اگر دلہااور دلہن دونوں کی طرف سے صرف وکیل ایجاب وقبول کرلیں جبکہ مجلس میں نہ دلہاموجودہو ،نہ دلہن، تو یہ نکاح درست ہو جائے گا ؟ اگر ہو جائے گا تو وکیل ایجاب و قبول میں کیا الفاظ کہے گا؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

جی ہاں !یہ نکاح درست ہو جائےگا ۔اور طریقہ یہ ہوگا کہ دلہن کا وکیل، دلہے کے وکیل کو یوں کہے گا کہ میں نے فلاں مثلا اپنی بیٹی کا نکاح فلاں آدمی سے کر دیا پھر دلہے کا وکیل کہے گا میں نے فلاں (دلہے ) کی طرف سے قبول کر لیا تو یہ نکاح درست ہو جائے گا ۔

لما فی البحر الرائق:(7/257،رشیدیہ)
“ففی النکاح یقول وکیل الزوج زوج بنتک لفلان فیضیفہ الی المو کل— واما وکیل الزوجۃ فیقول زوجت فیصح “
وفی المحیط البرھانی:(15/199،دار احیاء)
“الواحد یصلح وکیلا بالنکاح من الجانبین ،وان لم یکن البدل مسمی:لانہ لا یودی الی التضاد،لا باعتبار الحقوق،ولا باعتبار التسمیۃ اما باعتبار الحقوق لان حقوق النکاح لا ترجع الی العاقد واما باعتبار التسمیۃ لان للوکیل بدا من التسمیۃ فی باب النکاح، لان النکاح ینعقد معاوضۃ بدون التسمیۃ”
وکذا فی البحر الرائق:(7/256،رشیدیہ)
وکذا فی الولواجیۃ:(4/344،حرمین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/40175،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/20،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیۃ:(12/459،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط :(19/119،دار المعرفہ)
وکذافی الشامیۃ:(4/158،رشیدیہ)
وکذا فی الخلاصۃ الفتاوی:(2/30،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2019/02/02، 26/5/1440
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :136

ایک عورت کہتی ہے کہ خاوند نے لڑائی کے دوران مجھے کہا ہے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں اگر کہے گی تو پیپر بھی بھجوا دوں گا لیکن خاوند انکار کرتا ہے اور کہتا ہےکہ میں نےکہا تھا اگر نہیں رہنا چاہتی تو پیپر بھیج دوں گا تو کس کی بات کا اعتبار ہو گا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر بیوی اپنی بات پر گواہ پیش کر دے تو اس کی بات معتبر ہو گی ورنہ شوہر سے قسم لی جائے گی اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کی بات معتبر ہو گی اور قسم سے انکار کی صورت میں عورت کی بات معتبر ہو گی اور ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:2/185(طارق)
“فان اختلفا فی وجود الشرط اصلا او تحققا ای اختلفا فی وجود اصل التعلیق بالشرط او فی تحقق الشرط بعد التعلیق فالقول قولہ مع الیمین لانکارہ الطلاق…… وان ادعی تعلیق الطلاق بالشرط واد عت الارسال فالقول قولہ ولوادعت انہ طلقھا من غیر شرط والزوج یقول طلقتھا بالشرط ولم یو جد فالبینۃ فیہ للمرءۃ
وکذا فی تنقیح الفتاوی:(1/101،قدیمی)
وکذافی الھدایہ:(3/213،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التا تارخانیہ:(13/99،فاروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/299،امدادیہ)
وکذافی البحرالرائق:(7/353،مرشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(8/413 ،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط :(6/159،دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/161، رحمانیہ)
وکذا فی الشامیہ:(8/354،دار المعرفہ)

واللہ تعا لی اعلم بالصواب
محمداکرام پاکپتنی عفی عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1/4/1440ھ
2018 /12/9
جلد نمبر :17
فتوی نمبر :83

