ایک شخص نے عمرہ کا احرام باندھا، اس وقت اس کے بال انگلی کے پورے کے برابر تھے ،عمرہ ادا کرنے کے بعد اس نے حلق کروایا،اب اس کے بال انگلی کے آدھے پورے کے برابر ہیں ،تو کیا اس پر دم وغیرہ ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں دم واجب ہوگا۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/330،رشیدیہ)
وأما التقصیر فالتقدیر فیہ بالانملۃ ۔۔۔۔۔۔ قالوا یجب أن یزید فی التقصیر علی قدر الانملۃ لان الواجب ھذا القدر من أطراف جمیع الشعر وأطراف جمیع الشعر لا یتساوی طولھا عادۃ بل تتفاوت فلو قصر قدر الانملۃ لا یصیر مستوفیاقدر الانملۃ من جمیع الشعر بل من بعضہ فوجب أن یزید علیہ حتی یستیقن باستیفاء قدر الواجب فیخرج عن العھدۃ بیقین
وفی الشامیة:(2/516،سعید)
قولہ بأن یأخذ الخ)قال فی البحر:والمراد بالتقصیرأن یأخذ الرجل والمرأۃ من رؤوس شعر ربع الرأس مقدار الانملۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وفی البدائع:قالوا أن یزید فی التقصیرعلی قدرالانملۃحتی یستوفی قدر الانملۃ من کل شعرۃ برأسہ لان أطراف الشعر غیر متساویۃ عادۃ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/643،فاروقیہ)
وکذافی النھر الفائق:(2/89،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/472،بیروت)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار:(2/515،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/507،رشیدیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(174،ادارة القرآن)
وکذافی البحرالرائق:(2/606،رشیدیہ)
وکذافی البدائع الصنائع:(2/327،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/2/2023/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:36

ہمارے ساتھ ایک مرتبہ ایک حاجی صاحب تھا وہ حج کی قربانی کرنے سے عاجز تھا تو اب اسے کیا کرنا چاہیےقربانی کے بارے میں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کو چاہیے تھا کہ وہ دس روزے اس طرح رکھتا کہ تین روزے ایام حج میں دس ذوالحجہ سے پہلے پہلے رکھتا اس میں بھی بہتر یہ تھا کہ سات آٹھ اور نو ذوالحجہ کو روزے رکھتااور بقیہ سات روزے افعال حج سے فارغ ہو کر تیرہ ذوالحجہ کے بعد مکہ میں یا پھر گھر آ کر رکھتا لیکن اگر وہ روزے نہ رکھ سکا تو اسے حج کی قربانی ہی کرنا تھی اگر اس نے قربانی نہیں کی تو تین قربانیاں(دم)لازم ہونگی(1) حج کی قربانی(2)قربانی سے پہلے”حلق“کروانے کی وجہ سے قربانی(3)قربانی کو بارہ ذوالحجہ سےمؤخر کرنے کی وجہ سے قربانی۔

لما فی مجمع الا نھر:(1/426،المنار)
فان عجزعنہ)أی عن الھدی (صام)القرن عشرۃ أیام بدلا للھدی (ثلاثۃ أیام قبل یوم النحر ولافضل کون آخرھا یوم عرفۃ)لان الصوم بدل عن الھدی فیستحب تأخیرہ الی آخر وقتہ رجاء أن یقدر علی الاصل ۔۔۔۔۔۔(وسبعۃ)أیام (اذا فرغ)أی صام سبعۃ أیام بعد ما فرغ من أعمال الحج لان الصوم منھی فی أیام التشریق(ولو بمکۃ)و عند الشافی و احمد صام سبعۃ اذا رجع الی اھلہ
وفی البحرالرئق:(2/634،رشیدیہ)
فلو لم یقدر علی الھدی تحلل وعلیہ دمان دم التمع و دم التحلل قبل الھدی کذا فی الھدایۃ وقال فیھا یأتی فی آخر الجنایات فان حلق القارن قبل ان یذبح فعلیہ دمان عند أبی حنیفۃ دم بالحلق فی غیر أوانہ لان أوانہ بعد الذبح ودم بتأخیر الذبح عن الحلق وعند ھما یجب علیہ دم واحد وھو لاول فنسبہ صاحب غایۃ البیان الی التخلیط لکونہ جعل احد الدمین ھنا دم الشکر ولآخر دم الجنایۃ وھو صواب وفیھا یأتی أثبت عند أبی حنیفۃ دمین آخرین سوی دم الشکرو نسبہ فی فتح القدیر ایضا فی باب الجنایات الی السھو ولیس کما قالا بل کلامہ صواب فی الموضعین فھنا لما لم یکن جانیا بالتأخیر لانہ لعجزہ لم یلزمہ لاجلہ دم ولزمہ دم للحلق فی غیر أوانہ وفی باب الجنایات لما کان جانیا بحلقہ قبل الذبح لزمہ دمان کما قررہ ولم یذکر دم الشکر لانہ قدمہ فی باب القران ولیس الکلام الا فی الجنایۃ
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار مع رد المحتار:(3/638،رشیدیہ) وکذافی غنیة الناسک:(358،ادارۃ القرآن)
وکذافی الشامیة:(2/616،سعید) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/3282،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/386،رشیدیہ) وکذافی المحیط الرھانی:(3/460،بیروت)
وکذافی أحکام القرآن الجصاص:(1/404،قدیمی) وکذافی التاتارخانیة:(3/626،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/2/2023/14/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:5

