کیا سال مکمل ہوتے ہی زکوۃ صاحب نصاب پر فرض ہو جاتی ہے،اور اگر وہ ادا کرنے میں تاخیر کر دے تو گنہگار تو نہیں ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں سال گزرتے ہی زکوۃ فرض ہو جاتی ہے،اگر کوئی عذر نہ ہو تو فورا ادا کرنی چاہیئے لیکن اگر کوئی عذر ہو تو تاخیر کر سکتا ہے،وہ بھی زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کی سال سے زیادہ تاخیر کرنا گناہ ہے۔

لما فی الشامیہ:(3/227،رشیدیہ)
فیأثم بتأخیرھا الخ)ظاھرۃ الاثم بالتاخیر ولو قل کیوم او یومین لانھم فسروا الفور بأول اوقات الامکان وقد یقال: المراد ان لا یؤخر الی العام القابل لما فی البدائع عن المنتقی۔۔۔۔۔۔۔۔اذا لم یؤد حتی مضی حولان فقد أساء واثم
وفی الھندیة:(1/170،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/359،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1813،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/154،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/134،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/234،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/194،الحرمین شریفن)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/3/2023/9/4/1444
جلدنمبر:30 فتوی نمبر:1

ہمارے ہاں ایک مسئلہ مشہور ہے ،کہ اگر معتکف آدمی مسجد کے محراب میں چلا جائے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، تو وضاحت فرمائیں کیا ایسا ہی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر محراب مسجد کی زمین میں ہو تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا ورنہ ٹوٹ جائے گا۔ وضاحت:آجکل کی اکثر مساجد کے محراب مسجد ہی کا حصہ ہوتےہیں،مسجد سے خارج نہیں ہوتے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(3/500،رشیدیہ)
وحرم علیہ)ای: علی المعتکف اعتکافا واجبا اما النفل فلہ الخروج لانہ منہ لہ لا مبطل کما مر( الخروج الا لحاجۃ الانسان) طبیعیۃ کبول و غائط وغسل لواحتلم ولا یمکنہ الاغتسال فی المسجد
وفی الھندیة:(1/212،رشیدیہ)
فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ونہارا الا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃرحمہ اللہ تعالی
وکذافی التاتار خانیة:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،بیروت)
وکذافی المبسوط:(3/117،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/267،رشیدیہ)
وکذافی مجع الانھر:(1/378،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/3/2023/28/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:118

میں نے نظر مانی تھی کہ اللہ تعالی میرے بیٹے کو صحت دے تو میں دس دن کا اعتکاف بیٹھوں گی تو اللہ تعالی نے میرے بیٹے کو صحت دی ہے ،اب میں اعتکاف بیٹھنا چاہتی ہوں تو کیا اعتکاف کیلئے روزہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نذر کے اعتکاف کیلئے روزہ رکھنا ضروری ہے۔

لما فی الھندة:(1/211،رشیدیہ)
ولو نذر اعتکاف لیلۃ او یوم أکل فیہ لم یصح ولو قال للہ علی ان اعتکف شہرا بغیر صوم فعلیہ ان یعتکف و یصوم
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار:(3/496،رشیدیہ)
وشرط الصوم)لصحۃ(الاول) اتفاقا (فقط) علی المذھب(فلو نذراعتکاف لیلۃ لم یصح )ای: النذر حتی لو قال:للہ علی ان اعتکف شھرا بغیر صوم فعلیہ ان یعتکف و یصوم
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/432،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامیو ادلتہ:(3/1762،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/276،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/534،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس و المزید:(2/443،ادارة القرآن)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/225،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/31/2023/28/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:121

میں نے دو پلاٹ خریدے ہیں، ایک پلاٹ پرگھر بنانے کی نیت ہے اور دوسرا تجارت کی غرض سے خریدا ہے ، ابھی تک متعین نہیں کیا کہ کس پلاٹ پر گھر بنانا ہے تو ان پلاٹوں پر زکوۃ ہے یا نہیں یا دونوں پر زکوۃ نہیں ہے،برائے مہربانی وضاحت فرمائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں دونوں پلاٹوں میں سے ایک کو تجارت کیلئے متعین کر کے اس میں زکاۃ لازم ہوگی۔

لما فی السنن الکبری للبیہقی:(4/249،بیروت)
عن ابن عمر قال: لیس فی العروض زکاۃ الا ما کان للتجارۃ
وفی البحرالرائق:(2/398،رشیدیہ)
وفی عروض تجارۃ بلغت نصاب ورق او ذھب) معطوف علی قولہ اول الباب “فی مائتی درھم” ای یجب ربع العشر فی عروض التجارۃ اذا بلغت نصابا من احدھما وھی جمع عرض
وکذافی بدائع الصنائع:(2/109،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/358،الطارق)
وکذافی الھندیة:(1/179،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/177،رشیدیہ)
وکذافی القدوری:(48،الخلیل)
وکذافی الشامیہ:(2/274،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2023/1/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:3

ہمارے محلہ کے امام نے نماز جنازہ سے پہلے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ میت کو قبر میں قبلہ کی طرف سے رکھنا سنت ہے،اب آپ بتائیں کے اس کی شرعی حثیت کیا ہے ہے سنت ہے یا مستحب؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی میت کو قبلہ کی طرف سے داخل کرنا مستحب ہے،البتہ فقہاء کرام مستحب عمل کو کبھی کبھی سنت سےبھی تعبیرکر دیتے ہیں۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(2/235،سعید)
و)یستحب ان(یدخل من قبل القبلۃ) بأن یوضع من جھتھا ثم یحمل فیلحد
وفی جامع الترمزی:(1/330،رحمانیہ)
عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل قبرا لیلا فاسرج لہ سراج فاخذہ من قبل القبلۃ وقال رحمک اللہ ان کنت لاواھا تلاء للقرآن و کبر علیہ اربعا
وکذافی بدائع الصنائع:(2/61،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/90،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/66،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/226،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/339،رشیدیہ)
وکذافی تیین الحقائق:(1/245،امدادیہ)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/150،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/3/2023/25/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:123

فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد غلطی سے کوئی اور سورۃ ساتھ ملا دی تو کیا اب سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی نہیں۔

لما فی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
ولو قرأ فی الاخریین الفاتحۃ و السورۃ لا یلزمہ السہو وھو الاصح
وفی المحیط البرھانی:(2/310،بیروت)
و اذا قرأ فی الاخریین من الظھر او العصر الفاتحۃ و السورۃ ساھیا، فلا سھو علیہ ،ھو المختار
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/392،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/831،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(101،حقانیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/167،رشیدیہ)
وکذافی بدئع الصنائع:(1/406،رشیدیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدر المختار:(2/186،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/200،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/4/2023/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:17

میں اپنے بیٹے کے گھر گئی ہوئی ہوں اور شرعی سفر بھی بنتا ہے اور میری وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہے تو اب میری نماز کا کیا حکم ہےقصر ہوگی یا پوری؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قصر ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1/139،رشیدیہ)
ولا یزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ او قریۃ خمسۃ عشر یوما او اکثر—– وان نوی الاقامۃ أقل من خمسۃ عشر یوما قصر
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار:(2/125،سعید)
ینوی اقامۃ نصف شھر )حقیقۃ او حکما —– (بموضع واحد(صالح لھا)من مصر او قریۃ او صحراء دارنا و ھو من اھل الاخبیۃ (فیقصران نوی) الاقامۃ (فی أقل منہ)ای فی نصف شھر
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(425،قدیمی)
وکذافی غنیة المتملی:(539،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/388،بیروت)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/164،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/261،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/217،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/4/2023/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:16

میں حیدر علی خلیل ولد محمد خلیل اپنے ہوش وہواس میں حجاب طارق ،زوجہ حیدر علی خلیل کو طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حیدر علی خلیل کی بیوی کو تین طلاقیں ہوگئی ہیں اور وہ اس پر حرام ہو گئی ہے، اب ان دونوں کا اکٹھا رہنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ دونوں میں فوراً علیحدگی کروائی جائے ۔

احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں

(1)

چنانچہ صحاح ستہ میں سے”ابو داؤد شریف”میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاق دی تھیں تو حضورﷺ نےانہیں نافذ فرمادیا تھا۔

عن سھل بن سعد، فی ہذا الخبر، قال: فطلقھا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ:حضرت سہل بن سعد سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کو نافذ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد: 2/140،دار الکتب)

(2)

“سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اِذْھَبِیْ فَاَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثاً”(جا تجھے تین طلاق ) عدت گزارنے کے بعد آپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”مَتَاعٌ قَلِیْلٌ مِنْ حَبِیْبِ مُفَارِقٍ”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن کو معلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا

لولا أنی سمعت جدی أو حدثنی أبی أنہ سمع جدی یقول: أیما رجل طلق امرأتہ ثلاثا مبھمۃ أو ثلاثا عند الاقراء لم تحل لھ حتى تنكح زوجا غیرہ لراجعتھا

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)

(3)
حضرت عبد اللہ بن عمر نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، حضورﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے رجوع کا حکم دیا اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے دریافت کیا

یا رسول اللہ أفرأیت لو أنی طلقتہا ثلاثا كان یحل لی أن أراجعھا؟قال:”لا كانت تبین منك وتكون معصیۃ
(السنن الکبری للبیھقی:7/546، دار الکتب)

ترجمہ: اےاللہ کے رسول!آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقیں دے دیتا، تو میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟آپﷺ نے فرمایا : نہیں، وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور گناہ بھی ہوتا۔

(4)

سنن دار قطنی”میں ہے:(4/10،دار الکتب)
أن حفص بن المغیرۃ طلق امرأتہ فاطمۃ بنت قیس على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی كلمۃ واحدۃ، فأبانھا منہ النبی صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ نے حضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔

(5)

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی کا فیصلہ موجود ہے

“جاء رجل إلى علی فقال:انی طلقت امرأتی ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرھابین نسائك. “(السنن الکبری للبیھقی: 7/548۔ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)

ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں۔آپ نے فرمایا تین طلاق سے تیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔

(6)

ایک ہی مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں

سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امرأتہ ثلاثا فی مجلس، قال: أثم بربہ، وحرمت علیہ امرأتہ
(مصنف ابن ابی شیبہ: 4/ 62، دارالکتب)

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیں، فرمایا: اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔

آیت”الطلاق مرتان”سے استدلال اس لیے درست نہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے، تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآن کریم میں ایک مجلس یا ایک جملہ کی کوئی قید وغیرہ نہیں، لہذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاق دے، اس آیت کی رو سے اس کے لیے رجوع کا اختیار نہیں، جب تک یہ عورت آگے دوسرا نکاح نہ کر لے، جیساکہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

فَإِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔۔۔۔۔۔(البقرۃ:30)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/27/6/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:41

نابینا آدمی کی امامت کا کیا حکم ہے درست ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابینا کی امامت مکروہ تنزیہی ہے،مگر جب اس سے زیادہ علم والا کوئی اور نہ ہو تو پھر اس کی امامت بہتر ہے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(302،قدیمی)
و کرہ امامۃ العبد)۔۔۔۔۔۔۔( ولأعمی) لعدم اھتدائہ الی القبلۃ وصون ثیابہ عن الدنس وان لم یوجد افضل منہ فلا کراھۃ
وفی البحر الرائق:(1/610،رشیدیہ)
وقید کراھۃ امامۃ الاعمی فی المحیط وغیرہ بان لا یکون افضل فان کان افضلھم فھو اولی وعلی ھذا یحمل تقدیم ابن ام مکتوم لانہ لم یبق من الرجال الصالحین للامامۃ فی المدینۃ احد افضل منہ حینئذ
وکذافی المحیط البرھانی:(2/179،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(1/560،سعید)
وکذافی البسوط:(1/41،بیروت)
وکذافی الفوہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1206،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المستملی:(514،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/387،رشیدیہ)
وکذافی اللباب:(90،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2023/1/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:15

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خلوت صحیحہ کے بعد تین طلاقیں دی تو اب اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر عورت کو حیض آتا ہے تو تین حیض اگر حیض نہیں آتا تو تین ماہ عدت ہوگی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(29/306،علوم اسلامیہ)
تجب العدۃ علی المرأۃ بالفرقۃ بین الزوجین بعد الدخول بسبب الطلاق او الموت او الفسخ او اللعان کما تجب بالموت قبل الدخول و بعد عقد النکاح الصحیح واما الخلوۃ فقد اختلف الفقھاء فی وجوب العدۃ بھا فذھب الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ الی انہ تجب العدۃ علی المطلقۃ بالخلوۃ الصحیحۃ فی النکاح الصحیح
وفی الھندیة:(1/526،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحا جائزا فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیہ العدۃ
وکذافی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(5/182،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرئق:(4/216،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/205،الطارق)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/549،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/227،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/302،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/3/2023/12/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:127