اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کوگواہ مان کرنکاح کرلےتوکیانکاح درست ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح نکاح نہیں ہوگا ۔

لما فی خلاصتہ الفتاوی:(2/15،رشیدیہ)
تزوج امراۃ بشھادۃ اللہ ورسولہ لاینعقد وھل یکفرعرف فی الفاظ الفکر
وفی البحرالرائق: (3 /155 ،رشیدیہ)
لوتزوج بشھادۃاللہ ورسولہ لاینعقد
وکذا فی الھدایة:(2/8،بشرٰی)
وکذا فی البدائع:(2/527،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /37 ،فاروقیہ)
وکذافی التجرید:(9/4371،محمودیہ)
وکذا فی البنایہ: (4 /490 ،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 191 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:43

اگر نوٹ نجس ہو جائے تو اسکے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نوٹ کو پانی کے ساتھ دھونے سے چونکہ نوٹ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے،اس لیے کسی اور ایسی پاک مائع چیز سے دھو لیں جو نجاست کو دور کر دے اور اس سے نوٹ بھی ضائع نہ ہو،جیسے پٹرول اور سپرٹ وغیرہ تو اس سے وہ نوٹ پاک ہو جائے گا۔

لما فی تنویرالابصار وشرحہ: (1 /560 ،رشیدیہ )
یجوز رفع نجاسۃ حقیقۃ عن محلھا)۔۔۔۔۔۔۔(بماءولو مستعملا)بہ یفتی(وبکل مائع طاھر قالع)للنجاسۃ ینعصر بالعصر(کخل وماءورد)
وفی الھندیہ: (1 /41 ،رشیدیہ )
یجوز تطھیرالنجاسۃ بالماءوبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل وماءالورد ونحوہ ممااذا عصر انعصر
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /240 ،رشیدیہ ) وکذافی البحرالرائق: (1 /384 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /69 ،امدادیہ ) وکذافی فتح القدیر: (1 /194 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایہ: (1 /124 ،بشریٰ ) وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /58 ،الطارق )
وکذافی التجرید: (1 /60 ،محمودیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:71

منی اور مذی میں کیا فرق ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منی گاڑھی ہوتی ہے اس کے نکلنے کے بعد شہوت ختم ہوجاتی ہے جب کہ مذی پتلی ہوتی ہے اور اس کے نکلنے سے شہوت ختم نہیں ہوتی۔

لما فی الھدایہ: (1 /74 ،بشریٰ )
والمنی:خاثر ابیض ینکسر منہ الذکروالمذی:رقیق یضرب الی البیاض،یخرج عند ملاعبۃ الرجل اھلہ.
وفی الھندیہ: (1 /10 ،رشیدیہ )
ومنی الرجل خاثر ابیض رائحتہ کرائحۃ الطلع فیہ لزوجۃ ینکسر الذکر عند خروجہ ومنی المراۃ رقیق اصفر والمذی رقیق یضرب الی البیاض یبدوخرجہ عندالملاعبۃ مع اھلہ
وکذافی التاتارخانیہ: (1 /282 ،فاروقیہ ) وکذافی فتح القدیر: (1 /65 ،رشیدیہ )
وکذافی البحرالرائق: (1 /102 ،رشیدیہ ) وکذافی بدائع الصنائع: (1 /149 ،رشیدیہ )
وکذافی البنایہ: (1 /291 ،رشیدیہ ) وکذافی المحیط البرھانی: (1 /229 ،دار احیاء )
وکذا فی الجوھرة النیرہ: (1 /43 ،قدیمی کتب خانہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:75

مرغی اور بطخ کی بیٹ پاک ہے یا نہیں؟(2)اگر کپڑے یا بدن کو لگ جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مرغی اور بطخ کی بیٹ نجس ہے(2)اگر کپڑے یا بدن وغیرہ کو لگ جائےتو ایک درھم(پانچ روپے والے بڑے سکے کے) برابریا اس سے کم ہے تودھونا ضروری نہیں،اگر زیادہ ہے تو پھر دھونا ضروری ہے،بغیر دھوئے نماز نہیں ہو گی۔

لما فی البدائع الصنائع: (1 /197 ،رشیدیة )
واماالاوراث فکلھا نجسۃ عندہ عامۃ العلماء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومنھا:خرء بعض الطیور من الدجاج والبط
وفی الھندیة: (1 /46 ،رشیدیة )
وخرء الدجاج والبط والاوز نجس نجاسۃ غلیظۃ
وکذافی التاتارخانیة: (1 /442 ،فاروقیة ) وکذافی تنویرالابصار وشرحہ: (1 /577 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /73 ،امدایة ) وکذافی النھرالفائق: ( 1/ 147 ،قدیمی )
وکذافی البحرالرائق: (1 /395 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: (1 /16 ،حقانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:99