ایک شخص نےاس طرح عمرہ کیا کے احرام باندھا ہی نہیں بلکہ سلے ہوے کپڑے پہنے رہا آیا اس کا عمرہ ہو گیا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کسی مرد نے سلے ہوے کپڑے پہنے تھےاور عمرے کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیا پھر ایک دن یا ایک رات کے برابر سلے ہوے کپڑے پہنے رہا تو اس پر دم واجب ہوگااور اگراس سے کم پہنے تو صدقہ دینا ہوگا لیکن چونکہ اس نے پورے عمرے میں یہ غلطی (جنایت )کی ہےتو یہ بڑی غلطی( کامل جنایت)بن رہی ہےاس لئے اس کو احتیاطا دم دیے دینا چاہیے لیکن اگر اس نے عمرہ کی نیت نہیں کی تھی ویسے ہی ارکان عمرہ ادا کر لیےتو کچھ لازم نہ ہوگا۔

لما فی غنیة الناسک:(439،ادارة القرآن)
جزاء الجنایات إما دم حتما اذا ارتکب المحظور کاملا بلا عذر أو صدقۃ حتما اذا ارتکب المحظور ناقصا بلا عذر أو علی التخییر بین الصوم و الصدقۃ و الدم اذا ارتکب المحظور کاملا بعذر أو علی التخییر بین الصوم و الصدقۃ اذا ارتکب المحظور ناقصا بعذر
وفی ارشاد الساری:(105،فاروقیہ)
فلو أحرم لابسا المخیط أو مجامعا انعقد فی الاول صحیحا)أی و یجب علیہ دم ان دام لبسہ یوما والا فصدقہ
وکذافی غنیة الناسک:(196،ادارة القرآن)
وکذافی تنویر الابصارمع الدر المختار:(3/545،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/539،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2181،رشیدیہ)
وکذافی الھدایہ:(1/372،بشری)
وکذافی الھندیة:(1/237،رشیدیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(332،فاروقیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(65،ادارة القرآن)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/2/2023/13/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:7

دس سالہ بچہ عمرہ کرنے گیا تو کیا اس کا حلق کروانا ضروری ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حلق کروانا چاہیئے اگر چہ ضروری نہیں ہے۔

لما فی ارشاد الساری : (125،فاروقیہ )
و ینبغی لولیہ ان یجنبہ بتشدید نونہ ای یحفظہ ویبعدہ من محظورات الاحرام کلبس المخیط و استعمال الطیب و نحوھما وان ارتکب ای الصبی شیاء من محظورات لا شئ علیہ
وفی الشامیہ: (2 / 466، ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (3 / 654 ،فاروقیہ )
وکذا فی البحرالرائق : ( 2/ 554،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 3/ 655، فاروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق: (2 / 6 ،امدادیہ )
وکذا فی النھر الفائق: ( 2/ 59، قدیمی)
وکذا فی المبسوط : (4 / 69، دار المعرفہ)
وکذا فی غنیةالناسک : ( 316 ، ادارة القران )
وکذا فی الفتاوی قاضی خان : ( 1/ 312 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/11/2022/8/5/2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:106

ایک شخص نے تین گھنٹوں میں عمرہ مکمل کر لیا ہے اور عمرے کے احرام کے دوران ہی سلے ہوئے کپڑےپہن لیے تو کیا اس شخص پر دم واجب ہوگا یا صدقہ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص پر صدقہ واجب ہوگا۔

