کوئی شخص سو کر اٹھے پیشاب یا پاخانہ کی حاجت نہ ہو تو پھر بھی پانی سے استنجا ء کرنا ضروری ہے یا صرف وضو کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں استنجاء کی ضرورت نہیں ہے۔

لما فی الدرالمختار : ( 1/ 599 ، رشیدیہ)
إزالۃ نجس عن سبیل فلا یسن من ریح و حصاۃ و نوم و فصد
وفی الفقہ الحنفی : ( 1/ 60،طارق )
ولا یشرع الاستنجاء بخروج ریح او بعد نوم وفعلہ فی مثل ھذہ الاحوال یعد بدعۃ
وکذافی الشامیہ: (1 /599 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : (1 /211 ،فاروقیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 59 ، قدیمی)
وکذا فی العنایہ: (1 /213 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 104 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ : (1 /50 ، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /164، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:131

ایک شخص نےاس طرح عمرہ کیا کے احرام باندھا ہی نہیں بلکہ سلے ہوے کپڑے پہنے رہا آیا اس کا عمرہ ہو گیا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کسی مرد نے سلے ہوے کپڑے پہنے تھےاور عمرے کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیا پھر ایک دن یا ایک رات کے برابر سلے ہوے کپڑے پہنے رہا تو اس پر دم واجب ہوگااور اگراس سے کم پہنے تو صدقہ دینا ہوگا لیکن چونکہ اس نے پورے عمرے میں یہ غلطی (جنایت )کی ہےتو یہ بڑی غلطی( کامل جنایت)بن رہی ہےاس لئے اس کو احتیاطا دم دیے دینا چاہیے لیکن اگر اس نے عمرہ کی نیت نہیں کی تھی ویسے ہی ارکان عمرہ ادا کر لیےتو کچھ لازم نہ ہوگا۔

لما فی غنیة الناسک:(439،ادارة القرآن)
جزاء الجنایات إما دم حتما اذا ارتکب المحظور کاملا بلا عذر أو صدقۃ حتما اذا ارتکب المحظور ناقصا بلا عذر أو علی التخییر بین الصوم و الصدقۃ و الدم اذا ارتکب المحظور کاملا بعذر أو علی التخییر بین الصوم و الصدقۃ اذا ارتکب المحظور ناقصا بعذر
وفی ارشاد الساری:(105،فاروقیہ)
فلو أحرم لابسا المخیط أو مجامعا انعقد فی الاول صحیحا)أی و یجب علیہ دم ان دام لبسہ یوما والا فصدقہ
وکذافی غنیة الناسک:(196،ادارة القرآن)
وکذافی تنویر الابصارمع الدر المختار:(3/545،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/539،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2181،رشیدیہ)
وکذافی الھدایہ:(1/372،بشری)
وکذافی الھندیة:(1/237،رشیدیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(332،فاروقیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(65،ادارة القرآن)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/2/2023/13/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:7

انسانی بالوں کی خریدوفروخت جائز ہےیا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

انسانی بالوں کی خریدوفروخت شرعا جائز نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(3/115،رشیدیہ)
ولایجوزبیع شعورالانسان ولا یجوز الانتفاع بھا وھو الصحیح
وفی تبیین الحقائق: (4/51،امدادیہ)
وشعرالانسان)یعنی لا یجوز بیع شعرالانسان والانتفاع بہ لان الآدمی مکرم
وکذافی الشامیہ: (5/ 58 ،ایچ،ایم،سعید )
وکذا فی التاتارخانیہ: (9 /346 ،فاروقیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /323 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرائق: ( 6/ 133 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: ( 3/ 82، حسن)
وکذا فی فتح القدیر: (6 /351 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: ( 5/ 58، سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/334،دار احیاء)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:161

