کسی دوسرےکابچہ لے کر خود پالنااوراس کو اپنی بیوی کادودھ پلاناجائزہےیانہیں؟ (2)اگر کسی نےلےلیااوراپنی بیوی کادودھ بھی پلادیاتوکیااس بچہ کی نسبت اپنی طرف کرسکتے ہیں یا نہیں؟یعنی اس بچےکےوالد،والدہ کی جگہ اپنا اور اپنی بیوی کا(نام)لکھ سکتے ہیں یا نہیں؟(3)اگربچہ بڑاہوجائےاور سمجھ دار ہوجائےاس کی نسبت اگر حقیقی والدین کی طرف کرتے ہیں تو وہ پریشان ہوتا ہے،اس سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے،توکیااس کو دل آزاری اور پریشانی سے بچانےکےلیےاپنی طرف (نسبت)کرسکتےہیں؟(4)اگربچہ کو پال لیا اور نسبت بھی اپنی طرف کرلی تو وہ شرعاًکس کا وارث ہوگا؟حقیقی والدین کایاجنہوں نےپالا اوراپنی طرف نسبت کی،ان کا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

بچہ گود لینا جائزہےاوراگراس کی عمردوسال سےکم ہےتواس کودودھ پلانابھی جائزہے (2)اس کی نسبت اپنی طرف کرنا حرام ہے (3)مناسب انداز سے بچےکوحقیقت سےآگاہ کردیناچاہیے(4)حقیقی والدین کا ہی وارث ہوگا۔

لما فی القرآن المجید: (الاحزاب،5 )
ادعوھم لآبائھم ھوأقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءھم فإخوانكم فی الدین وموالیكم ولیس علیکم جناح فیما أخطأتم بھ ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان اللہ غفورًا رحیما
وفی سنن ابی داؤد: (2 /356 ،رحمانیہ )
عن انس ابن مالک قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من ادّعی الی غیرابیہ اوانتمی الی غیرموالیہ فعلیہ لعنۃاللہ المتتابعۃالی یوم القیمۃ
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (4/386 ،رشیدیہ )
ھو)لغۃ:مص الثدی،وشرعاً : (مص من ثدی آدمیۃ) ولوبکراًأومیتۃأوآیسۃ ،وألحق بالمص الوجوروالسعوط ۔۔۔۔۔۔ (فی وقت مخصوص)ھو(حولان ونصف عندہ وحولان)فقط (عندھماوھوالأصح)
وفی الھندیة: (6/447 ،رشیدیہ)
” ویستحق الارث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھوالقرابۃوالسبب وھوالزوجیۃوالولاء
وکذافی تفسیرالطبری: (21 /76 ،دارالمعرفة ) وکذافی تفسیرالقرآن العظیم: (1 /502 ،دارالمعرفة)
وکذافی المبسوط: (5 /136 ،دارالمعر فة) وکذا فی البحرالرائق: (9 /365 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (3 /402 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلدنمبر:28 فتوی نمبر:70

اگرورثہ میں والدین کے ساتھ زوج یا زوجہ ہو تو پہلے زوج یا زوجہ کا حصہ نکال کر ما بقی سے والدہ کو ثلث دیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس صورت میں والدہ کو ثلث کل کیوں نہیں دیا جاتا،ثلث باقی کیوں دیا جاتا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

قرآنِ کریم میں ہے :”فان لم یکن لہ ولد و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث (النساء:11)“اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں تہائی حصے کی حق دار ہے۔
اس آیت میں ”و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث“کا مطلب یہ ہے کہ والدین کا جو حصہ ہوگا اس میں سے ایک ثلث ماں کو اور دو ثلث باپ کو ملے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ماں کو ثلث باقی دیا جائے،ورنہ تو خلافِ نص لازم آئے گاوہ اس طرح کہ

(1)

جب میت کی بیوی ،والد اور والدہ زندہ ہوں اور ام کو ثلث کل دیں تو

ماں کو بارہ میں سے 4 اور باپ کو 5 ملے گا،اس طرح ماں کا حصہ باپ سے تھوڑا سا کم ہوگاجو کہ نص کے خلاف ہے

(2)

