وزٹ ویزے پر حج و عمرہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر حکومت سعودیہ کی طرف سے اجازت ہو تو ٹھیک ہے ورنہ قانون کی پاسداری نہ کرنے کا گناہ ہو گا۔

لما فی القرآن المجید:(سورۃ النساء:59)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]
وفی تفسیر المظہری:(2/143،رشیدیہ)
مسالۃ:وھذاالحکم وجوب اطاعۃ الامیر مختص بما لم یخالف امرہ الشرع یدل علیہ سیاق الآیۃ فان اللہ تعالی امر الناس بطاعۃ اولی الامر بعد ما امرھم بالعدل فی الحکم تنبیھا علی ان طاعتھم واجبۃ ما داموا علی العدل ونص علی ذالک فیما بعد: { فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ}الآیہ[النساء: 59].
وفی الصحیح للبخاری:(2/602،رحمانیہ)
عن عبد اللہ بن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:السمع والطاعۃ علی المرءالمسلم فیما احب وکرہ ما لم یؤمر بمعصیۃ فاذا امر بمعصیۃ فلاسمع ولا طاعۃ.”
وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/133،رحمانیہ)
وکذا فی ھامش علی الصحیح لمسلم :(2/133،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:39

ایک آدمی عمر ہ پر جا تا ہے اور وہ اپنی ماں اور بھائی كوثواب پہنچانا چاہتا ہے،تو کیا الگ الگ عمرہ کرے یا ايك ہی میں نیت کرے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں طریقے درست ہے ۔

لمافی تنویر الابصار :(2/607،ایچ ایم سعید )
ومن حج عن) كل من (آمريه وقع عنه وضمن مالهما)… فإن عين أحدهما قبل الطواف والوقوف جاز،لأنه متبرع بالثواب فله جعله لأحدهما أو لهما،بخلاف ما لو أهل بحج عن أبويه أو غيرهما من الأجانب حال كونه (متبرعا فعين بعد ذلك جاز)
وفی البحرالرائق : (3 /111 ،رشیدیہ )
ومن حج عن آمريه ضمن النفقة)….. وقيد بالأمر بهما؛ لأنه لو أحرم عنهما بغير أمرهما فله أن يجعله عن أحدهما؛ لأنه متبرع بجعل ثواب عمله لأحدهماأو لهما فبقي على خياره بعد وقوعه سببا لثوابه
وکذافی غنية الناسك : (328 ،ادارۃالقر آن والعلوم )
وکذا فی المحیط البر ھانی : (3 /576 ،دار احیا ء التراث العربی )
وکذافی الفتاوی التا تا ر خانية: (3 /651 ، فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق : (3 /105 ،رشید یہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:19

عمرہ کرنے والے نے سعی کرنے کے بعد احرام اتاردیا اورکپڑےپہن لیےپھرسر منڈوا دیا ، اب اس پر دم آئے گا یانہیں ؟

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں اگر اس نے بلا عذر،ایک دن یا ایک رات کےبرابر کپڑے پہنے رکھے تو اس پر دم آئے گا، اگراس سےکم وقت کپڑےپہنےرکھےتواس پر سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لا زم ہو گا۔

لما فی الفتا وی التاتا خا نیة (3/574،فاروقیة)
“واذالبس المحرم المخیط علی الوجہ المعتاد یوما الی اللیل فعلیہ دم ،وان کا ن اقل من ذالک فعلیہ صدقة ۔وفسرالکرخی الصدقة ھا ھنا ، فقال:نصف صاع من بر”
وفی المحیط البرھانی :(3/428/داراحیاءتراث العربی)
“واذالبس المحرم المخیط علی الوجہ المعتاد یوما الی اللیل فعلیہ دم ۔وان کان اقل من ذالک فعلیہ صدقةوفسر الکرخی الصدقة ھھنا فقال:نصف صاع من بر”
و کذافی غنیةالناسک:(251،ادارۃ القران )
وکذافی بدائع الصنائع(2/410،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(4/126،دارالمعرفة)
وکذافی الفتاوی الوالوجیة:(1/274،حرمین شریفین)
وکذافی مجمع الانھر:(1/430،432،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(3/10،رشیدیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/280،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریة:(1/288،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/5/29,05/2/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:146

