کیا شوگر چیک کروانے کے لیے جو خون لیا جاتا ہےاس سے وضو ٹوٹ جاتا ہےیا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شو گر چیک کرنے کے لئے عموما اتنا خون نکالا جاتا ہے جو بہ جانے کے قابل ہو تا ہے لہٰذا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔

لما فی الدر المختار:(1/11،رشیدیہ)
وینقضہ خروج نجس منہ۔۔۔ الی ما یطہر۔۔۔ ثم المراد بالخروج منالسبیلین مجرد الظہور وفی غیرہما عین السیلان ولو بالقوۃ لما قالو، لو مسح الدم کلما خرج ولو ترکہ لسال نقض والا لا
وفی الدر المختارمع الشامیہ:(1/139،رشیدیہ)
وکذا ینقضہ علقضہ مصت عضوا وامتلات من الدم ومثلہا القراد ان کان کبیرا لانہ حینئذ یخرج منہ دم مسفوح سائل والا تکن العلقۃ والقراد کذالک لا ینقض کبعوض وذباب
وکذا فی الہندیہ:(1/12،رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(1/10،رشیدیہ)
وکذا فی سنن الدار قطنی:(1/163،بیروت)
وکذافی الہندیہ:(1/11،رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(1/11،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ شفیق غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:104

زخم سے اگر کچا پانی نکلتا ہو تو کیا وضو ٹوٹ جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ٹوٹ جائے گا۔

لما فی الہندیہ:(1/15 ،رشیدیہ)
ما یخرج من غیر السبیلین ویسیل الی ما یظہر من الدم والقیح والصدید والماء لعلۃ وحد السیلان ان یعلو فینحدر عن راس الجرح
وفی الشامیہ:(1/148،سعید)
الدم والقیح والصدید وماء الجرح والنفطۃ وماء البشرۃ والثدی والعین والاذن لعلۃ سواء علی الاصح
وکذافی الہندیہ:(1/10،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختار:(1/147،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(1/59،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/134،سعید)
وکذافی الشامیہ :(1/148،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1442/1202/4/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:134

اگرعورت کو حیض اسکی عادت کےمطابق ختم ہوا ہو تو عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس سے جماع کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دس دن سے کم پر حیض بند ہونے کی صورت میں دو شرطوں میں سے کسی ایک شرط کے پائے جانے کے بغیرجماع جائز نہیں، وہ دو شرطیں یہ ہیں:1)عورت غسل کر لے:2)یا ایک نماز کا وقت گزر جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/39،رشیدیہ)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجزوطیہا حتی تغسل او یمضی علیہا اخر وقت الصلٰوۃ الذی یسع الاغتسال والتحریمۃ لان الصلوۃانما تجب علیہا اذا وجدت من آخر الوقت ہذالقدر
وفی القدوری:(1/14،الخلیل)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجزوطیہا حتی تغسل او یمضی علیہا اخر وقت صلٰوۃ کاملۃ
و فی الموسوعہ الفقہیہ :(18/325،علوم اسلامیہ)
واذاانقطع دمہا قبل اکثرمدۃ الحیض او لتمام العادۃ فی المعتاد بان لم ینقض عن العادۃ فانہ لا یجوز وطیہا حتی تغتسل او تییمم او ان تصیر الصلاۃ دینا فی ذمتہا
وکذافی الہدایہ:(1/64،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/173، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/352، رشیدیہ)
وکذا فی النہرالفائق:(1/135،قدیمی)
وکذا فی شرح الوقایہ:(1/132،امدادیہ)
وکذافی کنزالدقائق:(1/14،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:38

کیا سگریٹ پینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سگریٹ نوشی سے اگرچہ وضو تو نہیں ٹوٹتا مگر اس کی وجہ سے منہ میں بدبو پیدا ہوجانے کی وجہ سے کراہت ضرور آجاتی ہے ، لہذا نماز و تلاوت سے پہلے سگریٹ کی بدبو کو بہر صورت زائل کرے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/111،علوم اسلامیہ)
كذلك لا يجوز لشارب الدخان دخول المسجد حتى تزول الرائحة من فمه، قياسا على منع آكل الثوم والبصل من دخول المسجد حتى تزول الرائحة ـ ـ ـ ولا يختص المنع بالمساجد، بل إنه يشمل مجامع الصلاة غير المساجدكمصلى العيد والجنائز ونحوها من مجامع العبادات، وكذا مجامع العلم والذكر ومجالس قراءة القرآن ونحوها
وفی الدر المختار:(10/51،رشیدیہ)
فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(17/113،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/138،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/284،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/216،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی بدایة المجتھد:(39،قدیمی)
وکذافی الشامیہ:(10/51،52،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:73

ایک شخص بواسیر کا مریض ہے ۔نماز پڑھتے ہوئے سجدے کی حالت میں یا اٹھتے بیٹھتے کبھی کبھی اس کا مقعد باہر نکل آتا ہے ،وہ ہاتھ سے اس کو اندر کر لیتا ہے۔اس کے ساتھ نجاست تو نہیں نکلتی لیکن کچھ چکناہٹ سی ہاتھ یا کپڑوں کو لگ جاتی ہے۔اس کی نماز اور وضو کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نماز باطل ہو جاتی ہے،لہذا دوبارہ وضو کرکے نماز لوٹانا ضروری ہے۔

لما فی الدرالمختار:(1/308،رشیدیہ)
باسوری خرج من دبرہ ،ان ادخلہ بیدہ انتقض وضوءہ و ان دخل بنفسہ لا
وفی الشامیہ:(1/308،رشیدیہ)
لکن ذکر بعدہ فی البحر عن الحلوانی انہ ان تیقن خروج الدبر تنتقض طہارتہ بخروج النجاسۃ من الباطن الی الظاہر و بہ جزم فی الامداد
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/86،رشیدیہ)
و قال الحلوانی :ان تیقن خروج الدبر تنتقض طھارتہ
وکذافی التجنیس و المزید:(1/143،ادارة القرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/83،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/196،دار احیاءتراث عربی)
وکذافی التاتارخانیة:(1/244،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/61،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/10،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:72

دودھ دوہتے وقت اگر برتن میں گوبر گر جائے تو دودھ کا کیا حکم ہے؟تفصیل سے جواب دیجیے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

دودھ دوہتے وقت اگر گوبر معمولی مقدار میں گرا ہو اور گرتے ہی نکال لیا جائے تو دودھ پاک رہے گا اور اس کا استعمال جائز ہوگا،البتہ اگر گوبر زیادہ مقدار میں ہو یا پھر گرتے ہی نکالا نہ گیا، بلکہ وہ دودھ میں حل ہوگیا تو دودھ ناپاک ہو جائے گا اور اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(1/422،رشیدیہ)
و بعرتی ابل و غنم کما) یعفی (لو وقعتا فی محلب )وقت الحلب (فرمیتا )فورا قبل تفتت و تلون ـ ـ ـ (قیل القلیل المعفو عنہ ما یستقلہ الناظر والکثیر بعکسہ و علیہ الاعتماد)
وفی الشامیہ:(1/422،رشیدیہ)
فلو تفتت او اخذ اللبن لونھا ینجس
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/323،رشیدیہ)
و یعفی عن بعر الابل و الغنم اذا وقع فی البئر او فی الاناء ما لم یکثر کثرۃ فاحشۃ او یتفتت فیتلون بہ الماء والقلیل ھو ما یستقلہ الناظر الیہ والکثیر ما یستفحشہ الناظر الیہ
وکذافی البحر الرائق:(1/199،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/222،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/324،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/261،بیروت)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:(40/114،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المسوط للسرخسی:(1/88،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی الھندیہ:(1/48،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(1/46،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/1442/2020/6/12
جلد نمبر: 21 فتوی نمبر:189

بعض دفعہ بیماری کی وجہ سے انسانی جسم کی کھال خشک ہوجاتی ہے، اگر ہاتھ سے کھینچیں تو جسم سے الگ بھی ہوجاتی ہے،لیکن خون وغیرہ کچھ نہیں نکلتا تو کیا جسم سے کھال کو اس طرح جدا کرنے سے وضو پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو نہیں ٹوٹتا۔

