شوہر (‎مسّمی ظفر عباس)نے اپنی بیوی کو طلاق کا نوٹس بنام ’’نوٹس طلاق اول ‘‘ بھیجا ہے، جس میں یہ الفاظ تحریر ہیں: ’’ مسمّاۃ مذکوریہ کو نوٹس طلاق اول دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کر دیا ہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ اب ان میاں بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکورہ صورت حال میں، بعض علماءکرام کے ہاں ’’طلاق اول دے کر‘‘سے ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور’’اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے‘‘ سے دوسری طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس طرح ان کے نزدیک دو طلاق بائنہ واقع ہو جائیں گی۔
جبکہ بعض دیگر علماء کرام کے نزدیک اس سے ایک ہی طلاق ہوگی ۔اور باقی دونوں جملے’’اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ پہلی طلاق ہی کا ثمرہ اور نتیجہ بیان کرنے اور اسی کو پختہ کرنے کے لیے ہیں۔ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے ،کہ اس صورت میں ایک طلاق ہوگی، لیکن ’’ اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ کی وجہ سے یہ بائنہ ہو جائے گی۔ اب اگر میاں، بیوی چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔

لما فی الدر المختار مع الشامیہ: (4 / 509، دار المعرفہ)
“[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين ۔وقال الرافعی:قول الشارح:(کرر لفظ الطلاق وقع الکل الخ ) قال سعدی افندی:اقول لک ان تقول:لم لا یجوز ان یکون من قبیل قولہ علیہ الصلاۃ والسلام :(فنکاحھا باطل باطل) واحتمال کونھا جملا لا یجدی نفعا اذ الطلاق لایثبت بالشک مع ان الحذف خلاف الاصل، واللائق بحال المسلم ان لا یجمع الثلاث فی وقت . ”
وکذافی الھندیہ: (1 / 355،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: ( 4/ 157، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ: ( 4/447 ، دار المعرفہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (2 /130 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :153

شوہر (مسمّی مبشر فرید)نے اپنی بیوی کو طلاق کا نوٹس بنام ’’نوٹس طلاق اول ‘‘ بھیجا ہے، جس میں یہ الفاظ تحریر ہیں: ’’مذکوریہ کو نوٹس طلاق اول دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کردیا ہے۔‘‘ اب ان میاں بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکورہ صورت حال میں، بعض علماء کرام کے ہاں ’’طلاق اول دے کر‘‘ سے ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور’’ اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے‘‘ سے دوسری طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس طرح ان کے نزدیک دو طلاق بائنہ واقع ہو جائیں گی۔
جبکہ بعض دیگر علماء کرام کے نزدیک اس سے ایک ہی طلاق ہوگی ۔اور یہ دوسرا جملہ’’ اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے۔‘‘ پہلی طلاق ہی کا ثمرہ اور نتیجہ بیان کرنے اور اسی کو پختہ کرنے کے لیے ہے۔ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے ،کہ اس صورت میں ایک طلاق ہوگی، لیکن ’’ اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے‘‘ کی وجہ سے یہ بائنہ ہو جائے گی۔ اب اگر میاں، بیوی چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔

لما فی الدر المختار مع الشامیہ: (4 /509 ، دار المعرفہ)
[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين ۔وقال الرافعی:قول الشارح:(کرر لفظ الطلاق وقع الکل الخ ) قال سعدی افندی:اقول لک ان تقول:لم لا یجوز ان یکون من قبیل قولہ علیہ الصلاۃ والسلام :(فنکاحھا باطل باطل) واحتمال کونھا جملا لا یجدی نفعا اذ الطلاق لایثبت بالشک مع ان الحذف خلاف الاصل، واللائق بحال المسلم ان لا یجمع الثلاث فی وقت .
وکذافی الھندیہ: (1 / 355،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: ( 4/ 157، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ: ( 4/447 ، دار المعرفہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (2 /130 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلدنمبر :17 فتوی نمبر :152

