ایک واقعہ ہے کہ جب حضرت عزرائیل علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض کرنے لگے،تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تھپڑمارکرحضرت عزرائیل علیہ السلام کی آنکھ پھوڑدی،وہ اللہ پاک کے پاس گئے،تواللہ نے فرمایاوہ میرے جلیل نبی تھےتم کواجازت طلب کرنی چاہیےتھی،وہ دوبارہ گئےاوراجازت طلب کی،پھر موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے بات کی اور کہا میرا چھوٹا سا بچہ ہے اس کاکیا بنے گاتواللہ نے فرمایاسامنے والےپتھر پر عصا ماروانہوں نےمارا تو پتھر سے پتھر نکلا ،فرمایا پھر مارو،پھر مارا توایک کیڑانکلا،جس کے منہ میں دانہ تھا،یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے عزرائیل علیہ السلام کو اجازت دے دی،کیا اس واقعے کاکوئی حقیقت سے کوئی تعلق ہے؟یا من گھڑت ہے؟

الجواب حامداومصلیا

دو مختلف واقعات کو سوال میں ایک بنادیاگیا ہےاور ان میں کچھ اضافی باتیں داخل کر دیں ہیں۔اصلا واقعہ یہ ہے کہ حضرت عزرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس (روح قبض کرنے کے لئے)آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑمارا اور ان کی آنکھ پھوڑدی،حضرت عزرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا،اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ آپ ان کے پاس دوبارہ جائیں اور کہیں کہ کسی بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ،جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں،ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ کر دیا جائے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :یا اللہ !پھرکیا ہوگا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر موت ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نےعرض کیا یا اللہ !پھر ابھی مجھے موت دے دیجئے،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک سانس لیا اور حضرت عزرائیل نے ان کی روح قبض کرلی۔
دوسراواقعہ امام رازی رحمۃ اللہ نے لکھا مگر اسرائیلی روایات میں سے معلوم ہوتا ہے اور سندی حیثیت بھی غیر واضح ہے وہ یہ ہے کہ نزول وحی کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اہل وعیال کاخیال آیاتو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پتھر پر عصا مارااس ایک دوسرا پتھر نکلااس پر عصا مارا توایک تیسرا پتھر نکلااس پر عصامارا تواس سے ذرہ کے برابر ایک کیڑانکلا اور وہ کچھ کھا رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کانوں سے تمام پردوں کوہٹادیا،تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیڑے کو یہ کہتے ہوئے سنا:پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے اور میری بات کو سن رہی ہے اور میرے ٹھکانے کو جانتی ہے،وہ مجھے یاد رکھتی ہے،بھولتی نہیں ہے۔

لمافی التفسیر الکبیر:(6/318،علوم اسلامیہ)
روی أنّ موسی علیہ السلام عند نزول الوحی إلیہ تعلق قلبہ بأحوال أھلہ فأمرہ اللہ تعالیٰ أن یضرب بعصاہ علی صخرۃ فانشقت وخرجت صخرۃ ثانیۃ،ثم ضرب بعصاہ علیھا فانشقت وخرجت صخرۃ ثالثۃ۔ثم ضربھا بعصاہ فانشقت فخرجت منھا دودۃ کالذرۃ وفی فمہا شیٔ،یجری مجراء الغذاءلھا،ورفع الحجاب عن سمع موسیٰ علیہ السلام فسمع الدودۃ تقول:سبحان من یرانی ویسمع کلامی ویعرف مکانی ویذکرنی ولاینسانی
وکذافی مجع الزوائد:(8/268،دارالکتب)
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنھ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم :کان ملک الموت یأتی الناس عیاناقال فأتی موسیٰ فقأ عینہ ، فأتی ربہ عزوجل،فقال :یارب عبدک موسیٰ فقأ عینی ولولا کرامتہ علیک لعتبت بہ قال یونس:لشققت علیہ قال لہ: اذھب إلی عبدی فقل لہ لیضع یدہ علی جلد أومسک ثور فلہ لکل شعرۃ وارت یدہ سنۃ،فأتاہ فقال: مابعد ھذا؟ قال: الموت قال فالآن قال:فشمہ شمۃ فقبض روحہ قال یونس:فرد اللہ إلیہ عینہ،فکان یأتی الناس خفیۃ
وکذافی الصحیح المسلم:(2/272،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ:قال ارسل ملک الموت الی موسی علیہ السلام فلما جاءہ صکہ ففقأ عینہ فرجع الی ربہ فقال ارسلتنی الی عبد لایرید الموت قال فرد اللہ الیہ عینہ وقال ارجع الیہ فقل لہ یضع یدہ علی متن ثور فلہ بما غطت یدہ لکل شعر سنتہ قال ای رب ثم مہ قال ثم الموت قال فالآن فسأل اللہ أن یدنیہ من الارض المقدسۃ رمیۃ بحجر
وکذافی المصنف لعبدالرزاق:(11/274،دارالکتب)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/605،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری:(6/546،قدیمی)
وکذافی الجامع لأحکام القراٰن:(6/132،دار إحیا)
وکذافی تکملہ فتح الملھم:(5/19،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدانیس غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/19،3،2022
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:49

