حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ فضائل بیان فرمادیجئے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ فضائل و مناقب درج ذیل ہیں
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے پوچھا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل اور بہتر کون ہے؟“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا (حضرت)”ابوبکر“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ”سریہ ذات السلاسل“ میں امیر بناکر بھیجا، واپس آکر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ کو کون محبوب ہے؟“ فرمایا: ”عائشہ“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میں نے عرض کیا ”مردوں میں سے؟“ ارشاد ہوا ”عائشہ کا باپ۔“(حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم پہ جس نے بھی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ چکادیا ہے، البتہ ابوبکر کے احسانات باقی ہیں، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت ان کا بدلہ عطاء فرمائیں گے۔“ اور فرمایا: ”جتنا نفع مجھے ابوبکر کے مال نے دیا ہے اتنا نفع کسی کے مال نے نہیں دیا“۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا“ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، اہلِ مجلس کو سلام کیا اور بیٹھ گئے۔
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ابوبکر! تم غارِ ثور میں میرے ساتھ تھے، حوض (کوثر) پر میرے ساتھ ہووگے۔

لما فی صحیح البخاری: (1/518، ط: قدیمی)
عن محمد بن الحنفیۃ قال: قلت لابی “ای الناس خیر بعد النبی صلی اللہ علیہ و سلم؟” قال: “ابوبکر
و فی الصحیح لمسلم: (2/273، ط: قدیمی)
عن ابی عثمان قال اخبرنی عمرو بن العاص ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بعثہ علیٰ جیش ذات السلاسل فاتیتہ فقلت: “ای الناس احب الیک؟” قال: “عائشہ” قلت: “من الرجال؟قال: ابوھا
و فی جامع الترمذی: (2/685، ط: رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال: “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: “مالاحد عندنا ید الا و قد کافیناہ ماخلا ابوبکر فان لہ عندنا یدا یکافیہ اللہ بھا یوم القیٰمۃ و مانفعنی مال احد قط ما نفعنی مال ابی بکر
و فی المستدرک للحاکم: (3/288، ط: قدیمی)
عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: “کنا عند النبی صلی اللہ علیہ و سلم فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم: “یطلع علیکم رجل من اھل الجنۃ” فاطلع ابوبکر فسلم ثم جلس
و کذا فی صحیح البخاری (1/517، ط: قدیمی)
و کذا فی مشکوہ المصابیح (2/563، ط: رحمانیہ)
و کذا فی مصنف ابن ابی شیبہ (6/353 الی 355، ط: دار الکتب العلمیہ)
و کذا فی المعجم الاوسط (4/273، ط: المعارف)
و کذا فی کنز العمال (13/5، ط: رحمانیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/06/1442/ 2021/01/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:175

قرآنِ کریم میں ہے کہ بنی اسرائیل نے انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا تھا، یہ فرمائیں کہ کتنے انبیاء علیہم السلام کو اور کیسے شہید کیا تھا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

کچھ روایات میں ہے کہ بنی اسرائیل نے ایک دن میں ستر (70) انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا تھا، جبکہ دوسری تفسیری روایات میں ہے کہ ایک دن میں تقریباً تین سو (300) انبیاء کرام علیہم السلام کو بیت المقدس میں اس بدنصیب قوم نے خاک و خون میں غلطاں کیا، جن میں سرِفہرست حضرت زکریا، حضرت شعیا اور حضرت یحی علیہم السلام ہیں۔ حضرت زکریا اور حضرت شعیا علیہما السلام کو آرے سے چیراگیا جبکہ حضرت یحی (علی نبینا و علیہم الصلوۃ و السلام) کا سرقلم کردیا گیا۔ اعاذنا اللہ من فعلھم القبیح