لما فی المبسوط : (4 /126 ،بیروت )
وکذلک لو لبس قمیصا أو سراویل أوقلنسوۃ یوما الی للیل فعلیہ دم وان کان فیما دون ذلک فعلیہ صدقۃ
وفی حاشیة الدرالمختار: (2 /547 ،سعید )
لوأحرم بنسک وھو لابس المخیط وأ کملہ فی أقل من یوم وحل منہ لم أر فیہ نصا صریحا و مقتضی قولھم أن الارتفاق الکامل الموجب للدم لا یحصل الا بلبس یوم کامل أن تلزمہ صدقۃ
وکذافی الھدایہ : (1 /420 ،بشری )
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 2/410 ،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /270 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /574 ،فاروقیہ )
وکذافی البحر الرائق : (3 / 10 ، رشیدیہ)
وکذا فی غنیةالناسک : ( 71 ،ادارة القرآن )
وکذافی الھندیة: (1 /242 ،رشیدیہ )
وکذا فی ارشاد الساری: ( 509 ،فاروقیہ )
وکذافی غنیةالنا سک: ( 196 ،ادارة القرآن )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1444 /2022/12/18
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:156

حالتِ احرام میں بے اختیار خوشبو کو ہاتھ لگ گیا تو کفارہ لازم ہوگا یا دم؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حالتِ احرام میں خوشبو خواہ قصدا لگائی یا غیر اختیاری طور پر لگ گئی دونوں صورتوں میں اگر خوشبو مکمل ہاتھ کو لگ گئی تو دم واجب ہوگا اوراگر کچھ حصہ کو لگی تو صدقہ فطر کی مقدرا یعنی تقریبا سوا دو کلو گندم کی قیمت بطور صدقہ لازم ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /241 ،رشیدیہ)
ولو مس طیبا فلزق بہ مقدار عضو کامل وجب الدم سواء قصدالطیب او لم یقصد وان کان اقل من ذالک فصدقۃ
وفی غنیة الناسک:(243،ادارةالقرآن)
ولا فرق ایضا بین ان یقصد ہ او لا، ولذا قال فی المبسوط وان استلم الرکن فاصاب فمہ ، او یدہ خلوق کثیر، فعلیہ دم ، وان کان قلیلا فصدقۃ
وکذافی الھدایة:(1/246،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة :(3/652،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (3 /4 ،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر: ( 3/ 23 ، رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق: (2 /115 ،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(/،علوم اسلامیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /652 ،رشیدیہ)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(1/431،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:155

ایک شخص مسجد عائشہ سے ڈیڑھ کلو میٹر اندر رہتا ہے ، تو کیا وہ گھر سے احرام باندھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حرم میں رہنے والے کو، حدود حرم سے باہر(حِل) جاکر عمرے کا احرام باندھنا ہوتا ہے، پس اس کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ عمرہ کا احرام مسجد عائشہ سے باندھے۔

لما فی اللباب:(1/166،قدیمی)
ومن کا بمکۃ فمیقاتہ فی الحج الحرم وفی العمرۃ الحل )لیتحقق وقوع السفر ۔۔۔۔۔۔۔الا ان التنعیم افضل، لورود الاثر بہ
وفی ارشاد الساری:(93،فاروقیہ)
فوقتہ الحرم للحج)۔۔۔۔۔۔(والحل للعمرۃ )لیحصل لھم نوع من السفر و فی الجملۃ مشقۃ تو جب زیادۃ الاجر ثم احرام المکی من التنعیم افضل عندنا للعمرۃ
وکذافی الھندیة:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/393،المنار)
وکذافی غنیة الناسک:(57،ادارة القرآن)
وکذافی الشامیة:(2/479، ایچ ایم سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/412،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/478،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/2126،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/10/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:26

عمرہ کرنے سے حج فرض ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کوئی عمرہ کے لیے جائے اور حج کے مہینے شروع ہوجائیں یا وہ حج کے مہینوں ہی میں عمرہ کے لیے جائے اور اس کے لیے حج ادا کرنے تک،خرچہ کی دستیابی اور حکومتی اجازت کے ساتھ، وہاں رہنا ممکن ہو تو پھر اس پر حج فرض ہوجائے گا۔