اور جب میت کا شوہر ،والد اور والدہ زندہ ہوں اور ام کو ثلث کل دیں تو
ماں کو 6 میں سے 2 اور باپ کو 1 ملے گا،اس طرح ماں کو باپ سے دو گنا ملے گااور یہ بھی خلافِ نص ہے۔
اور” للذکر مثل حظ الانثیین“ والے اورقرآنی ضابطے کا تقاضابھی یہی ہے کہ ماں کو ثلث باقی دیا جائے نہ کہ ثلث کل۔
چنانچہ جب ماں کو ثلث باقی دیں گے تو دونوں صورتوں کی تقسیم یوں ہوگی:
دونوں صورتوں میں ماں کو باپ کے حصے کا نصف ملا ہے اور دونوں کے حصے کے اعتبار سے باپ کو دو تہائی اور ماں کو ایک تہائی ملا ہےاور یہ نص کے مقتضیٰ کے بالکل مطابق ہے۔

لما فی دلیل الوارث علی ھامش السراجی:(29،البشری کراچی)
زوج وابوین:للزوج النصف ،و للام ثلث ما بقی ،فیکون المسألۃ من ستۃ ،فیعطی الثلاثۃ للزوج ،ویبقی ثلاثۃ ،اعطینا الام ثلث مابقی من فرض الزوج وھو واحد ،و یبقی الاثنان اعطیناھما الاب وھوضعف نصیب الام ،وانما لا تعطی الام ھھنا ثلث الکل لئلا یلزم ان یکون نصیب الام ضعف نصیب الاب ،وھو غیر جائز اتفاقا
وفی الفقه الاسلامی و ادلته:(10/7788،رشیدیة کوئٹہ)
” الثالثة – ثلث الباقي إذا كان مع الأبوين أحد الزوجين، وهي المسألة العمرية أو الغراء، كما في زوج وأب وأم، أو زوجة وأب وأم، ففي الأولى للزوج النصف ثلاثة من ستة وللأب الباقي تعصيباً، وللأم ثلث الباقي بعد فرض الزوج، وهو سهم من ستة. وفي الثانية للزوجة الربع من 12 لعدم الفرع الوارث وللأب الباقي تعصيباً وهو ستة، وللأم ثلث الباقي وهو ثلاثة أسهم….. والدليل:
1
 قوله تعالى: {فإن لم يكن له ولد، وورثه أبواه فلأمه الثلث} [النساء:11/ 4] إذ يجب أن يكون المراد بالثلث فيه ثلث مايستحقه الأبوان، لا ثلث جميع المال، لئلا يكون قوله: {وورثه أبواه} [النساء:11/ 4] خالياً عن الفائدة، وثلث مايستحقانه هنا هو ثلث الباقي بعد فرض أحد الزوجين.
2
 لو أخذت الأم هنا ثلث جميع المال، لكان لها ضعف الأب، إن كان معهما زوج، أو قريب من نصيبه لو كان معهما زوجة، وهذا لايتفق مع النص الذي يقتضي أن يكون للأنثى نصف الذكر
وکذافی البحر الرائق:(9/371، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی تبیین الحقائق:(6/231،امدادیة ملتان)
وکذافی تفسیر المظھری:(2/23،رشیدیة کوئٹہ) وکذافی تفسیر ابی سعود:(2/124،الوحیدیة پشاور)
وکذافی الکشاف:(1/483،نشر البلاغة سوق القدس) وکذافی التفسیر الکبیرللرازی:(3/516،علوم اسلامیہ لاھور)
وکذافی الاکلیل علی مدارك التنزیل:(2/541،دار الکتاب العلمیة بیروت)

واللہ تعالیٰ خیر الوارثین
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:173

تدفین کےبعدقبرپرپانی چھڑکناکیساہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مستحب ہے۔

لمافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/611،قدیمی)
قولہ:( ولابأس برش الماءعلیہ) بل ینبغی ان یکون مندوبالان النبیﷺ فعلہ بقبرسعید،وقبرولدہابراھیم، وامربہ فی قبر عثمان بن مظعون
وفی حاشیةابن عابدین:(3/169،رشیدیہ)
“قولہ:( ولابأس برش الماء علیہ)بل ینبغی ان یندب،لانہﷺ فعلہ بقبرسعید ۔ “
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/381،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/93،داراحیاءالتراث)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1559،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/223،البشری)
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/65،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاویٰ:(1/226،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/70،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/9/1443/2022/4/10
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:119