ایک خاتون کا نکاح موبائل فون پر دبئی میں موجود ایک شخص سے کروایا گیا ہے۔ دبئی میں موجود شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقررہ نہیں کیا گیا تھا، فون پر ایجاب و قبول ہوا ہے۔ نکاح نامہ تحریر کیا گیا ہے جس پر لڑکی کے دستخط لیے گئے ہیں۔ مندرجہ بالا صورت میں شرعا نکاح ہو گیا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعا یہ نکاح درست نہیں ہوا، اس لیے کہ نکاح کے انعقاد کے لیے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے، جبکہ فون پر نکاح کی صورت میں مجلس ایک نہیں ہوتی۔ البتہ اس کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ جس مقام پر لڑکی موجود ہو، اس مقام کے کسی آدمی کو لڑکا اپنا وکیل بنا دے، یا لڑکے کے مقام کے کسی آدمی کو لڑکی اپنا وکیل بنا دے اور وہ وکیل دو گواہوں کی موجودگی میں اس طرح ایجاب و قبول کر لے کہ میں اپنے مؤکل ( لڑکے )، یا مؤکلہ ( لڑکی ) کی طرف سے وکیل بن کر اتنے مہر میں اس کا نکاح اس لڑکے یا لڑکی سے کرتا ہوں اور مقابل ( لڑکا یا لڑکی ) قبول کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔

لمافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح،……فأما إذا كان أحدهما غائبا؛ لم ينعقد
وفی الشامیة: ( 4/490، دار المعرفة )
“(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد
وفی تقریرات الرافعی مع رد المحتار: ( 4/490، دار المعرفة )
“المتبادر من اشتراط اتحاد المجلس أن المراد بہ مجلس المتعاقدین، لا مجلس الایجاب و القبول.”
و فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
“یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ.”
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/60، الطارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/527، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/4075، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440، 2019/4/4
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :100

میری ایک عزیزہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اب وہ عدت میں ہیں اور ان کا گھر کسی دوسرے شہر میں ہے۔ چند دنوں کے بعد ہمارے ہاں ایک ختم ہے اور ایک تقریب بھی ہے، تو کیا وہ عورت اس میں شرکت کے لئے ہمارے ہاں آ سکتی ہے؟ اور وہ عذر بھی بتا دیں جن کی وجہ سے عدت والی عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے، یا دوسرے شہر کا سفر کر سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت اپنی عدت کے دوران عذر اور ضرورت کے تحت دن میں گھریلو اخراجات یا علاج معالجہ یا اپنی عزت یا مال کی حفاظت یا کرائے کی ادائیگی وغیرہ کے لئے گھر سے نکل سکتی ہے، جبکہ رات گھر میں گزارنا ضروری ہے ۔ مگر سوال میں مذکورہ وجوہات کوئی شرعی عذر نہیں ہیں، لہذا ان وجوہات کی بناء پر بیوہ کا گھر سے نکلنا جائز نہیں۔

لما فی الھندیة: ( 1/534، رشیدیہ )
“المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر منزلھا کذا فی الھدایۃ.”
وفی الھدایة: ( 3/297، البشری )
المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر… وأما المتوفی عنھا زوجھا فلأنہ لا نفقۃ لھا، فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش، و قد یمتد الی أن یہجم اللیل.”
وکذافی فتح القدیر: ( 4/309، رشیدیہ )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 5/228، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 4/7200، 7199، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 4/459، رشیدیہ )
وکذافی الخانیة مع الھندیة: ( 1/554، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 87، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:25

بیٹے کا ایک لڑکی سے نکاح ہوا تھا لیکن ہمبستری نہیں کی اور اس کو طلاق دے دی، تو کیا باپ اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیٹے نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو، محض نکاح کرنے سے وہ عورت باپ کے لئے حرام ہو جاتی ہے، لہذا باپ اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا۔

