الجواب حامداً ومصلیاً
اس کے سابقہ اعمال (نماز،روزہ،حج،زکوۃ ،وغیرہ)باطل ہوگئے اوراگرفرض حج کرچکا تھا توبشرط استطاعت حج کی قضاءلازم ہوگی ،اسی طرح اگرمثلاً ظہر کی نماز کے بعد مرتد ہواپھر ظہر کے وقت میں ہی اسلام لیےآیا تو اس پر ظہر کی قضاء لازم ہوگی۔
اس کے سابقہ اعمال (نماز،روزہ،حج،زکوۃ ،وغیرہ)باطل ہوگئے اوراگرفرض حج کرچکا تھا توبشرط استطاعت حج کی قضاءلازم ہوگی ،اسی طرح اگرمثلاً ظہر کی نماز کے بعد مرتد ہواپھر ظہر کے وقت میں ہی اسلام لیےآیا تو اس پر ظہر کی قضاء لازم ہوگی۔
شرعی مسافر کے آبادی سے باہر نکلنے کےبعد نماز کا حکم

نہیں!اگراسےحیض کاشمارکرناممکن ہوتوحیض کا،ورنہ استحاضہ کاہوگا۔
الجواب باسم ملھم الصواب
طواف تو پورا ہو جائے گا،لیکن یہ عمل مکروہ ہے۔
لما فی ردالمحتار:(2/ 497 ، سعید)
“ولو خرج منہااومن السعی الی جنازۃ او مکتوبۃ او تجدید الوضوء ثم عاد بنی…. [تنبیہ]اذا خرج لغیر حاجۃ کرہ ولا یبطل،فقد قال فی اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مکروھاتہ تفریقہ ای الفصل بین اشواطہ تفریقا کثیرا۔”
وکذا فی المبسوط:(4/48،دارالمعرفة )
وکذا فی الولوالجیة :(1/293 ، الحرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3 / 2213، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/ 498 ،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة :(29 / 132، علوم اسلامیة)
وکذا فی اعلاءالسنن:(1 / 85،87، ادارۃ القرآن)
وکذا فی ارشاد الساری:(176، فاروقیة)
وکذا فی غنیة الناسک:(128، ادارۃ القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/23
پائے تا بے(جرموق) پر مسح اس وقت جائز ہوگا جب ان کو حدث لاحق ہونے اور موزوں پر مسح کرنے سے پہلے پہنا ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17 شوال المکرم1441، 9جون 2020