کعب احبار کا تعارف کیا ہے؟کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمان ہو گئے تھے ؟کیا وہ منافقین کے ساتھ خفیہ طور پر شامل رہتے تھے؟کیا اسرائیلی روایات کے یہی ذمہ دار ہیں؟ایک صاحب (جو کہ صاحب علم مانے جاتے ہیں) نے یہ سب باتیں کی ہیں،براہ کرم ان سوالات اور ان جیسے دیگر سوالات کا تسلی بخش جواب مرحمت فرما دیں

الجواب باسم ملہم الصواب

شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ العالی اپنی کتاب ”علوم القرآن“میں ”کعب احبار“کا تعارف اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
”کعب الاحبار کا پورا نام کعب بن ماتع حمیری ہے،اور وہ کعب الاحبار یا کعب الحبر کے لقب سے مشہور ہیں،یہ یمن کے باشندے تھے،اور انہیں علمائے یہود میں ایک ممتاز مقام حاصل تھا،انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا ہے،لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں مشرف باسلام نہ ہوسکے،12ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے دوران یہ مدینہ طیبہ آئے اور مسلمان ہوگئے،طبقات ابن سعد میں روایت ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ ”تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیوں اسلام نہیں لائے؟اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے تورات کا ایک نسخہ لکھ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس پر عمل کرتے رہو ،اور تورات کے علاوہ جتنی کتابیں تھیں انہیں بند کر کے اس پر مہریں لگا دی تھیں،تاکہ میں ان کا مطالعہ نہ کروں،اور ساتھ ہی مجھ سے اپننے رشتہ ابوّت کا واسطہ دے کر یہ عہد لیا تھا کہ میں یہ مہریں نہ توڑوں،لیکن جب دین اسلام دنیا میں غالب ہونے لگا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ کہیں میرے باپ نے مجھ سے کوئی علم چھپانے کی کوشش نہ کی ہو،چنانچہ میں نے ان کتابوں کی مہر توڑ دی اور ان کا مطالعہ کیا ،تو اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا تذکرہ مجھے ملا ،اس لیے میں اب مسلمان ہو کر آیا ہوں۔“
کعب الاحبار رحمہ اللہ کو عام طور سے ثقہ قرار دیا گیا ہے،لیکن علامہ کوثری رحمۃ اللہ علیہ نے بعض روایات کی بناءپر ان کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا ہے،مثلا یہ واقعہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد اقصی تعمیر کرنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں سے مشورہ کیا کہ”مسجد کو صخرہ بیت المقدس کے آگے تعمیر کیا جائے یا پیچھے؟اس پر کعب الاحبار رحمہ اللہ نے مشورہ دیا کہ مسجد صخرہ کے پیچھے بنائی جائے،یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یہودی عورت کے بیٹے !تم پر یہودیت کا ابھی تک اثرہے، میں تو مسجد کو صخرہ کے آگے بناؤں گا،تاکہ نماز میں صخرہ کا استقبال نہ کیا جائے ۔“علامہ زاہد کوثری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد کعب احبار کے ذہن میں حضرت عمر رضی اللہ کے بارے میں کچھ رنجش رہی،یہاں تک کہ ان کا میل جول ایسے لوگوں کے ساتھ بھی دیکھا گیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی سازش میں ملوث تھے،اور اس سے پہلے وہ اہل کتاب کی بعض کتابوں کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ تنبیہ کر چکے تھے کہ آپ کو کسی وقت قتل کیا جائے گا،ان تمام واقعات کو نقل کرنے بعد علامہ کوثری لکھتے ہیں:
”ان بکھرے ہوئے واقعات کو ملانے سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ،حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کعب الاحبار پر پورابھروسہ نہیں کرتے تھے۔“
علامہ کوثری رحمہ اللہ نے کعب الاحبار پر جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،اور مختلف صحابہ کرام کے اقوال کے جو نتائج نکالے ہیں ان سے اختلاف کی گنجائش ہے،(مصر کے محقق عالم ڈاکٹر رمزی نعناعہ نے ان شکوک وشبہات کی مفصل ومدلل تردید کی ہے)لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ ان کی بیشتر روایات اسرائیلی روایات ہیں،لہذا جب تک ان کی تصدیق خارجی دلائل سے نہ ہو جائے اس وقت تک ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ (علوم القرآن:348،349،دارالعلوم کراچی)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:131