جماعت کے ساتھی بیانوں میں عموما مشہور چار فرشتوں کا حلیہ ،مثلاسر،بازو اور پر وغیرہ بیان کرتے ہیں،اس سے اللہ تعالی کی قدرت اورکاریگری سمجھانا ،مقصود ہوتاہے،آیاان فرشتوں کا حلیہ مستند طریقہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت ہے تو اس کی کچھ تفصیل بیان فرما دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ ان کے چھ سو بازو ہیں اور ہر بازو اس قدر بڑا ہےکہ مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے،ایک دوسری روایت میں ہے کہ دو بازؤں سے مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے ،اور ان کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اس قدر ہے کہ آسمان کے کناروں کو چھپا دے ،اور ان کے کندھوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے کہ پرندہ سات سو سال اڑتا رہے تو وہ فاصلہ طے کر پائے ۔

لما فی الصحیح للبخاری: (1 /572 ،رحمانیہ)
قال ابو اسحاق الشیبانی :سالت زربن حبیش عن قول اللہ تعالی{فکان قاب قوسین او ادنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی }[النجم:10 ]قال :حدثنا ابن مسعود:انہ صلی اللہ علیہ وسلم رای جبرئیل ،لہ ستمائۃجناح
وکذا فی الصحیح لمسلم: (1 /128 ،رحمانیہ )
وکذافی العظمہ للاصبھانی : ( 2/ 771،779،780،800 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وکذافی شعب الایمان : (3 /335،336 ،دارالکتب العلمیہ)

(2)

حضرت میکائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ بارش کے ہر قطرے پر ،ہر اگنے والے پتے پر اورہر گرنے والے پتے پر مقرر ہیں،اور ان کے بارے میں حضرت حزقیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ مخلوق میں ان سے بڑا میں نے نہیں دیکھا اوروہ آسمان کے فرشتوں کے نگران ہیں ۔

لمافی العظمہ للاصبھانی: (3 /811 ،دارالعاصمہ ۔شاملہ )
عن عکرمۃ بن خالد ،ان رجلا قال :یا رسول اللہ ،ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فجاءہ جبریل فقال:یا جبریل:ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فعرج جبریل ثم ھبط فقال:اکرم الخلق علی اللہ جبریل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت علیھم السلام ، فاما جبریل فصاحب الحرب وصاحب المرسلین ،وامامیکائیل فصاحب کل قطرۃتسقط وکل ورقۃ تنبت وکل ورقۃ تسقط، واما ملک الموت فھو مؤکل بقبض کل روح عبد فی بر او بحر ، واما اسرافیل فامین اللہ بینہ وبینھم.
وکذافیہ : ( 2/605 ،دارالعاصمہ )

(3)

حضرت اسرافیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتاہےکہ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں ایک وہ بھی ہیں ،ان کے چار بازو ہیں ایک دوسری روایت میں ہے کہ بارہ ہزار بازو ہیں ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ان کے پاؤں زمین کی تہ میں اور سر ساتویں آسمان سے اوپر اور لوح محفوظ ان کی آنکھوں کے درمیان ہے فرشتوں میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں ،اللہ تعالی نے جو صور پیدا کیا اس کے چار کنارے ہیں ،ایک عرش کے نیچے دوسرا زمین کی تہ میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،اس میں تمام مخلوقات کی روحوں کے بقدر سوراخ ہیں ،صور کے درمیان کی گولائی آسمان وزمین کی گولائی کے بقدر ہے اور اس کا ایک سوراخ ساتوں آسمان اور زمین سے بڑا ہے ،اور حضرت اسرافیل علیہ السلام اس صور کو منہ میں لیے ہوئے اللہ کے حکم کے انتظار میں عرش کی طرف نظر اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی:(3/820 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
“عن عائشۃ رضی اللہ عنھاان کعبا رحمہ اللہ تعالی قال لھا :ھل سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی اسرافیل شیئا؟قالت :نعم ،سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:لہ اربعۃ اجنحۃ ،منھا جناحان احدھما بالمشرق والآخربالمغرب،واللوح بین عینیہ ،فاذا اراداللہ عز وجل ان یکتب الوحی ینقر بین جبھتہ
وفیہ ایضا:(3/841،دارالعاصمہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فيكون، فكون الصور وهو من لؤلؤة بيضاء في صفاء الزجاجة وله أربع شعب: شعبة تحت العرش، وشعبة في ثراء الثراء، وشعبة في مشرق المشرق، وشعبة في مغرب المغرب، ثم قال للعرش: خذ الصور، فتعلق بالعرش، ثم قال: كن، فكون إسرافيل وهو من أقرب الملائكة إلى الله تبارك وتعالى، فأمره أن يأخذ الصور فأخذه وفيه ثقب بعدد كل روح مبدوة، وكل نفس منفوسة، لا يخرج روحان من ثقب واحد، ولا جسمان يدخلان في ثقب، بل كل ثقب لصغير الصغير الذي لا يعرف، ولخليل الخليل الذي لا يوصف وفي وسط الصور كوة كاستدارة السماء والأرض، وإسرافيل واضع فمه على تلك الكوة، ثم قال له الرب عز وجل: قد وكلتك بالصور فأنت للنفخة والصيحة، فدخل إسرافيل في مقدم العرش فأدخل رجله اليمنى تحت العرش، وقدم اليسرى ولم يطرف مذ خلقه الله عز وجل ينتظر ما يؤمر به [ص:842] والعرش على كاهله، واللوح يقرع جبهته
وکذافی حلیہ الاولیاءللاصفھانی:(6/65،دارالکتب العلمیہ)
وفی العظمہ :(3/842،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(14/319،320،داراحیاءتراث)

