ایک آدمی نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کودو مرتبہ یہ الفاظ کہے (توں میڈے تن تے حرام آئیں) تو میرے جسم پر حرام ہے، اب مرد اور عورت کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں ایک طلاق بائنہ ہو گئی ہے،نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/170،طارق)
فیقع الطلاق بھا بلا نیۃ للعرف کما أفتی المتأخرون فی قولہ: انت علیّ حرام، بانہ طلاق للعرف بلا اشتراط نیۃ۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6897،رشیدیہ)
قول الرجل انت علی حرام او حرمتک او محرمۃ لانہ وان کان فی الاصل کنایۃ، فقد غلب استعمالہ بین الناس فی الطلاق فصار من الالفاظ الصریحۃ فیہ، ھذا مذھب الحنفیہ۔۔
وکذافی البحر الرائق:(3/523،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/448،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(2/15،حرمین شریفین)
وکذافی الشامیة:(4/491،رشیدیہ)
وکذافی الخانیه علی ھامش الھندیة:(1/519،رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/188،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19-4-2022،1443-9-17
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:3

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مزاح میں کہے “پتری” تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

پتری” پنجابی زبان میں بیٹی کو کہتے ہیں اور بیوی کو بیٹی کہنا مکروہ ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/223،طارق)
” یکرہ ان یقول الرجل لزوجتہ انت امی ویا ابنتی ویا اختی ونحوہ. “
وفی البحرالرائق :(4/165،رشیدیہ)
بان قال انت امی لا یکون مظاہرا لکنہ مکروہ لقربہ من التشبیہ وقیاسا علی قولہ یااختی المنھی عنہ….فعلم انہ لا بد فی کونہ ظہارا من التصریح باداۃ التشبیہ شرعا و مثلہ قولہ یا بنتی و یااختی ونحوہ
وفی الدر المختار:(3/470،ایچ۔ایم۔سعید)
یکرہ قولہ انت امی ویا ابنتی ویا اختی ونحوہ.
وکذافی سنن ابی داود :(1/319،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/507،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(2/453،قدیمی)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(317،بشری)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(2/118،منار)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24-12-2021،1443-5-19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:79

ایک مرد کی عمر تقریبا 32 سال ہے اور وہ اپنے خرچے پر شادی کرنا چاہتا ہے،لیکن اسکے والدین کہتے ہیں کہ جو تو نے مال جمع کر رکھا ہے اس سے پہلے اپنی بہنوں کی شادی کر و، پھر خود شادی کرنا ، جبکہ بہنوں کو چار سے پانچ سال دیر ہے، اب دیر سے شادی کرنے میں گناہ میں ملوث ہونے کاڈر بھی ہے، تو کیا اس صورت میں بہنوں کا انتظار کیے بغیر شادی کرنے سے گنہگار ہو گا؟ اور اس میں والدین کے حکم کیا حیثیت ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اس شخص کو چاہیے کہ والدین کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ، اگر کسی طرح بھی یہ معرکہ سر نہ ہو تو یہ بہنوں کا انتظار کیے بغیر شادی کر سکتا ہے اور اس میں والدین کے حکم کی تعمیل ضروری نہیں۔

لمافی الشامیة:(4 /72 ،رشیدیہ)
النکاح یکون واجبا عند التوقان ) بان کان لا یمکنہ الاحتراز عن الزنا الا بہ ؛ لان ما لا یتوصل الی ترک الحرام الا بہ یکون فرضا۔۔۔۔ ویکون (سنۃ) مؤکدۃ فی الاصح ، فیاثم بترکہ و یثاب ان نوی تحصینا وولدا لان الصحیح ان ترک المؤکدۃ موثم کماعلم فی الصلاۃ
وفی بدائع الصنائع :(2/482،رشیدیہ)
لا خلاف ان النکاح فرض حالۃ التوقان حتی ان من تاقت نفسہ الی النساء بھیث لا یمکنہ الصبر عنھن وہو قادر علی المھر والنفقۃ ولم یتزوج یاثم۔۔۔۔ قال بعضھم انہ مندوب و مستحب ، والیہ ذہب من اصحابنا الکرخی بما روی عن النبی ﷺانہ قال من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج ومن لم یستطع فلیصم۔
وفی الموسوعة الفقہیه :(8/72،علوم اسلامیہ)
وان جاہداک۔۔۔۔ الی آخر الایۃ۔ ففیھما وجوب برھما و طاعتھما والاحسان الیھما ، و حرمۃ عقوقھما و مخالفتھما ، الا فیما یامرانہ بہ من شرک او ارتکاب معصیۃ، فانہ فی ھذہ الحالۃ لا یطیعھما ولا یمتثل لاوامرھا ، لوجوب مخالفتھما و حرمۃ طاعتھما فی ذلک ، یؤکد ھذا قولہﷺ’ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق
وکذافی احکام القرآن للجصاص :(3/290،قدیمی) وکذافی تفسیر القرطبی:(10/238،دار احیاءالتراث)
وکذافی المبسوط:(4/193،دارالمعرفة) وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(4/3،فاروقیہ)
وکذافی فتح الباری:(10/497،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/4/1443،2021/11/26
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:123