لما فی السنن الکبری : ( 7/260، دار الکتب العلمیہ)
“عن الحسن، أنه سئل عن رجل تزوج امرأة، فطلقها قبل أن يدخل بها أيتزوجها أبوه؟ قال الحسن: ” لا ” قال الله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23].”
وفی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة : ( 3/467، دار الکتب العلمیہ )
“عن أبی ابراھیم قال: اذا تزوج الرجل المرأۃ فلم یدخل بھا لم تحل لأبیہ.”
وفی رد المحتار علی الدر المختار: ( 4/111، رشیدیہ )
“قولہ: ( ولو بعیدا ) بیان للإطلاق … و تحرم زوجۃ الأصل و الفرع بمجرد العقد دخل بھا أو لا.”
وکذافی تفسیر البحر المحیط: ( 3/221، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر: ( 1/269، دار احیاء تراث)
وکذافی أحکام القرآن للجصاص: ( 2/185، قدیمی)
وکذا فی تفسیر القرطبی: ( 5/113، دار احیاء تراث)
وکذافی الجوھرة النیرة علی المختصر: ( 2/68، حقانیہ)
وکذا فی البنایة: ( 4/512، دشیدیہ)
وکذافی الدر مع شرحہ : ( 4/111، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :178

کم عمری میں نکاح کیا گیا ( لڑکے کی عمر ڈھائی سال جبکہ لڑکی کی عمر دو سال تھی ) اب دونوں اٹھارہ سال کے ہیں، لڑکی کے والدین اس رشتے کو قائم نہیں رکھنا چاہتے۔ بوقتِ نکاح دونوں جانب سے والدین نے نکاح کی شرائط قبول کی تھیں، ایسے نکاح کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں یہ نکاح شرعی طور پر منعقد ہو گیا ہے، لہذا لڑکا طلاق نہ دے تو یہ نکاح ختم نہیں ہو سکتا۔

لما فی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة: ( 3/449، دار الکتب العلمیہ )
“عن الزھری و الحسن و قتادۃ قالوا: اذا أنکح الصغار آباؤھم جاز نکاحھم.”
وفی الھندیة: ( 1/285، رشیدیہ )
“لولی الصغیر و الصغیرۃ أن ینکحھما و ان لم یرضیا بذلک … فإن زوجھما الأب و الجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما.”
وکذافی کنز الدقائق و ھامشہ: ( 100، حقانیہ )
و کذا فی الھندیة: ( 1/283، رشیدیہ )
وکذا فی الھدایة: ( 3/32،34، البشری )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 4/166، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/211، رشیدیہ )
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 2/146، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :183

ایک سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں۔ سوال: کیا فون پر نکاح ہو سکتا ہے؟ جواب: دولہا یا اس کے اپائنٹڈ وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر وکیل اپائنٹڈ ہے تو اس کی اپائنٹمنٹ کے دو گواہان کا موجود ہونا ضروری ہے۔ دلہن کے ولی اور اپائنٹڈ وکیل کا ہونا ضروری ہے۔ ولی اور وکیل کی اپائنٹمنٹ کے دو گواہان کا ہونا ضروری ہے۔ شادی کے دو گواہان کا ہونا ضروری ہے۔ اس جواب کی تصحیح یا تصدیق کر دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں ذکر کردہ جواب میں دولہا کے وکیل اور دلہن کے ولی اور وکیل کی اپائنٹمنٹ کے لیے دو گواہان کی موجودگی کو ضروری قرار دینا درست نہیں، کیونکہ مؤکل کی طرف سے وکیل کی اپائنٹمنٹ کے لیے گواہوں کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ اگر ملکی قانون میں لازم ہو تو اس کا ہمیں علم نہیں کسی محترم وکیل صاحب سے پوچھ لینا چاہیے۔

لما فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ
وفی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود و انمایکون الشھود شرطا فی حال مخاطبۃ الوکیل المرأۃ
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة: ( 4/210، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: ( 10/199، دار أحیاء تراث )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :63

