سانڈے کا تیل پاؤں پر لگا کراوپر پٹی باندھ لی جائے تو ایسی صورت میں وضو اور نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سانڈے کا تیل چونکہ نجس ہے اس لیے بلاضرورت شدیدہ اس کا استعمال جائز نہیں،البتہ اگر کوئی ماہر اور دین دار طبیب اسی کو بطور علاج تجویز کرئے اور کوئی دوسری دواء بھی اس کے قائم مقام نہ ہو تو بوجہ مجبوری اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔
اب اگر یہ تیل پاؤں پر لگا کر اوپر پٹی باندھ لی جائےتو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر پاؤں دھونے میں حرج ہو توپٹی کے اوپر مسح کرنے کی گنجائش ہے ورنہ پاؤں دھونا ضروری ہے۔

لما فی الھندیة:(5/355،رشیدیہ)
يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه
وفی التاتارخانیہ:(18/200،فاروقیہ)
فان الاستشفاء بالمحرم انما لاتجوز اذا لم یعلم فیہ شفاء ما اذا علم فیہ شفاء ولیس لہ دواء اٰخر غیرہ یجوز الاستشفاء بہ
وفی المحیط البرھانی:(1/360،بیروت)
المسح على الجبائر إنما يجوز إذا كان لا يقدر علی المسح على القرحة كما كان لا يقدر على غسلها بأن كان يضرها الماء، أما إذا كان يقدرعلی المسح على القرحة فلا يجوز المسح على الجبائر
وکذافی التاتارخانیہ:(1/425،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/164،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/502،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/50،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/35،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/146،حقانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(40/80،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:51

ایک مسجد کے واش روم اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ان میں قضائے حاجت کرتے ہوئے ،قبلہ کی طرف پشت ہوتی ہے۔انتظامیہ کو توجہ دلائی تو وہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی گناہ ہوتا ہے تو اس کا فتویٰ لے کر آؤ،ہم ان کو درست کر لیں گے۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پشت کر کے بیٹھنے سے،پیارے آقا ﷺنے،منع فرمایا ہے اور فقہائے کِرام نے بھی اس کو مکروہِ تحریمی کہا ہے اور اس میں ہر جگہ کے واش روم داخل ہیں،لہٰذا مسجد کے ان واش روموں کو صحیح رخ پر کرنا از حد ضروری ہے۔

لما فی ‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬القرآن الکریم:(الحشر:7)
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
وفی صحیح البخاری:(1/123،رحمانیة لاھور)
عن أبي أيوب الأنصاري، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:”إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا.”{وبھامشہ}(ھذا) مخصوص باہل المدینۃ لانھم المخاطبون ویلحق بھم من ھو علی سمتھم
وفی سنن ابی داود:(1/13، رحمانیة لاھور)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”إنما أنا لكم بمنزلة الوالد، أعلمكم فإذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة، ولا يستدبرها…..الحدیث
وفی التنویر مع شرحه:(1/341،ایچ .ایم.سعید کمپنی کراچی )
كما كره) تحريما (استقبال قبلة واستدبارها ل) أجل (بول أو غائط……ولو في بنيان) لإطلاق النهي
وفی الشامیة: (قوله واستدبارھا)ھو الصحیح
وکذافی الھندیة:(1/50،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/422، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی ملتقی الابحرومجمع الانھر:(1/100،المنار کوئٹہ)
وکذافی الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید:(1/62،طارق افغانستان)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
81/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 114

ایک شخص کا آپریشن ہوا تھا اس دو ران ڈکٹروں سے کو ئی رگ کٹ گئی یا کچھ ا ور مسئلہ ہوا اب اس کی حالت یہ ہے کہ اسے جب احتلام ہو تو منی با ہر نہیں نکلتی ،جبکہ اسے انزال کا بخو بی احساس ہو تا ہے ،تو اس پر غسل واجب ہو گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صور تِ مسئو لہ میں غسل فر ض نہیں ہوگا۔

لما فی الھند یة:(1/14،رشید یة)
اذا احتلم الر جل و انفصل المنی من مو ضعہ الا أنہ لم یظھر علی رأس الاحلیل لا یلزمہ الغسل
وفی الخانیة علی ھامش الھند یة:(1/43،رشید یة)
اذا احتلم الر جل و انفصل المنی عن مو ضعہ الا أنہ لم یظھر علی رأس الاحلیل لا یلز مہ الغسل لأن الجنا بۃ تتعلق بخروج المنی و ھو الا نتقال من مو ضع الی مو ضع یلحقہ حکم التطھیر
وکذافی منحة الخالق علی البحر الرائق :(1/107،رشید یة)
وکذا فی البزا زیة:(4/11،رشید یة)
وکذا فی رد المحتار :(1/159،سعید)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/147،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(1/231،دار احیاء تراث)
وکذا فی التاتا ر خا نیة:(1/283،فا رو قیہ )
وکذا فی خلا صة الفتاو ی :(1/13،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:164

