ٹشوسے استنجاکرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹشو سے استنجا کرنا درست ہے، لیکن اگر پانچ روپے والے بڑے سکّے کے برابر نجاست پھیل جائے تو دھونا ضروری ہو جائے گا۔

لمافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/347،رشیدیہ)
یکون الاستنجاء بالماء او بالحجر و نحوہ من کل جامد طاھر قالع غیر محترم، کورق وخرق و خشب و خزف، لحصول الغرض بہ کالحجر
و فی الھندیة: (1 /48،رشیدیہ)
یجوز الاستنجاء بنحو حجر منق کالمدر والتراب والعود والخرقۃ والجلد وما اشبھھا ۔۔۔۔۔۔ ثم الاستنجاء بالاحجار انما یجوز اذا اقتصرت النجاسۃ علی موضع الحدث فاما اذا تعدت موضعھا بان جاوزت الشرج اجمعوا علی ان ماجاوز موضع الشرج من النجاسۃ اذا کانت اکثر من قدرالدرھم یفترض غسلھا بالماء
وکذافی الشامیہ:(1/339،سعید)
وکذافی الھدایة:(1/132،بشریٰ)
وکذافی العنایة:(1/213،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(1/763،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(1/102،رشیدیہ)
وکذافی القد وری:(75،76،بشریٰ)
وکذافی ر دالمحتار:(1/601،رشیدیہ
وکذافی فتح القدیر:(1/213،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/338،سعید)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(45،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/1/4/11/6/1444
جلد نمبر: 28 فتوی نمبر:197

دودھ کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دودھ کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /21 ،رشیدیہ)
الماء المطلق اذا خالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کالخل واللبن و نقیع الزبیب و نحو ذالک علی وجہ زال عنہ اسم الماء لا یجوز التوضؤ بہ
وفی البدائع:(1/93،رشیدیہ)
فمنھا:ان یکون الوضوء بالماء حتی لایجوز التوضؤبما سوی الماء من المائعات کا لخل و العصیر واللبن و نحو ذالک
وکذا فی اللباب:(1/42،قدیمی)
وکذا فی البدائع: (1 /93 ،رشیدیہ )
وکذا فی ر د المحتار:(1/362،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر القدوری:(32،بشریٰ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /128 ،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/276،بیروت)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/38،المکتبة الحقانیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1/342 ،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/271،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
سید ممتاز شاہ بخاری
2022/12/14/19/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:121

ویسے توشرعابہتے ہوئےپانی میں وضوکرناجائزہے،جب کہ آج کل بڑی نہروں کا بھی یہ حال ہے کہ ان میں فیکٹریوں کاپانی،فضلات،گندےنالوں کاپانی،شہروں کےسیوریج کا پانی وغیرہ گرتا ہے۔توکیااس صورت میں بھی ایسی چھوٹی یابڑی نہروں کا پانی پاک ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرنہرکےپانی میں ناپاک پانی کااثریعنی رنگ بو یاذائقہ میں سےکوئی ایک محسوس ہو تو یہ پانی نجس ہے،اس سے وضواور غسل درست نہیں ورنہ یہ پانی جاری ہونے کی وجہ سے پاک ہےاس سے وضووغسل وغیرہ درست ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/17،الرشیدیہ)
وفی النصاب والفتوی فی الماءالجاری أنہ لا ینجس مالم یتغیرطعمہ أولونہ أوریحہ من النجاسۃکذافی المضمرات،واذاأ لقی فی الماءالجاری شئ نجس کالجیفۃوالخمر لایتنجس مالم یتغیرلونہ أوطعمہ أوریحہ کذافی منیۃالمصلی
وفی بدائع الصنائع:(1 /216،رشیدیہ)
فان وقع فی الماءفان کان جاریاًفان کان النجس غیرمرئی کالبول والخمرونحوھمالایتنجس مالم یتغیر لونہ،أوطعمہ،أوریحہ،ویتوضأمنہ من أی موضع کان من الجانب الذی وقع فیہ النجس،أومن جانب آخر
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (1 /370 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (1 /152 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الأنھر: (1 /47 ،المنار)
وکذا فی الھدایہ: (1 /78 ،البشری )
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /31 ،الطارق )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /238 ، دارأحیاءتراث العربی)
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /9 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (1 /293 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 31

