ہمارا دودھ کا کاروبار ہے اور موٹرسائیکل پر لوگوں کے گھروں میں دودھ پہنچاتے ہیں، دودھ خراب ہونے کی وجہ سے ہم اس دودھ میں برف ڈالتے ہیں اور اس کا خریداروں کو بھی علم ہے کہ یہ برف ڈالتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اصل یہ ہے کہ خریداروں کو خالص دودھ دیا جائے البتہ گرمی کی وجہ سے خراب ہونے سے بچانے کے لیے برف کو شاپر وغیرہ میں ڈال کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے ،لیکن پھر بھی اگر برف ڈالنے کی ضرورت محسوس ہو تو بقدر ضرورت استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اگر برف کا ایک ٹکڑا بھی زائد ڈالا تو یہ ملاوٹ اور دھوکہ شمار ہوگا۔

لما فی الصحیح المسلم: (1 / 70،الحسن )
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر علی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت اصابعہ بللا فقال ما ھذا یا صاحب الطعام قال اصبتہ السماء یا رسول اللہ قال افلا جعلتہ فوق الطعام کی یداہ الناس من غش فلیس منی
وفی جامع الترمذی: (1 / 378، رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر علی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت اصابعہ بللا فقال ما ھذا یا صاحب الطعام قال اصبتہ السماء یا رسول اللہ قال افلا جعلتہ فوق الطعام حتی یداہ الناس ثم قال من غش فلیس منا
وکذافی تبیین الحائق: (4 / 31 ، امدایہ)
وکذا فی الھندیة: (3 / 210، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (10 / 371،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : (8 / 304 ، فاروقیہ)
وکذا فی شرح المجلہ: ( 2/88،89 ، حقانیہ)
وکذا فی مشکوة المصابیح : (1 / 254، رحمانیہ)
وکذا فی مرقاة المفاتیح شرح مشکوةالصابیح : ( 6/ 84، التجاریہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2022/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:108

کمرے میں قالین بچھا ہوا ہے اور وہ قالیں ناپاک ہےتو اس خشک قالین پر جائے نماز بچھا کر نماز ادا کر سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس نا پاک قالین پر ایسا کپڑا یا جائے نماز بچھا کر نماز ادا کی جا سکتی ہے ، جس سے قالین نظر نہ آئے اور بدبو بھی نہ آئے۔

لما فی ردالمحتار: ( 2/468 ،رشیدیہ )
واذا أصابت الأرض نجاسۃ ففرشھا بطین او جص فصلی علیھا جاز وکذا الثوب اذا فرش علی النجاسۃ الیابسۃ فإن رقیقا یشف ما تحتہ او توجد منہ رائحۃ النجاسۃ علی تقدیر أن لھا رائحۃ لا تجوز الصلاۃ علیہ وان کان غلیظا بحیث لا یکون کذلک جازت
وفی الفقہ الاسلامی: ( 1/ 736 ، رشیدیہ)
الصلاۃ علی موضع نجس بحائل ان فرش علی الارض النجسۃ شیاً وصلی علیہ جاز بل اتفاق ان صلح الفرش ساتراً للعورۃ
وکذافی الفتاوی الھندیہ: (1 / 62، رشیدیہ)
وکذا فی الفتح القدیر: ( 1/ 193، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: ( 1/ 706، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ: ( 1/ 271،فاروقیہ)
وکذا فی ملتق الابحر:(1/95،المنار)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/367،دار احیاء تراث)
وکذا فی التجنیس والمزید:(1/396،دار القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2022/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:91

خاوند نے بیوی کو کہا کہ اگر آپ زندگی میں جب بھی میرے نکاح میں ملتان گئی تو میری طرف سے آپ کو طلاق ہوگی اور اپنے بارے میں بھی کہاکہ اگر میں ملتان گیا تو بھی آپ کو طلاق ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں میاں بیوی میں سے جو بھی ملتان جائے گا تو بیوی کو ہر مرتبہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفتاوی الھندیة: (1/418 ،رشیدیہ )
ولو قال کلما دخلت ھذہ الدار فان کلمت فلانا فأنت طالق فدخل الدار ثلاثا وکلم فلانا مرۃ طلقت ثلاثا
وفی بدائع الصنائع: (3/3 9، رشیدیہ)
قال لامرأتہ کلما دخلت ھذہ الدار فأنت طالق یحنث۔۔۔ثم فی کلمۃ کل اذا دخلت مرۃ فطلقت ثم دخلت ثانیا لم تطلق وفی کلمۃ کلما تطلق فی کل مرۃ تدخل وانما کان کذلک لان کلمۃ کل کلمۃ عموم وإحاطۃلما دخلت علیہ
وکذافی الھدایہ: ( 2/ 90 ،بشریٰ)
وکذا فی کنز ا لدقائق مع تبیین الحقائق: (2 / 203 ،امدادیہ)
وکذا فی رد المحتار: (4 /595 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی التاتارخانیہ: ( 4/ 584،فاروقیہ )
وکذا فی کنز ا لدقائق مع ا لبحرا لرا ئق: (3/462 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (9 /6916 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (4 /409 ،دار احیاء التراث)
وکذا فی مجمع الانھر: (2 /19 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/15/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:91

