ايك شخص نےتیمم کرکےنمازپڑھ لی پھروقت ختم ہونےسےپہلےپانی پرقادرہوگیااب وہ نمازدوبارہ پڑھےیاپہلی نمازہی کافی ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نمازہوگئ ہے۔

لما فی الشامية: ( 1/255،سعيد)
“ولو صلي بالتيمم ثم وجدالماءفي الوقت لايعيد.”
وفی الهنديه: ( 1/57،رشيديه)
“المصلي بالتيمم اذاوجد الماءبعدالفراغ من الصلاةلايلزمه الاعادةولووجدفي خلال الصلاة فسدت صلاته.”
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/192،رشيديه)
وکذا فی الولوالجيه: (1/190،الحرمين)
وکذافی اعلاءالسنن: ( 1/325، ادارةالقرآن)
وکذا فی الفقه الحنفی: ( 1/163،الطارق)
وکذافی البحرالرائق: ( 1/270،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/142،143،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440،2019/1/13
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :90

غسل كرنےكےبعددانت سےگوشت كاٹكڑانكلاتوغسل كاكياحكم ہےغسل ہوایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں غسل ہوگیاہے۔

لما فی الشامية: ( 1/154،سعيد)
(و)لايمنع(ماعلي ظفر صباغ و)لا(طعام بين اسنانه)اوفي سنهالمجوف به يفتي (قوله به يفتي)صرح به في المنيةعن الذخيرةفي مسئالةالحناءوالطين و الدر ن معللابالضرورة،قال في شرحهاولان الماءينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته،والمعتبرفي جميع ذلك نفوذ الماءوو صوله الي البدن.
وفی المحيط البرهانی : ( 1/226،داراحیاء)
واذااغتسل من الجنابۃ وبین اسنان طعام فلم یصل الماءتحتہ جازلان مابین الاسنان رطب فلایمنع وصول الماءالی ماتحتہ
وکذافی الھندیہ: ( 1/13،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1/88،رشیدیه)
وکذافی التاتارخانيه: ( 1/277، رشيديه)
وکذا فی فتح القدير: ( 1/60،رشيديه)
وکذافی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 102/،قدیمی)
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 1/142،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440۔2019/1/13
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :93

مباشرت كے فورا بعد غسل كرنا افضل ہے یا اگلی صبح نماز سے پہلے غسل کر لے؟(2)ایک شخص نے بالکل صحیح طریقے سے غسل کیا اور کپڑے پہنتے ہوئے اپنی شرمگاہ پر نظر پڑگئی یا ہاتھ لگ گیا تو کیا وہ شخص غسل کے فورا بعد وضو کر کے نماز پڑھے یا ویسے ہی نماز اداکرلے(3)جب کہ میں نے سنا ہے کہ اگر غسل مکمل صحیح کیا ہے تو وضو کی ضرورت نہیں۔اگر دوبارہ وضو کر لیا تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مباشرت کے فورا بعد غسل کر لینا اچھا ہے،ورنہ استنجا اور وضو کر کے سو جائےاور صبح نماز سے پہلے غسل کر لےتو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔(2)غسل کرنے کے بعد نیا وضو کیے بغیر نماز ادا کر سکتا ہے،شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے یا اس پر نظر پڑ جانے سےوضو نہیں ٹوٹے گا،البتہ مستحب یہ ہے کہ ہاتھ دھولے۔(3) اگر غسل میں مسنون طریقے سے وضو نہیں کیا اور نہ ہی وضو کی نیت کی تو غسل کے بعد سنت کا ثواب حاصل کرنے کے لیےوضو کر لے تو اس کی اجازت ہے،لیکن اگر غسل میں وضو یاوضو کی نیت کر لی ہو تو پھر غسل کے فورا بعد وضو کرنا مکروہ ہے جب تک کہ اس غسل سےایسی عبادت ادا نہ کر لے جس کے لیے وضو ضروری ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/106،رحمانیہ)
عن عبد الله، قال: استفتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: نعم إذا توضأ…ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه تصيبه الجنابة من الليل، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ واغسل ذكرك، ثم نم
وفي سنن ابي داود:(1/36،رشيدیہ)
عن قيس بن طلق، عن أبيه، قال: قدمنا على نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل كأنه بدوي، فقال: يا نبي الله، ما ترى في مس الرجل ذكره بعد ما يتوضأ؟ فقال: هل هو إلا مضغة منه، أو قال: بضعة منه.
وفی سنن النسائی:(1/65،رحمانیہ)
“عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کان رسول اللہﷺ لا یتوضا بعد الغسل.”
وفی الموسوعة الفقھية:(43/379،علوم اسلامیہ)
“اختلف الفقہاء فی حکم تجدید الوضوء…..ای التوضؤ علی وضوء قائم لم ینقض،فذھب بعضھم الی انہ سنہ وقال بعضھم انہ مستحب وذھب بعضھم الی انہ ممنوع قبل ان تفعل بہ عبادۃ.”
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/147،سعید)
“(لا) ینقضہ(مس الذکر) لکن یغسل یدہ ندبا.”
وکذا فی عون المعبود : (1/221،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقھية:(43/379،علوم اسلامیہ)
وکذا فی رد المحتار:(1/119،سعید)
وكذا في كنز العمال:(9/167،رحمانيہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/14،15،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/14،13،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الاصل:(1/70، عالم الکتب)
وکذا فی التاتارخانیة:(1/266،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/215،داراحیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/132،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/25
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :175