رضاعی بہن ،بھائی کا نکاح ہوا ، جب تین ماہ کا حمل ہوا ،اس وقت پتہ چلا کہ بہن بھائی ہیں، اب اس نکاح کا اور حمل کاکیا حکم ہے؟ اور کیا حمل ولدالنسب ہوگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ نکاح فاسدہےاور نکاح فاسد سے ہونےوالا حمل ثابت النسب ہو گا اوراس کا نسب باپ سے ثابت ہو گا۔

لمافی البحر الرائق:(3 /297 ،رشیدیہ)
وفی النکاح الفاسد انما یجب مھر المثل بالوطء ولم یزد علی المسمی ویثبت النسب )ای نسب المولود فی النکاح الفاسد لان النسب مما یحتاط فی اثباتہ احیاء للولد فیترتب علی الثابت من وجہ اطلقہ فافاد انہ یثبت بغیر دعوۃ۔
وفی المحیط البرھانی:(4/168،علوم اسلامیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحا فاسدا، وجاءت بولد الی ستۃ اشھر ثبت النسب،والنکاح الفاسد بعد الدخول فی حق النسب بمنزلۃ النکاح الصحیح۔
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة :(1/371،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/144،دار المعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7176،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع :(3/304،رشیدیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(388،ایچ ایم سعید)
وکذافی الشامیة :(4/407،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1443،2021/11/17
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:116

اگر ایک ہی شخص لڑکی اور لڑکے دونوں کی طرف سے ایجاب و قبول کرے، تو کیا نکاح ہو جائے گا؟ جبکہ وہ شخص ولی بھی ہو۔

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! ہو جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/299،رشیدیہ)
اجمع اصحابنا ان الواحد یصلح وکیلا فی النکاح من الجانبین وولیا من الجانبین وولیا من جانب اصیلا من جانب ووکیلا من جانب اصیلا من جانب وولیا من جانب وکیلا من جانب۔
وفی التنویر مع الدر:(4/213،رشیدیہ)
ویتولی طرفی النکاح واحد)بایجاب یقوم مقام القبول فی خمس صور کأن کان ولیا،أو وکیلا من الجانبین أو اصیلا من جانب ووکیلا او ولیا من آخر او ولیا من جانب وکیلا من آخر۔
وکذافی الھدایة:(2/35،بشری)
وکذافی المبسوط:(5/17،دارالمعرفہ)
وکذافی فتح القدیر:(3/295،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/128،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6732،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-3-2022،1443-8-11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:4

ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے سالی سے زنا کر لیا تو اب اس کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح تو باقی ہے البتہ یہ ایک انتہائی گھٹیا حرکت اور گناہ کبیرہ ہے اس سے سچی پکی توبہ کرے۔

لما فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(4/116،رشیدیہ)
“وفی الخلاصۃ:وطئ أخت امرأتہ لا تحرم علیہ امرأتہ.”
وفی مجمع الانھر:(1/479،المنار)
“وفی الدرایۃ:لو زنی باحدی الأختین لایقرب الأخری حتی تحیض الأخری بحیضۃ .”
وکذا فی القرآن المجید:(النساء:23)
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /450،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(4 /116،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ السلامی:(9/6650،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/61،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(3/170،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/359،الحرمین شریفین)
وکذا فی الھامش علی کنزالدقائق:(98،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:43