میری بیوی حاملہ ہے اور میں اسے طلاق دیتا ہوں تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (3 / 232 ،ایچ ایم سعید )
و حل طلاقھن)أی الآیسۃ و الصغیرۃ والحامل(عقیب و ط ء
وفی الھدایہ: ( 2/ 80،بشری )
وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع
وکذا فی الشامیہ: ( 3/ 232 ،ایچ ایم سعید )
وکذا فی النھر الفائق : (2 / 315 ،قدیمی )
وکذا فی الھندیة : (1 /349 ، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط : ( 6/ 10 ، دار المعرفة)
وکذا فی الھندیة : (1 / 350،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیةالتجرید : ( 10/ 4822 ، محمودیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 4/381 ، دار احیاء)
وکذا فی مجمع الانھر : ( 2/6 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:163

قربانی کےبڑے جانور میں سات شرکاءسے کم آدمی مل کر قربانی کرسکتےہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !سات سے کم افراد شریک ہو سکتے ہیں بشرطیکہ کسی کا حصہ ایک حصے سے کم نہ ہو۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (9 /524 ،رشیدیہ )
أو سبع بدنۃ) ھی الابل والبقرسمیت بہ لضخامتھا ولو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد وتجزی عما دون سبعۃبالاولی
وفی العنایة: (11 /16 ،رشیدیہ )
وإما اذا کانوا أقل من سبعۃ ونصیب أحدھم الثلث والآخر الربع جاز بعد ان لایکون نصیب احدھم أقل من السبع
وکذافی البحرالرائق: (8 /319 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4 / 206 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ: (4 /444 ،رحمانیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (5 /202 ،طارق )
وکذا فی الفتاوی الھندیة: (5 /306 ،رشیدیہ )
وکذا فی الصحیح المسلم: (1 / 491 ،رحمانیہ )
وکذا فی موطا الامام محمد مع حاشیہ: ( 258 ،رحمانیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی : (4 / 315 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/3/12/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:129

نماز کے اندر ٹخنے اگر ڈھانپے ہوے ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مردوں کیلئے نماز میں بھی اور نماز کے علاوہ بھی ہر حال میں ٹخنے چھپانا گناہ کبیرہ ہے نماز میں اس کی قباحت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہےچنانچہ حدیث میں ہے کہ نماز میں ٹخنے ڈھانپنے والے کی نماز ہی قبول نہیں ہوتی۔

لما فی صحیح البخاری : (2 /861 ، قدیمی)
عن ابی ھریرۃعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ما اسفل من الکعبین من الازار فی النار
وفی سنن ابی داؤد: (1 / 93 ، المیزان)
عن ابی ھریرۃ قال بینما رجل یصلی مسبلا ازارہ قال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذھب فتوضأ فذھب فتوضأ ثم جاء قال اذھب فتوضأ فذھب فتوضأ ثم جاء فقال لہ رجل یا رسول اللہ مالک امرتہ ان یتوضأ قال انہ کان یصلی وھو مسبل ازارہ وان اللہ جل ذکرہ لا یقبل صلوۃ رجل مسبل ازارہ
وکذافی صحیح المسلم: (2 /203 ،رحمانیہ )
وکذا فی الفقہ الا سلامی وادلتہ: ( 2/ 988، رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (5 / 333،رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق : (8 /349 ،رشیدیہ )
وکذا فی سنن ابن ماجہ: ( 255 ،قدیمی )
وکذا فی مشکوة المصابیح: (2 /386 ،رحمانیہ )
وکذا فی صحیح البخاری : (2 /860 ،قدیمی )
وکذا فی صحیح المسلم: (2 / 203 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 155

اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور یہ جملہ تین بار کہا تو کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوگی خواہ عورت نے وہ کام کرلیا ہو یا نہ کیا ہو۔