دودھ میں چوہیا گری اور زندہ نکل گئی ،دودھ کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

دودھ مکروہ ہو جائے گا۔

لما فی التاتار خانیۃ:(1/333،فاروقیہ)
“الملتقط:فارۃ اخرجت من حب او جرۃ وھی حیۃ یکرہ شربہ والوضوء منہ،وان فعلوا جاز.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282،رشیدیہ)
” سؤر طاھر مکروہ تنزیھا استعمالہ مع وجود غیرہ، ھو سؤر الھرۃ والدجاجۃ المخلاۃ ۔۔۔۔۔ وسواکن البیوت کالحیۃ والفارۃ، ما لم تر النجاسۃ فی فمھا، لانھا تلازم التطوف فی المنازل او للضرورۃ.”
وکذا فی الدرالمختار:(1/213،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/286،داراحیاء )
وکذا فی کتا ب التجنیس: (1/230،ادارۃالقرآن)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/29 ،30،امدادیہ)
وکذا فی البنایۃ :(1/453،رشیدیہ)
وکذا فی الولوالجیۃ:(1/33،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440، 2019/2/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :3

ایک شخص گھر سے وضو کر کے نماز یا کسی بھی نیک کام کی نیت کر کے چلا گیا،بازار سے گزرتے ہوئے اس کی نگاہ کسی بے پردہ عورت پر پڑگئی تو کیا وہ دوبارہ وضو کرے؟(2)(ا)زوال کے وقت کی کیا حقیقت ہے؟(ب)اور اس ٹائم کون سی عبادت کر سکتے ہیں؟(ج)اور یہ ٹائم دن میں کب ہوتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بے پردہ عورت پر نظر پڑ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (2)(ا)جب سورج آسمان پر سفر کرتے ہوئے اس کے بالکل درمیان میں پہنچ جاتا ہے (عام طور پر کہتے ہیں ،سورج بالکل سر پر پہنچ گیا) تو اسے “استواء” یا ” نصف النہار” کہتے ہیں۔اس کے بعد جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع کردے تو حقیقت میں “زوال” اس وقت کو کہتے ہیں ۔ لیکن عموما “نصف النہار ” کو ہی زوال کہہ دیا جا تا ہے ۔(ب) اس وقت میں نماز پڑھنا منع ہے ،اس کے علاوہ دیگر عبادات ذکر وتلاوت وغیرہ کر سکتے ہیں۔(ج)زوال کا وقت دوپہر کو ہوتا ہے لیکن گھڑی کے حساب سے اس کی کوئی خاص تعیین نہیں کی جا سکتی ،کیونکہ یہ ہر علاقے میں روزانہ کے حساب سے بدلتارہتا ہے ۔اوقات نماز کے نقشوں میں یہ وقت دیکھا جا سکتا ہے ۔ہماری تحقیق کے مطابق ساہیوال شہر میں زوال کا وقت پورا سال تقریبا 11:50 سے 12:30 کے درمیان کسی وقت ہوتا ہے ۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 13، رشیدیہ)
“مس الرجل المرأۃ والمرأۃ الرجل لاینقض الوضوء کذا فی المحیط . “
وفی فتح القدیر: (1 /56 ،رشیدیہ )
” ولا یجب من مجرد مسھا ولو بشھوۃ ولو فرجھا،ولا من مس الذکر . “
وفی الدر المختار مع رد المحتار: (2 / 44 ،دار المعرفہ )
الصلاة فيها على النبي – صلى الله عليه وسلم – أفضل من قراءة القرآن وكأنه لأنها من أركان الصلاة، فالأولى ترك ما كان ركنا لها. وفی الشامیہ: (قوله: الصلاة فيها) أي في الأوقات الثلاثة وكالصلاة الدعاء والتسبيح كما هو في البحر۔۔۔ فإن مفاده أنه لا كراهة أصلا؛ لأن ترك الفاضل لا كراهة فيه.
وفی الشامیہ:(2 /38،37 ،دار المعرفہ )
(قوله: واستواء) التعبير به أولى من التعبير بوقت الزوال؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعا بحر عن الحلية: أي لأنه يدخل به وقت الظهر كما مر. وفي شرح النقاية للبرجندي: وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فيه
وکذافی المحیط البرھانی: (2 / 10،دار احیاء التراث )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 1/276 ، قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن: ( 1/176،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
وکذا فی التاتر خانیہ: (1 /268 ، فاروقیہ-کوئٹہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (24 /54 ،علوم اسلامیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (1 /434،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلدنمبر:17 فتوی نمبر :154

