میرے بھائی کا قتل ہوا، اس کی دیت میں میرے والد کو دو لاکھ روپے اداکیے گئے۔ میرے والد نے وہ رقم مجھے دی کہ زمین خرید لو، میں اس رقم سے دس ایکڑ زمین خرید کر والد صاحب کی اجازت سے اپنے نام کروالی۔ بعد ازاں اس زمین کی بچت سے دولاکھ روپے دیت والی رقم کا ایک عدد پلاٹ خرید کر مدرسہ کو وقف کردیا، اس کے بعد موجودہ رقبہ (دس ایکڑ) میں سے مزید ایک ایکڑ مدرسہ کے لیے وقف کردیا۔ اب میرے پاس کل رقبہ نو ایکڑ موجود ہے۔ میری چار بہنیں ہیں، بھائی کوئی بھی نہیں اور میرا ایک بیٹا ہے، چاربیٹیاں ہیں، اب میں اپنی بہنوں کو اپنی زمیں میں سے حصہ دینے کا مجاز ہوں یا نہیں؟ نیز جو زمین مدرسہ کو وقف کی گئی ہے وہ حصہ میں شامل ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں دیت کی رقم مقتول بھائی کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی، شرعی ورثاء یعنی اگرشادی شدہ تھا تو اس کی اولاد، بیوی،والدہ اور بہن بھائی وغیرہ کی تفصیل بتلا کر ان کا حصہ معلوم کیا جا سکتا ہے اور دس ایکڑ میں سے جو ایک ایکڑ زمین مدرسہ کو وقف کی ہے، اگر تمام ورثاء خوش دلی سے اس پر راضی ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ صرف اجازت دینے والوں کے حصہ سے وقف ہو گی۔

لما فی الشامیة :(10/528،رشیدیہ)
واعلم انہ یدخل فی الترکۃ الدیۃ الواجبۃ با لقتل الخطا او بالصلح عن العمد
وفی الھندیة: (6 /7 ،رشیدیہ)
ویستحق القصاص من یستحق میراثہ علی فرائض اللہ تعالی فید خل فیہ الزوج والزوجۃ وکذا الدیۃ
وکذافی الھدایة:(4/239،بشریٰ)
وکذافی البنایہ: (12 /153 ،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/121،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر: ( 10/ 264 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/6/15/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:185

ایک دینی مدرسہ کے مہتمم اور ناظم باپ بیٹا ہیں ۔ والد مہتمم اور بیٹے ناظم ہیں۔ مدرسہ کی عمارت میں مذکورہ بالا دونوں حضرات کےلیے ایک چھوٹا سا مکان ہے جس میں دونوں حضرات بمع اہل و عیال رہائش پذیر ہیں اور ان دونوں حضرات کے بمع اہل وعیال کھانے پینے کے اخراجات مدرسے پر ہیں۔ مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مدرسہ میں تقریبا گیارہ مدرسین ہیں۔ کچھ اساتذہ کے گھر مدرسہ سے دور ہیں اور وہ مکمل ہفتہ مدرسہ میں رہتے ہیں اور ان کے کھانے کے علاوہ کوئی قابل ذکر سہولت مدرسہ کی طرف سے نہیں ۔ اگر کوئی مدرس مدرسہ کے قریب بمع اہل وعیال رہائش اختیار کرےتو اس مدرس کو اہل وعیال کا کھانا گھر لے جانے کی اجازت نہیں حتی کہ اپنا کھانا بھی،جبکہ مہتمم اور ناظم صاحب کا تمام تر سہولیات کے علاوہ وظیفہ بھی بقیہ مدرسین کی بنسبت تقریباً زیادہ ہے۔دوسرے اساتذہ مالی طور پر کمزور ہیں اور کچھ مدرسین گزشتہ 18، 20 سال سے تدریس کررہے ہیں اور وظیفہ 9 ہزار سے 10 ہزار تک ہے، لہذا ازروئے شرع مہتمم صاحب اور ناظم صاحب کا اساتذہ سے ایسا برتاؤ کیسا ہے؟ نیز مہتمم صاحب اور ناظم صاحب ضرورتاً ادارہ کی سہولیات لے سکتے ہیں تو ضرورت کا معیار کیا ہوگا؟ جبکہ مدرسہ کی شوریٰ بھی برائے نام ہے یعنی غیر فعال اور حالات مدرسہ سے غافل اور اہل شوری کو اختیارات بھی نہیں ،تمام تر اختیارات مہتمم صاحب کو ہیں،جبکہ مہتمم صاحب باشرع اور متقی انسان ہیں اور شریعت کی ہر بات بصدق دل تسلیم کرتے ہیں اور صاحب نسبت اور ملک کی مشہور شخصیت سے مجاز بیعت ہیں ۔ نیز مہتمم صاحب مدرسہ کے انتظامی امور بھلا وہ تعلیم کے حوالے سے ہی کیوں نہ ہوں ،مدرسین سے مشورہ بھی نہیں کرتے،حالانکہ مدرسہ کے وسائل بھی ہیں ۔ تنخواہوں میں کبھی سالانہ 500 کا اضافہ ہوتا ہے ، جبکہ ناظم صاحب کی تنخواہ میں 2500 تک کا اضافہ ہوتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