لما فی الاکلیل علی مدارک التنزیل و حقائق التاویل: (1/398-399، ط: دار الکتب العلمیہ)
شعیاء بن امضیاء … و کان نبیا قبل زکریا و یحی و عیسیٰ، … و لما ارادوا قتلہ ھرب منھم، فلقیتہ شجرۃ فانفلقت لہ فدخلھا، فادرکہ الشطان فاخذ بھدبۃ من ثوبہ فاراھم ایاھا، فوضعوا المنشار فی وسطھا فنشروھا حتیٰ قطعوھا و قطعوہ، و ھو فی وسطھا، …و قتل زکریا (کما قتل شعیاء، ای بالمنشار “ھامشہ”) بعد قتل یحی ابنہ … و یحی بن زکریا صلی اللہ علی نبینا و علیھم الصلوۃ و السلام … و اتفقوا علی ان قتل ظلما شہیدا، و اخذ راسہ و وضع فی طست و غضب اللہ علیٰ قاتلیہ
و فی البحر المحیط: (1/399، ط: دار الکتب العلمیہ)
قتلوا یحی و شعیا و زکریا، و روی عن ابن مسعود قتل بنواسرائیل سبعین نبیا و فی روایۃ ثلاثمائۃ نبی فی اول النھار
و فی تفسیر الخازن: (1/58، ط: رشیدیہ)
يروى أن اليهود قتلت سبعين نبيا في أول النهار، وقامت إلى سوق بقلها في آخره وقتلوا زكريا ويحيى وشعياء
و کذا فی تفسیر ابن کثیر: (1/106، ط: رشیدیہ)
و کذا فی تفسیر ابن کثیر: (1/405، ط: رشیدیہ)
و کذا فی تفسیر ابن کثیر: (1/363، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل و حقائق التاویل: (1/508، ط: دار الکتب العلمیہ)
و کذا فی تفسیر المظہری: (1/85، ط: رشیدیہ)
و کذا فی تفسیر القرطبی: (4/46، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی ھامش تفسیر الخازن: (1/70، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:101

سدرۃ المنتھٰی“ کی کیفیت کیا ہے ؟ (2)اور اس مقام سے آگے حضورﷺ بھی گئے ہیں یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سدرۃ المنتھٰی“ کی کیفیت ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے اس فرمان ”عند سدرة المنتھٰی“کے بارے میں مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”مجھے سدرة المنتھٰی لےجایا گیا جو ساتویں آسمان میں ہے “ اس کے پھل ہجر قبیلے کے مٹکوں کی طرح ہیں ، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں اس کی جڑ سے دو ظاھری نہریں اور دو باطنی نہریں نکلتی ہیں ، آپﷺ نے فرمایا ،میں نے کہا اے جبرئیل: یہ کیا ہیں ؟ جبرئیل نے کہا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، ظاھری نیل اور فرات ہیں۔(2)اس کے بارے میں علماء کے دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں : ایک یہ کہ حضورﷺ ”سدرۃ المنتھٰی“ سے آگے تشریف لے گئے ،دوسرا یہ کہ حضورﷺصرف ”سدرۃ المنتھٰی“ تک تشریف لے گئے آگے نہیں گئے