(4)

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہےکہ ان کے چار بڑے بازو ہیں ایک عرش کے نیچے دوسرا تحت الثری میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،پھرہر بڑے بازو میں ستر ہزار چھوٹے بازو ہیں ،پھر ان چھوٹے بازؤں میں سے ہرایک بازو کے ستر ہزار پر ہیں ،پھر ہر پر کے ستر ہزار کنارے ہیں ،تمام زمین کو ان کے سامنے پلیٹ کی طرح بنا دیا گیا ہے اس میں سے جس کی روح قبض کرنی ہوتو آرام سے کر لیتے ہیں ،ایک اور روایت میں ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ان کے سامنے ہوتی ہے جب کسی کی روح قبض کرنی ہوتی ہےتو ان کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں کی روح قبض کر لو ۔ایک اور روایت میں ہے کہ جس رجسٹر میں لوگوں کی زندگی لکھی ہوئی ہے ملک الموت روزانہ تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اسےدیکھتے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی :(3/890،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن عكرمة رحمه الله تعالى في قوله عز وجل: {وهو الذي يتوفاكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار} [الأنعام: 60] قال: «يتوفى الأنفس عند موتها» . قال: ” وما من ليلة إلا والله عز وجل يقبض الأرواح كلها فيسأل كل نفس ما عمل صاحبها من النهار، ثم يدعو بملك الموت عليه السلام، فيقول: اقبض هذا وهذا، وما من يوم إلا وملك الموت ينظر في كتاب حياة الناس قائل يقول ثلاثا وقائل يقول خمسا
وفیہ ایضا:(3/899،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فكون عزرائيل عليه السلام، ثم قال: كن فكون كبشا أملح مستترا بسواد وبياض له أربعة أجنحة: جناح تحت العرش، وجناح في ثرى الثرى، وجناح في مشرق المشرق، وجناح في مغرب المغرب، له في كل جناح سبعون ألف جناح، وفي كل جناح سبعون ألف ريشة، في كل ريشة سبعون ألف شعبة
وفیہ ایضا :(3/286،895،دارالعاصمہ۔شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1440-2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:44

 

صاحب احسان کا شکریہ ادا کرنا ہو تو کن الفاظ سے شکریہ ادا کرنا مسنون ہے؟ اور ”جزاک اللہ خیرا“ کیا حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مختلف احادیث میں مختلف الفاظ مذکور ہیں۔ البتہ ان میں ”جزاک اللہ خیرا“ اور ”بارک اللہ فیک“یا ”فیکم“ زیادہ مشہور ہیں۔2) ”جزاک اللہ خیرا“حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں۔