لما فی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/34،رشیدیة)
و لو کان علی أعضاء وضوئہ قرحة نحو الدمل و علیہ جلدۃ رقیقۃ فتوضأ و أمر الماء علی الجلدۃ ثم نزع الجلدۃ و لم یغسل ما تحتھا و صلی جازت صلوتہ
وفی الموسوعة الفقھیة:(43/340،علوم اسلامیہ)
انقلعت من وجھہ جلدۃ بعد غسلھا ھل یلزمہ غسل ما ظھر أم لا؟ فذھب الحنفیۃ و المالکیۃ فی الراجح…. إلی أنہ لایلزمہ غسل ما ظھر و لایعید وضوئہ
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/228،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(1/207،فاروقیہ)
وکذافی نور الایضاح مع مراقی الفلاح:(93،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/5،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/168،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/18،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/65،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :172

اگر پانی میں چرس مل جائے تو وہ پانی پاک ہو گا یا ناپاک؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نشہ آور ہونے کی وجہ سے چرس کا بلا ضرورت استعمال اگرچہ حرام و ناجائز ہے،مگر یہ چرس خودپاک ہے ،پانی میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا،البتہ اگر پانی کی قلیل مقدار میں چرس ملی ہو تو اس کا پینا اس لیے درست نہ ہو گا کہ وہ نشہ آور بن چکاہے۔

لما فی فقہ البیوع:(1/294،معارف القرآن)
وقد ثبت من مذھب الحنفیۃ المختار ان غیر الاشربۃ الاربعۃ(المصنوعۃ من التمر او من العنب)لیست نجسۃ
وفی الفقہ السلامی وادلتہ:(1/292،رشیدیہ)
انواع الاعیان الطاھرۃ. . . . . .وجمیع انواع النبات ولو کان ساما او مخدرا کالحشیش والافیون والبنج
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(10/46، رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(10/47،43، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(8/218،علوم اسلامیہ)
وکذافی کتاب الفقہ للجزری:(1/13،حقانیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی المحیط البرھانی :(19/123،بیروت)
وکذافی الھدایة:(4/499،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:153

ایک آدمی باوضوبستر پر لیٹا ۔کچھ ہی دیر بعد اس پر اونگھ اور نیند کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور آس پاس کیا ہو رہا ہے اس کو سب پتا چل رہا ہے تو کیا اس آدمی کا وضو باقی ہے؟ جبکہ اس اونگھ اور نیند کی کیفیت کے علاوہ اور کوئی بھی مفسد وضو نہ پائے جانے کا اس کو یقین ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو نہیں ٹوٹا،تاہم احتیاطاً نیا وضو کر لینا بہتر ہے۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/74،حقانیہ)
واذا نام نوما خفیفا وھو مضطجع بحیث یسمع من یتحدث عندہ فانہ لا ینقض
وفی مراقی الفلاح:(90،قدیمی)
والنعاس الخفیف الذی یسمع بہ ما یقال عندہ لا ینقض
وکذافی البحر الرائق:(1/75،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/425، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/12، رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/298، رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(1/298، رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(1/255،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(40/374،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:150

اگر جسم پر ایلفی لگ جائے اور بہت کوشش کے باوجود نہ اترے تو کیا کھال کھرچنا ضروری ہے یا ویسے بھی وضواور نماز ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں پٹرول وغیرہ سے ایلفی اتارنے کی بھر پور کوشش کی جائے،لیکن اگر جسم پر زخم آئے بغیر ایلفی اتارنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری میں اس کی موجودگی میں بھی وضو اور نماز ہو جائے گی ۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/ 13، رشیدیہ )
والصرام والصباغ ما فی ظفرھما یمنع تمام الاغتسال و قیل کل ذالک یجزیھم للحرج والضرورۃ و مواضع الضرورۃ مستثناۃ عن قواعد الشرع کذا فی الظھیریۃ
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/275 ، فاروقیہ)
سئل الشیخ نجم الدین النسفی عن امراۃ تغتسل من الجنابۃ ھل تتکلف بایصال الماء الی ثقب القرط ؟ قال : ۔۔۔۔۔ان لم یکن القرط فیہ ان کان لا یصل الماء الیہ الا بتکلف لا تتکلف
وکذافی التنویر مع شرحہ الدر المختار:(1/ 316، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/142 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ :(1/34 ، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(63 ، قدیمی)
وکذا فی التاتارخانیہ :(1/206 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/13/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 192