ایک آدمی مسجدمیں سوگیااور اسے احتلام ہوگیا،کیا یہ آدمی فوراً غسل کرےیا؟(1)اگرجان کرفجرکی نمازتک سویارہاتوکیاگناہ گار ہوگا؟(2)اگرنینداڑجانےکےخوف سےسویارہاتوگناہ گارہوگا؟(3)نیزاگرمنی کپڑےپرخشک ہوجائے اور یہ مسجدسےباہرنکلنے کاارادہ کرے توکیایہ پاؤں مسجدکےفرش پربغیرحائل کےرکھ سکتاہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

(1،2)

ایساآدمی تیمم کرکےفوراًمسجدسےباہرنکل جائےاوربغیرغسل کیےمسجد میں داخل نہ ہو،اگر جان بوجھ کرنیندخراب ہونےکے خوف سےسویا رہاتوگناہ گارہوگا۔(3)مسجد سےنکلنےکے لیےبغیرحائل بھی مسجدکےفرش پرپاؤں رکھ سکتا ہے۔

لمافی الموسوعة الفقہیة:(37 /218 ،علوم اسلامیہ)
اتفق الفقہاءعلی انہ لیس للمراءۃ اذاحاضت،والرجل اذااجنب،وھمافی المسجدان یبقیافیہ وھماعلی ماھماعلیہ، وعلیھماان یخرجامنہ حتیٰ یطھرکل منھمافقدروت عائشۃ رضی اللہ عنھاقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لااحل المسجد لحائض ولاجنب
وفی الفتاوی الولوالجیة:(1/53،الحرمین شریفین)
النائم اذااحتلم وہوفی المسجدان امکنہ ان یخرج من ساعتہ خرج واغتسل حتی لایبقیٰ فی المسجدجنباً، وان لم یمکن بان کان فی وسط اللیل ولم یقدرعلی الخروج؟ یستحب لہ التیمم حتیٰ لایبقی فی المسجدجنباً
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/418،الطارق) وکذافی الدرالمختار :(1/172،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/38،رشیدیہ) وکذافی النھرالفائق:(1/131،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی حاشیة کنزالدقائق:(1/13،حقانیہ) وکذافی التبیین وھامش ِتبیین الحقائق:(1/56،امدادیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 1/150 ،رشیدیہ ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1 /539 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19/2/1443/2021/9/26
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:41

گھاس سےاستنجاءکرناجائزہےیانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

جائزنہیں۔

لمافی الفتاوی السراجیة:(1/42،زمزم)
“لایستنجی بالاشیاءالنجسۃولابالعظم ولابعلف الدواب ۔ “
وفی الشامیة:(1/605،رشیدیہ)
“قال فی “الحلیۃ”: واذاالنھی فی مطعوم الجن وعلف دوابھم ففی مطعوم الانس وعلف دوابھم بالاولی۔ “
وکذافی اللباب:(1/70،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/100،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(1/421،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/103،رشیدیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/84،البشریٰ)
وکذافی النھرالفائق:(1/154،قدیمی)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/78،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1443/2022/4/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:174

وضو کا جو پانی استعمال ہوگیا ہے،اس سے استنجاء ہوجائے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوجائے گا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(79،البشریٰ)
 ویکرہ أن یشرب ماءًمستعملا أویطبخ بہ شیاءً وتجوز ازالۃ النجاسۃ بہ
وفی البحر الرائق:(1/174،رشیدیہ)
 عن ابی حنیفۃ أن الماء المستعمل طاھرغیرطھور لأن إزالۃالنجاسةالحقیقۃ تجوز بالمائعات عند ابی حنیفۃ
وفی ھامش الھدایة:(1/80،البشریٰ)
الماء المستعمل لا یطھر الاحداث)خص الاحداث بالذکر،لأنہ یطھر الأنجاس اذھو مائع مزیل کالخل
وکذافی الفتاوی التتارخانیہ:(1/342،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/276،داراحیاءتراث)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/274،رشیدیہ)
وکذافی العنایہ علی الھامش فتح القدیر:(1/909،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ فی شرح الھدایة:(1/344،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:59

بے وضو آدمی کو اگر قرآن پاک کی کوئی آیت لکھنے کی ضرورت پڑ جائےتو وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن پاک لکھتے ہوئے اس صفحہ پر اگر ہاتھ نہ رکھے تو اس کی گنجائش ہےورنہ نہیں۔