لما فی غنیة الناسک:(22/ادارةالقرآن)
السابع: الوقت، ای وجود القدرۃ فیہ، وھو اشھرالحج، او وقت خروج اھل بلدہ ان کانوا یخرجون قبلھا ، فلا یجب الا علی القادر فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ فقیر آ فاقی قدم مکۃ قبل اشھرالحج ، او صبی مکی بلغ، او عبد عتق، او کافر اسلم بمکۃ قبل اشھر الحج، ھل یجب علیھم الحج فی الحال ام لا یجب ما لم یدرکوا الا شھروھم بمکۃ؟ فعلی القول بان الوقت شرط الوجوب لا یجب ، وعلی القول بانہ شرط الاداء یجب
وفی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /471،فاروقیہ)
وان کان صحیح البدن الا انہ لا یملک الزاد والراحلۃ لکن بذل لہ الغیر الزاد والراحلۃ فی طریق الحج، ومعناہ انہ اباح لہ غیرہ لا تثبت الاستطاعۃ عندنا ۔۔۔۔۔۔۔ وکان الکرخی یقول: انما تشترط الراحلۃ فی حق من بعد عن مکۃ، فاما اھل مکۃ ومن حولھا فلا تشترط الراحلۃ فی حقھم۔ وفی الینابیع: اذا کانوا قادرین علی المشی، ولکن لا بد ان یکون لھم من الطعام بمقدار ما یکفیھم ولعیالھم بالمعروف الی حین عودھم
وکذافی البنایة:(4/7،رشیدیہ)
وکذافی العنایة:(2/420،رشیدیہ)
وکذافی لباب المناسک:(54،فاروقیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(54،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/415،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/539،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الشلبی علی تبیین الحقائق:(2/5،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/07/15/7/1444
جلد نمبر؛29 فتوی نمبر:25

جب باربارعمرہ کریں تو سر پر بال بالکل بھی نہیں ہوتے، آیا ایسی صورت میں بھی حلق کروانا ضروری ہے؟ حالانکہ اس میں جلد کے چھلنے کا اندیشہ ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر محرم کے سر پر بال بالکل بھی نہیں ہیں تو اس کے لیے سر پر صرف استرا پھیرنا واجب ہے، لیکن اگر زخموں یا کھال چھلنے کی وجہ سے استرہ پھیرنا ممکن نہ ہو تو یہ واجب ساقط ہوجائے گا۔

لما فی ار شاد الساری:(253،فاروقیہ)
ولو تعذرالحلق لعارض تعین التقصیر او التقصیر) ای تعذر لکون الشعر قصیرا(تعین الحلق وان تعذرا جمیعا لعلۃ فی راسہ) بان یکون شعرہ قصیرا، او براسہ قروح یضرہ الحلق (سقط عنہ و حل بلا شیئ) ای بلا وجوب دم علیہ لانہ ترک الواجب بعذر
وفی الدر المختار:(2/516،ایچ ایم سعید)
ویجب اجراء الموسی علی الاقرع وذی قروح ان امکن والا سقط
وفی الشامیة:(2/516،ایچ ایم سعید)
قولہ والا سقط) ای وان لم یکن اجراء الموسی علیہ ولا یصل الی تقصیرہ سقط عنہ وحل بمنزلۃ من حلق
وکذافی البنایة:(4/138،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(2/88،قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر:(1/414،المنار)
وکذافی فتح القدیر:(2/502،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/606،رشیدیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(175،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/507،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/01/9/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:24

کسی کی طرف سے نفلی طواف کرنا جائز ہے؟ مثلاً:پوری امت مسلمہ،حضوراکرمﷺ یا اپنی والدہ وغیرہ اور اس میں نیت کس طرح کریں گے ، زبان سے ضروری ہو گی یا دل سے کا فی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کسی کی طرف سے نفلی طواف کرنا جائز ہے۔ نیت اس طرح کرے:”میں اللہ کی رضا کے لیے فلاں کی طرف سے طواف کرتا ہو، اے اللہ! اس کو میرے لیے آسان کردے اور قبول فرمالے۔“یہ نیت دل سے کرنا ضروری ہے البتہ زبان سے کہہ لینا افضل ہے۔

لما فی الدر المختار مع ردالمحتار: (4 /12 ،رشیدیہ)
الاصل ان کل من اتی بعبادۃ ما لہ جعل ثوابہا لغیرہ وان نواھا عند الفعل لنفسہ لظاہرالادلۃ۔ قولہ:(بعبادۃ) ای: سواء کانت صلاۃ او صوما او صدقۃ او قراء ۃ او ذکرا او طوافا او حجا او عمرۃ، ۔۔۔۔۔۔ وجمیع انواع البر کما فی الھندیۃ
وفی غنیة الناسک:(75/ادارةالقرآن)
وان کان احرامہ عن الغیر یقول:اللھم انی ارید الحج عن فلان فیسرہ لی وتقبلہ منی عنہ، ثم ینو عنہ بقلبہ
وکذا فی الھدایة:(1/458،بشریٰ)
وکذا فی البدائع:(2/454،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: (6 /927 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /257،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(2/83،امدادیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(78/ادارةالقرآن
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/2182،رشیدیہ)
وکذا فی ارشادالساری: (475،113،111 /فاروقیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (1 /414 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/14/19/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:122