وقف کے اموال درحقیقت واقفین کی امانتیں ہوتی ہیں اور منصب اہتمام پر فائز ہونے والا ان امانتوں کا امین ہوتا ہے ان اموال کے استعمال میں تھوڑی سی اونچ نیچ بھی خیانت کی حدود میں داخل کردیتی ہے ،لہذا وقف کے اموال میں تصرف کرتے وقت بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کما فی الشامیة:(6/584،رشیدیہ)
قوله: غير مأمون إلخ) قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود

یہ بات بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ادارے کا بڑا اور منتظم اپنے ماتحت کام کرنے والے لوگوں کا امیر ہوتا ہے اور جائز امور میں امیر کی اطاعت لازم اور ضروری ہوتی ہے ، لہذا تمام جائز امور میں صدق دل سے مہتمم صاحب کی اطاعت کرنا اور ان سے حسن ظن رکھنا مدرسین پر لازم ہے۔

لما فی قولہ تعالی:(النساء:59 )
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
وفی التفسیر المنیر:(3/134،امیر حمزہ)
ولما أمر الله الولاة والحكام بأداء الأمانات والحكم بين الناس بالعدل، أمر الرعية بطاعته عز وجل أولا بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، ثم بطاعة رسوله ثانيا فيما أمر به ونهى عنه، ثم بطاعة الأمراء ثالثا، لكن تجب طاعة الأمراء أو السلطان فيما فيه طاعة، ولا تجب فيما كان لله فيه معصية

باقی مراتب اور ذمہ داریوں کے مختلف ہونے سے تنخواہوں میں تفاوت تو یہ شرعا ممنوع نہیں۔ علم، تفقہ اور فضل میں مختلف مراتب کے اعتبار سے تنخواہوں میں کمی زیادتی کے جواز کی خود فقہاء نے صراحت فرمائی ہے۔

کما فی الدر المختار:(6/339،رشیدیہ)
“ويعطي بقدر الحاجة والفقه والفضل.”
وفی الشامیة:(6/339،رشیدیہ)
فله أن يعطي الأحوج أكثر من غير الأحوج، وكذا الأفقه والأفضل أكثر من غيرهما وظاهره أنه لا تراعى الحاجة في الأفقه والأفضل، وإلا فلا فائدة في ذكرهما، ويؤيده أن عمر – رضي الله تعالى عنه  كان يعطي من كان له زيادة فضيلة، من علم، أو نسب أو نحوه ذلك أكثر من غيره

البتہ کسی کی تنخواہ میں اس کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر زیادتی، جبکہ تنخواہوں کی ادائیگی اموال وقف میں سے ہو،اسی طرح باوجود وسعت کے کسی کو اس کے استحقاق سے کم تنخواہ دینا کہ اس کی ضروریات کی بھی کفالت نہ ہو سکے ،دونوں امر قطعاً درست نہیں۔

لما فی مشکوۃ المصابیح:(1/264،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره
و فی المرقاة:(6/178،التجاریہ)
ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه) أي: ما أراد به من العمل أتى به تهجينا للأمر وزيادة للتقريع (ولم يعطه أجره) وفي رواية ابن ماجه ولم يوفه أي لم يعطه أجره وافيا
وفی الدر المختار:(6/339،رشیدیہ)
ويعطي بقدر الحاجة والفقه والفضل فإن قصر كان الله عليه حسيبا
وفی الشامیہ:(6/339،رشیدیہ)
ويجب على الإمام أن يتقي الله تعالى ويصرف إلى كل مستحق قدر حاجته من غير زيادة فإن قصر في ذلك كان الله تعالى عليه حسيبا
وفی البحر الرائق:(5/201،رشیدیہ)
ويجب على الإمام أن يتقي الله تعالى ويصرف إلى كل مستحق قدر حاجته من غير زيادة فإن قصر في ذلك كان الله تعالى عليه حسيبا

باقی رہا وقف کے اموال میں سے متولی کا ذاتی ضرورت کےلیے کچھ لینا تو اس کا مدار شریعت نے واقف کی اجازت اور عرف پر رکھا ہے، لہذا واقف جن چیزوں سے متعلق متولی کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت دےدے یا عرف میں متولی کو جن چیزوں کے استعمال کی اجازت سمجھی جاتی ہو، اسی قدر اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت ہے ،اس سے زائد کا ذاتی استعمال اموال وقف میں خیانت ہوگی، لہذا مہتمم صاحب کو چاہیے کہ اپنے علاقہ کے قابل اعتماد اکابر و مشائخ اور علماء کرام کی خدمت میں اپنی ذمہ داریوں و ضرورتوں کی تفصیل پیش کرکے مشاورت سے وظیفہ و سہولیات طے کروا لیں پھر اس کی پابندی کریں۔

لما فی البحر الرائق:(5/419،رشیدیہ)
بعث شمعا في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق وبقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام ولا للمؤذن أن يأخذ بغير إذن الدافع ولو كان العرف في ذلك الموضع أن الإمام والمؤذن يأخذه من غير صريح الإذن في ذلك فله ذلك

مدرسہ کے اہم انتظامی اور تعلیمی امور باہم مشورہ سے ہی طے پانے چاہییں۔ خود قرآن کریم میں اہل ایمان کی اس نمایاں صفت کو بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُم” [الشورى: 38]

اسی طرح خود رحمت دو عالم ﷺ باوجود کامل العقل اور اعلم الناس ہونے کے، اپنے صحابہ کرام سے مختلف امور میں مشورہ فرمایا کرتے تھے۔
باہم مشورہ سے امور کا سر انجام دینا خیروبرکت کا ذرریعہ ہوتا ہے ۔اگر اس کا اہتمام کرلیا جائے تو یقیناً اس سے باہم اتحاد کی فضا قائم ہوگی اور آپس میں انسیت و محبت کا ماحول پیدا ہوگا، رنجشیں اور دوریاں ختم ہوں گی۔

لما فی التفسیر المنیر:(13/87،امیرحمزہ)
وإذا كانت الآية هنا تقرر وصفا ثابتا للمؤمنين، فقد أمر الله تعالى بالشورى في آية أخرى، فقال: وَشاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ وقال الحسن البصري رحمه الله: «ما تشاور قوم إلا هدوا لأرشد أمورهم»وقال ابن العربي : الشورى ألفة للجماعة، ومسبار للعقول، وسبب إلى الصواب، وما تشاور قوم إلا هدوا

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:4

ایک شخص نے مدرسہ کی زمین کا کچھ حصہ مسجد کو بیچا اور اس بیچی ہوئی جگہ کی رقم بھی وصول کرلی ، بعد میں اصل عاقد(مسجد کے متولی) کے فوت ہونے کے بعد ، جب مسجد کی دیوار کی تعمیر شروع کی گئی تو بذات خود وہ شخص بھی کچھ دن کام میں شریک رہا ، لیکن بعد میں یہ کہہ کر اس جگہ کی بیع سے انکار کردیا : کہ متولی نے وہ رقم مجھے بطور قرض کے دی تھی نہ کہ بطور ثمن کے ۔ اب کیا یہ زمین مسجد کی ہوگی یا مدرسہ کی؟اور اس کی بیع کا کیا حکم ہے ؟ تفصیلی سوال وجواب استفتاء کے ساتھ لف کیا گیا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ کے متعلق مجیب کا جواب درست ہے، جبکہ مہتمم صاحب کا انکار بلاوجہ اور نامناسب ہے ۔ لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے  کہ اگر یہ زمین وقف کی ہے ، تو وقف کے واقعی نفع و مصلحت کا خیال رکھا گیا یا نہیں ، کیونکہ وقف کی زمین انتظامیہ یا وہاں کے اہل حل وعقد کے بغیر تن تنہا بیچنا جائز نہیں ، بلکہ وقف کی مصلحت اور انتظامیہ کی اجازت ، دونوں کا لحاظ ضروری ہے ۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:60

مدرسے کے پانی کو ذاتی استعمال میں لانا مثلا موٹرسائیکل وغیرہ دھونا شرعی اعتبار سےکیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مدرسے کے پانی سے موٹرسائیکل دھونا ادارے کے کارکنان کے لئے تو درست ہےاور عام لوگوں کے لئے اس وقت اجازت ہو گی جب ادارے کی انتظامیہ یا متولی نے صراحۃ اس کی اجازت دے رکھی ہو۔

لمافی البحر الرائق :(5 /419 ،رشیدیہ)
بعث شمعا فی شھر رمضان الی مسجد فاحتترق و بقی منہ ثلثہ او دونہ لیس للامام ولا للمؤذن ان یاخذ بغیراذن الدافع ولو کان العرف فی ذلک الموضع ان المام والمؤذن یاخذہ من غیر صریح الاذن فی ذلک فلہ ذلک.
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/297،رشیدیہ)
وقف لہ متول و مشرف لا یکون للمشرف ان یتصرف فی مال الواقف لان ذلک مفوض الی المتولی و المشرف مامور مالحفظ لا غیر
وکذافی شرح مجلة الاحکام:(2/254،العربیہ)
وکذافی الشامیة:(6/664،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیہ :(2/463،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/137،ادارةالقران)
وکذافی فتح القدیر :(6/219،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443-2021/12/8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:2

ہمارے علاقے میں ایک نہر ہے جو” کنڈم “نہر کے نام سے موسوم ہے، وہ نہر پکی اینٹوں سے بنائی گئی تھی،اب جب اس نہر کی صفائی کی جاتی ہے تو مٹی کے ساتھ بہت سی اینٹیں بھی نکلتی ہیں، حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، نہر کی ان اینٹوں کے متعلق شرعی تفصیل معلوم کرنا ہے۔1: کنڈم نہر کی اینٹیں خود نکالنا یا کسی دوسرے آدمی سے خریدنا ۔2:کنڈم نہر کی اینٹوں کو مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کرنا۔3:حکومت کی طرف سے کنڈم نہر کی صفائی ہوتی ہے، اس دوران مشین ان اینٹوں کو مٹی کے ساتھ باہر پھینک دیتی ہےان کو اٹھا کر استعمال میں لانا۔4:حکومت زمین کی الاٹمنٹ کر دیتی ہے، اس میں نہر کا رقبہ بھی الاٹمنٹ میں شامل ہو جاتا ہے، اور جس کے نام رقبہ کی الاٹمنٹ ہوتی ہے، وہ اس کی رقم بھی ادا کردیتا ہے، اس حصے کی اینٹوں کا کیا حکم ہے؟5:الاٹمنٹ ہو گئی ہے، لیکن ابھی تک حکومت کو رقم ادا نہیں کی، اس صورت میں اس حصے کی اینٹوں کا کیا حکم ہے؟6:اسی طرح اس نہر کا بند بنایا گیا ہے، بعض جگہ سے وہ اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ لوگوں کی زمین اس میں آئی ہوئی ہے، تو کیا وہ لوگ بند کاوہ زائد حصہ ختم کرسکتے ہیں، اور اس زائد حصے میں ملنے والی اینٹیں استعمال کر سکتے ہیں ؟7:اگر کسی نے ان اینٹوں کو استعمال کر لیا یا ان کی شکل تبدیل کر دی مثلا ً ٹکڑےٹکڑے کر دیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ رقم حکومت کے خزانے میں جمع کروانی ہو گی یا جس کے نام اس زمین کی الاٹمنٹ ہے اس کی ہو گی؟8:پرانی سرکاری عمارتوں کا ملبہ استعمال میں لانا، اگر استعمال کر لیا تو اس کے تدارک کی کیا صورت ہو گی؟9:اگر متعلقہ محکمہ میں رقم جمع کروانا ممکن نہ ہو تو کیا دوسرے محکمہ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروا سکتے ہیں؟10:کیا یہ اینٹوں کی رقم کسی مستحق شخص پر حکومت کی طرف سے امداد کی نیت سے خرچ کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

1،2،3

نہر کی اینٹیں حکومت کی ملکیت ہیں ، لہذا حکومت کی اجازت کے بغیر یہ اینٹیں خود نکالنا یا ان کی خریدو فروخت کرنا، یا ان کو مسجد یا مدرسہ میں وقف کرنا جائز نہیں۔

4،5

حکومت نہر کی زمین نہیں بیچتی، اگر حکومت نے کوئی اور ایسی زمین بیچی ہے، جس میں اینٹیں ہیں تو اگر ان اینٹوں سمیت بیچی ہے، تو خریدار وہ اینٹیں استعمال کر سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
6

نہر کے بند میں لوگوں کی جو زمین آگئی ہے، اس کو قانونی کاروائی کر کے واپس لیا جاسکتا ہے، اس حصہ کی اینٹیں استعمال نہیں کر سکتےاور حکومت کو چاہیے کہ جن لوگوں کی زمین میں نہر کا بند بنایا گیا ہے، ان کو قیمت بھی ادا کر دے۔
7

اگر حکومت کی اینٹیں ہیں تو حکومت کو، ورنہ مالک کو اینٹوں کی قیمت دینا ہو گی۔
8،9،10

پرانی سرکاری عمارتوں کاملبہ ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، اگر کسی نے استعمال کر لیا تو متعلقہ محکمہ میں رقم جمع کروانا ضروری ہے، اگر ایسا ناممکن ہو تو کسی بھی واسطہ سے دوسرے محکمہ میں جمع کروائی جا سکتی ہے، یہ رقم کسی اور کو دینا جائز نہیں۔

لمافی القرآن المجید:(البقرة،188)
ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل و تدلوا بھا الی الحکام لتأکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون
وفی فقہ البیوع:(2/1005،معارف القران)
ما کان مجرما علی المرأ لکونہ ملکا للغیر و ھو مثل المال المغصوب الذی ھو مقبوض بید الغاصب، متمیز عن املاکہ الاخری۔۔۔ انہ حرام للغاصب الانتفاع بہ او التصرف فیہ فیجب علیہ ان یردہ الی مالکہ او الی وارثہ بعد وفاتہ وان لم یمکن ذلک لعدم معرفۃ المالک او وارثہ او لتعذر الرد علیہ بسبب من الاسباب وجب علیہ التخلص منہ بتصدقہ عنہ من غیرنیۃ ثواب الصدقۃ لنفسہ و ھذا الحکم عام سواء أکان المغصوب عرضا ام نقداً
وفی شرح مجلة الاحکام:(1/98،عربیہ)
اذا اخذ احد مال الآخر بدون قصد السرقۃ ھازلا معہ او مختبرا غضبہ فیکون قد ارتکب الفعل المحرم شرعاً لان اللعب فی السرقۃ جد ،فعلی ذلک یجب ان ترد اللقطۃ التی تؤخذ بقصد امتلاکھا او المال الذی یؤخذ رشوۃ أو سرقۃ أوغصبا لصاحبھا عینا اذا کانت موجودۃ و بدلا فیما اذا استھلکت۔
وکذافی الھندیة:(5/349،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(5/278،دار احیاءالتراث)
وکذافی السنن الکبری:(6/166، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی الموسو عة الفقہیة:(8/244،257،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/343،فاروقیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29،6،1443،2022،2،2
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:95

ایک عورت نے اپنا پانچ مرلے کا پلاٹ مسجد کے نام پر وقف کیااور جگہ کا تعین بھی ہو گیا اور دعا خیر بھی کردی اب محلے والوں کی رائے ہے کہ اس پلاٹ کو فروخت کر کے اس کے قریب ایک آٹھ مرلے کا پلاٹ ہے اس کو خرید کر وہاں مسجد تعمیر کی جائےاس پر وہ عورت بھی راضی ہے اور اس جگہ کی لوکیشن بھی اچھی ہے اب ان پانچ مرلوں کو بیچ کر دوسری جگہ خرید کر وہاں مسجد بنانا یا وقف شدہ زمین کا تبادلہ کر کے وہاں مسجد بنانا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آٹھ مرلے میں مسجد بننااہل محلہ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتو چند سمجھ دار اور دین دار افراد کے مشورے سے پانچ مرلے بیچ کر ،آٹھ مرلے خریدے جاسکتے ہیں۔

لما فی الشامیة: ( 6/594 ،رشیدیہ )
” . قوله: إلا في أربعالأولى: لو شرطه الواقف. الثانية: إذا غصبه غاصب، وأجرى عليه الماء—الرابعة: أن يرغب إنسان فيه ببدل أكثر غلة، وأحسن صقعا فيجوز على قول أبي يوسف وعليه الفتوى
وفی البحر الرائق : (6 /212 ،رشیدیہ )
فالاستبدال في هذه الصورة قول أبي يوسف ومحمد وإن كان للوقف ريع ولكن يرغب شخص في استبداله إن أعطى مكانه بدلا أكثر ريعا منه في صقع أحسن من صقع الوقف جاز عند القاضي أبي يوسف والعمل عليه وإلا فلا يجوز اهـ
وکذافی الھندیة: (2 /401 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (10 /7676 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر: (6 /212 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخانیة: (3 /306 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (3 /320 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440،2019-04-01
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :98

ایک شخص نے ایک مولانا صاحب کو دس مرلے جگہ دی اس میں(4) چار مرلے اس کے گھر کےلیے اور(6) چھ مرلے مسجد کے لیے تھی اور جگہ مولانا صاحب کے نام کرادی۔ عرصہ پچیس سال گزرگئے لیکن وہ وہاں مسجد تعمیر نہ کر سکے اب وہاں بالکل قریب دوسری مسجد بن چکی ہے ،اس جگہ پر مزید مسجد کی ضرورت نہیں ہے ۔مولانا صاحب اس جگہ کو اپنے پاس رکھ لیں اور اس کی قیمت دوسری مسجد یا مدرسہ میں لگا دیں تو کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

چند سمجھدار، دین دار افراد کواعتماد میں لے کر مذکورہ جگہ کو بیچ دیا جائے اور جہاں ضرور ت ہو وہاں جگہ خرید لی جائے،اگر یہ ممکن نہ ہو تو حاصل شدہ قیمت کو کسی قریبی مسجد میں لگایا جا سکتا ہے ۔