وضوءکاجوپانی استعمال ہوگیاہےاس سے استنجاءہوجائے گایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوجائےگا۔

لما فی الفقہ الحنفی: (1 /79 ،الطارق )
ویکرہ ان یشرب ماءمستعملااویطبخ بہ شیئاوتجوزازالۃ النجاسۃ بہ
وفی الفقہ الاسلامی: (1 /274 ،رشیدیة )
والمستعمل:ھوالذی اتصل بالاعضاء،لاکل الماءوحکمہ عندھم انہ طاھربنفسہ غیرمطھرلغیرہ من الحدث ویطھرالخبث ای انہ لایزیل الحدث من وضوءوغسل،ویزیل النجاسۃ الحقیقۃ عن الثوب والبدن علی الراجح المعتمد
وکذافی البحرالرائق: (1 /174 ،رشیدیة )
وکذافی ھامش الھدایة: (1 / 80 ،بشری )
وکذافی التاتارخانیة: (1 /344 ،فاروقیة )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /276 ،داراحیاء )
وکذافی البنایة: (1 /344 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (1 /94 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
/2023/4/8/17/4/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:23

کیا یہ بات درست ہے کہ بچے کی ولادت کے بعدعورت پورے چالیس دن ناپاک رہتی ہے اگرچالیس دن سےپہلے خون بند ہوجائے،تب بھی یہ نمازوغیرہ نہیں پڑھے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ بات درست نہیں کہ بچے کی ولادت کے بعدعورت چالیس دن ناپاک رہتی ہے بلکہ چالیس دن سے پہلے بھی اگر خون بندہوجائے تونمازوغیرہ شروع کردے گی۔

لما فی فتح القدیر: (1 /190 ،رشیدیة )
واقل النفاس لاحدلہ)لاحد لاقل النفاس اتفق اصحابناعلی ان اقل النفاس مایوجد فانھاکماولدت اذارأت الدم ساعۃ ثم انقطع عنھاالدم فانھاتصوم وتصلی
وفی حاشیة الھدایة: (1 /122 ،بشری )
لاحدلہ:وعلیہ اتفق اصحابنا،فلوانقطع دل النفاس بعدالولادۃ فی ساعۃ یجب علیھاان تصوم وتصلی بعدالاغتسال ، صرح بذلک شیخ الاسلام فماتعارف فی زمانناھذامن ان النساءلاتؤدین الفرائض الابعدانقضاء اربعین یوماوان انقطع الدم قبلہ،ذنب کبیر
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /157 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (1 /696 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /146 ،الطارق ) وکذافی الھندیة: (1 /37 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (3 /216 ،دارالمعرفة ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (1 / 140 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة: (1 /538 ،فاروقیة ) وکذا فی مجمع الانھر: ( 1/ 82 ، المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/171444/5/22
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:178

قضاءحاجت کے بعد ہاتھ دھوناشرعااس کی کیاحیثیت ہے،سنت ہے یاواجب؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سنت ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 1/ 18 ،رحمانیة )
عن ابی ھریرۃقال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذااتی الخلاءاتیتہ بماء فی توراورکوۃ فاستنجی قال ابوداؤدفی حدیث وکیع ثم مسح یدہ علی الارض ثم اتیتہ بماءاٰخرفتوضا
وفی فتاوی النوازل: (41 ،حقانیة )
وغسل یدہ قبل الاستنجاءوبعدہ سنۃ
وکذافی سنن النسائی: (1 /29 ،رحمانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /354 ،رشیدیة )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/ 109 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: ( 1/ 345 ،سعید )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /24 ،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة: (1 /49 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
/2023/3/24/3/9/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر:165

دودھ پیتے بچے یا بچی کا پیشاب پاک ہے یاناپاک؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ناپاک ہے۔