جماعت کے ساتھی بیانوں میں عموما مشہور چار فرشتوں کا حلیہ ،مثلاسر،بازو اور پر وغیرہ بیان کرتے ہیں،اس سے اللہ تعالی کی قدرت اورکاریگری سمجھانا ،مقصود ہوتاہے،آیاان فرشتوں کا حلیہ مستند طریقہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت ہے تو اس کی کچھ تفصیل بیان فرما دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ ان کے چھ سو بازو ہیں اور ہر بازو اس قدر بڑا ہےکہ مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے،ایک دوسری روایت میں ہے کہ دو بازؤں سے مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے ،اور ان کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اس قدر ہے کہ آسمان کے کناروں کو چھپا دے ،اور ان کے کندھوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے کہ پرندہ سات سو سال اڑتا رہے تو وہ فاصلہ طے کر پائے ۔

لما فی الصحیح للبخاری: (1 /572 ،رحمانیہ)
قال ابو اسحاق الشیبانی :سالت زربن حبیش عن قول اللہ تعالی{فکان قاب قوسین او ادنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی }[النجم:10 ]قال :حدثنا ابن مسعود:انہ صلی اللہ علیہ وسلم رای جبرئیل ،لہ ستمائۃجناح
وکذا فی الصحیح لمسلم: (1 /128 ،رحمانیہ )
وکذافی العظمہ للاصبھانی : ( 2/ 771،779،780،800 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وکذافی شعب الایمان : (3 /335،336 ،دارالکتب العلمیہ)

(2)

حضرت میکائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ بارش کے ہر قطرے پر ،ہر اگنے والے پتے پر اورہر گرنے والے پتے پر مقرر ہیں،اور ان کے بارے میں حضرت حزقیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ مخلوق میں ان سے بڑا میں نے نہیں دیکھا اوروہ آسمان کے فرشتوں کے نگران ہیں ۔

لمافی العظمہ للاصبھانی: (3 /811 ،دارالعاصمہ ۔شاملہ )
عن عکرمۃ بن خالد ،ان رجلا قال :یا رسول اللہ ،ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فجاءہ جبریل فقال:یا جبریل:ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فعرج جبریل ثم ھبط فقال:اکرم الخلق علی اللہ جبریل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت علیھم السلام ، فاما جبریل فصاحب الحرب وصاحب المرسلین ،وامامیکائیل فصاحب کل قطرۃتسقط وکل ورقۃ تنبت وکل ورقۃ تسقط، واما ملک الموت فھو مؤکل بقبض کل روح عبد فی بر او بحر ، واما اسرافیل فامین اللہ بینہ وبینھم.
وکذافیہ : ( 2/605 ،دارالعاصمہ )