لمافی الفتاوی الھندیۃ:(2 401/،رشیدیۃ)
“وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه يجوزللقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش كذا في البحر الرائق.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 2/372،الطارق)
الاصل ان استبدال الوقف بغیرہ لا یجوز ۔۔۔۔۔لکن العلماء افتو ا بجوازہ لما فی من المصلحۃ بشروط : ان یخر ج الوقف عن الانتفاع بالکلیۃ ۔۔۔۔۔۔وان یستبدل بعقار لا بدراھم ودنانیر کی لا یاکلھا النظار المشرفون علی الوقف.”
وکذافی بدائع الصنائع:( 5/328، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:( 5/345،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:( 1/592،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/7675 ،رشیدیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 3/330،امدادیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:8/156(،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلد نمبر :19فتوی نمبر:28

ہمارے علاقے میں کچھ رقبہ ایسا ہے جس میں سید احمد شہید رحمہ اللہ کے زمانے کی جنگ میں شہید ہونےوالوں کی قبریں ہیں ،اب وہ رقبہ ایک قبرستان کی شکل میں ہےلیکن وہاں عرصہ تقریبا ستر سال سے نہ کسی نے کوئی میت دفن کی ہے نہ ہی کوئی دوسرا تصرف کیا ہے اور یہ جگہ حکومت کی ملکیت میں بھی نہیں ہےاس رقبہ کے متصل میرے دوست کا رقبہ ہے دریافت طلب بات یہ ہے کہ میرا دوست اس رقبہ پر مسجد یا حجرہ یعنی بیٹھک وغیرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جو زمین وغیرہ بظاہر کسی کی ملکیت نہ ہووہ حکومت کی ہی ملکیت ہے، لہذاحکومت کی اجازت کے بغیراس زمین کا استعمال کرنا درست نہیں ۔

لما فی “التنویر وشرحہ”:10/6،5،(رشیدیۃ)
“(اذااحیا مسلم او ذمی ارضا غیر منتفع بھاولیست بمملوکۃ لمسلم ولا ذمی )فلو مملوکۃ لم تکن مواتا ،فلو لم یعرف مالکھا فھی لقطۃ یتصرف فیھا الامام۔
وفی” البحر الرائق “:8/386،(رشیدیۃ)
” فاذاعرف المالک فھی لہ ،وان لم یعرف کانت لقطۃیتصرف فیھا الامام کما یتصرف فی القطۃ ۔”
وکذافی “الفتاوی الھندیۃ”(5/286،رشیدیۃ) وکذافی” الفتاوی التاتارخانیۃ”(18/343،فاروقیۃ)
وکذا فی” الفقہ الحنفی”(5/283،الطارق) وکذا فی “الھدایۃ”(4/482،رحمانیۃ)
وکذا فی “فتح القدیر”(10/84،رشیدیۃ) وکذافی” بدائع الصنائع”(5/281، رشیدیۃ)
وکذا فی “مجمع الانھر”(4/229،228،المنار) وکذا فی “الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ”(3755 ،محمودیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:76

مسجدکےاوپرگھرمیں امام صاحب کافیملی سمیت رہناکیساہے؟جبکہ انتظامیہ نےتعمیرمسجدکےوقت ان کی رہائش کی نیت بھی کی ہو۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جائزہے۔

لمافی الدر:(4/358،سعید)
“لوبنیٰ فوقہ بیتاللامام لایضرلانہ من المصالح .”
وفی فتح القدیر:(6/218،رشیدیہ)
“روی عن ابی حنیفۃرحمہ اللہ انہ جعل السفل مسجدادون العلوجازلانہ یتابد.”
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/127،داراحیاء) وکذا فی البحرارائق:(5/421،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(8/162،فاروقیہ) وکذا فی النھرالفائق:(3/330،قدیمی)
وکذا فی شرح العینی علیٰ کنزالدقائق:(1/377،ادارۃالقرآن)
وکذا فی حاشیۃالطحطاوی علی الدر:(2/537،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/374،الطارق)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

شوال المکرم1441،15، 7جون2020