لما فی تفسیر المظھری:(6/456،رشیدیة)
ثم رفعت الى سدرة المنتهى فاذا نبقها مثل قلال هجروا ذا ورقها مثل أذان القيلة قال هذه سدرة المنتهى فاذا اربعة انهار نهران باطنان ونهران ظاهران قلت ما هذا يا جبرئيل قال اما الباطنان فنهران فى الجنة واما الظاهران فالنيل والفرات ثم رفع بي الى البيت المعمور
وکذا فی تفسیر ابی السعود:(6/165، الوحیدیة)
عِندَ سِدْرَةِ المنتهى} هي شجرةُ نبْقٍ في السماءِ السابعةِ عن يمينِ العرشِ ثمرُها كقِلال هَجَرَ وورقُها كآذانِ الفيولِ تنبعُ من أصلِها الأنهارُ التي ذكرَهَا الله تعالَى في كتابِه يسير الراكب في ظلها سبعين عما لا يقطعُها
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(1/179،قدیمی)
عن أنس، في قوله عز وجل {عند سدرة المنتهى} [النجم: 14] ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” رفعت لي سدرة منتهاها في السماء السابعة، نبقها مثل قلال هجر، ورقها مثل آذان الفيل، يخرج من ساقها نهران ظاهران، ونهران باطنان، قال: قلت: يا جبريل ما هذان؟ قال: أما الباطنان ففي الجنة، وأما الظاهران فالنيل والفرات هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السياقة. وله شاهد غريب من حديث شعبة، عن قتادة، عن أنس صحيح الإسناد ولم يخرجاه
وکذا فی الخصائص الکبرٰی للسیوطی:(1/318،التوفیقیة)
فعرجا بہ الی السمٰوٰت سماء ،سماء فلقی الانبیاء وانتھی الی سدرۃ المنتھٰی،ورای الجنۃ والنار ،قال رسول اللہ ﷺ ولما انتھیت السماء السابعۃ لم اسمع الا صریف الاقلام الخ
وکذافی التفسیر الکبیر للرازی:(10/244،علومِ اسلامیة)
وکذا فی تفسیر البحر المحیط:(8/157 ،دار الکتب)
وکذا فی تفسیر البغوی:(4/248،دارالمعرفة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التأویل:(7/65، دار الکتب)
وکذا فی روح المعانی:(27/50،داراحیاء)
وکذا فی الکتاب المصنف:(7/54،دارالکتب)
وکذا فی فتح الباری لابن حجر:(10/87،قدیمی)
وکذا فی صحیح البخاری:(1/116،رحمانیة)
وکذا فی الصحیح لمسلم:(1/122،رحمانیة)
وکذا فی فتح الباری :(7/274،275، قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:64

حضرت عیسی علیہ السلام کےنام کےساتھ” یسوع“ یا ”یسوع مسیح“ لکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یسوع عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسی علیہ السلام کانام جو خدا تعالیٰ کےمشہور پیغمبر ہیں(القاموس الوحید:1493،ادارہ اسلامیات)یسوع :مسیحا ۔حضرت عیسی علیہ السلام۔(فیروزاللغات:1533)یہ عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسی علیہ السلام کاہی نام ہے،اہلِ اسلام کے ہاں اس لفظ کاحضرت عیسی علیہ السلام کے لئے استعمال کرنا کتب میں تلاش و جستجو کے باوجود نہیں ملا ،لہٰذا اجتناب کرنا چاہیے

لمافی فیض الباری علی الصحیح للبخاری:(5/10،رشیدیة)
وکعیسی علیہ الصلاۃ والسلام حیث کان اسمہ بینھم یسوع أوأیشوع،فغیرہ الی عیسی علیہ الصلاۃ والسلام
و کذافی نظم الدرر:(2/83،دارالباز)
وکذافیہ ایضا:(1/185،دار الباز)
وکذا فی القرآن الکریم:( النساء:157)
وکذافی صفوة التفاسیر:(1/202، دار احیاء)
وکذا فی فیض القدیر:(1/64،دارالکتب)
وکذا فی البدایة والنھایة:(2/80،دارالکتب)
وکذا فی تاریخ ابن خلدون:(2/150،دار احیاء)
وکذا فی تفسیرالبحرالمحیط:(2/482،دارالکتب)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/7/1442/2021/3/22
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:100

ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو آگ میں ڈالا گیا تھا تو آگ نے ان کو نہیں جلایا تھا،یہ واقعہ کیا ہے؟ ان صحابی رضی اللہ عنہ کا نام کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وہ عظیم صحابی رضی اللہ عنہ جنہیں آگ میں ڈالا گیا تھا ،مگر وہ آگ کے اثر سے بحکم الٰہی محفوظ رہے وہ حضرت ذؤیب بن کلیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان سے متعلق کتب میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت أسود عنسی نے آپ رضی اللہ عنہ کو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان لانے کی وجہ سے بطور سزا آگ میں ڈال دیا تھا ، مگر آپ رضی اللہ عنہ بحکم الٰہی آگ کی تپش سے محفوظ رہے۔ اس واقعہ کا ذکر جناب نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:تمام تعریفیں اس اللہ کےلیے جس نے اس امت میں ابراہیم علیہ السلام جیسے لوگ پیدا فرمادیے۔
یہ واقعہ سندی اعتبار سے قدرے ضعیف ہے ،کیونکہ اس کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس پر اکثر محدثین نے جرح فرمائی ہے۔
البتہ ایک تابعی حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق بھی اس طرح کا واقعہ بہت سی کتب میں منقول ہے اور سندی حیثیت سے بھی قابل اعتبار ہے۔

لما فی الاصابة فی تمییز الصحابة:(1/561،وحیدیہ)
روى ابن وهب عن ابن لهيعة أن الأسود العنسيّ لما ادّعى النبوّة وغلب على صنعاء أخذ ذؤيب بن كليب فألقاه في النار لتصديقه النبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم فلم تضرّه النار، فذكر ذلك النبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم لأصحابه، فقال عمر: الحمد للَّه الّذي جعل في أمتنا مثل إبراهيم الخليل
وفی الخصائص الکبری:(2/137،التوفیقیہ)
أخرج ابْن وهب عَن ابْن لَهِيعَة أَن الْأسود الْعَنسِي لما ادّعى النُّبُوَّة وَغلب على صنعاء أَخذ ذُؤَيْب بن كُلَيْب فَأَلْقَاهُ فِي النَّار لتصديقه بِالنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَلم تضره النَّار فَذكر ذَلِك النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لأَصْحَابه فَقَالَ عمر الْحَمد لله الَّذِي جعل فِي أمتنَا مثل إِبْرَاهِيم الْخَلِيل
وفی حلیة الأولیاء:(2/128،بیروت)
عن شرحبيل الخولاني قال: بينا الأسود بن قيس بن ذي الحمار العنسي باليمن فأرسل إلى أبي مسلم فقال له: أتشهد أن محمدا صلى الله عليه وسلم رسول الله؟ قال: نعم قال: فتشهد أني رسول الله؟ قال:ما أسمع قال: فأمر بنار عظيمة فأججت وطرح فيها أبو مسلم فلم تضره
وفی سبل الھدی والرشاد:(10/266،نعمانیہ)
وروى ابن عساكر من طريق إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم الخولاني أن الأسود تنبأ فبعث إلى أبي مسلم الخولاني، فأتاه فقال: أتشهد أني رسول الله؟ قال: ما أسمع، قال: تشهد محمدا رسول الله؟ قال: نعم، فأتى بنار عظيمة، ثم ألقى أبا مسلم فيها فلم تضره، فقيل للأسود: إن لم تنف هذا عنك فسد عليك من اتبعك، فأمره بالرحيل، فقدم المدينة وقد قبض النبي صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر فقال أبو بكر: الحمد لله الذي ألبثني حتى أراني في أمة محمد صلى الله عليه وسلم من صنع به كما صنع بإبراهيم خليل الرحمن
وکذافی الاستیعاب للقرطبی:(2/47،بیروت)
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(10/266،نعمانیہ)
وکذافی اسد الغابة فی معرفة الصحابة:(1/371،الوحیدیہ)
وکذافی تھذیب التھذیب:(3/622،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:3

حضور اکرم ﷺنے جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو حق مہر کتنا تھا ؟(2)نکاح کے وقت دونوں کی عمر مبارک کتنی تھی؟