(3)

حضرت اسرافیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتاہےکہ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں ایک وہ بھی ہیں ،ان کے چار بازو ہیں ایک دوسری روایت میں ہے کہ بارہ ہزار بازو ہیں ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ان کے پاؤں زمین کی تہ میں اور سر ساتویں آسمان سے اوپر اور لوح محفوظ ان کی آنکھوں کے درمیان ہے فرشتوں میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں ،اللہ تعالی نے جو صور پیدا کیا اس کے چار کنارے ہیں ،ایک عرش کے نیچے دوسرا زمین کی تہ میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،اس میں تمام مخلوقات کی روحوں کے بقدر سوراخ ہیں ،صور کے درمیان کی گولائی آسمان وزمین کی گولائی کے بقدر ہے اور اس کا ایک سوراخ ساتوں آسمان اور زمین سے بڑا ہے ،اور حضرت اسرافیل علیہ السلام اس صور کو منہ میں لیے ہوئے اللہ کے حکم کے انتظار میں عرش کی طرف نظر اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی:(3/820 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
“عن عائشۃ رضی اللہ عنھاان کعبا رحمہ اللہ تعالی قال لھا :ھل سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی اسرافیل شیئا؟قالت :نعم ،سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:لہ اربعۃ اجنحۃ ،منھا جناحان احدھما بالمشرق والآخربالمغرب،واللوح بین عینیہ ،فاذا اراداللہ عز وجل ان یکتب الوحی ینقر بین جبھتہ
وفیہ ایضا:(3/841،دارالعاصمہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فيكون، فكون الصور وهو من لؤلؤة بيضاء في صفاء الزجاجة وله أربع شعب: شعبة تحت العرش، وشعبة في ثراء الثراء، وشعبة في مشرق المشرق، وشعبة في مغرب المغرب، ثم قال للعرش: خذ الصور، فتعلق بالعرش، ثم قال: كن، فكون إسرافيل وهو من أقرب الملائكة إلى الله تبارك وتعالى، فأمره أن يأخذ الصور فأخذه وفيه ثقب بعدد كل روح مبدوة، وكل نفس منفوسة، لا يخرج روحان من ثقب واحد، ولا جسمان يدخلان في ثقب، بل كل ثقب لصغير الصغير الذي لا يعرف، ولخليل الخليل الذي لا يوصف وفي وسط الصور كوة كاستدارة السماء والأرض، وإسرافيل واضع فمه على تلك الكوة، ثم قال له الرب عز وجل: قد وكلتك بالصور فأنت للنفخة والصيحة، فدخل إسرافيل في مقدم العرش فأدخل رجله اليمنى تحت العرش، وقدم اليسرى ولم يطرف مذ خلقه الله عز وجل ينتظر ما يؤمر به [ص:842] والعرش على كاهله، واللوح يقرع جبهته
وکذافی حلیہ الاولیاءللاصفھانی:(6/65،دارالکتب العلمیہ)
وفی العظمہ :(3/842،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(14/319،320،داراحیاءتراث)

(4)