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا حج کتنے سال کی عمر میں کیا تھا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت اسلام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریبا تریسٹھ سال کی عمر میں سنۃ10ھ میں ایک ہی فرض حج کیا ہےاور جو ہجرت سے پہلے بعض کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا ذکر ہے وہ حج شریعت اسلام پر نہیں بلکہ شریعت ابراہیمی پر تھے ۔

لما فی معار ف السنن : ( 6/ 71 ،سعید )
وقد حج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبل حج الفرض ،وقد عرف بعرفۃ ولم یغیر من شرع ابرھیم ما غیروا حتی کانت قریش تقف بالمشعر الحرام ،یرید انہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یتبع قریشا بل اکتفی شرع ابرھیم
وفی دلائل النبوۃ: (5 /454 ،دار الکتب )
حدثنا زھیرابن معاویۃ—-حدثنی زید ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزا تسع عشرۃ،وانہ حج بعد ما ھجر حجۃ الوداع لم یحج بعدھا —عن مجاھد قال حج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث حجج :حجتین وھو بمکۃ قبل الھجرۃ وحجۃ الوداع
وکذافی البدایة والنھایة: (5 /86 ،دارالکتب )
وکذا فی بذل المجھود (8 /189 ،قدیمی )
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح : (5 /379 ،التجاریہ )
وکذا فی سبل الھدی والرشاد : (8 /444 ،نعمانیہ )
وکذا فی تشریحات ترمذی : ( 3/ 428 ،حامعہ اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی :33

عمرہ کے طواف کے دوسرے چکرمیں پنڈلی پر ویل چیئر لگی اورخون نکلنے لگا، لیکن طواف کے بعد پتہ چلا کہ خون نکل رہا ہے تو دم وغیرہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں ایسے شخص کو وضو کر کےدوبارہ طواف کرنا چاہیے تھا ،دوبارہ طواف کرنے سے کچھ لازم نہ ہوتا لیکن اگر کسی نے دوبارہ طواف نہ کیا اور گھر واپس لوٹ آیا تو حدود حرم میں بکری ذبح کرنی ہو گی۔

لما فی الشامیہ :(3/663،رشیدیہ)
“ولوطاف للعمرۃ کلہ او اکثرہ او اقلہ ولو شوطا جنبا او حائضا او نفساء او محدثا فعلیہ شاۃ، لا فرق فیہ بین الکثیر والقلیل والجنب والمحدث،لانہ لا مدخل فی طواف العمرۃ للبدنۃ ولا للصدقۃ۔۔۔۔۔۔وان اعاد سقط عنہ الدم۔”
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/609،فاروقیۃ)
“فنقول:اذاطاف للعمرۃمحدثااوجنبافمادام بمکۃیعیدالطواف،فان رجع الی اھلہ ولم یعد ففی المحدث تلزم شاۃ، وفی الجنب:القیاس ان تلزمہ البدنۃ، وفی الاستحسان تکفیہ شاۃ۔”
وکذا فی البحر الرائق:(3/39،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/436،المنار)
وکذافی الھدایہ:(1/296،المیزان)
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/60،امدادِیہ)
وکذا فی فتح القدیر(فوائد):(3/51،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(4/289،رشیدیہ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/523،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/504،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفر لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
1/5/1440،2019/01/08
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :85

مفتی صاحب!1)مکہ مکرمہ میں داخلہ کی نیت سے آفاقی جب بھی سفر کرے گا تو میقات سے احرام باندھنا اور حج یا عمرہ کی نیت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری ہے تو اس وجوب کی کیا دلیل ہے؟2) حج تمتع کے لیے آفاقی عمر ہ کے بعد احرام کھول دے پھر ایام حج میں احرام کہاں سے باندھے؟3) اہل مکہ اور اہل حل حج/عمرہ کا احرام کہاں سے باندھیں؟ 4) آفاقی اگر ایک عمرہ کرنے کے بعد دوبارہ عمرہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے؟ اور احرام کہاں سے باندھے؟5) غیر آفاقی حج کے مہینوں میں زیادہ عمرے کر سکتا ہے؟ احرام کہاں سے باندھے؟6) غیر مسلم حدود حرم میں داخل ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دخولِ مکہ کے لیے عام حالات میں آفاقی کا میقات سے احرام باندھنا واجب ہے، خواہ کسی بھی نیت سے داخل ہو رہا ہو، اور احرام کا وجوب، حرم کی سرزمین کے معظم و مکرم اور شرافت والی ہونے کی وجہ سے ہے، اور حرم کی تعظیم سب پر واجب ہے، خواہ وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو یا عمرہ کا یا تجارت وغیرہ کا۔ الّا یہ کہ کوئی ڈرائیور یا مزدور وغیرہ ہو جسے روز یا ہفتے میں اکثر دن کام کی غرض سے حدودِ حرم میں جانا پڑتا ہو تو اس کے لیے احرام نہ باندھنے کی بھی گنجائش ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/373، رشیدیہ )

