جنابت کی حالت میں قرآن سننا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جنابت کی حالت میں قرآن کو بغیر چھوئے دیکھنا اور سننا جائز ہے۔

لما فی الفتوی الھندیة(1/39،مکتبہ رشیدیہ)
ولا یکرہ للجنب والحائض والنفساء النظر فی المصحف
وفی بدائع الصنائع : ( 1/ 149، مکتبہ رشیدیہ)
وأما الاحکام المتعلقۃ بالجنابۃ فما لا یباح للمحدث فعلہ من مس المسحف بدون غلافہ ومس الدراھم التی علیھا القرآن ونحو ذلک لا یباح للجنب من طریق الاولی
وکذا الکتاب المصنف: (1 /374،دار الکتب العلمیہ) وکذافی فتح الباری: (1 /529،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الھدایة:(1/62،المیزان) وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/258،البشری)
وکذافی المبسوط:(2/5،دارالمعرفۃبیروت لبنان) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/466،فاروقیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/349، رشیدیہ)
وکذا فی العنایہ:(2/15،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ :(1/258،بشرٰی)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/349،رشیدیہ)
وکذافی جامع الترمذی: (1 /129،رحمانیہ)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربع:(1/105،مکتبہ حقانیہ)
وکذافی الجوھرة النیرہ:(1/90،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/539،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیہ:(18/321،علوم الاسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:46

ایک شخص کو کھانسی ہے، اسکو بلغم کے ساتھ خون بھی آ رہا ہے تو کیا اس سے وضو پر کوئی اثر پڑے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر بلغم غالب ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گااور اگر خون غالب ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔خون کے غالب ہونے کی صورت یہ ہے کہ بلغم سرخی مائل ہو جائے۔بلغم کے زرد ہونے کی صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا۔

لما فی المبسوط: (1 / 290 ،دار المعرفہ )
فان بزق فخرج من بزاقہ دمٌ فان کان البزاق ھو الغالب فلاوضوء علیہ،وان کان الدم ھو الغالب فعلیہ الوضوء
وفی الھدایہ مع العنایہ: ( 1/ 47، رشیدیہ)
اذا قاء مرۃ او طعاما او ماء، فان قاء بلغماً فغیر ناقض) یعنی صرفاً لا یشوبہ طعام،َ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولم یذکر ما اذااختلط البلغم بالطعام،قالوا یعتبر فیہ الغلبۃ،فان کان الطعام غالباً نقض کالدم والا فلا
وفی تنویر الابصار مع رد المحتار: (1 / 291 ، رشیدیہ)
غلب علیٰ بزاقٍ (وعلامۃ کون الدم غالباً او مساویاً ان یکون البزاق احمر ،وعلامۃ کونہ مغلوباً ان یکون اصفر
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 11،رشیدیہ )
وکذا فی تنویر الابصار مع الدرالمختار: ( 1/290،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 1/249،فاروقیہ)
و کذا فی کنز الدقائق مع تبیین الحقائق: ( 1/9،امدادیہ)
و کذا فی خلاصہ الفتاوی مع مجموع الفتاوی: ( 1/15،رشیدیہ)
و کذا فی الھدایہ مع البنایہ: ( 1/215،رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع: ( 1/124،رشیدیہ)
و کذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/11،رشیدیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی: ( 1/204،دار احیاء ترات العربی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/10/4/7/3/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:45

اگر زخم سے کچا پانی بہہ پڑے تو وضو کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹوٹ جائے گا۔

لما فی الھندیة:(1/10،رشیدیہ)
ومنھا ما یخرج من غیر السبیلین و یسیل الی ما یظھر من الدم والقیح و الصدید والماء لعلۃ و حد السیلان ان یعلو فینحدرعن رأس الجرح
وفی الخانیہ:(1/36،رشیدیہ)
القیح) والدم و الصدید اذا سال من الجرح نقض الوضوء وان علا و انتفخ ولم یسل لا ینقض الوضوء
وکذافی الشامیہ:(1/148،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(1/51،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/86،الطارق)
وکذافی الھدایہ:(1/62،بشری)
وکذافی القدوری:(26،بشری)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/35،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2023/26/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:120

وضو کے دوران پاؤں دھوتے ہوے انگلیوں کی طرف سے پانی ڈالنا مسنون ہے یا یڑی کی طرف سے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وضو میں انگلیوں کی طرف سے پانی ڈالنا مسنون ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة:(1/226،فاروقیہ)
ومن السنۃ عند غسل الرجلین ان یأخذ الاناء بیمینہ ویصبہ علی مقدم رجلہ الایمن ویدلکہ بیسارہ فیغسلھا ثلاثا ثم یفیض الماء علی مقدم رجلہ الایسر ویدلکہ بیسارہ
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(74،قدیمی)
یسن البداءۃ بالغسل من (رؤس الاصابع ) فی الیدین و الرجلین
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/23،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/36،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/177،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(1/267،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/8،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(1/189،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/2023/19/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:125

گلیسرین میں اگر چوہا گر کر مر جائے تو اس کو پاک کرنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس گلیسرین سے چوہا نکال کر اس میں اوپر سے پاک گلیسرین اتنی ڈالی جائے کہ وہ گلیسرین جس برتن وغیرہ میں ہے، اس کے کناروں سے باہر نکل کر خود بخود بہنے لگے تو ساری گلیسرین پاک ہو جائے گی۔