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہےکہ ان کے چار بڑے بازو ہیں ایک عرش کے نیچے دوسرا تحت الثری میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،پھرہر بڑے بازو میں ستر ہزار چھوٹے بازو ہیں ،پھر ان چھوٹے بازؤں میں سے ہرایک بازو کے ستر ہزار پر ہیں ،پھر ہر پر کے ستر ہزار کنارے ہیں ،تمام زمین کو ان کے سامنے پلیٹ کی طرح بنا دیا گیا ہے اس میں سے جس کی روح قبض کرنی ہوتو آرام سے کر لیتے ہیں ،ایک اور روایت میں ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ان کے سامنے ہوتی ہے جب کسی کی روح قبض کرنی ہوتی ہےتو ان کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں کی روح قبض کر لو ۔ایک اور روایت میں ہے کہ جس رجسٹر میں لوگوں کی زندگی لکھی ہوئی ہے ملک الموت روزانہ تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اسےدیکھتے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی :(3/890،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن عكرمة رحمه الله تعالى في قوله عز وجل: {وهو الذي يتوفاكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار} [الأنعام: 60] قال: «يتوفى الأنفس عند موتها» . قال: ” وما من ليلة إلا والله عز وجل يقبض الأرواح كلها فيسأل كل نفس ما عمل صاحبها من النهار، ثم يدعو بملك الموت عليه السلام، فيقول: اقبض هذا وهذا، وما من يوم إلا وملك الموت ينظر في كتاب حياة الناس قائل يقول ثلاثا وقائل يقول خمسا
وفیہ ایضا:(3/899،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فكون عزرائيل عليه السلام، ثم قال: كن فكون كبشا أملح مستترا بسواد وبياض له أربعة أجنحة: جناح تحت العرش، وجناح في ثرى الثرى، وجناح في مشرق المشرق، وجناح في مغرب المغرب، له في كل جناح سبعون ألف جناح، وفي كل جناح سبعون ألف ريشة، في كل ريشة سبعون ألف شعبة
وفیہ ایضا :(3/286،895،دارالعاصمہ۔شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1440-2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:44

 

اہل علم کے ہاں خصوصا ایک اصطلاح چلتی ہے ”رسوخ فی العلم “کی ،براہ کرم قرآن وحدیث اور اقوال اکابر کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

رسوخ فی العلم “رسوخ مادہ رسخ سے ہے ،اور اسکا معنی ہے”گڑ جانا ،جم جانا “رسخ العلم فی قلبہ ،علم کا راسخ ہونا ،دل میں اتر جانا،شبہ باقی نہ رہنا ۔اور جس انسان میں یہ صفت ہو وہ راسخ فی العلم کہلائے گا ۔مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ”معا رف القرآن“میں فرماتے ہیں کہ ”راسخین فی العلم سے مراد اہل السنت والجماعت ہیں ،جو قرآن وسنت کی اسی تعبیر و تشریح کو صحیح سمجھتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،سلف صالحین ،اور اجماع امت سے منقول ہو ،اور قرآنی تعلیمات کا محور اور مرکز محکمات کو مانتے ہیں ،اورمشتبہات کے جو معانی ان کے فہم و ادراک سے باہر ہیں اپنی کوتاہ نظری اور قصور علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو خدا کے سپرد کرتے ہیں ،وہ اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور نہیں ہوتے ،بلکہ ہمیشہ حق تعالی سے استقامت اور مزید فضل وعنایت کے طلبگار رہتے ہیں ،ان کی طبیعتیں فتنہ پسند نہیں ہوتیں کہ متشابہات کے پیچھے لگی رہیں ،وہ محکمات اور متشابہات سب کو حق سمجھتے ہیں ۔

(معارف القرآن:2/21،22:ادارۃ المعارف )

