فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وجاء الثالث فقال السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ فرد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثل ما قال، وابو الفتیٰ جالس مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ زدت فلانا و فلانا ولم تزد ابنی شیافقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما وجدنا لہ من زیادۃ ، فرد علیہ مثل ما قال
و فی المحیط البرھانی: ( 7/ 18، دار احیا تراث )
والافضل للمسلم ان یقول السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، والمجیب کذلک یرد ،ولا ینبغی ان یزاد علی البرکات شیئ ، فقال ابن عباس لکل شیئ منتھی ومنتھی” السلام “البرکات
وکذا فی الادب المفرد: ( 71، دار احیا تراث )
وکذا فی اوجز المسالک الی موطا مالک: ( 15/ 137، دار الکتب العلمیة)
وکذا فی تفسیر القرطبی للاما ابی عبداللہ: (9 / 71، دار احیاء تراث )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (17 /771، فاروقیة)
وفی الفتاوی العالمکیریہ للشیخ نظام والجماعة: ( 5/325، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/2/1443/2021/9/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:51

بچی کانام” اُمَیْمَہ نور“رکھناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

جائزہے۔

لمافی سنن النسائی:(1/25،رحمانیة)
حکیمۃبنت امیمۃعن امھااُمَیْمَۃبنت رقیقۃقالت کان للنبی صلی اللہ علیہ وسلم قدح من عیدان یبول فیہ ویضعہ تحت السریر۔
وفی اسدالغابةفی معرفةالصحابة:(3/1479،الوحیدیة)
اُمَیْمَۃبنت بشیراخت النعمان بن بشیربن سعدالانصاریۃ۔
وکذافی صحیح البخاری:(2/298،رحمانیة)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیة)
وکذافی مشکوۃالمصابیح:(1/44،رحمانیة)
وکذافی المعجم الوسیط:(27،دارالدعوۃ)
وکذافی الاصابةفی التمییزالصحابة:(2/2429،الوحیدیة)
وکذافی المحیط فی اللغة:(10/458،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1443-05-16/2021-12-21
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:61

اہلحدیث جو غیرمقلد ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

نماز تو ہو جائے گی،البتہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں احتیاط کرنی چاہیے،کیونکہ یہ ایسی باریک جرابوں پر مسح کرنے کا قائل ہیں جن پر ائمہ فقہاء کے نزدیک مسح کرنا جائز نہیں ہے،جس کے نتیجے میں ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/249،فاروقیہ)
الاقتداء بشافعی المذھب قالوا:لاباس بہ اذا لم یکن متعصبا ولا شاکا فی إیمانہ ولامنحرفاانحرافافاحشاعن القبلۃ بأن جاوزالمغارب ولایتوضأبالماءالقلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ
وکذافی الھندیة:(1/84،رشیدیہ)
والاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذا کان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضا من الخارج النجس من غیر السبیلین کالفصد وان لاینحرف عن القبلۃ انحرافا فاحشا……………ولاشک انہ اذا جاوز المغارب کان فاحشا ولایکون متعصبا ولاشاکا فی ایمانہ وان لایتوضأ فی الماء الراکد القلیل وأن یغسل ثوبہ من المنی ویفرک الیابس منہ وأن لایقطع الوتر وان الترتیب فی الفوائت وان یمسح ربع راسہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/98،الطارق)
وقد اتفق الأئمۃ علی عدم جواز المسح علی الجوربین الرقیقین اللذین یشفان
وکذافی البحرالرائق:(1/613،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(4/321،ادارةالقراٰن والعلوم الاسلامی)
وکذافی الھدایة:(1/198،البشری)
وکذافی مجمع الانھر:(1/163،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/387،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
21،5،1443/2021،12،26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:84

کہ شریعت نے نو مو لود بچے کے نام رکھنےکا حق کس کو دیا ہے ؟

الجواب بعون الملک الوھاب

شر یعت نے نو مو لود بچےکانا م رکھنے کا حق با پ کو دیا ہے،باپ کی رضا مند ی کے بغیرکو ئی اوربچے کانام نہیں رکھ سکتا ۔

لما فی مجمع الزوائد:(8/51،دارالکتب العلمیة)
“عن ابی ھر یرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:ان من حق الولد علی الوالدان یحسن اسمہ ،وان یحسن ادبہ۔”
وفی شعب الا یما ن للبیہقی:(6/401،دارالکتب العمیة)
“من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وادبہ فا ذا بلغ فلیزوجہ فان بلغ ولم یزوجہ فا صاب اثمافا انمااثمہ علی ابیہ۔”
و کذا فی المو سو عة الفقہیة:(6/401، دارالکتب العلمیة)
وکذافی الفقہ ا لاسلامی وادلتہ:(4/2752، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(6/336،ایچ ایم سعید)
وکذا فی دلا ئل النبوۃللبیہقی :(2/380،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی المستد رک علی الصحیحین :(5/201، قدیمی)
وکذا فی عون المعبود :(13/143، قدیمی)
وکذا فی تحفة الاحوذی:(8/139،قد یمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
30 / 4 / 1440 ،2019/ 1/ 7
جلد نمبر:17جلد نمبر:74