لما فی الشامیة: (1 /318 ،ایچ،ایم،سعید )
وکذاکل ماخرج منہ موجبا لوضوء اوغسل مغلظ (وبول غیرماکول اللحم ولومن صغیرلم یطعم)الابول الخفاش قال ابن عابدین:(قولہ لم یطعم)ای لم یاکل فلابد من غسلہ
وفی الھندیة: (1 /46 ،رشیدیة )
کل ماخرج من بدن الانسان ممایوجب خروجہ الوضوءاوالغسل فھومغلظ۔۔۔۔۔۔۔۔وکذلک بول الصغیروالصغیرۃ اکلااولا
وکذافی البحرالرائق: (1 /398 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (1 /400 ،رشیدیة )
وکذافی کتاب الفقہ: (1 / 19 ، حقانیة) وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /312 ،رشیدیة )
وکذافی آثارالسنن: (1 /18 ،امدادیة ) وکذافی اعلاءالسنن: (1 /415 ،ادارة القرآن )
وکذا فی المحیط البرھانی: ( 1/ 364 ،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/28/7/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:107

ایک شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہیں تو کیا حکم ہے اس شخص کے وضو کے بارے میں ہر نماز کے لئے الگ وضو کرنا پڑے گا یا ایک ہی وضو کئی نمازوں کے لئے کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس شخص کواتنے وقفے سے قطرے آتے ہیں کہ وہ جلدی جلدی مختصر وضوکرکے جلدی جلدی مختصر نماز(فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ)اداکرسکتا ہے یعنی تقریبا 5 منٹ کا وقفہ ہوتا ہو تواسے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا ہوگا اور اگر مسلسل قطرے آتے ہیں،وقفہ نہیں ہوتا تو یہ شخص”معذور“شمار ہوگا ایسا شخص ہرنماز کے وقت کے لئے وضوکرے اور اس وقت میں فرض یا نفل وغیرہ سب اداکرسکتا ہے۔ کسی اور عذر کے پیش آنے سے وضو ٹوٹ جائے گا قطروں سے نہیں ٹوٹے گا،البتہ نماز کا وقت گذرنے پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گااور یہ اس وقت تک معذور شمار ہوگاجب تک اسے ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر پیش آتا رہے۔

لما فی کتاب الفقہ: (1 /92 ،حقانیة )
واما حکمہ،فھو ان یتوضألوقت صلاۃ،ویصلی بذلک الوضوءماشاءمن الفرائض والنوال،فلایجب علیہ الوضوءلکل فرض ،ومتی خرج وقت المفروضۃ انتقض وضوءہ بالحدث السا بق علی العذر عند خروج ذلک الوقت
وفی تنویرالابصار مع الردالمختار: (1 /554 ،رشیدیة )
) ان استوعب عذرۃ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لایجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضأویصلی فیہ خالیا عن الحدث(ولوحکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذاشرط)العذر(فی حق الابتداء وفی)حق(البقاءکفی وجودہ فی جزءمن الوقت)ولومرۃ(وفی)حق الزوال یشترط(استیعاب الانقطاع)تمام الوقت(حقیقۃ)لانہ الانقطاع الکامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(فاذاخرج الوقت بطل)ای ظھر حدثہ السابق،حتی لوتوضأعلی الانقطاع ودا، الی خروجہ لم یبطل بالخروج مالم یطرأحدث آخر
وکذافی الھندیة: (1 /41 ،رشیدیة ) وکذافی الھدایة: (1 /119 ،بشریٰ )
وکذافی فتح القدیر: (1 / 181 ،رشیدیة ) وکذافی البحرالرائق: (1 /373 ،رشیدیة )
وکذافی البنایة: (1 /672 ،رشیدیة ) وکذافی بدائع الصنائع: (1 /163 ،رشیدیة )
وکذافی النھرالفائق: ( 1/ 139 ،قدیمی ) وکذا فی التجرید: (1 /368 ،محمودیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:72

حلال جانورمثلابکری وغیرہ کے جھوٹے پانی سے وضوکرناجائزہے؟جبکہ دوسراپانی نہ ہو۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جائزہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (1 /201 ،رشیدیة )
وروی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم توضأبسؤر بعیراوشاۃ،لکون اللعاب متولدمن لحمہ وماتولدمن الطاھرفطاھر
وفی البحرالرائق: (1 /222 ،رشیدیة )
وسؤرالآدمی والفرس ومایؤکل لحمہ طاھر
وکذافی المحیط البرھانی: (1 /282 ،داراحیاء ) وکذا فی شرح الوقایة: ( 1/ 92 ،امدادیة )
وکذا فی تنویرالابصار مع الدر: (1 /425 ،رشیدیة ) وکذا فی الھدایة: ( 1/89 ،بشری )
وکذا فی الفتح القدیر: (1 /112 ، رشیدیة) وکذا فی البنایة: (1 /429 ،رشیدیة )
وکذا فی التاتارخانیة: (1 /350 ،فاروقیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:72