جسم پر وائٹنرکی سفیدی یا ایلفی لگ جائے تواس حالت میں کیے جانے والے وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جسم پراگر وائٹنر کی سفیدی یا ایلفی لگی ہو تو اسے کھرچ کر یا پٹرول وغیرہ سے اپنی بساط کی حد تک خوب صاف کریں ، لیکن اگر بھر پور کوشش کے بعد بھی کچھ رہ جائے تو وضو اور غسل درست ہو جائیں گے۔

لمافی الشامیة:( 1/313 ،دار المعرفہ)
یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلا حرج مرۃ و(علی الصفحۃ 317)لا یمنع علی ما ظفر صباغ ولا طعام بین اسنانہ او فی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/100،حقانیہ)
و قد اختلف فی الاثار التی تقتضیھا ضرورۃ اصحاب المھن کالخباز الذی یعجن دائما والصباغ الذی یلصق بین اظافرہ صباغ ذوجرم یتعسر زوالہ و نحوھما فقال بعضھم انہ یبطل الغسل وقال بعضھم لا یبطل لان ھذہ الحالۃ ضرورۃ والشریعۃ قد استنثت احوال الضرورۃ ، فلا حرج علی مثل ھؤلاء، و ھذاالقول ھو الموافق لقواعد الشرع الحنیف
وکذافی المحیط البرہانی:(1/163،ادارة القرآن)
وکذافی البحرالرائق :(1/29،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ :(1/4،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح :(63،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/200،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(1/392،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443،2021/12/5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:154

ہمارے مدرسہ کی ٹینکی سے مردہ چوہا نکلا ہے جو پھولا پوا تھا چوہانکال کر ٹینکی پاک کردی گئی ،مسئلہ تو یہ مشہور ہے کہ ایسی صورت میں 3دن رات کی نمازیں لوٹائی جائیں اورجن چیزوں کو ٹینکی کا پانی لگا ہے وہ پاک کر دی جائیں،لیکن مشکل یہ ہے کہ اس دوران مدرسہ کا پروگرام تھا جس میں مختلف علاقوں سے بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے،ان سب کو اطلاع کرنا ممکن نہیں ہےاورمدرسہ کے تمام برتنوں اورکپڑوں کو پاک کرنا یقیناًمشقت میں ڈالے گا،تو اس کا کوئی اور حل ہے؟ جن لوگوں کے کپڑوں پر وضو،غسل یا استنجاء کی وجہ سے یہ پانی لگا تھا پھر انہوں نے پاک پانی سے وضو وغیرہ کر کے انہی کپڑوں میں نماز پڑھی تو ان کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟جبکہ ان کے کپڑوں پر تویہ ناپاک پانی لگا ہوا تھا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

نمازوں میں احتیاط اس میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے 3دن رات کی نمازیں لوٹائی جائیں،اور باقی چیزوں کے بارے صاحبین رحمہم اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے علم ہونے کے وقت سے نجاست کا حکم لگایا جائے گا ،اور جن لوگوں کو اطلاع کرنا ممکن نہیں ہے ان کی نماز ہو جائے گی۔

لما فی تنویرالابصار وشرحہ:(1/420،رشیدیہ)
ومذ ثلاثۃ ایام )بلیالیھا(ان انتفخ او تفسخ )استحسانا.وقالا:من وقت العلم فلایلزمھم شیئ قبلہ ، قیل: وبہ یفتی.
وفی ردالمحتارلابن عابدین رحمہ اللہ :(1/419،420،رشیدیہ)
اشار”فی الدرر“الی ان ما قالہ الزیلعی ملفق من قول الامام وقولھما حیث قال بعد نقلہ کلام الزیلعی:یؤیدہ ما قال فی”معراج الدرایۃ“ ان الصباغی کان یفتی بھذا انتھی:ای بھذا التفصیل ، قال فی البحر:کان الصباغی یفتی بقول ابی حنیفۃ فیما یتعلق بالصلاۃ وبقولھما فیما سواہ ، کذا فی”معراج الدرایۃ“………وصرح فی البدائع بان قولھما قیاس ،وقولہ استحسان ،وھو الاحوط فی العبادات
وکذا فی البحر الرائق:(1/220،رشیدیہ) وکذا فی مجمع الانھر:(1/54،المنار)
وکذا فی اللباب:(1/50،قدیمی) وکذا فی الھندیہ:(1/20،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمنتقی علی مجمع الانھر:(1/53،المنار) وکذا فی الھدایہ:(1/47،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/9/1440-2019/5/23
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:70