ولیمہ نکاح سےایک دودن پہلےیاایک دودن بعدکرسکتےہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ولیمہ کاوقت تومیاں بیوی کےملنےکےبعدکاہے،درحقیقت ولیمہ اسےہی کہتےہیں،نکاح سےپہلےتو دعوت ہوگی اس سےولیمہ والی سنت ادانہیں ہوگی۔

لما فی الموسوعة الفقهية: ( 45/249،علوم الاسلاميه)
“فذهب الحنفية والمالكيةفي المشهوروابن تيميةالي ان الوليمة تكون بعدالدخول.”
وفی اعلاء السنن: ( 11/12،اداراةالقرآن)
“وحديث انس في هذا الباب صريح في انهااي الوليمةبعدالدخول،لقوله فيه اصبح عروسا بزينب فدعاالقوم.”
وکذافی سنن ابی داؤد: (2/170،رحمانیہ)
وکذا فی عون المعبود: (10/120،قدیمی)
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/175، رشيديه)
وکذا فی فتح القدير: ( 9/287،رشيديه)
وکذافی الفقه الاسلامی: ( 9/662،رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ: (2 /35،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440،2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :65

ایک عورت کاخاوندفوت ہوگیاہےاوراس کاکرنےوالا بھی اور کوئی نہیں،یہ عورت اسکول میں ملازمت کرتی ہےجواس کےگھر سے تین کلو میڑ کے فاصلہ پر ہے آیا یہ عورت عدت کے دنوں میں پڑھانے کےلئے اسکول جا سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بيوه كےليےاگرآمدن کااورکوئی ذریعہ ہویااسےآسانی کےساتھ اسکول سےچھٹی مل سکتی ہوتوپھریہ بیوہ پڑھانے کےلیے نہیں جاسکتی،اوراگرآمدن کااورکوئی ذریعہ نہیں اوراسکول سےچھٹی بھی نہیں مل سکتی تو پھرپڑھانےکےلیےجاسکتی ہے،لیکن شام کو بہرصورت گھرواپس آجائے۔

لما فی بدائع الصنائع : (3/324،رشیدیہ)
واماالمتوفي عنهازوجها فلاتخرج ليلا،ولاباس بان تخرج نهارا في حوائجها لانها تحتاج الي الخروج بالنهار لاكتساب ماتنفقه، لانه لانفقة لها من الزوج المتوفي بل نفقتهاعليها فتحتاج الي الخروج.
وفی حاشيةالطحطاوی علی الدرالمختار : ( 2/230،رشدیہ)
(ومعتدة موت تخرج في الجددين وتبيت) اكثرالليل (في منزلها) لان نفقتها عليها فتحتاج الي الخروج۔۔۔كماسبق في الشامية.
وکذافی الدرالمختارمع ردالمحتار : (5/228،229،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/534،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/209،الطارق)
وکذا فی:الھدایہ(2/407،رشیدیہ)
وکذا فی التبیین:(3/37،امدادیہ)
وکذا فی المبسوط(6/36،دارالمعرفه)
وکذا فی فتح القدير:(4/309،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/7/1440۔2019 /4/5
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :60