لما فی الحیط البرھانی:(1/402،داراحیاء تراث)
ولا باس لھا بکتابۃ القرآن عند ابی یوسف اذا کانت الصحیفۃ علی الارض،لانھا لاتحمل المصحف،والکتابۃ تقع حرفا حرفاولیس الحرف الواحد بقرآن،وقال محمد احب الی ان لا تکتب،انہ حکم الماس للحروف فھی بکلتیھا قرآن
وفی بدائع الصنائع:(1/149،رشیدیہ)
ولو کانت الصحیفۃ علی الارض فاراد الجنب ان یکتب القرآن علیھا۔روی عن ابی یوسف انہ لا باس،لانہ لیس بحامل للصحیفۃ،والکتابۃ توجد حرفاحرفا،وھذا لیس بقرآن۔وقال محمد احب ان لایکتب لان کتابۃ الحروف تجری مجراۃ القراۃ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/122،الطارق)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/39،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/57،الحرین شریفین)
وکذافی کتاب التجنیس والمزید:(1/191،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/480،فاروقیہ)
وکذافی شرح الفتح القدیر:(1/172،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(144،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1443/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:108

اگر کوئی آدمی پانی میں ڈوب کر مر جائے تو اسے غسل دیا جائیگایا بغیر غسل کے اسے جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

میت کو پانی سے نکالتےہوئے غسل کی نیت سے اس کو حرکت دےدی جائےتو یہ کافی ہے ،مزید غسل دینے کی ضرورت نہیں، ورنہ مسنون طریقے سے غسل دیا جائے گااور اگر میت کی حالت خراب ہو تو اس پر صرف پانی بہادیں گے۔

لما فی الفتاویٰ العالمکیریہ:(1/158،رشیدیہ)
المیت اذاو جد فی الماء لابد من غسلہ لان الخطاب بالغسل توجہ علی بنی آدم ولم یوجد من بنی آدم الاان یحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل عند الاخراج ولو کان المیت متفسخا یعتذر مسحہ کفی صب الماء علیہ
وفی ردالمحتار علی الدر المختار:(3/108،دارالمعرفة)
لووجد المیت فی الماء فلابد من غسلہ ثلاثا)لانا امرنا بالغسل فیحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل ثلاثا
وکذا الفتاوی التاتارخانیہ:(1/12،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/49،داراحیاءتراث)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/24،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/304،رشیدیہ)
وکذافی کتاب التجنیس والمزید:(2/241،ادارة القرآن والعلوم)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(569،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:107

ایک آدمی نےغسل کیااور ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا، نماز پڑھنے کے کافی دیر بعداسے یاد آیا کہ ا س نے ناک میں پانی نہیں ڈالا تھا۔تو اس صورت میں وہ کیا کرے؟نماز اور غسل کا اعادہ کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں غسل کا اعادہ نہیں کریگا ،صرف ناک میں پانی ڈالنا کافی ہےاور نماز کا اعادہ کیا جائے گا کیونکہ غسل میں ناک میں پانی ڈالنا فرض ہےاور ناک میں پانی نہ ڈالنے کی وجہ سے غسل مکمل نہ ہوا تھا۔

لما فی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط:(1/59،عالم الکتب)
قلت:ارایت.رجلا جنبا فنسی المضمضۃ والاستنشاق ثم دخل فی الصلاۃ فصلی رکعۃ ورکعتین ثم ضحک کیف یصنع؟ قال:علیہ ان یتمضمض ویستنشق ویعید الصلاۃ ولا یعید الوضوء
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/106،الطارق)
“وعن ابن عباس رضی اللہ عنہ فی جنب نسی المضمضۃ والاستشاق قال:یمضمض ویستنشق ویعید الصلاۃ. “
وکذافی کتاب المبسوط للشمس الدین السرخسی:(1/61،دارالمعرفة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/14،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(1/381،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی سنن الدار القطنی:(1/122،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(1/277،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/225،داراحیاءتراث)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/13،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/276،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1443/2021/12/14
جلد نمبر 25 فتوی نمبر:188

قے سے وضوٹوت جاتا ہےیانہیں؟نیز اگر قے کپڑوں پر لگ جائے توکپڑے ناپاک ہوتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قے اگر “منہ بھر کر” ہویاتھوڑی تھوڑی کئی بار آئے اور اندازے سے “منہ بھر ” کے برابر ہوجائےتو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہےاور کپڑوں پر لگنے سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں ۔مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اس سے وضونہیں ٹوٹتااور کپڑے بھی ناپاک نہیں ہوتے۔