لما فی الدرالمختار: (3 / 319 ، سعید)
قولہ طلقی نفسک فقالت أنا طالق او أنا أطلق نفسی لم یقع لانہ وعد
وفی االفتاوی الھندیة: (1 / 384، رشیدیہ)
قالت لزوجھا (أنا لا أکون معک) من باتو غیباشم فقال الزوج (لاتکونی فقالت الطلاق بیدک طلقنی) مباش فقالت طلاق بدست تواست مرا طلاق کن فقال الزوج (أطلق أطلق )طلاق میکنم طلاق میکنم وکررثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ(سأطلق)کنتم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک لوقال بالعربیۃ أ طلق لا یکون طلاقا الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا
وکذافی الشامیہ: (3 /319 ،سعید )
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (1 /82 ، قدیمی)
وکذافی الجوھرة النیرہ : ( 2/ 189 ،قدیمی )
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (1 /83 ، قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: (3 / 545 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق : (2 / 321 ،امدادیہ )
وکذا فی النھر الفائق: (2 /377 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/12/2022/23/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:138

دس سالہ بچہ عمرہ کرنے گیا تو کیا اس کا حلق کروانا ضروری ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حلق کروانا چاہیئے اگر چہ ضروری نہیں ہے۔

لما فی ارشاد الساری : (125،فاروقیہ )
و ینبغی لولیہ ان یجنبہ بتشدید نونہ ای یحفظہ ویبعدہ من محظورات الاحرام کلبس المخیط و استعمال الطیب و نحوھما وان ارتکب ای الصبی شیاء من محظورات لا شئ علیہ
وفی الشامیہ: (2 / 466، ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (3 / 654 ،فاروقیہ )
وکذا فی البحرالرائق : ( 2/ 554،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 3/ 655، فاروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق: (2 / 6 ،امدادیہ )
وکذا فی النھر الفائق: ( 2/ 59، قدیمی)
وکذا فی المبسوط : (4 / 69، دار المعرفہ)
وکذا فی غنیةالناسک : ( 316 ، ادارة القران )
وکذا فی الفتاوی قاضی خان : ( 1/ 312 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/11/2022/8/5/2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:106

اگر کوئی شخص نفل نماز ادا کر رہا ہو اور اتنے میں نماز جنازہ شروع ہو جائے تو کیا نفل نماز توڑنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ ڈر ہو کے نفل مکمل کرے گا تو جنازے میں شریک نہیں ہو سکے گا تو نفل نماز توڑ سکتا ہے بعد میں نفل نماز کی قضاء کرے گا۔

لما فی الدرالمختار: (2 /409 ،رشیدیہ )
أو کان فی النفل فجیء بجنازۃ وخاف فوتھا قطعہ لامکان قضائہ
وفی البحرالرائق: (2 /125، رشیدیہ)
اذا شرع فی النفل فحضرت جنازۃ خاف ان لم یقطعھا تفوتہ فانہ یقطعھا ویصلی علیھا
وکذافی النھرالفائق: (1 / 309، قدیمی)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح : (447،قدیمی )
وکذا فی حاشیة التبیین الحقائق: (1 /181 ،امدادیہ )
وکذا فی فتح القدیر : (1 / 488 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیةالطحطاوی علی الدر: (1 /298 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی النوازل: ( 86 ، حقانیہ)
وکذا فی الشامیہ : (2 /51 ،ایچ ایم سعید )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/3/12/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:104

حائضہ ذکر واذکار کر سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی کر سکتی ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار : ( 1/ 536، رشیدیہ)
ولابأ س لحائض وجنب بقراءۃ أدعیۃومسھا وحملھا وذکراللہ تعالی و تسبیح
وفی الھندیة: ( 1/ 38،رشیدیہ )
و یجوز للجنب ولحائض الدعوات و جواب الاذان ونحو ذلک
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 1/481 ، فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی : ( 1/ 121 ، طارق)
وکذا فی الجوھرةالنیرة: (1/ 89،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 142،قدیمی )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة: (18/321 ،علوم الاسلامیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (1 /346 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر : ( 1/150 ،رشیدیہ )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/ 61 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/27/2/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:105