مجهےايك مسئلہ کےبارےمیں پتاکرناتھاکہ میرےخاوندنےتقریباڈیڑھ سال پہلےمیرےسامنےبیٹھ کرمجھےیہ کہاکہ میں۔۔۔۔آپ کو۔۔۔اپنے پورےہوش وحواس میں طلاق دیتاہوں،طلاق،طلاق،طلاق،جب مجھےیہ سب بولامیں اس وقت اپنےماں باپ کےگھرگئی تھی لیکن میں نے ڈراوربچوں کی خاطراورمیرےابودل کےمیریض تھےاس لیےمین کسی کونہیں بتایا،اورمیں خاوندکےساتھ اس کےگھرآگئی اس کے6یا7ماہ کےبعدمیرےابوکی وفات ہوگئ اورمیں پھراپنےماں باپ کےگھر آگئی تووہاں پرپھرمجھےمیسج پرلکھ بھیجاکہ میں۔۔۔آپ کو۔۔۔طلاق دیتاہوں،طلاق،طلاق،طلاق،چونکہ اس وقت میرےابوکاانتقال ہوگیاتھا،اورگھرمیں اس قت کوئی نہیں تھاکہ میں کسی کوکچھ بتاتی،اورمیں پھراپنےخاوندکےگھرآگئی اس کےعلاوہ بھی کئی بارمجھےیہ الفاظ سننےکوملےکئی بارمجھےیہ کہاکہ میں تمھارےساتھ نہیں رہ سکتا،اپناسامان بیگ وغیرہ تیارکرواورجاواپنےگھر۔اس کےبعداس طرح گھرمیں بدسکونی اورناچاتی بڑھتی گئی،لیکن مین اس بارےمیں پڑھااورپتابھی کیاتومجھےبتالگاکہ یہ طلاق ہوگئی ہےاورمیں اس کےساتھ غیرشرعی طورپررہ رہی ہوں۔میں نےخاوندکےسامنےبیٹھ کرگھروالوں بتایاتوخاوندنےوہاں سامنےبیٹھ کریہ کہاکہ میں نے غصےمیں وہ الفاظ بولے،میں ان الفاظ کےمطلب کونہیں جانتاتھا،میں بہت غصےمیں آگیاتھا مجھےان الفاظ کی سمجھ نہیں تھی،لہذامیرے گھروالوں اس کےساتھ پھرمجھےبھیج دیاکہ اس کاکفارہ ہوجاتاہے،اوریہ طلاق نہیں ہوئی،محترم صاحب آپ مجھے مہربانی فرماکر یہ فتوی دےدیں کہ کیامیں اس کےساتھ اب غیرشرعی تونہیں رہرہی ؟کیایہ طلاق ہوگئی ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ اگرواقع کےمطابق ہےتوجب پہلی مرتبہ آپ کےشوہرنےآپ کوتین طلاقیں دیں تھیں اسی وقت آپ اپنےشوہرپرحرام ہوگئی تھیں،اس کےبعد آپ دونوں کااکٹھارہناحرام اورسخت گناہ ہے،اب فورا آپ دونوں علحدگی اختیارکریں اورسابقہ گناہ پرتوبہ استغفارکریں۔
واضح رہےکہ احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمارہوتی ہیں،اس پرمتعددمرفوع احادیث موجودہیں:(1)چناچہ صحاح ستہ میں سےابوداؤدشريف ميں حضرت عويمرعجلانی رضی اللہ عنہ کاواقعہ ہےکہ انہوں نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےسامنےتین طلاقیں دی تھیں تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں نافذفرمادیاتھا۔

“عن سھل بن سعدفی ھذاالخبرقال فطلقھاثلاث تطلیقات عندرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانفذہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.”

(سنن ابی داؤد:2/140،دارالکتب)
ترجمہ:حضرت سھل بن سعدسےاس خبر(حضرت عویمرعجلانی رضی اللہ عنہ کےواقع لعان )کےبارےمیں مروی ہےکہ حضرت عويمرعجلانی رضی اللہ عنہ نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےسامنےتین طلاقیں دی تھیں تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں نافذفرمادیاتھا۔(2)سنن دارقطنی میں ہےکہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نےاپنی بیوی کوفرمادیاتھا”اذھبی فانت طالق ثلاثا”(جاتجھےتین طلاق)عدت گزنےکےبعد آپ نےاپنی مطلقہ کوکچھ ہدیہ بھیجااس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق” (آپ سےجدائی کےبدلےمیں یہ بہت تھوڑاہے)اوروہ چیزقبول کرنےسےانکارکردیا۔جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوئی توآپ رونےلگےاورفرمایا:
“لوانی سمعت جدی اوحدثنی ابی انہ سمع جدی یقول رجل طلق امراتہ ثلاثامبھمۃ اوثلاثا عندالاقراء لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ لراجعتھا.” ( سنن دارقطنی:4/20،دارالکتب)