“وكذلك لو أراد بمجاوزة هذه المواقيت دخول مكة لا يجوز له أن يجاوزها إلا محرما، سواء أراد بدخول مكة النسك من الحج أو العمرة أو التجارة أو حاجة أخرى عندنا…ولنا ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ألا إن مكة حرام منذ خلقها الله تعالى لم تحل لأحد قبلي، ولا تحل لأحد بعدي، وإنما أحلت لي ساعة من نهار، ثم عادت حراما إلى يوم القيامة. الحديث.

ولأن هذه بقعة شريفة لها قدر وخطر عند الله تعالى، فالدخول فيها يقتضي التزام عبادة إظهارا لشرفها على سائر البقاع.”

وفی الھدایة : ( 1/253، المیزان )

” ومن كان داخل الميقات له أن يدخل مكة بغير إحرام لحاجته لأنه يكثر دخوله مكة وفي إيجاب الإحرام في كل مرة حرج بين.”

وفی المغنی لابن قدامة : ( 3/253، شاملہ )

“ولو أوجبنا الإحرام على كل من يتكرر دخوله، أفضى إلى أن يكون جميع زمانه محرما، فسقط للحرج.”

و کذا فی المصنف ابن أبی شیبة: (3/294، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی فتح القدیر شرح الھدایة: ( 2/430، رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/54، حقانیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 89، فاروقیہ )

حجِ تمتع کرنے والا ایامِ حج میں حج کا احرام حدودِ حرم میں جہاں سے چاہے باندھ سکتا ہے، البتہ مسجدِ حرام سے باندھنا افضل ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2282، رشیدیہ )

فاذا کان یوم الترویۃ ( الثامن من ذی الحجۃ ) أحرم بالحج من المسجد الحرام ندبا، و یشترط أن یحرم من الحرم لان المتمتع فی معنی المکی، و میقات المکی فی الحج: الحرم، کما تقدم فی المواقیت

وکذافی الھدایة: ( 1/283، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/468، الطارق )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/178، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 216، ادارة القرآن )

مکہ والے حج کا احرام، حرم کی حدود کے اندر سے باندھیں، اور عمرہ کا احرام ”حِل“ سے باندھیں، البتہ عمرہ کا احرام مسجدِ عائشہ سے باندھنا زیادہ بہتر ہے۔ اور جو لوگ میقات اور حرم کی حدود کے درمیان رہتے ہیں ان کا حج و عمرہ کے لیے میقات ”حِل“ ہے۔

لما فی الھدایة: ( 1/254، المیزان )

ومن كان داخل الميقات فوقته الحِل معناه الحِل الذي بين المواقيت وبين الحرم لأنه يجوز إحرامه من دويرة أهله وما وراء الميقات إلى الحرم مكان واحد.
ومن كان بمكة فوقته في الحج الحرم وفي العمرة الحل لأن النبي عليه الصلاة والسلام أمر أصحابه رضي الله عنهم أن يحرموا بالحج من جوف مكة وأمر أخا عائشة رضي الله عنهما أن يعمرها من التنعيم وهو في الحِل

وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/460، الطارق )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/166، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2127، 2126، رشیدیہ )

آفاقی ایک عمرہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ عمرہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور عمرہ کا احرام حرم کی حدود سے باہر ”حِل“ سے باندھے گا، البتہ مقامِ تنعیم ( مسجدِ عائشہ ) سے احرام باندھنا زیادہ بہتر ہے۔

لما فی غنیة الناسک: ( 201، ادارة القرآن )

“أن السنۃ فی العمرۃ أن تفعل داخلا الی مکۃ لا خارجا بان یخرج المقیم بمکۃ الی الحِل، فیعتمر کما یفعل الیوم، و ان لم یکن ممنوعا و افضل مواقیتھا لمن بمکۃ التنعیم، ثم الجعرانۃ.”

وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 511، فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/ 2126، رشیدیہ )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 2/151، علوم اسلامیہ )

غیر آفاقی کا اگر اسی سال حج کا ارادہ ہو تو اَشہُرِ حج میں اس کے لیے ایک عمرہ کرنا بھی مکروہ ہے اور اگر اسی سال حج کا ارادہ نہ ہوتومتعددعمرے کر سکتا ہے اور عمرہ کا احرام ”حِل“ سے باندھےگا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/467، الطارق )

“و کذلک تکرہ العمرۃ لاھل مکۃ و من یقیم داخل المواقیت فی اشھر الحج، لان الغالب علیھم ان یحجوا فی سنتھم فیکونوا متمتعین، و ھم عن التمتع ممنوعون لما سیاتی، و الا فلا مانع أن یعتمر المکی فی أشھر الحج اذا لم یحج فی تلک السنۃ.”

وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 87، فاروقیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 511، فاروقیہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 199، ادارة القرآن )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/577، حقانیہ )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/166، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی الھدایة: ( 1/254، المیزان )

غیر مسلم کو حدودِ حرم سے گزرنے اور کسی ضرورت سے وہاں جانے کی اجازت تو ہے مگر حدودِ حرم میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔

لما فی الموسوعة الفقہیة: ( 17/188،189، علوم اسلامیہ )

اتفق الفقهاء على أنه لا يجوز لغير المسلم السكنى والإقامة في الحرم….. واختلفوا في اجتياز الكافر الحرم بصفة مؤقتة، فذهب الشافعية والحنابلة وهو قول عند المالكية: إلى منع دخول الكفار إلى الحرم مطلقا….. وقال الحنفية: لا يمنع الذمي من دخول الحرم، ولا يتوقف جواز دخوله على إذن مسلم ولو كان المسجد الحرام.

وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/ 2392، رشیدیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 541، فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/421، الطارق )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440، 2019/02/28
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :37

لیڈیز کے عمرہ کے لئے کیا کیا سامان ضروری ہے، جیسے مرد دو پٹی والی چپل پہنتا ہے پاؤں کھلا رکھنے کے لئے، تو لیڈیز کو بھی ویسی ہی چپل لینا ہو گی اور دوپٹہ یا اسکارف کیسا ہو، کالے رنگ کا پہن سکتی ہیں یا سفید رنگ کا ہی ہو؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورتوں کے احرام میں اسکارف، دوپٹے، کپڑوں اور جوتوں کا کوئی خاص انداز اور رنگ ضروری نہیں ، چہرہ کا پردہ کرنے کے لئے ایک ” کیپ “ لے لی جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/472، الطارق )
“المرأۃ فی الحج کالرجل الا انھا تختص ببعض الاحکام … فی الاحرام: تبقی فی ثیابھا، فتلبس المخیط و الخفین و القفازین و الجوربین و تغطی رأسھا و لاترفع صوتھا بالتلبیۃ.”
وفی الھندیة: ( 1/235، رشیدیہ )
والمرأة في جميع ذلك كالرجل غير أنها لا تكشف رأسها وتكشف وجهها…وتلبس من المخيط ما بدا لها من الدرع والقميص والخمار والخف والقفازين ولكن لا تلبس المصبوغ بورس و لا زعفران و لا عصفر الا ان یکون قد غسل کذا فی الکفایۃ، و لا بأس للمرأۃ المحرمۃ ان تلبس المخیط من حریر أو غیرہ
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 127، فاروقیہ )
وکذافی رد المحتار: ( 3/628، رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: ( 1/277، رشیدیہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 94، ادارة القرآن )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2296، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/621، رشیدیہ )
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 1/176، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :185