ایک آدمی فون پر دوسرے آدمی کو جگہ کا پتہ بتا رہا تھا لیکن دوسرے آدمی کو بار بار کہنے کے باوجود سمجھ نہیں آرہی تھی اور وہ مسجد کے پاس کھڑا تھا ،اور وہ بار بار کہہ رہاتھا کہ یار میں اس مسجد کے پاس ہوں ۔دوسرے آدمی نے اسے غصے میں کہا “یار مسجد کو دفع کرو جہاں میں کہہ رہا ہوں وہاں آؤ”،اس کے پاس ایک اور آدمی کھڑا تھا اس کہا یار یہ جملہ آپ نے غلط کہا ہے ۔ اس نے کہا یار مجھ سے غلطی سے یہ جملہ نکلا ہے ، قصدا نہیں کہا ،میں تجھ سے بھی معافی مانگتا ہوں اور تیرے سامنے اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اس نے اس آدمی سے جو پاس کھڑا تھا معافی مانگی اور اللہ سے استغفار کیا اور وہ اس جملہ پر بہت شرمندہ ہے ۔ اس واقعے کو تقریبا 2 سال گزر چکے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ شخص شادی شدہ ہے ۔اب اس کے لیےشریعت کا کیا حکم ہے،اس سے نکاح تو نہیں ٹوٹا اگر ٹوٹ گیا ہے تو اب وہ کیا کرے ؟کسی کو بتائے گا تو بہت شرمساری ہو گی۔

الجواب باسم ملہم الصواب

نکاح تو نہیں ٹوٹا، البتہ اس شخص نے یہ جملہ بول کر یقینا بہت بڑی غلطی کی ہے ،کسی مسلمان کو اتنا لاپرواہ اور غافل نہیں ہونا چاہیے، اب اس پر مزید جتنا ہو سکے توبہ و استغفار کرے۔

لما فی الشامیۃ:(6/345،دار المعرفۃ)
لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها، وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو، وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام۔۔۔
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/99،الطارق)
والاصل فی ذلک انہ لایفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن ،او کان فی کفرہ خلاف ولو کان ذلک روایۃ ضعیفۃ لغیر اھل مذھبنا ، وھذا یدل علی اشتراط کون ما یوجب الکفر مجمعا علیہ⸳
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(2/261،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی التاترخانیۃ:(7/281و284و291،فاروقیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(3/251،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری:(1/2،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(5/210، رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1440
29/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:115

آج کل نکاح میں شرائط لگائی جاتی ہیں مثلا دوسری شادی کرنا،جھگڑا وغیرہ کرنا اس بارے میں کچھ قیمت بھی لگائی جاتی ہے کہ یہ کام کرے گا تو اتنی رقم دے گا وغیرہ، مزید اور شرائط ہوتی ہیں۔لڑکی والوں کی طرف سے یہ کہناہے کہ ہم تو تحفظ چاہتے ہیں ۔معلوم یہ کرنا تھاکہ ایسی شرائط کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نکاح میں ایسی شرائط سے نکاح پر کچھ اثر تو نہیں پڑتا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

نکاح میں عام طور پر تین طرح کی شرائط ہو سکتی ہیں ۔1)اگر ایسی شرائط لگائی جائیں جو نکاح سے واجب ہونے والی ذمہ داریوں اور حقوق ہی کو پختہ کرتی ہوں جیسے شوہر کے ذمہ بیوی کا نفقہ اور اس کو بھلے طریقے سے بسانا اور اس سے اچھے طریقے سے معاملہ وغیرہ کرنے کی شرط ،تو وہ معتبر ہیں اور شوہر پر ان کو پورا کرنا واجب ہے۔2)نکاح میں ایسی شرائط عائد کرنا جو عقد نکاح کے تقاضوں کے خلاف ہیں یا شریعت نے ان سے منع کیا ہو،غیر معتبر ہیں ،جیسے شوہر کا نفقہ نہ دینے کی شرط لگانا یا جہیزوغیرہ کی شرط لگانا ۔3)اگر نکاح کے وقت ایسی شرائط لگائی جا ئیں کہ شریعت نے ان کو نہ تو لازم و واجب قرار دیا ہے اور نہ ہی ان سے منع کیا ہے۔تو ایسی شرائط کے بارے میں بھی حکم یہ ہے کہ ان کو اخلاقًا و شرعًا پورا کرنا لازم ہوگا کیونکہ وہ شرائط عورت کے ساتھ وعدہ و عہد ہے اور عہد کو پورا کرنے کی شریعت نے بہت تاکید کی ہے ۔البتہ قضاءً ا ن کا پورا کرنا لازم نہ ہوگا۔