وفی التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی رحمہ اللہ:( 3/146،علوم اسلامیہ)
ان اللہ مدح الراسخین فی العلم بانھم یقولون آمنا بہ ،وقال فی اول سورۃ البقرۃ {فاما الذین آمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم }فھولاءالراسخون لو کانوا عالمین بتاویل ذالک المتشابہ علی التفصیل لما کان لھم فی الایمان بہ مدح، ۔۔۔۔۔وانما الراسخون فی العلم ھم الذین علموا با لدلائل القطعیۃان اللہ تعالی عالم بالمعلومات التی لا نھایۃ لھا،وعلمواان القرآن کلام اللہ تعالی ،وعلمواانہ لایتکلم بالباطل والعبث ،فاذاسمعو اآیۃ ودلت الدلائل القطعیۃعلی انہ لا یجوز ان یکون ظاھرھا مراد اللہ تعالی ،بل مرادہ منہ غیرذالک الظاھر ،ثم فوضوا تعیین ذالک المراد الی علمہ ،وقطعوا بان ذالک المعنی ای شیئ کان فھو الحق والصواب،فھولاء الراسخون فی العلم باللہ حیث لم یزعزھم قطعھم بترک الظاھر ،ولا عدم علمھم بالمراد علی التعیین عن الایمان باللہ والجزم بصحۃ القرآن
(کذا فی تفسیر المظھری:(1/438،رشیدیہ
(کذا فی القاموس الوحید:(621،ادارہ اسلامیات
(کذا فی الجامع البیان فی تفسیر القرآن:(3/124،دارالمعرفہ
(کذا فی تفسیر البغوی:(1/280،دارالمعرفہ
(کذا فی تفسیر البحر المحیط:(2/200،201،دارالکتب العلمیہ
(کذا فی انوار البیان:(2/442،العلم
(کذا فی تفسیر ماجدی:(2/539،مجلس نشریات قرآن

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:196

کیا یہ بات درست ہے کہ ابو لہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولا دت کی خو شی ميں اپنی باندی ثویبہ كو آزاد كيا جس كی وجہ سے ان كے عذاب میں تخفیف ہوگئی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بعض روایات میں ہےکہ ابولہب نے کسی کے خواب میں آکر بتایاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولا دت کی خو شی میں اپنی با ندی ثو یبہ کو آزاد کر نے کی وجہ سےمیرے عذاب میں تخفیف کی گئی ۔

لمافی صحیح البخاری :(2/764،قدیمی )
قال عروة، وثويبة مولاة لأبي لهب: كان أبو لهب أعتقها، فأرضعت النبي صلى الله عليه وسلم، فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله بشر حيبة، قال له: ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة
وفی فتح الباری : (9 / 174 ، قدیمی )
قال عروة :وثوبية مولاة لابي لهب وكان ابولهب اعتقها فارضعت النبي صلي عليه وسلم ،فلما مات ابو لهب اريه بعض اهله بشرحيبة ،قال له : ماذا لقيت؟ قال أبو لهب: لم ألق بعدكم غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة ……. وذكر السهيلي أن العباس قال لما مات أبو لهب رأيته في منامي بعد حول في شر حال فقال ما لقيت بعدكم راحة إلا أن العذاب يخفف عني كل يوم اثنين قال وذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم ولد يوم الاثنين وكانت ثويبة بشرت أبا لهب بمولده فأعتقها
وکذافی فیض الباری : (5 /508 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخصا ئص الکبری : (1 / 366،التو فیقية )
وکذافی عمدۃ القاری : (20 /94،95 ،داراحیاء التراث العربی )
وکذا فی السن الکبری : (7 /263 ،دار الکتب العلمية )
وکذافی مصنف عبدالزاق : (7 / 477،الاسلا می )
وکذا فی دلائل النبوۃ : (1 /149 ،دار الکتب العلمِية )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9-5-2019،1440-9-3
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:57

حضرت علی کی پیدائش کس مہینہ کی ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

معتبر تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ حضرت علی بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے ، جبکہ آپ کی ولادت کے مہینہ کے بارے میں کسی بھی معتبر کتاب میں تذکرہ نہیں ملتا ، ما سوائے مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی  کی کتاب ” المرتضی “ کے ، جس میں صفحہ 51 پر ” ابن سعد “ کے حوالے سے مولانا نقل فرماتے ہیں :

” صحیح روایتوں کے بموجب سیدنا علی بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے ، ابن سعد کا بیان ہے کہ آپ کی پیدائش رجب کے مہینہ ، عام الفیل کے ۳۰ ھ میں ( چھٹی صدی عیسوی ) رجب کی بارہ ( ۱۲ ) راتوں کے گزرنے کے بعد ہوئی۔“ ( المرتضی : 51 ، البرہان )
لیکن افسوس کہ مولانا کا ذکر کردہ حوالہ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود ”طبقات ابن سعد“ میں نہ مل سکا ۔

اور سیر الصحابہ میں ہے

” حضرت علی آپ ﷺ کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے ۔“

(سیر الصحابہ : 1/194، اسلامی کتب خانہ )
اور حضرت مولانا نافع  اپنی کتاب ” سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ “ میں اس طرح رقمطراز ہیں :
” بعض اقوال کے مطابق حضرت علی کی ولادت مکہ شریف میں عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی ہے اور بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ نبی اقدس ﷺ کے مولد شریف کے تیس سال بعد علی المرتضی متولد ہوئے ۔ اور یہ بھی علماء فرماتے ہیں کہ آنجناب کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی تھی ۔


(سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ : 34 ، دارالکتاب )

و فی الاصابة فی تمییز الصحابة للامام ابن حجر العسقلانی :

“و علی بن ابی طالب بن عبد المطلب …… ولد قبل البعثۃ بعشر سنین علی الصحیح 0”

(الاصابة فی تمییز الصحابة: 4/1294، الوحیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :119

درج ذیل مسائل کے بارے میں راہنمائی چاہیے :۔1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے با رے میں عمومی طور پر علماء سے سنا ہے کہ یکم محرم الحرام میں ہوئی تھی جبکہ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ بات تحقیقی نہیں ہے بلکہ عربی کتب تاریخ میں کہیں بھی یکم محرم کو وفات ثابت نہیں ،البتہ اکثر کتب تاریخ میں ذوالحجہ کے آخری ہفتہ میں وفات ثابت ہے ۔اب صحیح بات کیاہے ؟اور اگر عربی کتب سے کوئی حوالہ جات بھی مل جا ئیں تو بہت مہر بانی ہو گی۔2)عورتوں کا قبرستان جانا جائز ہے یا نہیں ؟جبکہ ایسے اوقات میں جائیں جب وہاں کوئی اجنبی مرد نہ ہوں اور کسی قسم کی بدعات اور شرکیہ افعال نہ کیے جائیں ۔کتاب وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

تمام کتب تاریخ اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ذوالحج کے آخری دنوں میں ہوا ، بعض کے نزدیک ذوالحج ختم ہونے سے تین دن پہلے اور بعض کے نزدیک چار دن پہلے(یعنی26،25یا27 ذوالحج) اور متعدد تاریخ دانوں نے اسی تاریخ کو یوم وفات قرار دیاہے۔ اور بعض نے یکم محرم کو تدفین کا دن قرار دیا ہے ،مؤخر الذکر قول زبان زد عام ہے اور اسی کو قبولیت و شہرت حا صل ہوئی ہے۔

اور یہ بات اس لیے بھی دل کو لگتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حملہ کے فورا ًبعد شہید نہیں ہوئے بلکہ تقریبا 3دن مرض الموت میں رہنے کے بعد فوت ہوئے ،لیکن حملہ چونکہ ذوالحج کے آخرکی کسی تاریخ میں ہوا تھا اس لیے اسی کو تاریخ وفات قرار دے دیا ہے۔2)اس مسئلہ میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے اکثر فقہاء عورتوں کو قبرستان جانے سے مطلقا ًمنع کرتے ہیں جبکہ بعض اس کی اجازت بھی دیتے ہیں ۔
ہماری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ عورتوں کو مطلقا ًتو جانے کی اجازت نہیں البتہ کبھی کبھارمحرم کے ساتھ یا ایک ،دو عورتیں مل کر کسی محرم یا قریبی رشتہ دارکی قبر کی زیارت کے لیے جائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، اس میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ عورتیں گروہ بنا کر ،ٹولیوں کی شکل میں نہ جائیں ۔

 

لما فی البدایۃ و النھایۃ:(7/111،دار الکتب العلمیۃ)
“وأوصى من يستخلف بعده بالناس خيرا على طبقاتهم ومراتبهم، ومات رضي اللّٰه عنه بعد ثلاث، ودفن في يوم الأحد مستهل المحرم من سنة أربع وعشرين۔”
وفی سیر اعلام النبلاء:(2/531،دار الفکر)
 وقال معدان بن أبي طلحة: أصيب عمر يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة. وكذا قال زيد بن أسلم وغير واحد. وقال إسماعيل بن محمد بن سعد بن أبي وقاص: إنه دفن يوم الأحد مستهل المحرم.
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(3/306،قدیمی)
وکذا فی اسد الغابۃ:(2/914،الوحیدة)
وکذا فی الطبقات الکبری:195/2(عمریۃ)
وفی الفتاوی الھندیة:( 5/350، رشیدیہ)
” واختلف المشايخ رحمهم اللّٰه تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه اللّٰه تعالى – الأصح أنه لا بأس بها “
وفی البحر الرائق:(2/342، رشیدیہ)
“قال في البدائع، ولا بأس بزيارة القبور ۔۔۔۔۔وقيل تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما “
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/65، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (18/160،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط :(24/10، دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1440
19/12/2018

جلد نمبر :17
فتوی نمبر :62

آپ ﷺ کا زریعہ معاش کیا تھا ؟صدقہ آپﷺلیتے نہیں تھے اور ہدایا عموما اپنے اصحاب میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے تو گذر بسر کیسے ہوتا تھا؟

 

الجواب باسم ملہم الصواب

حضور ﷺبوقت ضرورت قرض لے لیتے تھے پھر جب ہدایا وغیرہ آتے تو قرض ادا کر دیتے تھے اور صحابہ کرام بھی اپنا مال حضور ﷺکی خدمت میں پیش کردیتے تھے مثلا حضرت خدیجہ ،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان وغیرہ ، پھر اللہ تعالی نے مال غنیمت میں آپﷺکا حصہ مقرر فرمادیا ۔ابتداء میں آپ ﷺنے تجارت بھی کی ہے ۔

لمافی السیرۃ النبویۃ :(1/224،دار احیاء)
“قال ابن إسحاق: وكانت خديجة بنت خويلد امرأة تاجرة ذات شرف ومال۔۔۔۔فلما بلغها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بلغها، من صدق حديثه، وعظم أمانته، وكرم أخلاقه، بعثت إليه فعرضت عليه أن يخرج في مال لها إلى الشام تاجرا، وتعطيه أفضل ما كانت تعطي غيره من التجار، مع غلام لها يقال له ميسرة، فقبله رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، وخرج في مالها ذلك، وخرج معه غلامها ميسرة حتى قدم الشام”.
وفی الصحیح البخاری :(1/113،رحمانیۃ)
“حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا معن، قال: حدثني إبراهيم بن طهمان، عن محمد بن زياد، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتي بطعام سأل عنه: «أهدية أم صدقة؟»، فإن قيل صدقة، قال لأصحابه: «كلوا»، ولم يأكل، وإن قيل هدية، ضرب بيده صلى الله عليه وسلم، فأكل معهم”۔
وفی جامع الترمذی:( 2/685،رحمانیۃ)
“حدثنا علي بن الحسن الكوفي قال: حدثنا محبوب بن محرز القواريري، عن داود بن يزيد الأودي، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما لأحد عندنا يد إلا وقد كافيناه ما خلا أبا بكر فإن له عندنا يدا يكافئه الله به يوم القيامة، وما نفعني مال أحد قط ما نفعني مال أبي بكر۔۔۔۔الخ”۔
وکذافی سنن ابی داود :(2 /143،رحمانیۃ)
وکذافی الصحیح لمسلم :(1/403،رحمانیۃ)
وکذا فی تحفۃ الاحوذی :(10/349،قدیمی)
وکذافی الرحیق المختوم:(60،دار السلام )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440،2019/4/1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر 106