دریافت طلب امریہ ہےکہ ایک آدمی کا ارادہ اصلاعمرہ کاہےمگراس کادوست مدینہ منورہ میں ہے،اس سےملاقات کاارادہ بھی ہےجس وجہ سےوہ پہلےمدینہ جاناچاہتاہےپھردویاتین دن رہنےکےبعدمکہ جانےکاارادہ ہےتووہ میقات سےبغیراحرام گزرسکتاہے؟پھرجب مکہ جائےتوکہاں سےاحرام باندھے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گزرسکتاہے،پھرجب عمرہ کےلئےجائےتومدینہ کےمیقات)بئرعلی)سےاحرام باندھ لے۔

لمافی غنية الناسك:(53/ادارةالقرآن)
والآفاقي اذاانتہی الیھاعلی قصددخول مکۃاوالحرم علیہ ان یحرم من آخرھاقصدالحج اوالعمرۃاولافامااذالم یقصدذلک،وانماقصدمکانامن الحل بحیث لم یمرعلی الحرم حل لہ مجاوزتہ بلااحرام،فاذاحصل فیہ،ثم بدالہ دخول مکۃلحاجتہ غیرالنسک،یدخلھابلااحرام.
وفی الدرالمختارمع ردالمحتار: ( 3/552 ، رشیدیہ)
لمن اي لآفاقي(قصددخول مكة)يعني الحرم(ولولحاجة)غيرالحج امالوقصدموضعامن الحل كخليص وجدةحل له مجاوزته بلااحرام فاذاحل به التحق باهله فله دخول مكةبلااحرام .
وکذافی المحیط البرھانی : ( 3/ 415 ، داراحیاء)
وکذا فی البحرالرائق : (3 / 87، رشیدیہ)
وکذافی الہندیہ: ( 1/ 221 ، رشیدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق : ( 92/ ، حقانیہ)
وکذافی التاتارخانیہ : ( 3/ 553، فاروقیہ)
وکذا فی ارشادالساری : ( 97/ ، فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی غفرلہ
داالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
25/3/2019-1440/17/17
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :74

اگر کوئی شخص مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کی نیت سے آئےتو کیاوہ مسجدعائشہ سے احرام باندھ سکتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اصل تواس پریہی لازم ہےکہ مدینہ كی میقات ہی سے احرام باندھےلیکن اگرجہالت یاکسی عذر کی بناپروہاں سےنہ باندھ سکا تواب مسجدعائشہ سےبھی باندھناکافی ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی : (3/221،داراحیاء)
وان جاوز الآفاقي الميقات بغيراحرام وهويريد الحج والعمرةفان عادالي الميقات واحرم يسقط عنه الدم.
وفی الشامية : ( 3/550،رشیدیہ)
ومن جاوز وقته غيرمحرم ثم اتي وقتاآخرفاحرم منه اجزاه.
وکذافی تبيين الحقائق : (2/73،امدادیہ) وکذا فی الفتاوی قاضی خان :(1/287،رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ : (1 /121،رشیدیہ) وکذا فی فتح القدیر:(3/99،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ :(3/553،فاروقیہ ) وکذا فی المبسوط:(4/170،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1440/2019/4 /4/2
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :176

دوران طواف حطیم میں دو رکعت پڑھ لئے اور پھر طواف پورا کیا،تو طواف کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

طواف تو پورا ہو جائے گا،لیکن یہ عمل مکروہ ہے۔

لما فی ردالمحتار:(2/ 497 ، سعید)
ولو خرج منہااومن السعی الی جنازۃ او مکتوبۃ او تجدید الوضوء ثم عاد بنی…. [تنبیہ]اذا خرج لغیر حاجۃ کرہ ولا یبطل،فقد قال فی اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مکروھاتہ تفریقہ ای الفصل بین اشواطہ تفریقا کثیرا۔
وکذا فی المبسوط:(4/48،دارالمعرفة )
وکذا فی الولوالجیة :(1/293 ، الحرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3 / 2213، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/ 498 ،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة :(29 / 132، علوم اسلامیة)
وکذا فی اعلاءالسنن:(1 / 85،87، ادارۃ القرآن)
وکذا فی ارشاد الساری:(176، فاروقیة)
وکذا فی غنیة الناسک:(128، ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :13