میرے ہاتھ پرزخم ہےاس پرپٹی باندھی ہوئی ہے تووضوکرتےوقت پٹی کواتارنا ضروری ہے یااوپر سے مسح کر لینا کافی ہے،وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرممکن ہو توپٹی اتار کر،زخم کودھویاجائے!لیکن اگرپانی زخم کونقصان دیتا ہوتوزخم پر گیلا ہاتھ پھیر لیا جائے،اگراس سےبھی نقصان ہوتاہویا پٹی اتارنے سے نقصان ہوتا ہو توپٹی پر مسح کرلینا کافی ہےاور جس جگہ پٹی ہواسی جگہ کامسح کیاجائے،باقی کو دھونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 1/ 90 ،رشیدیہ )
ثم ﺇذامسح علی الجبائروالخرق التی فوق الجراحۃجاز لماقلنا
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (1 /517 ،رشیدیہ )
قولہ:(علی کل عصابۃ)ﺃی:علی کل فردمنﺃفرادھاسواءکانت عصابۃتحتھاجراحۃوھی بقدرھاﺃوزائدۃعلیھاکعصابۃالمفتصد،ﺃولم یکن تحتھاجراحۃاصلاًبل کسرﺃوکی ،وھذا معنی قول”الکنز”کان تحتھاجراحۃﺃولاً،لکنﺇذاکانت زائدۃعلی قدرالجراحۃ،فان ضرّہ الحل والغسل مسح الکل تبعاًوﺇلافلا،بل یغسل ماحول الجراحۃویمسح علیھالاعلی الخرقۃ،مالم یفسرہ مسحھافیمسح علی الخرقۃالتی علیھاویغسل حوالیھاوماتحت الخرقۃالزائدۃ
وکذافی تبین الحقائق: (1 /53 ،امدادیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /360 ،دارأحیاءتراث العربی )
وکذا فی مجمع الأنھر: (1 / 75 ،المنار )
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /30 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (1 /424 ،فاروقیہ )
وکذا فی المبسوط: (1 / 104 ،دارالمعرفہ )
وکذا فی الھندیہ: (1 /35 ،الرشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ: (1 /112 ،البشری )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:33

ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیتے ہیں تو انتہائی ادب کے ساتھ لیتے ہیں اور لینا بھی چاہیے، لیکن اللہ تعالی کے نام کے ساتھ ہماری طرف سے وہ تعظیمی انداز نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے، مثلاً ہم کہتے ہیں اے اللہ”تو“ معاف کردے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یقیناً ہر صاحب ایمان اللہ تعالی کی عظمت و جلالت اور بڑائی و کبریائی پر صدق دل سے ایمان رکھنے والا ہے اور اس کا اظہار مختلف کلمات و تعبیرات کے ساتھ مختلف مواقع پر کرتا ہی رہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی کی تعظیم ہر مومن پر لازم اور ضروری ہے اور اللہ تعالی کی بےتعظیمی کرنا سخت گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ اہل ایمان دل سے اللہ تعالی کی عظمت کے قائل ہونے کے باوجود اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے ہوئے بسااوقات اسم الٰہی کے ساتھ تعظیمی القابات لگانے کا وہ اہتمام نہیں کرتے جو اہتمام جناب نبی کریم ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ تعظیمی کلمات لانے کا کرتے ہیں، تو اس کی چند وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:(1) یقیناً ہر صاحب ایمان جانتا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ اللہ تعالی کی اسی وحدانیت کا اظہار کرنے کے لیے بسا اوقات مفرد کے صیغوں کا استعمال کیا جاتا ہے،مثلا:اے اللہ بارش برسا دے،اے اللہ تو ہی خالق ہے ،وغیرہ۔
اگرچہ جمع کے صیغے مثلاً اے اللہ آپ ہی خالق ہیں،اللہ تعالی بارش برساتے ہیں وغیرہ لانے میں تعظیم زیادہ ہے، مگر وحدانیت کا کھلے طور پر اظہار مفرد کے صیغوں میں ہے،لہذا مفرد کے صیغے لانے میں مقصود بے تعظیمی نہیں، بلکہ عقیدہ توحید کا اظہار مقصود ہوتا ہے،اس لیے اللہ جل شانہ کے لیے مفرد و جمع دونوں طرح کے صیغے استعمال کرنا درست ہے۔اور خود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنی ذات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں انداز اختیار فرمائے ہیں۔(2) مومن بندے کا اللہ تعالی کے ساتھ حد درجہ تعلق ہوتا ہے اس تعلق کی بناء پر بے تکلفی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بندہ مخلوق میں سے کسی کے ساتھ خواہ کتنا ہی بے تکلف ہو ،مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ حجاب باقی رہتا ہے،جبکہ خالق و مالک اور اس کے مومن بندے کے درمیان حجاب نہیں، بلکہ حد درجہ بے تکلفی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بندہ یہ بات جاننے کے باوجود کہ اللہ تعالی مجھے دیکھ رہے ہیں پھر بھی گناہوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔
اسی بے تکلفی کی بناء پر ہم بسا اوقات اللہ تعالی کو بغیر القابات کے پکارتے ہیں اور صرف”اللہ“ کہہ دیتے ہیں،کیونکہ جہاں بےتکلفی ہو وہاں لمبے چوڑے القابات لانے کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔
جبکہ نبی کریم ﷺ کی جناب میں ہمیں وہ بے تکلفی حاصل نہیں اس لیے آپ کی جناب میں حد درجہ آداب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔(3) بندے کو اللہ تعالی نے فطری طور پر کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہ اشیاء کے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور ان سے متاثر ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ کسی انسان کے لیےتعظیمی الفاظ استعمال کیے جائیں تو وہ فطرتی طور پر خوشی و راحت محسوس کرتا ہے اور اگر اس کی بےتعظیمی کی جائے تو اذیت وتکلیف محسوس کرتا ہے۔
مگر اللہ تعالی کی ذات اس سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ کسی چیز سے متاثر ہو، لہذا اس بناء پر اگر ہم اللہ تعالی کےلیے کثیر تعظیمی القابات لانے کا اہتمام نہ بھی کریں تو اللہ تعالی کی ذات اس سے بلند وبالا ہے کہ یہ چیز آپ کےلیے اذیت کا ذریعہ بنے۔
جبکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں۔ آپ کی بارگاہ میں تعظیم میں کمی آپ کےلیے اذیت و تکلیف کا باعث بن سکتی ہے ، اس لیے آپ ﷺ کی ذات اقدس سے متعلق بہت محتاط رہنے کی اور تمام تر آداب بجالانے کی ضرورت ہے۔ (4) جب ہم اللہ تعالی کی ذات سے متعلق لفظ ”اللہ “ بولتے ہیں تو مزید القابات لگانے کی حاجت نہیں رہتی ، یہ لفظ خود ہی تمام صفات و کمالات کو جامع ہے اور اللہ تعالی کی عظمت و کبریائی پر دلالت کرنے والا ہے۔
یہ وہ چند وجوہ ہیں جنکی بناء پر دل میں عظمت الٰہی ہونے کے باوجود بسا اوقات اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہوئے خاص تعظیمی انداز اختیار کرنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا، تاہم پھر بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جب بھی اللہ تعالی کا نام لیا جائے تو نام مبارک کے ساتھ تعظیمی کلمات مثلاً”تعالی ، جل شانہ اور رب العزت“ وغیرہ استعمال کیے جائیں اور سننے والوں کو بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جب اللہ تعالی کا مبارک نام سنیں تو زبان سے تعظیمی کلمات ادا کریں۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(5/315،رشیدیہ)
و یستحب أن یقول:” قال اللہ تعالی“ و لا یقول:” قال اللہ“ بلا تعظیم بلا ارداف وصف صالح للتعظیم. رجل سمع اسما من اسماء اللہ تعالی یجب علیہ أن یعظمہ و یقول سبحان اللہ و ما أشبہ ذلک
وفی التاتارخانیہ:(18/44،فاروقیہ)
رجل یسمع ذکر اللہ تعالی یجب علیہ أن یعظمہ و یقول: سبحان اللہ أو تبارک اللہ
وکذافی خطبات حکیم الامة التھانوی علیہ الرحمہ:(23/257،261،تالیفات اشرفیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:78

قربانی کے ایام کون کون سے ؟کیا شریعت نے قربانی کے ایام کی کوئی خاص مدت متعین فرمائی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قربانی کے تین دن ہیں۔دس،گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کےغروب شمس تک کا وقت متعین ہے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(413،البشریٰ)
وقت الاضحیۃ من طلوع الفجر لیوم النحر وھو یوم العاشر من ذی الحجۃ الی غروب الشمس من الیوم الثانی لذی الحجۃ، والافضل ان یضحی یوم النحر ثم الیوم الحادی عشرثم الثانی عشر
وفی الحیط البرھانی:(8/461،داراحیاءتراث)
وقت الاضحیۃ ثلاثہ ایام:الیوم العاشر،والحادی عشر،والثانی عشر من ذی الحجۃ،فاذا غربت الشمس من الیوم الثانی عشر لا تجوز الاضحیۃ بعد ذلک وافضلھا اولھا
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2714،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(17/416،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(5/295،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(387،زمزم)
وکذافی الدرالمختار:(9/529،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/198،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(12/9،دارالمعرفة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/169،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
5/9/1443/2022/4/7
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:111

بعد از سلام گزارش ہے کہ میں ایک عام مسلمان ہوں دیو بند مسلک سے تعلق ہے دینی مجالس میں شرکت کی کوشش کرتا ہوں اور کچھ دینی کتب کا مطالعہ بھی کرتا ہوں۔علماء حضرات سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ اہل بیت اور سادات کا رتبہ بہت اعلی ہے ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت میں سے کسی کی بھی شان نہیں گھٹانی چاہیے ۔چند سوال آپ کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں تسلی بخش راہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں ۔(1)سادات کے بارے میں بتائیں کہ کونسے خاندان اور کونسی شخصیات سادات میں شامل ہیں ،موجودہ دور میں سادات کی پہچان کیا ہے ؟ کیونکہ سید شیعہ بھی بہت ہیں ،بریلوی بھی اور اہل حدیث بھی ہیں ۔(2)کیا اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رتبہ برابر ہے یا کہ درجات ہیں ؟(3) شیعہ حضرات سورۃ احزاب کی آیت تطہیر کا بہت ذکر کرتے ہیں۔(4)تبلیغی بھائی اکثر کہتے ہیں کہ اب تصوف کی ضرورت نہیں ،تبلیغ کا کام ہی کافی ہے ۔میں بذات خود نقشبندی سلسلہ (پیر ذوالفقار صاحب دامت برکاتہم )سے منسلک ہوں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

سادات :آل علی ،آل عباس ،آل جعفر ،آل عقیل ،آل حارث بن عبد المطلب ہیں ۔موجودہ دور میں بھی جن حضرات کا سلسلہ نسب حقیقتا ًان حضرات سے ملتا ہے تو وہ سادات ہیں ،اور انہیں بنو ہاشم بھی کہتے ہیں ۔

لما فی الموسوعۃالفقھیۃ
“ھم آل علی ،وآل عباس ،وآل جعفر ،وآل عقیل،وآل الحارث بن عبد المطلب ۔”
(الموسوعۃ الفقھیۃ:(1،100،م:علوم اسلامیۃ
ولما فی تفسیر المظہری للشیخ محمد ثناءاللہ العثمانی
“الذین یحرم علیھم الصدقۃ ھم بنو ھاشم خمسۃ بطون ،آل علی وعباس وجعفر وعقیل والحارث بن عبد المطلب۔”
(تفسیر مظہری :3،325،م:رشیدیہ)
(کذ افی الصحیح للبخاری:(3/325،م:رشیدیہ
(وکذا فی حاشیۃ مشکاۃ المصابیح:(1/162،م:رحمانیہ
(وکذا فی تفسیر انوار البیان:(2/607،م:العلم

(2)

اہل بیت اور دوسرے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرف صحابیت میں تو برابر ہیں ،البتہ اہل بیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت اورخاص تعلق کی وجہ سے ایک جزوی فضیلت حاصل ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ۔لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رتبہ میں بھی اعلی ہوں ،اور رتبہ کے اعتبار سے اہل بیت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درجات سے الگ مقام نہیں رکھتے،بلکہ اہل بیت اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں رتبہ کے اعتبار سے مشترکہ درجات ہیں ۔جیسے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے خلفائے راشدین کا مرتبہ سب سے زیادہ ہے پھر خلفائے راشدین میں ،باجماع امت انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے بلند مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے ،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ،اب دیکھیے حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل بیت میں سے ہیں مگر رتبےکے اعتبار سے آپ کا چوتھا نمبر ہے ۔اسی طرح خلفاء راشدین کے بعد عشرہ مبشرہ میں سے باقی چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،پھر بدی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،پھر جنگ احد میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،پھر بیعت رضوان میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وغیرہ وغیرہ ۔

لمافی فتح الباری شرح صحیح البخاری لابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ :
قولہ (باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم )ای فی رتبۃ الفضل ،۔۔۔قولہ (کنا نخیر بین الناس فی زمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )ای نقول :فلان خیر من فلان الخ،وفی روایۃ عبید اللہ بن عمر عن نافع الآتیۃ فی مناقب عثمان “کنا لا نعدل بابی بکر احدا ثم عمر ثم عثمان ،ثم نترک اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا نفاضل بینھم ۔۔۔۔عن ابن عمر “کنا نقول ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حی “افضل امۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعدہ ابوبکر ثم عمر ثم عثمان “زاد الطبرانی فی روایۃ “فیسمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذالک فلا ینکرہ ۔
(فتح الباری :7/19،م:قدیمی)
ولمافی مقدمۃ ابن الصلاح :
الخامسۃ:افضلھم علی الاطلاق ابوبکر ،ثم عمر،۔۔۔۔واما افضل اصنافھم صنفا:فقد قال ابو منصور البغدادی التمیمی:اصحابنا مجممعون علی ان افضلھم الخلفاءالاربعۃ،ثم الستۃ الباقون الی تمام العشرۃ ثم البدریون ،ثم اصحاب احد،ثم اہل بیعۃ رضوان ۔
(مقدمۃ ابن الصلاح :1/298،299،م:دارالفکر بیروت)
ولمافی الصحیح للبخاری :
عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال:کنا نخیر بین الناس فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فنخیر ابا بکر ،ثم عمر بن الخطاب ،ثم عثمان بن عفان رضی اللہ عنھم
(صحیح البخاری :1/646،م:رحمانیہ)
(وکذا فی عمدۃالقاری:(16/180،م ،داراحیاءتراث
(وکذا فی قاموس الفقہ:(4/220،م:زمزم
(وکذا فی جامع الترمذی:(2/698،699،م:رحمانیہ
(وکذا فی الصحیح للبخاری:(1/658،م:رحمانیہ

(3)

آیت تطہیرکی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں
“یہاں اہل البیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ ان کی اولاد و آباء بھی داخل ہیں ،اس لیے بصیغہ مذکر فرمایا “عنکم ،ویطہرکم “اور بعض ائمہ تفسیر نے اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا ہے ،حضرت عکرمہ و مقاتل نے یہی فرمایا ہے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات کو قرار دیا ۔اور استدلال میں اگلی آیت پیش فرمائی،”واذکرن ما یتلی فی بیوتکن”(رواہ ابن ابی حاتم وابن جریر فی تفسیر ابن کثیر :3/391،م:دارالمعرفہ)اور سابقہ آیات میں “نساءالنبی “کے الفاظ سے خطاب بھی اس کا قرینہ ہے ۔حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ تو بازار میں منادی کرتے تھے ،کہ آیت میں اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات ہیں ،کیونکہ یہ آیت انہی کی شان میں نازل ہوئی ہے ،اور فرماتے تھے کہ میں اس پر مبا ہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں (تفسیر ابن کثیر:3۔391،م:دارالمعرفہ)
لیکن حدیث کی متعدد روایات ،جن کو ابن کثیر نے اس جگہ نقل کیا ہے اس پر شاہد ہیں کہ اہل بیت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی ا للہ عنہ اور حضرت حسن رضی ا للہ عنہ اور حضرت حسین رضی ا للہ عنہ بھی شامل ہیں ۔جیسے صحیح مسلم کی حدیث، حضرت عائشہ رضی ا للہ عنہا کی روایت سے ہے کہ ایک مرتبہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لے گئے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سیاہ رومی چادر اوڑھے ہوئے تھے ،حسن رضی ا للہ عنہ آ گئے تو ان کو اس چادر میں لے لیا پھر حسین رضی ا للہ عنہ آگئے ان کو بھی اس چادر کے اندر داخل فرما لیا ،اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی ا للہ عنہا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آ گئے ان کو بھی چادر کے اندر داخل فرما لیا ،پھر یہ آیت تلاوت فرمائی”انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا “اور بعض روات میں یہ بھی ہے کہ آیت پڑھنے کے بعد فرمایا:اللھم ھؤلاء اھل بیتی (رواہ ابن جریر )۔
ابن کثیر نے اس مضمون کی متعدد احادیث معتبرہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ در حقیقت ان دونوں اقوال میں جو ائمہ تفسیر سے منقول ہیں کوئی تضاد نہیں ،جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ازواج مطہرات کی شان میں نازل ہوئی اور اہل بیت سے وہی مراد ہیں ،یہ اس کے منافی نہیں کہ دوسرے حضرات بھی اہل بیت میں شامل ہوں ،اس لیے صحیح یہی ہے کہ لفظ اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں کیونکہ شان نزول اس آیت کاوہی ہیں ،اورشان نزول کا مصداق آیت میں داخل ہونا کسی شبہ کا محتمل نہیں ،اور حضرت فاطمہ وعلی و حسن وحسین رضی اللہ عنہم بھی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اہل بیت میں شامل ہیں ،اور اس آیت سے پہلے اور بعد میں دونوں جگہ “نساءالنبی” کے عنوان سے خطاب اور ان کے لیے صیغے مؤنث کے استعمال فرمائے گئے ہیں ۔سابقہ آیات میں “فلا تخضعن بالقول “سے آخر تک سب صیغے مؤنث کے استعمال ہوئے ہیں ۔اور آگے پھر “واذکرن ما یتلی “میں بصیغہ تانیث خطاب ہوا ہے ۔اس درمیانی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر بصیغہ مذکر “عنکم اور یطہرکم “فرمانا بھی اس پر شاہد قوی ہے کہ اس میں صرف ازواج مطہرات ہی داخل نہیں کچھ رجال بھی ہیں ۔
آیت مذکورہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ “لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطرکم تطہیرا “ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان ہدایات کے ذریعے اغواءشیطانی اور معاصی اور قبائح سے حق تعالی اہل بیت کو محفوظ رکھے گا اور پاک کر دے گا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تطہیر تشریعی مراد ہے ،تکوینی تطہیر جو خاصئہ انبیاء ہے وہ مراد نہیں ۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ سب معصوم ہوں اور ان سے انبیاء علیھم السلام کی طرح کوئی گناہ سرزد ہونا ممکن نہ ہو جو تکوینی تطہیر کا خاصہ ہے ۔


(معارف القرآن مفتی اعظم مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ:(7/139،م:ادارۃ المعارف
(وکذا فی تفسیر القرآن العظیم تفسیرابن کثیر:(3/491،492،493،494،م:دار المعرفہ
(وکذا فی تفسیر الخازن:(3/499،م:رشیدیہ
(وکذا فی تفسیر القرطبی الجامع لاحکام القرآن:(14/182،183،184،م:دار احیاء تراث
(وکذا فی معارف القرآن للشیخ مولانامحمد ادریس کاندھلوی:(6/228،229،230،231،م:رحمانیہ
وکذا فی گلدستہ اہل بیت للشیخ مولاناطارق جمیل:(9،10،11،م:جامعۃالحسنین باکستان)