جنابت کی حالت میں عورت بچے کو دودھ پلا سکتی ہے ،اس میں کراہت تو نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

پلا سکتی ہے ،البتہ اگر وضو کرلے تو بہتر ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(1/41،رحمانیہ)
عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا أراد أن یأکل أو ینام توضأتعنی وھو جنب
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/292،فاروقیہ)
الظھیریۃ:ولو عاودجنب أھلہ أو نام قبل أن یتوضأ لم یکرہ……..واذا أراد الجنب الأکل فینبغی أن یغسل یدیہ ثم یتمضمض ثم یأکل
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/70،دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/237،داراحیاءتراث)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(1/350،351،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/136،فاروقیہ)
وکذا فی شرح معانی الآثار:(88،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:123

اگرکسی شخص کوبیدارہونےکےبعدیہ شک ہوا کہ شاید مجھ پر غسل فرض ہوگیاہےلیکن اس کو کپڑوں پرنجاست کےکچھ اثرات نظر نہیں آئےتواسےکیا کرنا چاہیے؟(2)جب بندےپرغسل فرض ہوتوکیااس حالت میں وہ کھانا کھا سکتا ہے؟یابال وغیرہ کٹواسکتاہے؟کیااس دوران کسی سے گفتگو وغیرہ کرسکتا ہے؟اوراگر غسل نہیں کیا تو کیا صرف وضوکرکےسفرکی نیت سےچلاجائےاورمقام پرجاکر غسل کر لےتواس کےلیے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

غسل فرض نہیں ہوا۔

(2)

افضل اور بہترتو یہی ہے کہ غسل کرنے میں تاخیر نہ کی جائےکیونکہ جنبی کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے،لیکن اگر کسی وجہ تاخیر ہوجائےتو حالت جنابت میں سفرکرنااورگفتگوکرناجائز ہےالبتہ وضو کرلینا بہترہے،اور کلی کرکےاورہاتھ دھوکر کھاناکھانابھی جائز ہے،لیکن حالت جنابت میں بال کٹوانا مکروہ ہے۔

لما فی الھندیہ:(1/15،رشیدیہ)
ولوتذکرالاحتلام ولذۃ الانزال ولم یربللا لایجب علیہ الغسل، والمراۃ کذالک فی ظاہرالروایۃ لان خروج منیھا الی فرجھاالخارج شرط لوجوب الغسل علیھا، وعلیہ الفتوی، ھکذا فی معراج الدرایۃ
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/292،فاروقیہ)
الیتیمۃ:ولاباس اذا اجنب نھارا ان یخرج فی حوائجہ من غیر ان یغتسل اویتوضا ،…واذا اراد الجنب الاکل فینبغی ان یغسل یدیہ ثم یتمضمض ثم یاکل
کذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(1/333،رشیدیہ)
کذافی ردالمحتار:(1/333،رشیدیہ)
کذافی جامع الترمذی:(1/124،رحمانیہ)
کذافی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
کذافی التاوی التاتارخانیہ:(1/291،فاروقیہ)
کذافیہ:(18/136،فاروقیہ)
کذافی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(1/356،رشیدیہ)
کذافی المحیط البرھانی:(1/236،داراحیاءتراث)
کذافی المعجم الکبیر للطبرانی:(5/416،دارالکتب العلمیہ)
کذافی کنزالعمال:(9/167،رحمانیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
8/6/1440،2019/2/14
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:148

ایک آدمی نے استنجاء کرنا تھا لیکن اس کو وضو کے وقت یاد نہ رہا جب اس نے وضوء کر لیا بعد میں یاد آیا ،تو اب وہ استنجاء کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرے گا یا وہی وضوکافی ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہیں بیابان میں یا کھیتوں میں بول و براز کرلیتا ہے اور صرف ڈھیلے سے استنجاء کر لیتا ہے ،پھر بعد میں جب پانی مہیا ہوتا ہےتو پانی سے بھی استنجاء کر لیتا ہے ،اس طرح پانی سے استنجاء کرنے سے پہلے اگر نماز کے لیے وضوکر لیا اور پھر پانی سے صرف استنجاء کر لیا تو اس سے وضو ختم نہ ہو گا ،یہ ایسے ہے گویا اس نے اپنے جسم پر لگی گندگی کو دور کیا ہے ،ہاں اگر وضوکے بعد بول و براز کر کے استنجاء کیا تو وضو ختم ہو جائے گا ۔