نکاح کے وقت دلہن کو جو جوڑا پہنایا جاتا ہے،وہ کس کی طرف سے ہونا چاہیے،لڑکے کی طرف سے یا لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ؟اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عام رواج تو یہ ہے کہ لڑکی والے لڑکے کو کپڑے دیتے ہیں اور لڑکے والے لڑکی کو دیتے ہیں یہ صرف مباح ہے کوئی ضروری نہیں ہے اس میں کوئی جائز اور نا جائز والی بات بھی نہیں ہے ،جو دینا چاہیں ٹھیک ہے ،البتہ ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک جوڑا تھا تو مدینہ میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی اور اسے دلہن بنانا ہوتا تھا تو وہ عاریتاًامی جان رضی اللہ عنہا سے جوڑا منگوا لیتی اور شادی کے بعد واپس کر دیتی ،اس حدیث سے تو بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ جوڑا لڑکی والوں کی طرف سے ہو ،لیکن اگر لڑکی والے غریب ہیں اور لڑکے والے وسعت رکھتے ہیں تو لڑکے والوں کو چاہیے کہ لڑکی والوں کا خیال رکھیں اور مطالبات سے بھی گریز کریں تاکہ ان پر بوجھ نہ ہو ،اسی طرح اگر لڑکے والے غریب ہیں اور لڑکی والے وسعت رکھتے ہیں تو لڑکی والوں کو چاہیے کہ ان کا خیال رکھیں۔

لما فی الصحیح للبخاری: (1 /460،رحمانیہ)
عن ایمن الحبشی رضی اللہ عنہ قال دخلت علی عائشۃ وعلیھا درع قطر ثمن خمسۃ دراھم فقالت ارفع بصرک الی جاریتی انظر الیھا فانھی تزھی ان تلبسہ فی البیت وقد کان لی منھن درع علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فما کانت امراۃ تقین بالمدینۃ الا ارسلت الی تستعیرہ.
وفی السنن اللکبری للبیھقی: (6 /146،دارالکتب العلمیہ)
عن ایمن قال:دخلت علی عائشۃ وعندھا جاریۃ لھاعلیھا درع قطر ثمنہ خمسۃ دراھم، فقالت:ارفع بصرک الی جاریتی انظر الیھا فانھی تزھی ان تلبسہ فی البیت وقد کان لی منھن درع علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما کانت امراۃ تقین بالمدینۃ الا ارسلت الی تستعیرہ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:27

کہ نواب بیگم کا نکاح محمد یار سے ہوا لیکن رخصتی نہیں ہوئی ،محمد یار نے خاندانی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ایک طلاق پھر دوسری طلاق ،تیسری طلاق کے بارے میں کہا کہ دوسری طلاق کی مدت ختم ہونے کے بعد ارسال کر دوں گا،دوسری طلاق کو دیے ہوئے 13 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک نوٹس موصول نہیں ہوا ۔کیااب تیسری طلاق واقع ہو چکی ہے ؟کیانواب بیگم محمد یار کے علاوہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے ؟قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ بالا صورت میں پہلی طلاق سے ہی اس عورت کا نکاح ختم ہو گیا تھا لہذا دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی اور اس پر عدت بھی نہیں تھی ۔لہذا اب اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہو سکتا ہے ،اور اگرپہلے خاوند سے نکاح کرنا چاہے تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ بھی نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی القرآن المجید :
یآیھاالذین آمنوا ذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا ۔
 (الاحزاب :49)
وفی القدوری :
واذا طلق الرجل امراتہ قبل الدخول بھا ثلثا وقعن علیھا ،وان فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ ۔
القدوری:(175،م:الخلیل)
وفی الھندیۃ:
“اذا طلق الرجل امراتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیھا ،فان فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ ۔”
(الھندیہ:(1/373،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/23،م:الحرمین شریفین
(وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/428،429،م:فاروقیہ
(وکذا فیہ:(5/232،م:فاروقیہ
(وکذا فی کنز الدقائق:(120،م:حقانیہ
(وکذا فی تنویر الابصار:ردالمحتار:(4/496،م:رشیدیہ
(وکذا فی الھدایۃ:(2/350،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6950،م:رشیدیہ
واللہ تعالی اعلم بالصواب

سلیم اللہ
7/5/1440،2019/1/14
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:86

ایک شخص سہراب کمپنی کے سائیکلو ں کا ڈیلر ہے،نئی سائیکل پر کمپنی کلیم کی سہولت دیتی ہے ،اگر کوئی خریدار کلیم لے کر آئے تو ڈیلر اسے کمپنی کی طے کردہ اجرت بتاتا ہے ،اور طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ چیزکمپنی سے منگوائی جاتی ہے جس میں عموما 5 دن لگ جاتے ہیں ۔یہ ڈیلر اپنے خریدار سے کہتا ہے کہ تم کمپنی سے کلیم کروانا چاہتے ہو تو مثلا ًاس کام کے 200روپے لگیں گے اور 5دن بعد یہ کام ہو گا اور اگر تم ابھی یہ کام کروانا چاہتے ہو تو میں اپنے پاس موجود سامان سے یہ کام کر دیتا ہوں اور نئی چیز ڈال دیتا ہوں لیکن 400 روپے لگیں گے۔اگر خریدار راضی ہو جائے تو یہ کام درست ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بالا معاملہ درست ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی : (5 /3765،رشیدیہ)
بیع المساومۃ:ھوالبیع بای ثمن کان من غیر نظر الی الثمن الاول الذی اشتری بہ الشیئ،وھو البیع المعتاد
وفی بدائع الصنائع: ( 4/320،رشیدیہ)
بیع المساومۃ وھو مبادلۃ المبیع بای ثمن اتفق،وبیع المرابحۃ وھو مبادلۃ المبیع بمثل الثمن الاول وزیادۃ ربح
وکذافی الفقہ الاسلامی: (5 /3371،3305،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (37 /159،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/407،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/542،معارف القرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4/22،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/2/2019-20/6/1440
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:28

