کوئی شخص مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے چیونٹی اور موذی حشرات وغیرہ کو ان کی تکلیف سے بچنے کے لیے مار سکتا ہے؟ کیامحرم اور غیر محرم دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محرم اور غیر محرم دونوں کے لیے موذی حشرات کو ان کی تکلیف سے بچنے کے لیے مارنا جائز ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/420،بیروت)
محرم قتل برغوثاً أو قملة أو بقة، فلا شيء عليه. . . .لان ھذہ الاشیاء لیست بصید
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/506،الطارق)
واذا صال علیہ سبع فقتلہ لا شیئ علیہ کما لا شیئ علیہ بقتل غراب و حداۃ وعقعب وفارۃ وحیۃ وکلب عقور ونمل وبرغوث وقراد وسلحفاۃ وما لیس بصید کھوام الارض
وکذافی الشامیة:(3/676،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/559،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2331،2336، رشیدیة)
وکذافی شرح الطیبی:(5/393،بیروت)
وکذافی اعلاء السنن:(10/352،ادارة القرآن)
وکذافی الھدایة:(1/263،رشیدیہ)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/241،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 52

عمرہ کرتےوقت اگرآخرمیں بال کٹوانے سے پہلے اگرکوئی مزید طواف کرناچاہے توکرسکتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !کرسکتاہے،مگربلاعذر بال کٹوانے میں تاخیر ناپسندیدہ ہے۔

لما فی التنویرمع الدر:(2/554،سعید)
او حلق فی حل بحج)… )أو عمرۃ( لا ختصاص الحلق بالحرم( لا)دم( فی معتمر) خرج (ثم رجح من حل) الی الحرم( ثم قصر)
وفی الشامیة:( 2/554،سعید )
و أما حلق العمرۃ فلا یتوقت بالزمان اجماعا
وفی الھدایة:(1/257،رشیدیة)
والحلق فی العمرۃغیر موقت بالزمان بالاجماع لان اصل العمرۃلایتوقت بہ
وکذا فی البحرالرائق:(2/586،رشیدیة)
وکذا فی منحةالخالق:( 2/587،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة :(1/227، رشیدیة)
وکذا فی ارشاد الساری:(59،فاروقیة)
وکذا فی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/293، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/1202/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:144

اگرمحرم کے ہاتھ کے کچھ حصہ پر خوشبولگ جائے، جبکہ لگنے والی خوشبو کافی مقدار میں ہو تو دم لازم ہوگا یاصدقہ ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر خوشبو کی مقدار کم ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کامل عضوپر لگ جائے تو دم لازم ہوگا ،اگر کامل عضو پر نہیں لگی توصدقہ لازم ہوگا اوراگر خوشبو کی مقدار زیادہ ہے تو اس کاحکم یہ ہے کہ اگرچوتھائی عضو پر بھی لگ جائے توبھی دم لازم ہوگا ،چوتھائی عضو سے کم پر صدقہ لازم ہوگا ۔
صورت مسئولہ میں چونکہ خوشبو کی مقدار زیادہ ہے تو اگر چوتھائی ہاتھ پر لگی ہے تو بھی دم لازم ہوگا اگر چوتھائی ہاتھ سے کم پر لگی ہے تو صدقہ لازم ہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/241،رشیدیة)
والصحیح أن یوفق و یقال ان کان الطیب قلیلا فالعبرۃ للعضو لاللطیب حتی لو طیب بہ عضوا کاملا یکون کثیرا یلزمہ دم وفیما دونہ صدقۃ ،وان کان الطیب کثیرا فالعبرۃ للطیب لاللعضو حتی لو طیب بہ ربع عضو یلزمہ دم
وفی ار شاد الساری :(346،فاروقیة)
ثم ان کان الطیب قلیلا فالعبرۃ للعضو )ای لا بالطیب( وان کان )ای الطیب (کثیرا فالعبرۃبالطیب )ای لا بالعضو ، وھذا ہو الصحیح کما قالہ شیخ الاسلام وغیرہ توفیقا بین الأقوال حیث قالوا :اذا ا ستعمل طیبا کثیرا فاحشا فعلیہ دم وان کان قلیلا فصدقۃ
وکذافی غنیة الناسک:(244،ادارةالقرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع :(2/418،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(3/4،رشیدیة)
وکذا فی ردالمحتار :(2/545،سعید)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/588،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:142