لما فی الھدایة مع الدرایة: (1/37،البشریٰ)
ولو قاء متفرقا بحیث لو جمع الفم فعند ابی یوسف یعتبر اتحاد المجلس وعند محمد یعتبر اتحاد السبب وھو الغثیان ثم مالا یکون نجسا
وفی مجمع الانھر:(1/ 31،المنار)
والقی ملاء الفم ولو طعاما او ماء او مرۃ او علقما لا بلغما مطلقا خلافا لابی یوسف فی الصاعد من الجوف ویشترط فی الدم المائع مساواۃ البزاق لا الملاء خلافا لمحمد وھو یعتبر اتحاد السبب لجمع ما قاء قلیلا وابو یوسف اتحاد المجلس وما لیس حدثا لیس بنجس
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:( 1/ 293،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلته : ( 1/ 423،رشیدیة)
وکذافی البحر الرائق شرح کنزالدقائق:( 1/ 67،رشیدیة)
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب:( 1/ 37،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/9،حقانیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:( 1/ 122،رشیدیة )
وکذافی الفتاوی العالکیریة للشیخ نظام والجماعة:( 1/ 11،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 1/198،دار احیاء تراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:( 1/247،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/2/1443/2021/10/2
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:50

غسل جنابت میں پاک ہونے کی نیت کرنا ضروری ہے؟ اگر ہے تو اس کی وضاحت فرما دیں ۔

الجواب حامداومصلیا

جی سنت ہے۔

لما فی الھندیة:(1/14،رشیدیہ)
“یسن أن یبدأ بالنیۃ بقلبہ ویقول بلسانہ نویت الغسل لرفع الجنابۃ أو للجنابۃ ۔”
وکذا فی الفقہ الإسلامی وادلتہ:(1/527،رشیدیہ)
“والإبتداء بالنیۃ عند الحنفیۃ سنۃ لیکون فعلہ تقربا یثاب علیہ کالوضوء۔”
وکذا فی التاتارخانیة:(1/272،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/225،إدارة القراٰن)
وکذا فی السراجیة:(32،زمزم پبلشرز)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(37،البشرٰی)
وکذا فی الدر والرد:(1/314،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/107،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:34

اگر گھر میں بلی پالی جائےتو کیا اس کاپیشاب اور پاخانہ پاک ہے؟

الجواب حامداومصلیا

ناپاک ہے۔

لما فی التاتارخانیة:(1/430،فاروقیہ)
وبول الھرۃ نجس(وعلی الصفحۃ،442)وفی الفتاوی العتابیۃ:خرءالھرۃ نجس
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(72،البشرٰی)
وبول الھرۃ والکلب ونحوھما من الحیوانات التی لا یؤکل لحمھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأرواث جمیع الحیوانات سواءٌ کانت مما یؤکل لحمھا أو لا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وبول الحیوانات التی لایؤکل لحمھا جمیع ھذہ نجاسات غلیظۃ
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(40/91،علوم اسلامیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/196،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(1/575،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/46،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیة:(1/19،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/54،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/321،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22،5،1443/21،12،27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:63

ایک عورت کو ولادت کے بعد بتیس دن خون آیاپھر سفید پانی آنا شروع ہو گیاتواس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا مصلیا

صورت مسئولہ میں بتیس دن تک نفاس ہے اس کے بعد طہر شروع ہو جائے گا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/131،رحمانیہ)
وقد اجمع اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ والتابعین ومن بعد ھم علی ان النفساء تدع الصلاۃاربعین یوماالّا ان تری الطھر قبل ذلک فإنّھا تغتسل وتصلی
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/157،رشیدیہ)
وأماالکلام فی مقدارہ فأقلہ غیر مقدار بلاخلاف(بعد اسطر)وأمااکثرالنفاس فأربعون یوما عند اصحابنا
وکذا فی مجمع الانھر:(1/82،المنار)
وکذافی المختصر القدوری:(17،الخلیل)
وکذافی الھدایۃ:(1/67،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/546،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/622،رشیدیہ)
کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/146،الطارق)
وکذافی الھندیۃ:(1/37،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28،4،1443/2021،12،4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:158