پانچ ہزار کانوٹ پیشاب میں لت پت ہو گیا اوراس حالت میں ہو گیا کہ اگرمزید اس پر پانی بہایا جائے تو نوٹ خراب ہو جائے گا اور اسکی ثمنیت ختم ہوجائے گی ،اب اس صور ت حال میں اس نوٹ کے پاک کرنے کا کیاطریقہ ہے اور اس کو کیسے استعمال میں لایا جا سکتاہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ نوٹ کو کسی پاک لیکوڈ(liquid)چیز مثلاپٹرول یا سپرٹ وغیرہ سے دھولیا جائے ،جس سے نجاست زائل ہو جائے ،اگر کوئی صورت ممکن نہ ہو تو اسی طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے، لیکن نماز کی حالت میں جیب میں نہ رکھا جائے ۔

لمافی التنویر وشرحہ:1/560(،رشیدیۃ)
“(یجوز رفع نجاسۃ حقیقۃ عن محلھا )
۔۔۔۔۔(وبکل مائع طاھر قالع )للنجاسۃ ینعصر با لعصر (کخل وماءورد)”۔
و فی الھندیۃ:( /141،رشیدیۃ)
یجوز تطھیر النجاسۃ بالماءوبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل وماءالورد ونحوہ
وکذافی بدائع الصنائع:( 1/240، رشیدیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1 /69،امدادیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ: (1/429،فاروقیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:( 1/579،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/384،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440،2019/4/1
جلد نمبر:18فتوی نمبر:105

نفاس کے تمام احکام نماز روزہ اور جماع وغیرہ حیض کے احکام کی طرح ہیں یا بعض میں فرق ہے ؟فرق واضح فرمائیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

نماز روزہ جماع وغیرہ میں حیض ونفاس کا ایک ہی حکم ہے ۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/624 ،رشیدیۃ)
“الحیض ومثلہ النفاس یوجب الغسل بعد انقطاعہ ۔۔۔۔یحرم بالحیض والنفاس مایحرم بالجنابۃ وھی سبعۃ امورالصلوات کلھا،وسجود التلاوۃ،ومص المصحف ،ودخول المسجد ،والطواف ،والاعتکاف ،وقراءت القرآن .”
و فی المبسوط للسرخسی:(2/141،دارالمعرفہ)
“فان النفاس اخو الحیض.”
وکذا فی الشامیۃ:(1 /532،رشیدیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 1/399،دار احیاء)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(426،قدیمی)
وکذافی العنایۃ مع فتح القدیر :(1/163،رشیدیۃ)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/330،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1440،2019/4/6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر151

ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بیوی کے ساتھ بوس کنار کیا اور اس وقت محسوس ہوا کہ مذی نکلی ہے،اس کے کافی دیر بعد جب نمازکا وقت ہو اتو وضو کرنے لگا تو یاد آیا کہ شلوار کسی جگہ سے ناپاک ہے ،مگر یہ معلوم نہیں کہ کس جگہ سے ناپاک ہے ،کیونکہ اس وقت شلوار خشک ہو چکی تھی ،پوچھنا یہ ہے کہ نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرنا ہوں گے یا اسی طرح پڑھ سکتے ہیں ؟(2)اگر یہ جانتے ہوئے کہ شلوار کسی جگہ سے ناپاک ہے مگر وہ بقدر درہم ہے جوکہ معاف ہے ،کیا اسی حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟اگر نہیں پڑھ سکتے مگر پھر بھی پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟(3)اور اگر یہ سب نماز پڑھ لینے کے بعد یا د آیا تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)بہتر یہ ہے کہ کپڑے بدل لیے جائیں یا جہاں مذی لگنے کا گمان ہے وہ جگہ دھو لی جائے ،اگر اس بات کا غالب گمان ہو کہ مذی ایک درہم (ایک روپے والے بڑے سکے )سے زیادہ لگی ہے ،تو پھر کپڑے بدلنا یا دھونا ضروری ہے ۔
(2)نماز مکروہ ہو گی۔