حالت احرام میں ماسک اور سینی ٹائزر لگانا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حالت احرام میں چہرہ ڈھانپنا ممنوع ہے ، لیکن کسی ناگزیر عذر کی وجہ سے ایسا کرنے پر انشاءاللہ گناہ نہیں ہوگا، تاہم جزاء واجب ہوگی ۔ چنانچہ ایک دن یا ایک رات کے بقدر ، پورا یا چوتھائی چہرہ ڈھانپنے کی وجہ سے یا تو دم لازم ہوگا یعنی حدود حرم میں ایک بکری/بکرا ذبح کرنا ہوگا یا چھ مسکینوں کو فی کس سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت دینا ہوگی یا تین روزے رکھنے ہوں گے ۔ اوراگر ایک دن /رات کی مقدار سے کم چہرہ ڈھانپا ، تو صدقہ لازم ہوگا یعنی سوا دوکلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہوگی یا ایک دن روزہ رکھنا ہوگا ۔
اور سینی ٹائزر اگر خوشبو والا نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہے ۔ اور اگر خوشبو والا ہو اور خوشبو غالب ہو اور اس کو دونوں ہاتھوں پر لگایا تو دم واجب ہوگا ، البتہ اگر خوشبو مغلوب ہو یا اس کا استعمال کامل عضو پر نہ ہو ، تو صدقہ واجب ہوگا ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(3/2291،رشیدیہ)
فلایجوز ان یضع علی راسہ ووجہہ عمامۃ ولاخرقۃ…… الا لحاجۃ کمداواۃ او حر او برد ، فیجوز التغطیۃ وتجب الفدیۃ
وفیہ ایضاً:(3/2298،رشیدیہ)
وان استھلک الطیب فی المخالط لہ….. کان استعمل فی دواء واکلہ جاز ولافدیۃ
وفی غنیة الناسک:(1/88،علوم اسلامیہ)
وتغطیۃ الراس والوجہ کلہ او بعضہ کالعارض والانف والفم والذقن بثوب …..او نحو ذالک ممایقصد بہ التغطیۃ بعذر او بغیر عذر الا ان صاحب العذر غیرآثم
وفی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)
ولوغطی المحرم راسہ او وجہہ یوما فعلیہ دم وان کان اقل من ذالک فعلیہ صدقۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2296،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/546،سعید)
وکذافی ردالمحتار:(2/546،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/439،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:19

کیا حاجی کے لیے مزدلفہ مغرب تک پہنچنا ضروری ہے یا رات کے کسی بھی حصہ میں پہنچ جائے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مزدلفہ مغرب تک پہنچنا ضروری نہیں بلکہ رات کے کسی بھی حصہ میں جاسکتا ہے ، لیکن مغرب و عشاء کی نماز مزدلفہ میں پڑھنا ضروری ہے ، کیونکہ وقوف مزدلفہ کے واجب قیام کا اصل وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کر طلوع شمس تک ہے ۔

لما فی البدائع:(2/322،رشیدیہ)
واما زمانہ فمابین طلوع الفجر من یوم النحر و طلوع الشمس فمن حصل بمزدلفۃ فی ھذا الوقت فقد ادرک الوقوف سواء بات بھا او لا
وفی التنویر مع الدر:(2/511،سعید)
ثم وقف )بمزدلفۃ ، ووقتہ من طلوع الفجر الی طلوع الشمس ولو مارا کما فی عرفۃ
وفی الھندیة:(1/230،رشیدیہ)
ثم وقت الوقوف فیہا من حین طلوع الفجر الی ان یسفر جدا فاذا طلعت الشمس خرج وقتہ…… وقبلہ وبعدہ لایجوز
وکذافی فقہ الحنفی:(1/490،طارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/405،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(3/515،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2248،رشیدیہ)
وکذافی ارشادالساری:(1/242،فاروقیہ)
وکذافی الھدایة:(1/268،میزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:143

احرام میں سردی سے بچنے کے لیے احرام کی چادروں کے علاوہ گرم چادر استعمال کر سکتے ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے ۔

لما فی المبسوط:(4/129،بیروت)
ولاباس للمحرم بلبس الطیلسان فانہ بمنزلۃ الرداء ولکنہ یکرہ لہ ان یزرہ علیہ وکان ابن عباس یقول لاباس بذالک لان الطیلسان لیس بمخیط
وفی ردالمحتار:(2/481،سعید)
فیجوز فی ثوب واحد واکثر من ثوبین ……والافضل ان لایکون فیھما خیاطۃ
وکذافی غنیة الناسک:(1/78،ادارةالقرآن)
وکذافی کتاب الاصل:(2/401،عالم الکتب)
وکذافی البدائع:(2/406،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2020/12/31
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:105