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن پاک کے الفاظ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں،بلکہ قرآن کی خالی جگہ اور جلد کو ہاتھ لگاسکتے ہیں،کیایہ بات ٹھیک ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کی یہ بات ٹھیک نہیں ہے،جس طرح قرآن مجید کےالفاظ کوہاتھ لگاناجائزنہیں،اسی طرح خالی جگہ اور جلد کوبھی ہاتھ لگانا جائزنہیں،اس لیے کہ یہ بھی قرآن کے حکم میں ہیں۔البتہ اگر کسی دوسری کتاب وغیرہ میں قرآن پاک کے الفاظ کم اوردیگر مضامین زیادہ ہوں تو اس کی جلد اور خالی جگہ کو ناپاکی کی حالت میں چھونے کی گنجائش ہے۔

لما فی البدائع:(1/141،رشیدیہ)
إنما یکرہ مس الموضع المکتوب دون الحواشی لأنہ لم یمس القرآن حقیقۃ،والصحیح انہ یکرہ مس کلہ لان الحواشی تابعۃ للمکتوب،فکان مسھامساًللمکتوب
وفی الشامیہ: (1 /293 ،رشیدیہ)
قولہ ومسہ)ای القرآن ولو فی لوح أو درھم او حائط،لکن لا یمنع الا من مس المکتوب،بخلاف المصحف فلا یجوز مس الجلد وموضع البیاض منہ وقال بعضھم:یجوز،وھذااقرب الی القیاس،والمنع اقرب الی التعظیم کمافی البحر:ای والصحیح المنع کمانذکرہ
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /270 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /38 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/116،بشرٰی)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/90،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/219،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/626،رشیدیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (1 /172 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 42

ایک عورت کی عمر ساٹھ (60)سال ہےاوراس کو ماہواری کاخون بھی نہیں آتامگراب لیکوریاکاپانی آتاہے،تووہ اس حالت میں انہیں کپڑوں کےساتھ نمازپڑھ سکتی ہےاوروضوبھی ہرمرتبہ دوبارہ کرےگی یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراتنےوقفےسےپانی آتاہےکہ جلدی جلدی وضوکرکےمختصرنماز(یعنی فرائض وواجبات کی ادائیگی کےساتھ)اداکرسکتی ہے۔(تقریباًپانچ منٹ کاوقفہ ہوتاہے)تواسےہرنمازکےلیےنیاوضوکرناہوگااورپانی خارج ہوتے ہی اس کاوضوٹوٹ جائےگا۔کپڑےبھی پاک کرنےہوں گے۔اگرپانی مسلسل آتاہے،وقفہ نہیں ہوتاتویہ”معذور“ہے،معذورکاحکم یہ ہےکہ ہرفرض نمازکےوقت وضوکرےپھراس وضوسےفرض ونفل وغیرہ نمازپڑھ سکتی ہے،کسی اورعذرکےپیش آنےسےاوراس نمازکاوقت ختم ہوجانےسےوضوٹوٹےگا،لیکوریاکےپانی سےنہیں ٹوٹےگا،انہیں کپڑوں میں نمازپڑھے

لما فی الھندیة: (1 /40 ،رشیدیہ )
شرط ثبوت العذرابتداءأن یستوعب استمرارہ وقت الصلوۃکاملاوھوالاظھرکالانقطعاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کلہ حتی لوسال دمھافی بعض وقت صلاۃفتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاۃأ خری وانقطع دمھافیہ أعادت تلک الصلوۃلعدم الاستیعاب ،وان لم ینقطع فی وقت الصلوۃالثانیہ حتی خرج لانعیدھالوجوداستیعاب الوقت،وشرط بقائہ ان لایمضی علیہ وقت فرض الاوالحدث الذی ابتلی بہ یوجدفیہ
وفی تنویرالالبصارمع الدرالمختار: ( 1/ 566 ، رشیدیہ)
وﺇن سال علی ثوبہ)فوق الدرھم(جازلہ أن لایغسلہﺇن کان لوغسلہ تنجس قبل الفراغ منھا) أی:الصلاۃ (وﺇلا) یتنجس قبل فراغہ(فلا)یجوزترک غسلہ
وکذافی کتاب الفقہ: (1 /92 ،حقانیہ ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 1/ 635، رشیدیہ )
وکذا فی کنزالدقائق: (14، حقانیہ) وکذا فی الھندیة: ( 1/41 ، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة: ( 1/ 66، رشیدیہ) وکذا فی القدوری: (17 ، الخلیل)
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 1/ 126 ، رشیدیہ ) وکذا فی البحرالرائق: (1 /372 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:67