الجواب حامداً ومصلیا

اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے حق مہر کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں :چالیس درہم،چارسو درہم اور پانچ سو درہم ،البتہ مسلم شریف کی روایت کے مطابق مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا،جس کی مقدار پانچ سو درہم بنتی ہےاور یہی زیادہ راجح ہے۔(2)نکاح کے وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ یا سات سال تھی اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔چونکہ یہ نکاح دس نبوی شوال میں ہوا اس لحاظ سے آپﷺ کی عمر مبارک انچاس یا پچاس سال بنتی ہے۔حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “سیرت خاتم الانبیاء”میں انچاس سال لکھی ہے۔(سیرت:32،دارالاشاعت)

 

لما فی الصحیح للمسلم:(1/458،قدیمی)
” عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه» .”
وفی السنن الکبری:(7/380،بیروت)
عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت:ما أصدق رسول اللہ ﷺأحدا من نسائہ ولا بناتہ فوق اثنی عشر أوقیۃ الا ام حبیبۃ فان النجاشی زوجہ ایاھا وأصدقھا أربعۃ آلاف
وکذافی الصحیح للبخاری :(1/686،رحمانیہ)
“عن هشام، عن أبيه، قال: «توفيت خديجة قبل مخرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة بثلاث سنين، فلبث سنتين أو قريبا من ذلك، ونكح عائشة وهي بنت ست سنين، ثم بنى بها وهي بنت تسع سنين
وکذا فی الطبقات الکبری:(4/271،عمریہ)
قالت سمعت عائشہ تقول :تزوجنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شوال سنۃ عشر من النبوۃ قبل الھجرۃلثلاث سنین وانا ابنۃست سنین،وھاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقدم المدینۃ یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاول ،وأعرس بی فی شوال علی رأس ثمانیۃ أشھر من المھاجر ،وکنت یوم دخل بی ابنۃ تسع سنین
وکذا فی مجمع الزوائد:(4/369،بیروت) وکذا فی سبل الھدی والرشاد:(9/48،نعمانیہ)
وکذا فی زاد المعاد:(4/983،علمیہ) وکذا فی البدایہ والنھایہ:(3/104،بیروت)
وکذا فی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب:(4/436،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 94

ایک بات بیان کی جاتی ہے کہ پل صراط کی مسافت 15 سو سال کی ہے،500 سال چڑھنے کی،500سال اترنے کی اور 500 سال کی درمیانی مسافت ہے۔کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟اگر ثابت ہے تو یہ روایت کون سی کتابوں میں ہے؟ تفصیلًا جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

پل صراط کی مسافت کی متعین مقدار کسی صحیح حدیث سے تو ثابت نہیں ،بلکہ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسافت ہر آدمی کے اعمال کے اعتبار سے مختلف ہو گی،لہذا بعض لوگ اپنے ایمان و اعمال کی پختگی کی وجہ سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے اور ان کے لیے یہ مسافت لمحہ بھر کی ہو گی،بعض ہوا کی رفتار سے ،بعض گھوڑے کی رفتار سے گزر جائیں گے اور بعض اس کو پار نہیں کر سکیں گے اور وہ جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔

لما فی مجمع الزوائد:(10/472،بیروت)
عن عائشة قالت: «قلت: يا رسول الله، هل يذكر الحبيب حبيبه يوم القيامة. . . . .. ولجهنم جسر أرق من الشعرة، وأحد من السيف، عليه كلاليب وحسك، تأخذ من شاء الله، والناس عليه كالطرف، وكالبرق، وكالريح، وكأجاويد الخيل، والركاب، والملائكة يقولون: رب، سلم! سلم! فتموج: فسالم، ومخدوش سلم، ومكور في النار على وجهه»

البتہ بعض ضعیف روایات میں اس کی تحدید بھی کی گئی ہے،چنانہ ابن عساکر کی روایت میں 3 ہزار سال کی مسافت بیان کی گئی ہے: ایک ہزار سال اوپر چڑھنے کی ایک ہزار سال نیچے اترنے کی اور ایک ہزار سال درمیانی مسافت ہے،ایک اور رویت میں 15 ہزار سال کی مسافت بیان کی گئی ہے۔ لیکن محدثین نے ان سب روایات کو ضعیف و منکر قرار دیا ہے۔