ایک صاحب سودی بنک میں ملازم ہیں اور ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ یہی ہے،وہ حج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو کیا ان کاحج کرنا صحیح ہو گا؟

الجواب حامداومصلیا

حج کے لئے حلال آمدن کا ہونا ضروری ہے،البتہ اگر بنک کی آمدن سے حج کیاتو فرض حج تو ادا ہو جائے گا لیکن ثواب نہیں ملے گا۔

لمافی الھندیة:(1/220،رشیدیہ)
ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھاوان کانت مغصوبۃ․
وکذافی الشامیة:(3/519،رشیدیہ)
مطلب:فیمن حج بمال حرام وھنا کذلک فان الحج فی نفسہ مامور بہ وانما یحرم من حیث الانفاق وکانہ اطلق علیہ الحرمۃ،لانہ للمال دخلا فیہ،فان الحج عبادۃ مرکبۃ من عمل البدن والمال کما قدمناہ ولذا قال فی البحرویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال،فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرام………مع انہ یسقط الفرض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ وعدم قبولہ،فلا یثاب لعدم القبول ولایعقاب عقاب تارک الحج
وکذافی البحر الرائق:(2/541،رشیدیہ)
وکذافیارشاد الساری:(534،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(17/82،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/9/1443-2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر :190

کوئی مسلمان فلمی اداکار فلم کے ذریعے پیسے کمائے اور اس سے حج کرے تو کیا اس کاحج ہو جائے گا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

حرام کمائی والے شخص سے فرض تو ساقط ہو جائے گا، لیکن اس حج پر اجروثواب نہیں ملے گا۔

لمافی الشامیة:(2/456،ایچ۔ایم۔سعید)
لا یقبل بالنفقۃ الحرام کما ورد فی الحدیث، مع انہ یسقط الفرٖض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ و عدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب عقاب تارک الحج۔
وفی فتح القدیر:(2/412،رشیدیہ)
ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال، فانہ لایقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع انہ یسقط الفرض معھا، وان کانت مغصوبۃ ولا تنافی بین سقوطہ وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب فی الآخرۃعقاب تارک الحج
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(17/82،علوم اسلامیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(21،ادارةالقران)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2408،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/220،رشیدیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(534،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/541،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443-2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:186

ایک شخص پر حج فرض نہ تھا، وہ کاروبار کے سلسلے میں سعودیہ عرب گیا اور وہاں حج بھی کیا، بعد میں وہ مالدار ہو گیا اور صاحب نصاب بن گیا، کیا اس پر دوبارہ حج فرض ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

نہیں۔

لمافی الھندیة:(1/217،رشیدیہ)
” الفقیر اذا حج ماشیا ثم أیسر لا حج علیہ۔ “
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/281،رشیدیہ)
” والفقیر اذا حج ماشیا ثم أیسر فلا حج علیہ ۔ “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/450،طارق)
فلو تکلف الفقیر و حج بنیة حج الفرض جاز حجہ ق سقط عنہ حج الفرض اذا وجب علیہ بعد ذلک
وکذافی غنیة الناسک:(32،ادارة القران)
وکذافی ارشاد الساری:(70،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/294،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/477،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:187

کیا ایسی خاتون جس پر حج فرض ہو، وہ اپنے بھائی کے ساتھ حج کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر جا سکتی ہے؟ یا شوہر کی اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

فرض حج کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں، محرم کا ساتھ جانا ضروری ہے، لیکن اس خاتون کو چاہیے کہ شوہر کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرے۔

لمافی الھندیة:(1/219،رشیدیہ)
عند وجود المحرم کان علیھا ان تحج حجۃ الاسلام وان لم یأذن لھا زوجھا وفی النافلۃ لا تخرج بغیر اذن الزوج
وفی الخانیة علی ہامش الھندیة:(1/283،رشیدیہ)
وعند وجود المحرم کان علیھا ان تخرج لحجۃ الاسلام وان لم یأذن زوجھا وفی النافلۃ لا تخرج بغیر اذن الزوج
وفی الشامیة:(2/465،ایچ۔ایم۔سعید)
“(ولیس لزوجھا منعھا) ای اذا کان معھا محرم والا فلہ منعھا۔”
وکذافی مجمع الانھر:(1/387،منار)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(17/37،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/300،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/475،فاروقیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(272،بشری)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/454،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:93