(ماخوذ احسن الفتاوی:10/190)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/2023/19/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:124

مریض آدمی اس لئے تیمم کرتا ہےکہ پانی کا استعمال اس کیلئے نقصان دہ ہے ،اب اگر اس کی نجاست مخرج سے تجاوز کر جائے تو ٹشو یا ڈیھلوں سے استنجاء کرنا کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر پانی اس کو واقعی نقصان پہنچاتا ہےتو ٹشو یا ڈیھلوں سے استنجاء کرنا جائز ہے۔

لما فی الفقہ الحنفی:(1/158،الطارق)
العجز بسبب المرض الذی یزداد أو یتأخر شفاؤہ باستعمال الماء ۔۔۔۔۔۔۔ فیجوزلہ فی ھذہ الحالۃ التیمم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/573،رشیدیہ)
یتیمم اذا خاف باستعمال الماء علی نفس او فنفعۃعضو حدوث مرض من نزلۃ او حمی او نحو ذلک اوخاف من استعمالہ زیادۃ المرض او طولہ او تأخربرئہ ویعرف ذلک بالعادۃ او بإخیار طبیب عارف
وکذافی الھدایة:(1/96،بشری)
وکذافی القد وری:(47،بشری)
وکذافی البحرالرائق:(1/245،رشیدیہ)
وکذافی القد وری:(19،الخلیل)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/102،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/48،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/601،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/97،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:66

ایک شخص کے مسوڑھوں سے خون آتا ہے جس وقت وضو کرتا ہے تو دس منٹ تک خون آتا رہتا ہے تو اب اس شخص کو وضو میں کلی چھوڑنے کی اجازت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسی مجبوری میں کلی چھوڑنے کی اجازت ہے۔

لما فی الشامیہ:(1/116،سعید)
قولہ وھما سنتان مؤکدتان) فلو ترکھما اثم علی الصحیح سراج قال فی الحلیۃ:لعلہ محمول علی ما اذا جعل الترک عادۃ لہ من غیر عزر
وفی الھندیة:(1/6،رشیدیہ)
ان ترک المضمضۃ ولاستنشاق اثم علی الصحیح لانھما من سنن الھدا وترکھا یوجب الاساءۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لا یوجب الاساءۃ
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/21،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /45،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/55،بشرٰی)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/74،طارق)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/63،المکتبة الحقانیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/71،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/397،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /45،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/31/7/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:157

کوئی شخص سو کر اٹھے پیشاب یا پاخانہ کی حاجت نہ ہو تو پھر بھی پانی سے استنجا ء کرنا ضروری ہے یا صرف وضو کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں استنجاء کی ضرورت نہیں ہے۔

لما فی الدرالمختار : ( 1/ 599 ، رشیدیہ)
إزالۃ نجس عن سبیل فلا یسن من ریح و حصاۃ و نوم و فصد
وفی الفقہ الحنفی : ( 1/ 60،طارق )
ولا یشرع الاستنجاء بخروج ریح او بعد نوم وفعلہ فی مثل ھذہ الاحوال یعد بدعۃ
وکذافی الشامیہ: (1 /599 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : (1 /211 ،فاروقیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 59 ، قدیمی)
وکذا فی العنایہ: (1 /213 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 104 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ : (1 /50 ، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /164، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:131

حائضہ ذکر واذکار کر سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی کر سکتی ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار : ( 1/ 536، رشیدیہ)
ولابأ س لحائض وجنب بقراءۃ أدعیۃومسھا وحملھا وذکراللہ تعالی و تسبیح
وفی الھندیة: ( 1/ 38،رشیدیہ )
و یجوز للجنب ولحائض الدعوات و جواب الاذان ونحو ذلک
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 1/481 ، فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی : ( 1/ 121 ، طارق)
وکذا فی الجوھرةالنیرة: (1/ 89،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 142،قدیمی )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة: (18/321 ،علوم الاسلامیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (1 /346 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر : ( 1/150 ،رشیدیہ )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/ 61 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/27/2/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:105

اگر کسی کو غسل کی حاجت یعنی احتلام وغیرہ ہو جائے اور وہ غسل کرتے وقت پہلے اس ناپاکی کو نہ دھوئے بلکہ سیدھا غسل کرے اور تین دفعہ اچھی طرح جسم پر پانی بہا لے تو کیا اس کا جسم پاک ہو جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح اگر چہ غسل تو ہو جائے گا ، لیکن ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/82،رشیدیہ)
و فرض الغسل غسل فیہ و انفہ و بدنہ لا دلکہ واد خال الماء داخل الجلدۃ للاقلف و سنۃ ان یغسل یدیہ و فرجہ و نجاسۃ لو کانت علی بدنہ
وفی الھندیة:(1/14،رشیدیہ)
و ھی ان یغسل یدیہ الی الرسغ ثلاثا ثم فرجہ و یزیل النجاسۃ ان کانت علی بدنہ ثم یتوضأ وضوئہ لصلاۃالا رجلیہ
وکذافی مجمع الانھر:(1/35،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(1/522،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/225،دار احیاء)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/312،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/100،حقانیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/105،الطارق)
وکذافی الھدایہ:(1/70،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(1/272،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2023/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:47