ترجمہ:اگرمیں نےاپنےنانا(حضورصلی اللہ علیہ وسلم)سےیہ بات نہ سنی ہوتی کہ جس شخص نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دےدی ہوں یاتین طہروںمیں تین طلاقیں دےدی ہوں تووہ اس کےلیےحلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرےشوہرسےنکاح کرلے،تو میں اس سےرجوع کرلیتا۔(3)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نےحالت حیض میں اپنی بیوی کوایک طلاق دےدی، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہواتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےرجوع کاحکم دیااس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نےدریافت کیا:
“یارسول اللہ افرایت لوانی طلقتھاثلاثاکان یحل لی ان اراجعھا؟قال تبین منک وتکون معصية”

( السنن الکبری للبیھقی:7/546،دارالکتب)
ترجمہ:اےالله كےرسول:آپ کیافرماتےہیں کہ اگرمیں تین طلاقیں دےدیتا،تومیرےلیےرجوع حلال ہوتا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:نہیں،وہ تجھ سےجداہوجاتی اورگناہ بھی ہوتا۔(4)”ان حفص بن المغیرةطلق امراته فاطمة بنت قيس علی عھدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی کلمة واحدةبانهامنه النبی صلی اللہ علیہ وسلم”

(سنن دارقطنی:4/10،دارالکتب)
ترجمہ:حضرت حفص بن مغيره رضی اللہ عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں اپنی بیوی کوایک کلمہ سےتین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کوان سےجداکردیا۔(5)”بیہقی”اور”مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کافیصلہ موجودہے:
“جارجل الی علی رضی اللہ عنہ فقال طلقت امراتی الفاقال ثلاث تحریمھاعلیک واقسم سائرھابین نسائک”
( السنن الکبری للبیہقی:7/548، دارالکتب،ومصنف ابن ابی شیبہ:4/63،دارالکتب)
ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کےپاس آکرکہنےلگامیں نےاپنی بیوی کوہزار طلاقیں دیں،آپ رضی اللہ عنہ نےفرما یاتین طلاق سے تیری بیوی تجھ پرحرام ہوگئی اورباقی طلاقیں عورتوںمیں تقسم کردے۔
(6)ایک مجلس کی تین طلاق کےبارےمیں حضرت عمران بن حصین کافیصلہ ملاحظہ فرمائیں۔
“سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امراتہ ثلاثافی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امراتہ”
(مصنف ابن ابی شیبہ:4/62،دارالکتب)
ترجمہ:حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سےاس آدمی سےمتعلق پوچھاگیاجس نےایک مجلس میں تین طلاقیں دیں۔فرمایا۔اس نے اپنےرب کی نافرمانی کی اوراس کی بيوی اس پرحرام ہوگئ۔
آیت الطلاق مرتان سےاستدلال اس لیےدرست نہیں کہ اس آیت میں بتایاگیاہےکہ رجوع کاحق دوطلاق تک ہےتیسری کےبعدرجوع کااختیارنہیں اورقرآن کریم میں ایک مجلس یاایک جملہ کی کوئی قیدوغیرہ بھی نہیں،لہذاجوآدمی بھی دوسےزیادہ یعنی تین طلاقیں دے،اس آیت کی روسےاس کےلیےرجوع کا اختیارنہیں،جب تک یہ عورت آگےدوسرانکاح نہ کرلے،جیساکہ اگلی آیت میں اس کاذکرہے چناچہ ارشادباری تعالی ہے:

فان طلقھافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ”(البقرہ:30)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1440،2019/2/5
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :131