صلوۃ الحاجت میں سجدہ کی حالت میں اپنی زبان میں یعنی اردو یا پنجابی میں دعا کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اکثر اکابر علماء کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں غیر عربی زبان مین دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں۔قاموس الفقہ:(3/413،زمزم)،فقہی مقالات:(3/تا127113،میمن اسلامک)احسن الفتاوی:(10/390، سعید)،فتاوی حقانیہ:(3/209،جامعہ دار العلوم حقانیہ)،عمدة الفقہ:(4/104،زوار اکیڈمی)، اعلاءالسنن:(4/149،ادارة القرآن)، ماخوذ از تبویب:(جلد:3/فتوی:336)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:62

مریض آدمی اس لئے تیمم کرتا ہےکہ پانی کا استعمال اس کیلئے نقصان دہ ہے ،اب اگر اس کی نجاست مخرج سے تجاوز کر جائے تو ٹشو یا ڈیھلوں سے استنجاء کرنا کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر پانی اس کو واقعی نقصان پہنچاتا ہےتو ٹشو یا ڈیھلوں سے استنجاء کرنا جائز ہے۔

لما فی الفقہ الحنفی:(1/158،الطارق)
العجز بسبب المرض الذی یزداد أو یتأخر شفاؤہ باستعمال الماء ۔۔۔۔۔۔۔ فیجوزلہ فی ھذہ الحالۃ التیمم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/573،رشیدیہ)
یتیمم اذا خاف باستعمال الماء علی نفس او فنفعۃعضو حدوث مرض من نزلۃ او حمی او نحو ذلک اوخاف من استعمالہ زیادۃ المرض او طولہ او تأخربرئہ ویعرف ذلک بالعادۃ او بإخیار طبیب عارف
وکذافی الھدایة:(1/96،بشری)
وکذافی القد وری:(47،بشری)
وکذافی البحرالرائق:(1/245،رشیدیہ)
وکذافی القد وری:(19،الخلیل)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/102،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/48،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/601،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/97،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:66

ایک شخص نے عمرہ کا احرام باندھا، اس وقت اس کے بال انگلی کے پورے کے برابر تھے ،عمرہ ادا کرنے کے بعد اس نے حلق کروایا،اب اس کے بال انگلی کے آدھے پورے کے برابر ہیں ،تو کیا اس پر دم وغیرہ ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں دم واجب ہوگا۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/330،رشیدیہ)
وأما التقصیر فالتقدیر فیہ بالانملۃ ۔۔۔۔۔۔ قالوا یجب أن یزید فی التقصیر علی قدر الانملۃ لان الواجب ھذا القدر من أطراف جمیع الشعر وأطراف جمیع الشعر لا یتساوی طولھا عادۃ بل تتفاوت فلو قصر قدر الانملۃ لا یصیر مستوفیاقدر الانملۃ من جمیع الشعر بل من بعضہ فوجب أن یزید علیہ حتی یستیقن باستیفاء قدر الواجب فیخرج عن العھدۃ بیقین
وفی الشامیة:(2/516،سعید)
قولہ بأن یأخذ الخ)قال فی البحر:والمراد بالتقصیرأن یأخذ الرجل والمرأۃ من رؤوس شعر ربع الرأس مقدار الانملۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وفی البدائع:قالوا أن یزید فی التقصیرعلی قدرالانملۃحتی یستوفی قدر الانملۃ من کل شعرۃ برأسہ لان أطراف الشعر غیر متساویۃ عادۃ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/643،فاروقیہ)
وکذافی النھر الفائق:(2/89،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/472،بیروت)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار:(2/515،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/507،رشیدیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(174،ادارة القرآن)
وکذافی البحرالرائق:(2/606،رشیدیہ)
وکذافی البدائع الصنائع:(2/327،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/2/2023/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:36

بیوی اپنےشوہرکا نام لے کر پکار سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیوی کیلئے ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
یکرہ أن یدعو الرجل أباہ والمرأۃ زوجھا باسمہ
وفی تنویر الابصار:(9/690،رشیدیہ)
ویکرہ أن یدعو الرجل أباہ وأن تدعو المرأۃ زوجھا باسمہ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/230،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(5/472،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(11/337،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/208،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(6/418،سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/2/2023/15/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:6

اوراق مقدسہ کو جلانا بہتر ہےیا دفنانا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بہتر تو یہ ہے کہ ایسے اوراق کو دفنا دیا جائے یا پانی میں بہا دیا جائےیا”اوراق ِمقدسہ“والے بکس میں رکھ دیا جائے،اگر یہ نہ ہو سکے تو مجبوری میں ان اوراق سے مقدس ناموں کو مٹا کر جلا سکتے ہیں۔

لما فی الدرالمختار مع ردالمحتار:(1/354،دار المعرفة)
المصحف اذاصار بحال لا یقرأ فیہ یدفن کالمسلم ،قولہ:(یدفن)أی یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن فی محل غیر ممتھن لا یوطأ وفی( الذخیرۃ)وینبغی أن یلحد لہ ولا یشق لہ لانہ یحتاج الی إھالۃ التراب علیہ وفی ذلک نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقفا بحیث لا یصل التراب الیہ فھو حسن ایضا وأما غیرہ من الکتب فسیأتی فی الحظر والاباحۃ أنہ یمحی عنھا اسم اللہ تعالی وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أو تدفن وھو أحسن
وفی الھندیة:(5/323،رشیدیہ)
المصحف اذا صار خلقا لا یقرأ منہ ویخاف أن یضیع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن ودفنہ اولی من وضعہ موضعا یخاف أن یقع علیہ النجاسۃ أو نحو ذلک ویلحد لہ لانہ لو شق ودفن یحتاج الی إھالۃ التراب علیہ وفی ذلک نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقف بحیث لا یصل التراب الیہ فھو حسن ۔۔۔۔۔المصحف اذا صار خلقا وتعذرت القراءۃ منہ لا یحرق بالنار
وکذافی البحر الرائق:(1/350،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/10،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(18/69،فاروقیہ)
وکذافی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(5/507،الطارق)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/210،رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ:(6/380،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/2/2023/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:38

غیر مسلم کے پیسے سے قبرستان کی چاردیواری کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کر سکتے ہیں۔

لما فی الھندیة:(2/352،رشیدیہ)
وأما الاسلام فلیس بشرط فلو وقف الذمی علی ولدہ ونسلہ وجعل آخرہ للمساکین جاز ویجوز أن یعطی المساکین المسلمین وأھل الذمۃ
وفی الشامیة:(6/522،رشیدیہ)
شرط وقف الذمی أن یکون قربۃ عندنا وعندھم کالوقف علی الفقراء او علی مسجد القدس
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(44/129،علوم اسلامیہ)
وکذافی مجع الانھر:(2/567،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(5/316،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7648،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/324،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر:(6/186،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(2/530،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:67

ایک ہزار کا بڑا نوٹ جو اب نہیں چلتا صرف اسٹیٹ بینک اسے لیتا ہے تو کیا اب اس نوٹ کو پانچ سو میں خریدسکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ہزار روپے کے بڑے نوٹوں کی مالیت ختم ہو چکی ہے،یہ نوٹ عام اشیاء کے حکم میں ہو گئے ہیں ،لہذا اب ہزار روپے کے بڑے نوٹ کو پانچ سو میں بیچنا جائز ہے۔

لما فی الشامیة:(7/567،رشیدیہ)
تعین بہ)أی:بالتعیین لان ھذہ الدراھم فی الاصل سلعۃ وانما صارت أثمانا بالاصطلاح،فاذا ترکوا المعاملۃ بھا رجعت الی اصلھا
وفی فقہ البیوع:(2/733،معارف القرآن)
و حجۃ ھذا القول أن ھناک فرقا کبیرا بین الذھب و الفضۃ و بین النقود الورقیۃ من حیث ان الذھب و الفضۃ تعتبر أثمانا منذ اول نشأتھا حتی الآن، ولذلک قیل: انھا أثمان خلقیۃ، وان صفۃ الثمنیۃ فیھا لا تبطل بالعرف و لاصطلاح أما النقود الورقیۃ فانھا صارت أثمانا بالاطلاح وثمنیتھا لیست دائمۃ فیمکن فی أی حین أن تبطل ثمنیتھا بمحض إصدار حکم من الحکومۃ أنھا لم تعد عملۃ قانونیۃ
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(15/30،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحرالرائق:(6/335،رشیدیہ)
وکذافی الفاوی التاتارخانیة:(10/4،فاروقیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/588،دار العلوم کراچی)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/161،دار العلوم کراچی)
وکذافی الھدایة:(3/115،رحمانیہ)
وکذافی تیین الحقائق:(4/141،امدادیہ)
وکذافی مجع الانھر:(3/168،المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:64

 

سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ کو چھوڑنے سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے یانہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سننِ مؤکدہ مستقل طور پر نہ پڑھنے والا شخص گناہ گار ہوگااور اس کا یہ عمل قابل ملامت ہوگا،البتہ سنن غیر مؤکدہ کو اگر کوئی پڑھ لے تو بہت اچھا اور اگر نہ پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں۔

لما فی الشامیة:(2/207،رشیدیہ)
وتارکھا یستوجب إساءۃ :أی:التضلیل واللوم وفی التلویح ترک السنۃ المؤکدۃ قریب من الحرام ۔۔۔۔۔۔۔ وعن ھذا قال فی البحر: ان الظاھر من کلامھم أن الاثم منوط بترک الواجب أو السنۃ المؤکدۃ لتصریھم بإثم من ترک سنن الصلوات الخمس علی الصحیح
وفی الموسوعة الفقھیة:(25/275،علوم اسلامیہ)
سنن الزائد:ھی التی تکون إقامتھا حسنۃ ولا یتعلق بترکھا کراھۃ ولا إساءۃ
وکذافی المحیط البرھانی:(2/236،دار احیاء)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(25/276،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/86،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/112،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/194،المنار)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/100،ادارة القرآن)
وکذافی غنیة المستملی:(389،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/303،فاروقیہ)
وکذافی نصب الرایة:(2/161،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
سنندارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:69

اگر کو ئی عورت ایسی جگہ وفات پا جائے جہاں پر کوئی اور دوسری عورت موجود نہیں ہےجو غسل دے سکے تو اس کو مرد غسل دے سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کا کوئی محرم مرد موجود ہو تو وہ میت کو تیمم کرا دے، اگر محرم نہ ہو تو غیر محرم مرد اپنے ہاتھوں پر کچھ کپڑا وغیرہ لپیٹ کر اور نظر کی حفاظت کرتے ہوے تیمم کرا دے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(572،قدیمی)
ولو ماتت امرأۃ مع الرجال)المحارم وغیرھم(یمموھا کعکسہ)وھو موت رجل بین النساء وکن محارمہ ییممنہ(بخرقۃ)تلف علی ید المیمم الاجنبی حتی لا یمس الجسد ویغض بصرہ عن ذراعی المرأۃ
وفی البحرالرائق:(2/305،رشیدیہ)
واذا ماتت المرأۃ فی السفر بین الرجال ییممھا ذو رحم محرم منھا وان لم یکن لف الاجنبی علی یدیہ خرقۃ ثم ییممھا
وکذافی الفتاوی قاضی خان:(1/187،رشیدیہ)
وکذا فی الکتاب الفقہ علی المذھب الاربعة: (1 /429 ،حقانیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /160 ،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق: (1 /384 ،قدیمی)
وکذا فی نور الایضاح: (571 ،قدیمی)
وکذا فی المصنف لابن أبی شیبہ:(2/455،بیروت)
وکذا فی الشامیة:(3/110،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/4/13/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:9

ایک شخص گندم خریدتا ہے ، اس طریقے سے کہ ابھی گندم کی قیمت پانچ ہزار روپے مَنْ ہے اور اس نے ایڈوانس پیسے دے دیئے اور اسے کہا کہ تین ماہ بعد مجھے تین ہزار روپے کے حساب سے گندم دینا تو کیا یہ معاملہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس شخص نے درج ذیل باتوں کا لحاظ رکھا ہو تو یہ صورت جائز ہے، مکمل قیمت ایڈوانس دی ہو ، گندم کی قسم ، کوالٹی ،وزن وصولی کی تاریخ اور جگہ سب کچھ واضح طور پر متعین اور معلوم ہو یعنی کسی بھی چیز میں جھگڑے کا خطرہ نہ ہو،اگر ان میں سے کسی ایک بات کا بھی خیال نہ رکھا گیا تو یہ محض ایک وعدہ ہوگا،مقررہ تاریخ آنے پر دوبارہ نئے سیرے سے معاملہ کرنا ہوگا۔ نوٹ: واضح رہے ایسا معاملہ سودی خوری کے حیلے کے طور پر کرنا گناہ ہے۔

لما فی الھدایة: (3 /140، بشری)
ولا یصح المسلم عند أبی حنیفۃ الا بسع شرائط : جنس معلوم کقولنا:حنطۃ او شعیرو نوع معلوم کقولنا: سقیۃ او بخسیۃ وصفۃ معلومۃ کقولناجید او ردی،ومقدارمعلوم کقولنا:کذا کیلا بمکیال معروف او کذا وزنا وأجل معلوم،والاصل فیہ ما روینا، والفقہ فیہ ما بینا و معرفۃ مقدار رأس المال اذاکان یتعلق العقد علی مقدارہ، کالمکیل ولموزون والمعدود تسمیۃ المکان الذی یوفیہ فیہ اذا کان لہ حمل ومؤنۃ
وفی فقہ البیوع: (2 /1137 ،،معارف القرآن )
الوعد أو المواعدۃ بالبیع لیس بیعا، ولا یترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ المبیع ولا وجوب الثمن و اذا وقع الوعد او المواعدۃ علی شراء شیء او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علی الواعد دیانۃ ان یفی بہ،ویعقد البیع حسب وعدہ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (5 /3604 ،رشیدیہ )
وکذا فی کنز الدقائق : ( 255 ،حقانیہ )
وکذافی الدرالمختار مع ردالمحتار: (7 /580 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (4 /333 ،الطارق )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: (44 /97 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی القدوری: (346 ،البشری )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1 /502 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:58