کیا غسل کرنے سے وضو ہو جاتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی وضو ہوجاتا ہے،البتہ بلا نیت اجر نہیں ملے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:( 1/225،بیروت)
أمافی الوضوء،الواجب غسل الوجہ،والوجہ اسم لمایواجہ الناظر،والمواجھۃ لاتقع بباطن الفم والانف، وتقدیم الوضوءعلی الاغتسال فی الجنابۃ سنۃ،ولیس بفرض عندعلماءنارحمھم اللہ تعالیٰ،حتی انہ لولم یتوضا وافاض الماءعلی راسہہ وسائرجسدہ ثلاثاًاجزاہ اذاکان قدتمضمض واستنشق
وفی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /276 ،فاروقیہ)
وتقدیم الوضوءعلی الاغتسال فی الجنابۃ سنۃ،ولیس بفرض عندعلماءنارحمھم اللہ تعالیٰ،حتی انہ لولم یتوضا وافاض الماءعلی راسہہ وسائرجسدہ ثلاثاًاجزاہ اذاکان قدتمضمض واستنشق
وکذا فی مجمع الزوائد:(1/381، دارالکتب العلمیة)
وکذافی فیض القدیر:(6/143،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی السنن الکبری: (1 /277 ، دارالکتب العلمیة)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /94 ،رشیدیہ)
وکذا فی سنن النسائی :(1/60،رحمانیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/124،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ: (1 /158 ،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر:51

کیا پکی اینٹ پے تیمم ہو جائےگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہو جائےگا۔

لما فی المحیط البرھانی: (1 /309 ،دارأحیاءتراث)
ویجوزالتیمم بالآجرمدقوقاًوغیرمدقوقافی قول أبی حنیفۃرحمہ اللہ تعالیٰ
وفی المبسوط: (1 /109 ،دارالمعرفة )
فیجوزالتیمم بھماوالاجرکذلک لأنہ طین مستحجرفھوکالحجرالاصلی والتیمم بالحجریجوزفی قول أبی حنیفۃومحمد رحمھمااللہ تعالیٰ وان لم یکن علیہ غبار
وکذافی فتح القدیر: (1 /132 ،رشیدیہ )
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: ( 1/ 451 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /258 ، رشیدیہ)
وکذا فی غنیةالمتملی: ( 78، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /375 ،فاروقیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 1/ 26، رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان: ( 1/ 61، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 /182 ، رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/6/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:55