وفی تاریخ دمشق لابن عساکر:(33/262،شاملہ)
عن الضحاك عن عبد الله بن عباس قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) إن لملك الموت حربة مسمومة طرف لها بالمشرق وطرف لها بالمغرب يقطع بها عرق الحياة والذي لا إله إلا هو والذي نفس محمد بيده والذي بعثني بالحق نبيا إن معالجته أشد من ألف ضربة بالسيف وألف نشرة بالمناشير وألف طبخة في القدور وإن الصراط مسيرة ثلاثة آلاف عام ألف طالع وألف نازل وألف استوى أدق من الشعر وأحد من السيف ثم قال والذي بعثني بالحق نبيا من أكرم عالما مات ولم يعلم وجاز الصراط ولم يعلم الصواب جويبر والحديث منكر
وفی مختصر تاریخ دمشق:(14/88،شاملہ)
وإمام خراسان بسنده إلى عبد الله بن عباس قال: قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. . . . . .وإن الصراط مسيرة ثلاثة آلاف عام، ألف طالع وألف نازل وألف استواء، أدق من الشعر وأحد من السيف، ثم قال: والذي بعثني بالحق نبياً من أكرم عالماً مات ولم يعلم وجاز الصراط ولم يعلم قال الحافظ: الحديث منكر
وکذافی کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری:(9/321،شاملہ)
وکذافی تفسیر البغوی:(4/489،بیروت)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(20/97،بیروت)
وکذافی عمدة القاری:(19/292،بیروت)
وکذافی تفسیر الخازن:(4/408،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المظھری:(7/412،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/2021/1442/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:2

جب اللہ تعالی نے آپﷺ کا نام “محمد” رکھا تو آپﷺ کی والدہ نے آپﷺ کا نام “احمد”کیوں رکھا؟

الجواب حامداًومصلیاً

روایات سے دلالۃً معلوم ہوتا ہےکہ آپﷺ کے دونوں نام“محمد”اور“احمد” آپﷺ کی پیدائش سے قبل ہی آپ کے لیے من جانب اللہ طے ہو چکے تھے۔
دوسری بات یہ کہ آپﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کو آپﷺ کی پیدائش سے قبل یہ الہام ہوا کہ وہ آپﷺ کا نام “محمد”یا“احمد” رکھیں،آپ کی والدہ نے یہ معاملہ آپﷺ کے دادا حضرت عبد المطلب کے سپرد کر دیا،انہوں نے آپﷺ کا نام“محمد”رکھا۔

لما فی سبل الھدی والرشاد:(1/360،نعمانیة)
قال ابن اسحاق والواقدی وغیرھما لما وضعت امنۃ سیدنا رسول اللہﷺ أرسلت إلی جدہ عبد المطلب أنہ قد ولد لک غلام فأتہ وانظر إلیہ فأتاہ ونظر الیہ وحدثتہ بما رأت حین حملت بہ وما قیل لہا وما أمرت بہ أن تسمیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر)وروی البیہقی عن أبی الحسن التنوخی أنہ لما کان یوم السابع من ولادۃ رسول اللہﷺ ذبح عنہ جدہ ودعا قریشاً فلما أکلو قالو:یا عبد المطلب! ما سمیتہ؟قال:سمیتہ “محمدا”۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) وروی السہیلی وأبوالربیع:أن عبد المطلب إنما سماہ “محمداً”لرؤیۃ رأہا وزعمو أنہ کان مناماً کأن سلسلۃ من فضۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) فلذالک سماہ “محمداً” مع ما حدثتہ بہ أمہﷺ
وفی البدایة والنہایة:(2/210،دار الکتب العلمیة)
قال محمد ابن اسحاق:فکانت امنۃ بنت وہب أم رسول اللہﷺ تحدث أنہا أُوتیت حین حملت برسول اللہﷺ فقیل لہا إنک قد حملت بسید ہذہ الامۃ فإذا وقع إلی الأرض فقولی: أعیذہ بالواحد۔۔۔۔۔۔ فإذا وقع فسمیہ محمداً فإن إسمہ فی التوراۃ أحمد یحمدہ أہل السموت وأہل الارض وإسمہ فی الإنجیل أحمد واسمہ فی القرآن محمد
وکذا فی دلائل النبوة:(1/159،دار الکتب)
وکذا فی سیرت ابن ہشام:(1/194،دار إحیاء)
وکذا فی الطبقات الکبری:(1/49،عمریة)
وکذا فی الطبقات الکبری:(1/48،عمریة)
وکذا فی البدایة والنہایة:(2/212،دار الکتب)
وکذا فی سبل الہدی والرشاد:(1/416،نعمانیة)
وکذا فی زاد المعاد:(1/33،علمیة)
وکذا فی الخصائص الکبری:(2/265،التوفیقیة)
وکذا فی الخصائص الکبری:(1/143،التوفیقیة)
وکذا فی صفوة التفاسیر:(3/372،دار احیاء)
وکذا فی الکشاف:(4/425،منشورات البلاغة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2022/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:141