لما فی الدر المختار علی رد المحتار :(1/615،رشیدیہ)
استنجی المتوضی ،ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض ،والا فلا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/437،رشیدیہ)
ینقض الوضوء اثنا عشر شیئا:ما خرج من السبیلین الا ریح القبل فی الاصح ،وولادۃ من غیر رؤیۃ دم،ونجاسۃ سائلۃ من غیر السبیلین کدم وقیح وقیئ طعام او ماء او علق (دم متجمد من المعدۃ )،او مرۃ (صفراء )اذا ملأ الفم،……وینقضہ دم غلب علی البزاق او ساواہ، ونوم مضطجعا،او متکئا او مستندا الی شیئ لو ازیل لسقط
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/50،72،الحقانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/215،240،فاروقیہ)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(1/307،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار :(1/308،615،رشیدیہ)
وکذا فی احسن الفتاوی:(2/108،ایچ ایم سعید)
وکذا فیہ:(10/192،ایچ ایم سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2019/2/19
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:151

ایک شخص کے کھیت میں خنزیر مرگیااور سیلاب کا پانی آیا تو پورے کھیت میں گندم کی فصل پر اس پانی کا مکمل اثر پہنچا،کیا یہ فصل استعمال کے لیے حلال ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حلال ہے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 1/45،الطارق)
الجفاف آلۃ مطہرۃ للارض المتنجسۃفقط ،فاذا جفت الارض المتنجسۃ،ولم یظھر اثر للنجاسۃ طھرت بالجفاف، وکل ما کان ثابتا فی الارض ثبات استقرار، کالشجر والکلأَ والحصی والرمل، یاخذحکم الارض
وفی المحیط البرھانی:(1/382،احیاء تراث العربی)
وعن الحسن بن ابی مطیع رحمہ اللہ تعالی قال :لو ان ارضا اصابتھا نجاسۃ ،فصب علیھا الماء ، فجری علیھا الی ان اخذت قد رذراع من الارض ،طھرت الارض والماء طاھر ،ویکون ذلک بمنزلۃ الماء الجاری
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/104،قدیمی)
وکذا فی البنایہ:(1/727،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/44، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار: 1/311،سعید )
وکذا فی فتاوی النوازل:(35،الحقانیہ)
وکذا فی فتاوی الولوالجیہ:(1/44،الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440، 2019، 4، 15
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:26

ہماری مسجد کے ساتھ پانی کا نالہ ہے جس سے مینڈک مسجد میں آجاتے ہیں، اور پیشاب بھی کردیتے ہیں، تو کیا جس جگہ مینڈک کاپیشاب لگا ہوا ہو وہاں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اصولا تو مینڈک کا پیشاب نجس ہے لیکن چونکہ اس سے پچنا ممکن نہیں ہے، اس لیے ضرورت کے پیش نظر ان کے پیشاب کا معاف ہونا معلوم ہوتا ہے،لیکن اگر کسی جگہ پیشاب کے واضح نشانات ہوں تو اس کو دھو لیا جائے، ورنہ شک و شبہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الدر المختار:(1/574،دارالمعرفہ)
وبول غیر ماکول ولومن صغیر لم یطعم )الا بول الخفاش وخرأہ فطاھر،وکذا بول الفارۃ لتعذر التحرز عنہ ،وعلیہ الفتوی کما فی التاتر خانیۃ وسیجئ آخر الکتاب ان خرأھا لا یفسد مالم یظھر اثرہ وفی الاشباہ :بول السنور فی غیر اوانی الماء عفو
وکذا فی المحیط البرھانی :(1/367،احیاء تراث العربی)
وبول الخفاش وخرأہ لیس بشئ ،لانہ لایستطاع الامتناع عنہ ،وکذا دم البق والبراغیث لیس بشئ وان کثر لانہ لیس بدم مسفوح
وکذا فی البنایہ:(1/747،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:(40/113،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/46،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/45،الطارق)
وکذا فی فتاوی النوازل:(29،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440،2019، 4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:148

وضو کے دوران مسواک کرتے ہوئے زبان اور تالو پر مسواک کی جاتی ہے، کیا زبان اور تالو پر بھی تین مرتبہ مسواک کی جائے گی ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

زبان اور تالو پر مسواک کرنے کی تعداد کا ذکر نہ مل سکا ،بظاہر لگتا ہے کہ اگر ایک مرتبہ کرنے سے صفائی حاصل نہ ہو تو تین مرتبہ بھی کر سکتے ہیں۔