میرے ہاتھ پرزخم ہےاس پرپٹی باندھی ہوئی ہے تووضوکرتےوقت پٹی کواتارنا ضروری ہے یااوپر سے مسح کر لینا کافی ہے،وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرممکن ہو توپٹی اتار کر،زخم کودھویاجائے!لیکن اگرپانی زخم کونقصان دیتا ہوتوزخم پر گیلا ہاتھ پھیر لیا جائے،اگراس سےبھی نقصان ہوتاہویا پٹی اتارنے سے نقصان ہوتا ہو توپٹی پر مسح کرلینا کافی ہےاور جس جگہ پٹی ہواسی جگہ کامسح کیاجائے،باقی کو دھونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 1/ 90 ،رشیدیہ )
ثم ﺇذامسح علی الجبائروالخرق التی فوق الجراحۃجاز لماقلنا
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (1 /517 ،رشیدیہ )
قولہ:(علی کل عصابۃ)ﺃی:علی کل فردمنﺃفرادھاسواءکانت عصابۃتحتھاجراحۃوھی بقدرھاﺃوزائدۃعلیھاکعصابۃالمفتصد،ﺃولم یکن تحتھاجراحۃاصلاًبل کسرﺃوکی ،وھذا معنی قول”الکنز”کان تحتھاجراحۃﺃولاً،لکنﺇذاکانت زائدۃعلی قدرالجراحۃ،فان ضرّہ الحل والغسل مسح الکل تبعاًوﺇلافلا،بل یغسل ماحول الجراحۃویمسح علیھالاعلی الخرقۃ،مالم یفسرہ مسحھافیمسح علی الخرقۃالتی علیھاویغسل حوالیھاوماتحت الخرقۃالزائدۃ
وکذافی تبین الحقائق: (1 /53 ،امدادیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /360 ،دارأحیاءتراث العربی )
وکذا فی مجمع الأنھر: (1 / 75 ،المنار )
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /30 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (1 /424 ،فاروقیہ )
وکذا فی المبسوط: (1 / 104 ،دارالمعرفہ )
وکذا فی الھندیہ: (1 /35 ،الرشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ: (1 /112 ،البشری )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:33

اگر عورت کا حیض عادت پوری ہونے پر ختم ہوجائےاورعورت نے ابھی غسل نہ کیا ہوتوغسل سے پہلے جماع کرسکتے ہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر دس دن سےپہلےخون بند ہواہےتودوشرطوں میں سےکسی ایک کےپائےجانے کےبغیرجماع جائزنہیں،یاتوعورت غسل کرلےیاپھرایک کامل نماز کاوقت گزرجائے۔

لما فی الھندیة: (1 /39 ،رشیدیہ)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃأیام لم یجزوطؤھاحتی تغتسل أویمضی علیھاآخر وقت الصلاۃالذی یسع الاغتسال والتحریمۃ لان الصلاۃانما تجب علیھا اذاوجدت من آخرالوقت ھذاالقدر
وفی البحرالرائق: (1 /352 ،رشیدیہ)
وفیماإذاانقتع لأقل لتمام عادتھاإن اغتسلت أومضی علیھاوقت صلوۃ حل وإلالا
وکذافی القدوری:(14/الخلیل)
وکذا فی اللباب شرح الکتاب:(1/62،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(18/325،علوم اسلامیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 173 ، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/64، رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:194

ایک خاتون نے حیض کی حالت میں عمرہ کرلیااب اس کےلیےکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حیض کی حالت میں عمرہ کرناسخت گناہ ہے،اگرپاک ہوکرعمرہ اداکرنےکاوقت ہےتودوبارہ عمرہ کرنا لازم ہوگااوراگروقت نہیں ملا تواس صورت میں حرم کی حدود میں ایک دم دینا لازم ہوگا۔

لما فی البحرالرائق: (2 /649 ،رشیدیہ)
ولو حاضت عندالإحرام أتت بغیرالطواف)لقولہ علیہ السلام لعائشۃحین حاضت بسرف(افعلی مایفعل الحاج غیران لاتطوفی بالبیت حتی تطھری)فأفادأن طوافھاحرام وھومن وجھین:دخولھاالمسجدوترک واجب الطھارۃ،فإن الطھارۃواجبۃفی الطواف فلایحل لھاأن تطوف حتی تطھر،فإن طافت کانت عاصیۃمستحقۃلعقاب اللہ ولزمھاالإعادۃ،فإن لم تعدکان علیھابدنۃوتم حجھا
وفی الھدایة:(1/296،المیزان)
ومن طاف لعمرتہ وسعیٰ علی غیروضوءوحل فمادام بمکۃ یعیدھماولاشئ علیہ امااعادۃالطواف فلتمکن النقص فیہ بسبب الحدث واماالسعی فلانہ تبع لطواف واذااعادھمالاشئ علیہ لارتفاع النقصان وان رجع الیٰ اھلہ قبل ان یعیدفعلیہ دم
وکذا فی ارشادالساری: (390 /فاروقیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(276/ادارةالقرآن)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/504،طارق)
وکذا فی البنایہ: (4 /289 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /609 ،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /551 ،سعید)
وکذافی البحرالرائق: (3 /38 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:44