(4)

تصوف اور بیعت بہت اہم چیزہےتصوف اور بیعت کا مقصد یہ ہے کہ کسی دیندار متقی ،متبع سنت شیخ کے ہاتھ پر گناہوں سے توبہ کی جائے پھر اس کی صحبت اختیارکر کے اس کی راہنمائی میں دین پر چلنے کا عہد کیا جائے۔اس سے شریعت مطہرہ پر چلنا بھی آسان ہو جاتاہے اور شیطانی وساوس سے حفاظت بھی رہتی ہے ۔اور قرآن کریم نے متعدد آیات میں اس عمل کی مستقل اہمیت بیان فرمائی ہے ۔چنانچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا } إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۔ الخ}[الفتح:10 ]اے پیغمبر جو لوگ تم سے بیعت کر رہے ہیں ،وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ،اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ۔اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :{ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ ۔۔۔۔الخ }[الممتحنۃ:12]اے نبی :جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آ ئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی ،اور چوری نہیں کریں گی ،اور زنا نہیں کریں گی ،اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی،اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو ،اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی ،تو تم ان کی بیعت کر لیا کرو ،اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت طلب کیا کرو،یقینا اللہ بہت بخشنے والا ،بہت مہربان ہے ۔اسی طرح متعدد روایات میں بیعت ہونے کا ذکر ہے ،یہ بیعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم کی مستقل سنت بھی ہے ۔اور ایک سنت ادا کرنے سے دوسری سنت ادا نہیں ہو سکتی،جیسے کھانا کھانے کی سنتوں سے سونے یا اٹھنے کی سنتیں ادا نہیں ہو جاتیں اسی طرح تبلیغ کی سنت سے بظاہر بیعت کی سنت کا ادا ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے ۔لہذا اس طرح کی گفتگو جس سے دین کے کسی دوسرے شعبے کی تنقیص یا انکار لازم آتا ہو اس سے سخت احتراز کرنا چاہیے کیونکہ بسا اوقات اس طرح کی لا پرواہی سے ایمان کے چلے جانے کا ڈر ہوتا ہے کہ لا علمی میں کسی سنت کو حقیر سمجھنے لگے یا انکار کرنے لگے ۔

لمافی صحيح البخاري :
أن عبادة بن الصامت رضي الله عنه وكان شهد بدرا وهو أحد النقباء ليلة العقبة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وحوله عصابة من أصحابه: «بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا، ولا تسرقوا، ولا تزنوا، ولا تقتلوا أولادكم [ص:13]، ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم، ولا تعصوا في معروف، فمن وفى منكم فأجره على الله، ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب في الدنيا فهو كفارة له، ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله فهو إلى الله، إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه» فبايعناه على ذلك۔
(صحیح البخاری:1/63،م:رحمانیہ)
ولمافی اعلاء السنن :
ولا یتیسر ذالک الا با لمجاھدۃ علی ید شیخ کامل قد جاھد نفسہ ،وخالف ھواہ وتخلی عن الاخلاق الذمیمۃ ،وتحلی بالاخلاق الحمیدۃ ،ومن ظن من نفسہ انہ یظفر بذالک بمجرد العلم ودرس الکتب فقد ضل ضلالا بعیدا ،فکما ان العلم بالتعلم من العلماء کذالک الخلق بالتخلیق علی ید العرفاء۔
(اعلاء السنن:18/454،م:ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیہ)
(وکذا فیہ :18/449،م:ادارۃ القرآن)
(وکذافی القول الجمیل:ص18،مکتبہ تھانوی کراتشی۔بحوالہ کفایت المفتی:3/308 ،م:ادارۃالفاروق)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:79