لما فی سورۃ الاسراء:
“وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(34)”
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ:(41/305،علوم اسلامیۃ)
يرى الحنفية أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فيصح النكاح ويلغو الشرط ۔ومن أمثلة ذلك: أن يتزوج الرجل المرأة على ألف بشرط أن لا يتزوج عليها، فإن وفى بما شرط فلها المسمى ۔۔۔وإن لم يوف فلها مهر مثلها و إن قال: علي ألف إن أقام بها وألفين إن أخرجها، فإن أقام فلها الألف، وإن أخرجها فمهر مثلها لا يزاد على ألفين ولا ينقص عن ألف، وهذا عند أبي حنيفة.
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/93،الطارق)
یختلف حکم الشروط فی عقد الزواج :منھا ما یجب الوفاء بہ اتفاقا،وھو ما امر اللہ بہ من امساک بمعروف او تسریح باحسان والنفقۃ۔۔۔ ومنھا مالا یوفی بہ اتفاقا،کسؤال طلاق اختھا۔۔۔ومنھا مااختلف فیہ کاشتراط الا یتزوج علیھا۔۔۔
وکذافی صحیح البخاری:(1/479،رحمانیہ)
وفیہ ایضا:(2/774،قدیمی)
وکذافی عمد ۃ القاری:(13/299،دار احیاء التراث)
وکذافی التنویر وشرحہ مع رد المحتار:(4/146،دار المعرفۃ)
وکذافی القدوری مع اللباب:(2/153،قدیمی)
وکذافی القول الراجح:(1/276)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ:(2/85،قدیمی)
وکذافی الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ:(4/134،رشیدیۃ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1440
22/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :99

 

بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ “میں نے تجھے چھوڑ دیا تجھے طلاق ہے” اور اب وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے صرف یہ کہا تھا ” تجھے طلاق ہے ” اور بیوی کہتی ہے کہ تو نے دونوں الفاظ کہے تھے کہ ” میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے تجھے طلاق ہے” ۔اب سوال یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں سے کس کا قول معتبر ہے ؟ اور اگر بیوی کا قول معتبر ہے تو کون سی طلاق واقع ہو گی ۔جواب جلد عنایت فرمائیں ،نوازش ہو گی ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر بیوی اپنے دعوے پر گواہ پیش کردے تو اس پر دو بائنہ طلاقیں واقع ہو ں گی اور اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اور اس صورت میں ایک طلاق رجعی ہو گی ، اور اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر بیوی ہی کی بات معتبر ہو گی۔

لما فی سنن دار قطنی:(المجلد الثانی-4/34،دار الکتب العلمیہ)
نا أبو بكر النيسابوري ۔۔۔۔۔ عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((إذا ادعت المرأة طلاق زوجها فجاءت على ذلك بشاهد عدل،استحلف زوجها،فإن حلف بطلت شهادة الشاهد , وإن نكل فنكوله بمنزلة شاهد آخر،وجاز طلاقه))”۔
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /3، رشیدیة)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(2 /136رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /170و190،الطارق)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2 /498،497و499،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(3 /524، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9 /6985، رشیدیة)
وک‍ذا فی بدائع الصنائع:(5 /336و345،344، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(8 /159و163،162، رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440
13/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :88

میری بہن کا مسئلہ ہے۔ لڑائی کے دوران شوہر نے بیوی سے کہا: جا میں نے تجھے طلاق دی ،تین مرتبہ کہا۔میری بہن گھر سے باہر جانے لگی تو اس کا ، میاں واپس لے آیا۔اب بھی میری بہن اس کے پاس رہتی ہے، پانچ بچے ہیں ، مگر اب وہ کہتا ہے کہ میں چھوڑنا نہیں چاہتا۔اب وہ لوگ کیا کریں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب اس کے شوہر نے اس کو تین طلاق دے دی تو اب وہ اپنے شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب ان دونوں کا اکٹھا رہنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ دونوں میں فورا علیحدگی کروائی جائے اور وہ اپنے سابقہ گناہ پر توبہ و استغفار بھی کریں۔
احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں:(1)چنانچہ صحاح ستہ میں سے”ابو داؤد شریف”میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاق دی تھیں تو حضورﷺ نےانہیں نافذ فرمادیا تھا۔

” عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم. ”

(سنن ابی داؤد: 2/140،دار الکتب)
ترجمہ:حضرت سہل بن سعد سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کو نافذ کر دیا۔(2)”سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اذھبی فانت طالق ثلاثا”(جا تجھے تین طلاق ) عدت گزارنے کے بعد آپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن کو معلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا:

“لولا أني سمعت جدي أو حدثني أبي أنه سمع جدي يقول: أيما رجل طلق امرأته ثلاثا مبهمة أو ثلاثا عند الاقراء لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره لراجعتها. ”
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)
ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔(3)حضرت عبد اللہ بن عمر نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، حضورﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے رجوع کا حکم دیا اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے دریافت کیا:
“يا رسول الله أفرأيت لو أني طلقتها ثلاثا كان يحل لي أن أراجعها؟ قال: “لا كانت تبين منك وتكون معصية. ”
(السنن الکبری للبیھقی:7/546، دار الکتب)
ترجمہ: اے اللہ کے رسول!آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقیں دے دیتا، تو میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟آپﷺ نے فرمایا : نہیں، وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور گناہ بھی ہوتا۔
(4)”سنن دار قطنی”میں ہے:
” أن حفص بن المغيرة طلق امرأته فاطمة بنت قيس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث تطليقات في كلمة واحدة , فأبانها منه النبي صلى الله عليه وسلم. ”
(سنن الدارقطنی: 4/10، دار الکتب)
ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ نے حضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔
(5)”بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی کا فیصلہ موجود ہے:
“جاء رجل إلى علي فقال: إني طلقت امرأتي ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرها بين نسائك. ”
(السنن الکبری للبیھقی: 7/548، دار الکتب، ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)
ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں۔آپ نے فرمایا تین طلاق سے تیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔
(6)ایک ہی مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں:
“سئل عمران بن حصين عن رجل طلق امرأته ثلاثا في مجلس، قال: أثم بربه، وحرمت عليه امرأته. ”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 4/ 62، دارالکتب)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیں، فرمایا: اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔
آیت”الطلاق مرتان”سے استدلال اس لیے درست نہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآن کریم میں ایک مجلس یا ایک جملہ کی کوئی قید وغیرہ نہیں، لہذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاق دے، اس آیت کی رو سے اس کے لیے رجوع کا اختیار نہیں، جب تک یہ عورت آگے دوسرا نکاح نہ کر لے، جیساکہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرۃ:30)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19-07-1440، 2019-03-27
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :70

ایک لڑکی جو کہ بالغ تھی اس کو اس کی رضا مندی کے بغیر اغواء کر کے اوکاڑہ میں لے جا کر زبردستی ڈرا دھمکا کر گن پوائنٹ پر نکاح کیا گیا۔ لڑکی سے دستخط بھی کروائے گئے اور منہ سے اقراربھی کروایا گیا، زبردستی اس کے پیٹ پر گن رکھ کے۔کیا اس صورت میں نکاح ہو گیا ہے یا نہیں ہوا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر لڑکے والے مالداری، دینداری، برادری اور پیشے وغیرہ میں لڑکی والوں کے ہم پلہ ہیں پھر تو یہ نکاح منعقد ہو گیا ہے اور اگر ان چیزوں میں وہ ہم پلہ نہیں تو پھر یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 5/53 ،ر شیدیہ)
” والمرأة إذا أكرهت على النكاح ففعلت صح النكاح ولا ترجع على المكره . “
وفی التنویر و شرحہ مع الشامیہ: (3 /56 ، ایچ -ایم-سعید)
(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)۔وفی “الشامیہ “(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر
وفی الموسوعہ الفقیہ الکویتیہ: (41 / 249 ،علوم اسلامیہ )
والرواية الثانية: عن أبي حنيفة هي رواية الحسن عنه أنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى.
وکذا فی البحرا لرائق : (8 /136 ،رشیدیہ )
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ: (2 / 355، قدیمی)
وکذا فی المبسوط: (24 / 64، دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: (3 / 283 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6573،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-0-1440، 2019-03-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :51

نفاس میں اگر کوئی تین طلاق دے دے تو یہ طلاق بدعت شمار ہوگی یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ طلاق بدعت ہوگی۔

لما فی الشامیہ: (4 / 426 ،دار المعرفہ )
” (قوله والنفاس كالحيض) قال في البحر، ولما كان المنع من الطلاق في الحيض لتطويل العدة عليها كان النفاس مثله كما في الجوهرة. “
وفی الموسوعہ الفقھیہ: (29 / 34،علوم اسلامیہ )
وما سوی ذلک فبدعی عندھم، کان یطلقھا مرتین او ثلاثا فی طھر واحد معا او متفرقات، او یطلقھا فی الحیض او النفاس .
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 / 6951، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: (3 /449 ،رشیدیہ )
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ: (2 /100 ،حقانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع : ( 3/153 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/349 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5-09-1440، 2019-05-11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :44

ایک آدمی کی منگنی ہوئی، اس کی منگیتر نے اس(لڑکے ) کے دوست کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا کہ آپ میرا نکاح میرے منگیتر سے کر دیں، اس وکیل نے دو گواہوں کی موجودگی میں ان کا نکاح کر دیا، لیکن اس نکاح کا لڑکے اور لڑکی کے گھر والوں کو پتا نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خفیہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟ اگر نکاح صحیح ہوا تو اب یہ لڑکا اس لڑکی کو خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینا چاہے تو کون سی ایسی طلاق دے جس سے وہ لڑکی بائنہ ہو جائے اور اگر دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کی بھی گنجائش رہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ لڑکا ، لڑکی کا کفوء(مالداری، دینداری اور پیشے وغیرہ میں برابر ) نہیں ہے پھر تو یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ اور اگر کفوء ہے تو پھر یہ نکاح تو ہو گیا ہے لیکن اس طرح کا خفیہ معاملہ بہت نا مناسب حرکت ہے، خاص طور پر معزز گھرانوں کے لیے بہت عار کا سبب ہے۔ شریف لوگوں کو ایسی حرکت کسی صورت زیبا نہیں۔

نکاح منعقد ہونے کی صورت میں یہ لڑکا اسے طلاق کی نیت سے ان میں سے کو ئی جملہ ایک مرتبہ کہہ دے، “میں تمہیں چھوڑتا ہوں” یا”تم مجھ سے فارغ ہو ” یا “تمہیں آزاد کرتا ہوں” تو طلاق بائنہ ہو جائے گی اور دوبارہ نکاح کی بھی گنجائش رہے گی۔

لما فی فتح القدیر: (3 /246 ،رشیدیہ )
 ورواية الحسن عنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى لما ذكر أن كم من واقع لا يرفع وليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام
وفی بدائع الصنائع: ( 3/ 140 ،رشیدیہ )
أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه۔۔۔ والأصل فيه ما روي عن إبراهيم النخعي – رحمه الله – أنه قال كان أصحاب رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يستحسنون أن لا يطلقوا للسنة إلا واحدة ثم لا يطلقوا غير ذلك حتى تنقضي العدة
وفی النھر الفائق: (2 /202 ،قدیمی )
(نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) سواء تزوجت نفسها من كفؤ أو لا في ظاهر الرواية عن الإمام وصاحبيه، لأنها تصرفت في غالب حقها فصار كما إذا تصرفت في مالها وروى الحسن عن الإمام أنه إن كان كفؤًا نفذ وإلا لا وهو المختار في زماننا.
وکذافی الفتاوی الھندیہ: (1 /287 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (3 /56،55 ،دارالمعرفہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (29 /28 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 /6962 ،رشیدیہ )
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار: (2 /112 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11-08-1440، 2019-04-17
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :29

میں ایک سرکاری ملازم ہو ں ۔میں نے پہلی شادی 1991میں کی جس میں سے میری تین بیٹیاں ہیں،جبکہ دوسری شادی 2007میں کی جس میں سے ایک بیٹا ہے ۔میری تینوں بیٹیوں میں سے دو بیٹیاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں ،تیسری بیٹی کی شادی تقریبا 4سال قبل کر دی لیکن اسے طلاق ہو گئی ۔اس کے پاس ایک بیٹا ہے ۔میری پہلی بیوی ٹیچر تھی ،وہ پنشن تقریبا 75500وصول کر رہی ہے ۔دوسری بیوی بھی پرائیویٹ سکول میں ٹیچر ہے ۔تنخواہ کا پتا نہیں ۔بیٹےکی عمر 10سال ہے ،جبکہ بیٹیوں کی عمر 20،25،27سال ہے ۔میری تنخواہ تقریبا 91500ماہوارہے دیگر ذرائع آمدنی نہیں ہے ۔دوسری بیوی سے صلح بذریعہ عدالت مورخہ 2014۔06۔02کو ہوئی ۔عدالت نے 7000ماہوار خرچ مقرر کیا تھا ۔میری پہلی بیوی، بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں لاہور میں رہائش پذیر ہے ،جبکہ دوسری بیوی اپنے میکےپاک پتن میں رہتی ہے اور دیپالپور نہیں آتی ۔میں اکیلا دیپالپور میں رہتا ہوں ،کیونکہ میری نوکری دیپالپورمیں ہے ۔آپ سے گذارش ہے کہ مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے کہ میں اپنی دونوں ازواج کو کیا خرچہ دوں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

پہلی بیوی کو اتنا خرچ دیں جس سے وہ اپنی جائز ذاتی ضروریات پوری کر سکے ۔ بیٹے اور کنواری بیٹیو ں کا تعلیمی،علاج و معالجہ اور خوراک وغیرہ کا خرچ آپ پر ہے ۔اور طلاق یافتہ بیٹی کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے ۔
دوسری بیوی کو عدالت کا مقررکیا ہو اخرچ دیں ۔وہ اگر کسی عذر یا آپ کی رضا مندی سے میکے رہ رہی ہے تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے، ورنہ نہیں ۔

لما فی الفتا وی التاتارخانیۃ:(13/358،فاروقیۃ)
تجب علی الرجل نفقۃ امراتہ المسلۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھااو لم یدخل بھا ۔والنقۃ الواجبۃ :الماکول والملبوس، والسکنی ۔۔۔۔۔وفی جامع الجوامع :والنفقۃ الواجبۃ :الاکل والشرب، واللبس ،والسکنی والرضاع وکذا خادم تحتاج الیہ.
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/237،الطارق)
“و تقدر النفقۃ بحال الزوج والزوجۃ ، فان کان موسرین فتجب نفقۃ الیسار .”
وفیہ ایضاً:
ان للمراۃ ان تنفق من مال زوجھا علی نفسھا وعیالہ بدون اذنہ بالمعروف ، ففی الحدیث عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان ھذا بنت عتبۃ قالت :یا رسول اللہ ان ابا سفیان رجل شحیح ۔۔۔۔فقال رسول اللہ ﷺ خذی ما یکفیک وولدک بالمعروف.”
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/238،الطارق)
وھل تسقط نفقتھا اذا عملت خارج منزل زوجھا؟الظاھر انھا اذاعملت
باذن زوجھالاتسقط نفقتھا.
وکذافی بدائع الصنائع:( 3/431، رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(5/286،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(5/314،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/297،رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ :(41/50،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 545/،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 565/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:( 3/627،سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1440،2019/4/18
جلد نمبر : 19فتوی نمبر :39