مشہور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر کل قیامت والے دن اعلان ہو کہ صرف ایک ہی شخص جنت میں جائے گا تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا اور اسی طرح اگراعلان ہو کہ صرف ایک شخص جہنم میں جائے گا تو مجھے ڈرہے کہ کہیں وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ کہنا یہ ہے کہ یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت نہ ہو بلکہ اسی سے ملتا جلتا کوئی اور قول ثابت ہو تو رہنمائی فر مائیں۔

الجواب حامداومصلیا

جی ہاں !تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایسے ہی الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثا بت ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر یہ اعلان ہو کہ سب لوگ جنت میں جائے گے سوائے ایک کے تو مجھے ڈرہے کہ وہ ایک میں ہوں گا اور اگر یہ اعلان ہو کہ ایک شخص کے علاوہ سب لو گ جہنم میں جائیں گے تو مجھے امید ہے کہ وہ ایک میں ہوں گا ۔

لما فی کنزالعمال :(12/277،رحمانیة)
عن عمر قال لو نادی منادی من السماء یاایھاالناس انکم داخلون الجنۃ کلکم اجمعون الارجلاواحدالخفت ان اکون اناہو ولو نادی مناد ایھاالناس انکم داخلون النارالارجلاواحدالرجوت ان اکون اناہو
وفی حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء:(1/53،دارالکتاب العلمیة)
حدثنامحمد بن معمر ثناابو شعیب الحرانی ثنایحی بن عبداللہ الباہلی ثناالاوزاعی ثنا یحی بن کثیر عن عمر بن الخطاب قال لو نادی منادی من السماء یا ایھا الناس انکم داخلون الجنۃ کلکم اجمون الارجلاواحدالخفت ان اکون اناہو ولو نادی مناد ایھاالناس انکم داخلون النار الارجلاواحدا لرجوت ان اکون اناہو
وکذا فی سبل الھدی والرشاد فی سیرة الخیر العباد ﷺ:(11/271،نعمانیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/18/12/2021
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:29

حضرت شاہ شمس تبریزجوملتان میں مدفون ہیں ان کےبارےمیں مشہورہےکہ وہ مولاناروم کےشیخ ہیں کیا یہ بات سچ ہیں؟اگرنہیں توپھرمولاناروم کےشیخ کون ہیں اوروہ کہاں مدفون ہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

خیرالفتاوی میں ہے:
سیدشمس الدین مذکور(ملتان والے)ایران کےعلاقہ سبزوارمیں پیداہوئےاس لئےسبزواری کہلاتےہیں۔ان کاتعلق اہل تشیع کےفرقہ نِزاریہ سےتھااس فرقہ کاعقیدہ ہےکہ حاضرامام خداکامظہرہوتاہے۔
شمس الدین صاحب مذکورکی اپنی تصنیف کردہ کتاب”گنان برہم پرکاش“میں ہے۔
”اس کلجگ میں خداوندعالم کامظہرظہورانسانی جسم میں ہےاوروہ ساری روحوں کاشہنشاہ ہےیعنی حاضرامام۔“
ان کےنزدیک حاضرامام سب کچھ ہے۔نیزیہ لوگ اپنی عبادت گاہ کوجماعت خانہ کہتےہیں ان کاکلمہ یہ ہے۔
”اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد ان محمدارسول اللہ واشھدان علیااللہ“
اس فرقہ کاطریقہ یہ ہےکہ یہ اپنےآپ کومصلحت کےتحت کبھی سنی ظاہرکرتےہیں اورکبھی شیعہ۔کبھی کسی صوفی سلسلہ سے وابستگی ظاہرکرتےہیں۔شمس الدین صاحب مذکورکوبھی نزاری سلسلہ کےامام قاسم شاہ نےپیر کا لقب دیکرایران سے باہرتبلیغ کےلیےبھیجا تھا۔یہاں پہنچ کرجب انہوں نےعلاقہ پنجاب کی پیر پرستی کودیکھاتوانہوں نےبھی اپنےآپ کو پیر کے بہروپ میں ظاہر کیا اور درپردہ اپنےکفریہ عقائدکی تبلیغ کرتےرہے۔جاہل عوام آج تک ان کوپیراوربزرگ سمجھ کران کے معتقدچلےآرہےہیں۔
(خیرالفتاوی:1/547،امدادیہ)
محترم جناب قاضی سجادصاحب مثنوی مولوی معنوی(اردو)میں تحریرکرتےہیں
ایک مغالطہ اوراس کاازالہ
شمس تبریزی جومولانائےروم کےپیرہیں…ان کی قبرکےبارےمیں مختلف روایات ملتی ہیں۔لیکن یہ طےہیں کہ ہندوستان سےان کی قبرکاکوئی تعلق نہیں ہے۔ایک مشہورقبرشمس تبریزکےنام سےملتان کےعلاقہ میں موجودہے۔وہ یقینااس شمس تبریزکی نہیں ہےجومولانائےروم کےپیرتھے۔اس لئے کہ یہ بزرگ ساتویں صدی کےتھےاورہندوستان میں جوصاحب مدفون ہیں۔یہ دسویں گیارہویں صدی کےہیں۔
اس سلسلہ میں خواجہ حسن نظامی دھلوی مرحوم کی وہ عبارت نقل کرتےہیں جومنشی محمدالدین فوق نے”حالات شمس تبریز“نامی کتاب میں نظام المشائخ کےحوالہ سےنقل کی ہے۔
حضرت شمس(مولانائےروم کےپیر)کےوالدکی نسبت بیان کیا گیاہےکہ وہ فرقہ اسماعیلیہ سےتعلق رکھتےتھے۔مجھ کواس دعوی کےقبول کرنےمیں تامل ہے۔کیونکہ اسماعیلی فرقہ سےتعلق رکھنےوالےشمس دوسرےگزرےہیں۔

جن کامزارملتان میں ہے۔عوام ملتانی شمس تبریزی کوہی حضرت مولانائےروم کامرشدسمجھتےہیں۔حالانکہ یہ غلط ہے۔
(مثنوی مولوی معنوی(اردو):1/10،اسلامی کتب خانہ)
اردودائرہ معارف اسلامیہ میں ہے
تبریزی:عام طورپرشمس تبریزی کےنام سےمشہورہیں۔(نفحات،طبع کلکتہ،ص535میں انھیں شمس الدین محمدبن علی بن ملک دادتبریزی لکھا ہے)۔آپ صوفی اورمولاناجلال الدین رومیؒ کےمرشدتھے۔
(دائرہ معارف اسلامیہ:6/126،دانش گاہ،پنجاب)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14-08-1443/2022-03-18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:50