لما فی جامع الترمذی: ( 2/467، رحمانیہ )
“عن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صنع إليه معروف فقال لفاعله: جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء : هذا حديث حسن جيد غريب.”
وفی عمل الیوم و اللیلة للنسائی : ( 108، دار الکتب العلمیة )
” عن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صنع إليه معروف فقال لفاعله جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء.”
وفی کتاب الأذکار للنووی: ( 399،398، دار البشائر الاسلامیة )
“عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما عن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال: من صنع إليه معروف فقال لفاعله: جزاك الله خيرا، فقد أبلغ في الثناء.”
“عن عبد الله بن أبي ربيعة الصحابي رضي الله عنه قال: استقرض النبي (صلى الله عليه وسلم) مني أربعين ألفا، فجاءه مال فدفعه إلي وقال: بارك الله لك في أهلك ومالك، إنما جزاء السلف الحمد والأداء. “
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ” أهديت لرسول الله (صلى الله عليه وسلم) شاة، قال: اقسميها، فكانت عائشة إذا رجعت الخادم تقول: ماقالوا؟ تقول الخادم: قالوا: بارك الله فيكم، فتقول عائشة: وفيهم بارك الله، نرد عليهم مثل ما قالوا، ويبقى أجرنا لنا
وکذافی الصحیح للبخاری: ( 1/87، رحمانیه )
وکذا فی سنن ابن ماجة: ( 388، دار الکتب العلمیة )
وکذافی الأدب المفرد: (77، دار المعرفة )
وکذا فی کنز العمال: ( 6/222، رحمانیہ )
وکذافی المعجم الصغیر: ( 2/148، دار الکتب العلمیة )
وکذا فی المصنف ابن ابی شیبة: ( 5/322، دار الکتب العلمیة )
و کذا فی المسند للحمیدی: ( 2/177، علم الکتب )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :135

ایک شخص نے ایک مولانا صاحب کو دس مرلے جگہ دی اس میں(4) چار مرلے اس کے گھر کےلیے اور(6) چھ مرلے مسجد کے لیے تھی اور جگہ مولانا صاحب کے نام کرادی۔ عرصہ پچیس سال گزرگئے لیکن وہ وہاں مسجد تعمیر نہ کر سکے اب وہاں بالکل قریب دوسری مسجد بن چکی ہے ،اس جگہ پر مزید مسجد کی ضرورت نہیں ہے ۔مولانا صاحب اس جگہ کو اپنے پاس رکھ لیں اور اس کی قیمت دوسری مسجد یا مدرسہ میں لگا دیں تو کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

چند سمجھدار، دین دار افراد کواعتماد میں لے کر مذکورہ جگہ کو بیچ دیا جائے اور جہاں ضرور ت ہو وہاں جگہ خرید لی جائے،اگر یہ ممکن نہ ہو تو حاصل شدہ قیمت کو کسی قریبی مسجد میں لگایا جا سکتا ہے ۔

لمافی الفتاوی الھندیۃ:(2 401/،رشیدیۃ)
“وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه يجوزللقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش كذا في البحر الرائق.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 2/372،الطارق)
الاصل ان استبدال الوقف بغیرہ لا یجوز ۔۔۔۔۔لکن العلماء افتو ا بجوازہ لما فی من المصلحۃ بشروط : ان یخر ج الوقف عن الانتفاع بالکلیۃ ۔۔۔۔۔۔وان یستبدل بعقار لا بدراھم ودنانیر کی لا یاکلھا النظار المشرفون علی الوقف.”
وکذافی بدائع الصنائع:( 5/328، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:( 5/345،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:( 1/592،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/7675 ،رشیدیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 3/330،امدادیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:8/156(،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلد نمبر :19فتوی نمبر:28

کیانکاح میں ایک مرداوردوعورتیں گواہ بن سکتےہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

بن سکتےہیں۔

لما فی الفتاویٰ الھندیہ:(1/237،رشیدیہ)
“ولایشترط وصف الذکورۃحتی ینعقدبحضوررجل وامراتین.”
وفی بدائع الصنائع:(2/527، رشیدیہ)
“وینعقدالنکاح بحضوررجل وامراتین عندنا.”
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(4/36،فاروقیہ) وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2/66،حقانیہ)
وکذا فی المختصرالقدوری:(157،الخلیل) وکذا فی فتاویٰ النوازل:(161،الحقانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/65،الطارق)
وکذا فی الخانیۃعلٰی ھامش الھندیہ:(1/331، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020