ایک باوضوآدمی کے جسم سے خون کی بو تل حاصل کی جائے تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ؟جبکہ یہ خون جسم پربہا نہیں ہے، بلکہ بذریعہ سرنج صرف خون والی تھیلی میں پہنچا ہے ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جسم سے نکل کر دوسری جگہ قرار پکڑ لینا یہ بہنے ہی کے حکم میں ہے ،لہذا اس سے وضو ٹوٹ جائیگا۔

لما فی المحیط البر ھانی :(1/197،دار احیاء تراث)
العلقۃ اذا أخذت بعض جلد انسان و مصت حتی امتلأت من دمہ بحیث لو سقطت لسال انتقض الوضوء لأن الدم فیہ سائل
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/38،رشیدیة)
اذامصتہ العلقۃ وامتلأت من الدم نقض الوضوء لانھا لو شقت لخرج منھادم سائل والقراد اذاکان صغیر ا فھو بمنزلۃ البعوض والذباب لا ینقض الوضوء وان کان کبیرا یخرج منھا دم سائل فھو بمنزلۃ العلقۃ
وکذافی الھندیة:(1/197،رشیدیة)
وکذا فی فتاوی النوازل :(50،الحقانیة)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(30،زمزم)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/17،رشید یة)
وکذافی التاتار خانیة :(1/45،فاروقیة)
وکذافی البزازیة:(4/12،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1/40،رشیدیة)
وکذافی الولوالجیة :(1/47،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:90

دودھ سے وضو کیا جا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دودھ سے وضو کر نا د ر ست نہیں ۔

لما فی الھند یة :(1/21،رشید یة)
لا یجو ز التو ضؤ بما ء البطیخ و القثاء والقتد و لا بما ءالو رد و لا بشئ من الا شر بۃ و لا بغیر ھا من الما ئعا ت نحو الخل
وفی المختصر الفقہ الحنفی :(48،رشید یة)
لو خالط اللبن الماء فان کا ن لو ن اللبن غا لبا: لا یجو ز الو ضو ء بہ ، و ان لم یکن غا لبا جا ز
وکذافی فتح القد یر :(1/78،رشید یة)
وکذا فی البحر الرا ئق :(1/128،رشید یة)
وکذا فی بدا ئع الصنا ئع :(1/94،رشید یة)
وکذا فی اللباب :(1/43،رشید یة)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/38،الحقا نیة)
وکذا فی التا تارخا نیة :(1/342،فا ر و قیة)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(1/276،دار احیا ء ترا ث)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:59

مرغی کا خراب انڈا جس میں بچے کاوجود شروع ہو چکا ہو کپڑوں پر گر کر ٹوٹ گیا تو کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔

لما فی التاتار خانیة:(1/443،فاروقیة)
البیضۃ اذا مذرت من غیر أن یحضنھا الدجاج تنجست
وفی الموسو عة الفقھیة:(8/267،علوم اسلامیة)
البیضۃ المذر(وھوالفاسد بوجہ عام اذا استحالت البیضۃ دما صارت نجسۃعند الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ فی الصحیح من مذھبھم
وکذافی کتاب الفقہ :(1/21،الحقانیة)
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(78،البشری)
وکذا فی البنایة:(1/341،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/21، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:107

وضوکے بعد اگر مو زوں پر جر مو ق پہن لیے ہوں تو کیا صرف ان جر مو ق پر مسح کر نا کا فی ہو گا یا مو زو ں پر ہی مسح ضرو ری ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئو لہ میں اگر وضو کر نےکے بعد مو زے پہن لیے پھر وضو ٹو ٹنے سے پہلے ان پر جر موق پہن لیے تو مسح کر نا جائز ہے ، اگر وضو ٹو ٹنے کے بعد یا موزوں پر مسح کر نے کے بعد جر مو ق پہن لیے تو مسح کر نا جا ئز نہیں ہے ۔

لما فی منحة الخا لق علی البحر الر ائق :(1/414،رشید یة)
و یشترط لجوا ز المسح علی الجر مو قین الخ)…: قال فی السراج: و ا علم أن المسح علی الجر مو قین انما یجو زبشر طین :أ حد ھما أن لا یتخلل بینہ و بین الخف حد ث کما اذا لبس الخفین علی طھا رۃ و لم یمسح علیھما حتی لبس الجر مو قین قبل أن تنقض الطھا رۃ التی لبس علیھا الخفین، فحینئذ یجو زالمسح علی الجر مو قین .وأما اذا أ حد ث بعد لبس الخفین أو مسح علیھما ثم لبس الجر مو قین بعد ذلک لا یجو ز لہ المسح علی الجر مو قین لأن حکم المسح قد استقر علی الخف
وفی رد المحتا ر:(1/268،سعید)
و أن یلبسھما قبل أن یمسح علی الخفین و قبل أن یحد ث ،فلو کا ن مسح الخفین أو احد ث بعد لبسھما ثم لبس الجر مو قین لایجوز المسح علیھما اتفا قا ، لأ نھما حینئذ لا یکو نان تبعا للخف
وکذافی البحر الرا ئق :(1/314،رشید یة)
وکذا فی منیة المصلی :(37،مجد یة)
وکذا فی الھند یة:(1/32،رشید یة)
وکذا فی الخا نیةعلی ھا مش الھند یة:(1/52،رشید یة)
وکذا فی المبسوط :(1/102،دار المعر فة)
وکذا فی بد ائع الصنا ئع :(1/85،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(1/345،دار احیاء ترا ث)
وکذا فی التا تا ر خانیة:(1/409،فار و قیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:15

موبائل پر بغیر وضوء کے قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں کرسکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ وضوء کرلیا جائے۔

لما فی التنویر مع الدر:(1/173،سعید)
ویحرم بہ (تلاوۃ القرآن)….( ومسہ)…. (الا بغلاف)
وفی البدائع:(1/140،رشیدیہ)
ولامس المصحف من غیر غلاف عندنا
وفی الفقہ الاسلامی:(1/626،رشیدیہ)
واستثنی الحنفیۃ حالۃ مس القرآن بغلاف متجاف عن القرآن
وکذافی الجوہرة:(1/89،قدیمی)
وکذافی المحیط البرہانی:(1/402،بیروت)
وکذافی بذل المجھود:(2/141،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:93

چھوٹے بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئےوہ حفظ کی کلاس میں اگر قرآن کو بغیر وضو چھوئیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابالغ بچے قرآن پاک کو بغیر وضوچھوسکتے ہیں،لیکن ان میں جو سمجھ دار ہوں ،ان کو وضو کا کہنا چاہیے۔

لما فی المحیط البرہانی : (1 /22 ،رشیدیہ )
دفع المصحف واللوح الذی علیہ القرآن الی الصبیان وعامۃ المشایخ لم یرو بہ باسا؛لانہم غیر مخاطبین بالوضوو فی التاخیر تضییع القرآن
وفی الفتاوی الھندیة: (1 / 39 ، رشیدیہ )
ولا باس بدفع المصحف الی الصبیان وان کانوامحدثین وھو الصحیح
وکذافی ردالمحتار : (1 / 349 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /27،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/626،رشیدیہ)
وکذا فی الفتح القدیر:(1/172،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/43،المنار)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/58،امدادیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/351،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(1/135،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃالحسن،ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:21

ایک آدمی نے غسل کیااور جلدی کی وجہ سے اس کے جسم کا کچھ حصہ خشک رہ گیانمازپڑھنے کے بعد اس نے دیکھاتو اسے علم ہوا،اب وہ دوبارہ غسل کرکے نماز کا اعادہ کرے یا اسی خشک جگہ کو تر کرلے اور نماز کا اعادہ کرلے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اسی خشک جگہ کو تر کرکےنماز کا اعادہ کرلے،دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی کتاب الاصل:(1/59،عالم الکتب)
قلت:ارائیت رجلاجنبااغتسل فبقی من جسدہ قدرموضع اللدرھم لم یصبہ الماءثم صلی رکعۃ او رکعتین ثم ضحک؟قال:علیہ ان یغسل ذلک المکان الذی لم یصبہ الماءویستقبل الصلوۃولا یعید الوضوء
وفی سنن ابن ماجہ:(150،رحمانیة)
عن علی رضی اللہ عنہ قل جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال انی اغتسلت من الجنابۃ وصلیت الفجر ثم اصبحت فرایت قدر موضع الظفر لم یصبہ الماءفقال رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوکنت مسحت علیہ بیدک اجزاک
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/523،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/142،رشیدیة)
وفی البحر الرائق:(1/86،رشیدیة)
وفی التاتارخانیة:(1/272،فاروقیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/13،رشیدیة)
وفی خلاصة الفتاوی:(1/14،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی :(1/101،الطارق)
وفی المحیط البرھانی:(1/226،داراحیاتراث)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1443/2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:157