میں زوہیب ملک ولد سخاوت ملک قوم حسینی اہل سنت ،میری شادی اقصی نذیر ولد محمد نذیر قوم بھٹی سے عرصہ پانچ سال قبل ہوئی تھی ہمارے دو بچے ہیں جو تا حال میرے پس ہیں میری بیوی عرصہ پانچ ماہ قبل ناراض ہو کر میکے چلی گئی ،میں نے راضی نامہ کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی ہیں اور اب بھی کر رہا ہوں میرے سسر نے بذریعہ فون مجھے کہا کہ زوہیب تم نے مجھے کہا تھا کہ “میں نی وسیندا ،میں نی وسیندا ،میں نی وسیندا “اس سے طلاق ہو گئی ہیں ۔اورمیں نے ان سے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے یہ الفاظ فون پر کہے یا نہیں ،میں غصہ میں تھا ۔میں اپنی بیوی کو آباد کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے سسر مجھ سے فتوی مانگتے ہیں تا کہ میری بیوی کو واپس بھیج سکیں ،اس سے قبل میری بیوی کا بہنوئی ،بہن اور بھائی آئے تھے اور مجھ سے کہتے رہے کہ اپنی بیوی کو ابھی ہمارے سامنے طلاق دو جو میں نے ابھی تک نہیں دی ہے ۔ وہ میری بیوی کوا س دن ساتھ لے گئے جو اب تک وہیں ہے،میں اپنا گھر آباد رکھنا چاہتا ہوں راہنمائی فرمائی جائے ۔جزاک اللہ خیرا

الجواب باسم ملہم الصواب

شوہر نے غصہ کی حالت میں اگر واقعی سوال میں مندرجہ الفاظ استعمال کیے ہیں تو ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی،لہذا باہمی رضا مندی سے میاں بیوی نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ۔اور اگر شوہر قسم دیدے کہ میں نے یہ الفاظ استعمال نہیں کیے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔نکاح بدستور باقی ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:
قال الحنفیۃ والحنابلۃ:لا یقع قضاء الطلاق بالکنایۃ الا بالنیۃ،او دلالۃ الحال علی ارادۃ الطلاق ،کان یقول الطلاق فی حالۃ الغضب ،او فی حالۃ المذاکرۃبالطلاق
(الفقہ الاسلامی:(9/6900،م:رشیدیہ
وفی تنویر الابصار للتمرتاشی :
الصریح یلحق الصریح و)۔۔(البائن)۔۔(والبائن یلحق الصریح )۔۔۔(لا)۔۔(البائن)۔
(رد الحتار:(4/528،م:رشیدیہ
وفی الفقہ الحنفی :
فان اختلفا فی وجود الشرط اصلا او تحققا،ای اختلفا فی وجود اصل التعلیق بالشرط او فی تحقق الشرط بعد التعلیق ،فالقول قولہ مع الیمین لانکارہ الطلاق ۔۔۔۔وان ادعی تعلیق الطلاق بالشرط وادعت الارسال فالقول قولہ ولو ادعت انہ طلقھا من غیر شرط، والزوج یقول طلقتھا بالشرط ولم یوجد،فالبینۃ فیہ للمراۃ۔
(الفقہ الحنفی:(2/185،م:الطارق
(وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ:(ردالمحتار:4/514تا522،م:رشیدیہ
(وکذا فی ردالمحتار:(4/521،م:رشیدیہ
(وکذا فی کنزالدقائق:(120،121،م:حقانیہ
(وکذا فی الھندیہ:(1/375،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/21،م:الحرمین شریفین
(وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/459،م:فاروقیہ
(وکذا فی القدوری:(172،173،م:الخلیل
(وکذا فی المحیط البرھانی:(4/427،م:دار احیاء تراث

واللہ تعالی اعلم بالصواب

سلیم اللہ عفی عنہ

متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/9
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:80