لما فی الصحیح لمسلم : ( 1/161،رحمانیہ )
“عن ابی موسی رضی اللہ عنہ قال دخلت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وطرف السواک علی لسانہ .”
وکذا فی فتح الملھم :(1/691، دارالعلوم کراتشی )
عن ابی موسی رضی اللہ عنہ قال : دخلت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وطرف السواک علی لسانہ ۔۔۔۔۔۔ وفی الحجۃ اللہ اقول ینبغی للانسان ان یبلغ بالسواک اقاصی الفم فیخرج بلاغم الحلق والصدر،والاستقصاء فی السواک یذھب بالقلاع، ویصفی الصوت ،ویطیب النکھۃ.
وکذا فی البحر الرائق : (1/42، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/457، رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ :(1/ 149، رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/67، حقانیہ )
وکذا فی الدر المختار :(1/251،دارالمعرفہ )
وکذا فی مرقاة المفاتیح :(2/89، التجاریہ )
وکذا فی تحفة الاحوذی:(1/107،قدیمی )
وکذا فی بذل المجھود:(1/110، قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29، 6، 1440،2019، 3، 6
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:66

کہ ایک آدمی فجر کے بعد سوگیا اور سونے کی حا لت احتلام ہو گیا ظہر تک اس نے غسل نہیں کیا کیا یہ گنا ہ گار ہوگا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں بغیر عذر کے تا خیر خلاف ادب ہے ،اگر غسل میں تا خیر کی وجہ سے کو ئی نماز قضاہو گئی تو گناہ گارہوگا ورنہ نہیں۔

لمافی المصنف عبد الرزاق :(1/279،المکتب الاسلامی )
عن يحيى بن يعمر قال: سألت عائشة: هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام وهو جنب؟ قالت: «ربما اغتسل قبل أن ينام، وربما نام قبل أن يغتسل ولكنه يتوضأ» قال: الحمد لله الذي جعل في الدين سعة… عن ابن عمر، أن عمر استفتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: «نعم، ليتوضأ، ثم لينم حتى يغتسل إذا شاء» قال: وكان عبد الله بن عمر ” إذا أراد أن ينام وهو جنب صب على يده ماء، ثم غسل فرجه بيده الشمال، ثم غسل يده التي غسل بها فرجه، ثم مضمض واستنثر ونضح في عينيه، وغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ومسح برأسه، ثم نام وإذا أراد أن يطعم شيئا، وهو جنب فعل ذلك
وفی بذل المجہود: (2 / 137،قدیمی )
 عن غضيف بن الحارث قال قلت لعائشة ارايت رسول الله صلي الله عليه وسلم كان يغتسل من الجنا بةفي اول الليل او في آخره قالت ربما اغتسل فی اول اللیل وربما فی اغتسل آخر ہ .قلت اللہ اکبر الحمد للہ الذی جعل فی الامر سعۃ
وکذافی فتح الباری : ( 1/517 ،قدیمی )
وکذا فی الکتاب المصنف ابن ابی شیبة: (1 /301 ،دار الکتب العلمية )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:18

اگر غسل کے دوران پیشاب کے دو ،تین قطرے آجائیں تو کیا غسل پھر دوبارہ سے کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں البتہ استنجاء کرکے جسم پر قطرے لگنے والی جگہ کو دھولیا جائے۔

لما فی التاتارخانیة: (1/463 ،فاروقیہ )
وذا کانت النجاسۃ علی بدن الآدمی ذکر فی الاصل انھا لا تطھر لا بالغسل رطبۃ او یابسۃ لھا جرم او لا جرم لھا وفی القدوری :لا یطھر شیئ مما کا فیہ نجاسۃ من ثوب او بدن الا بالغسل .
وفی بدائع الصنائع: (1/241،رشیدیہ )
وأما سائر النجاسات إذا أصابت الثوب أو البدن ونحوهما فإنها لا تزول إلا بالغسل، سواء كانت رطبة أو يابسة، وسواء كانت سائلة أو لها جرم
وکذافی جامع الترمذی(1/114 ،رحمانیہ )
وکذافی الشامیة: (1/561 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: (1/74 ،میزان )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1/46 ،حقانیہ)
وکذافی البنایة: (1/708 ،قدیمی )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1/331،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7-8-1440،2019-04-13
جلد نمبر :19 فتوی :23