(3)نماز پڑھ لینے کے بعد یاد آیا تو اگر نجاست ایک درہم سے زیادہ ہے تو نماز نہیں ہوئی ،ورنہ ہو گئی۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/43،رشیدیۃ)
“اذا تنجس طرفا من اطراف الثوب و نسیہ فغسل طرفا من اطراف الثوب من غیر تحر حکم بطھارۃ الثوب ھو المختار ۔فلو صلی مع ھذا الثوب صلوات ثم ظھر ان النجاسۃ فی طرف آخر یجب علیہ اعادۃ صلوات التی صلی مع ھذاالثوب ۔”
وفی العنایۃ مع فتح القدیر :(1/203،رشیدیۃ )
“اذا کانت قدر الدرھم (جازت الصلاۃ معہ )وقولہ ومادونہ مستغنی عنہ (وان زاد لم تجز ۔۔الخ)۔”
وکذا فی الھندیۃ:(43 /1،رشیدیۃ) وکذا فی المحیط البرھانی:(1 /371،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)1/428،فاروقیۃ) وکذافی بدائع الصنائع:(1 /193، رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1 /232و236، رشیدیۃ) وکذا فی فتح القدیر:(1 /192،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(1 /571،رشیدیۃ) وکذافی تبیین الحقائق:(1 /73،امدادیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:31

ایک ہاتھ پر ٹیک لگا کر سو نے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟کس ٹیک سے وضوٹوٹ جاتا ہے کوئی قاعدہ کلیہ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ٹیک لگا کر سونے کی متعدد صورتیں ہیں،بعض صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور بعض میں نہیں ،ان کی مکمل تفصیل” عمدۃ الفقہ “میں اس طرح ہے ۔
”سونے والے کی تیرہ حالتیں ہیں ان میں سے تین حالتیں وضوکو توڑنے والی ہیں وہ یہ ہیں :1۔کروٹ یا چت یا پٹ سونا ،2۔ایک سرین پر سونا ،3۔دیوار یا ستون یاآدمی وغیرہ کے سہارے سونا کہ اگر سہارا ہٹا لیا جائے تو سونے والا گر پڑے ۔اور دس صورتوں میں وضونہیں ٹوٹتا وہ یہ ہیں :1۔دو زانوں بیٹھے ہوئے ، 2۔چار زانوں یعنی چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے ،3۔دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر دونوں سرین زمین پر رکھے ہوئے ،4۔دونو ں گھٹنے کھڑے کیے ہوئے اور دونوں سرین زمین پر رکھے ہوئے،5۔دونوں ایڑیو ں پر دونوں سرین رکھے ہوئے ،6۔جانور کی ننگی پیٹھ پر سوار ہو کر (سوائے ننگی پیٹھ پر سوار ہو کر اترائی کی طرف جانے کے کہ اس صورت میں وضوٹوٹ جائے گا)،7۔پید ل چلتے ہوئے ،8۔قیام ،9۔رکوع ، 10۔سجدے کی حالت میں “۔(عمدۃ الفقہ :1/155،زوار اکیڈمی )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440،2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:95

مجھے دائمی نزلے اوردمے کا مرض ہے ،اگر غسل کے دوران ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچاؤں تو مجھے کافی تکلیف ہوتی ہےاور بعد میں کافی پریشانی ہوتی ہے ،تو کیا میں ایسا کر لوں کہ ناک میں اچھی طرح پانی پہنچا لیا کروں لیکن نرم ہڈی تک پانی نہ پہنچاؤں کیا اس طرح غسل ہو جائےگا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہو تو مذکورہ صورت میں آپ کا غسل ہو جائے گا۔

لمافی الدر المختار مع ردالمحتار:(1/312،رشیدیۃ)
“(غسل)کل(فمہ)۔۔۔۔۔(وانفہ)حتی ماتحت الدرن۔۔۔۔۔۔(ویجب)ای: یفرض (غسل)کل مایمکن من الدرن بلا حرج مرۃ کاذن ۔”
وفی المحیط البرہانی:(1/225،دار احیاءتراث)
“والمضمضۃ والاستنشاق فرضان فی الغسل،نقلان فی الوضوء والاصل فیہ قولہ علیہ الصلاۃ والسلام :((تحت کل شعرۃ جنابۃ فبلوا الشعر و انقوا البشرۃ))وفی الانف شعرۃ ۔۔۔۔۔۔فاذا امکن ایصال الماء الی ھذین العضوین من غیر حرج۔”
وکذا فی “الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ:(1/108 ،محمودیۃ)”
وکذا فی الھندیۃ:(1/6،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:)1/87،رشیدیۃ(
وکذافی بدائع الصنائع:(1/142، رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:)1/106،الطارق(
وکذافی مجمع الانھر:(1/36،المنار)
وکذافی البنایۃ:(1/255،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر 123