اگر کسی کو نماز جنازہ کی دعا نہ آتی ہو تو کیا کچھ پڑھے یا خاموش کھڑا رہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس شخص کو نماز جنازہ کی دعا نہ آتی ہوتو وہ کوئی اور دعا پڑھ لے جیسے (أَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ الخ)اور جلد از جلد نماز جنازہ کی دعا یاد کرے۔

لما فی فتح القدیر : (2 /125 ،رشیدیہ)
ویدعو فی الثالثۃ للمیت ولنفسہ ولابویہ وللمسلمین ولا توقیت فی الدعاء سوی اَنہ بامور الآخرۃ وان دعا بالمأثور فما احسنہ فابلغہ
وفی تنویر الابصار مع رد المختار : (3 /129،رشیدیہ)
ویدعو بعدالثالثۃ)أی لنفسہ وللمیت وللمسلمین لکی یغفرلہ فیستجاب دعاؤہ فی حق غیرہ ولان من سنۃالدعاء ان یبدأ بنفسہ
وکذافی البنایہ: (3/ 252 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 / 241 ،امدادیہ)
وکذا فی ا لفقہ الحنفی: (1 /341 ،طارق )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4 / 51 ، رشیدیہ )
وکذافی المحط البرھانی: (3 / 75، دار احیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (2/1516،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: (1 /271،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/15/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:48

حامد کی سعدیہ سے شادی طے پائی ہے لیکن حامد نے سعدیہ کی نانی کا دودھ پیا ہے مدت رضاعت میں تو کیا ان دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان دونوں کا نکاح جائز نہیں ہے۔

لما فی الهدایہ:( 2/74،بشری)
لم یجز لأحدھماأنیتزوج بالاخری ھذا ھوالأصل لأن امھما واحدۃفھما أخ وأخت ولا یتزوج المرضعۃ أحدا من ولد التی أضعت لأنہ أخوھا ولا ولد ولدھا لأنہ ولد أخیھا
وکذافی كتاب الفقہ:(204/3، حقانیہ)
فاذا رضع الطفل الأجنی من امرأۃ كانت أمہ فیحرم علیہ أن یتزوج کما یحرم علیہ أن یتزوج بنتھا أو بنت بنتھا وإن نزلت لأنھا أختہ وبنت أختہ
وكذافي البزازیہ:(1 /416،رشیدیہ)
وكذا في الفقہ الحنفي: (2 /156 ،طارق )
وکذا في مجمع الانھر: (1 /554،المنار)
وكذا في الفتاوی التاتارخانیہ: (362/4، فاروقیہ)
وكذا في تكملة فتح الملہم : (1 /14 ، دارالعلوم )
وكذا في كنز الدقائق مع البحرار الرائق: (3/397، شیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(399/4،رشیدیہ)
وكذافي المبسوط:(30/ 294، دار المعرفتہ بیروت لبنان)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2022/19/4/1444

جلد نمبر:28 فتوی نمبر:49

میرے بھائی کا قتل ہوا، اس کی دیت میں میرے والد کو دو لاکھ روپے اداکیے گئے۔ میرے والد نے وہ رقم مجھے دی کہ زمین خرید لو، میں اس رقم سے دس ایکڑ زمین خرید کر والد صاحب کی اجازت سے اپنے نام کروالی۔ بعد ازاں اس زمین کی بچت سے دولاکھ روپے دیت والی رقم کا ایک عدد پلاٹ خرید کر مدرسہ کو وقف کردیا، اس کے بعد موجودہ رقبہ (دس ایکڑ) میں سے مزید ایک ایکڑ مدرسہ کے لیے وقف کردیا۔ اب میرے پاس کل رقبہ نو ایکڑ موجود ہے۔ میری چار بہنیں ہیں، بھائی کوئی بھی نہیں اور میرا ایک بیٹا ہے، چاربیٹیاں ہیں، اب میں اپنی بہنوں کو اپنی زمیں میں سے حصہ دینے کا مجاز ہوں یا نہیں؟ نیز جو زمین مدرسہ کو وقف کی گئی ہے وہ حصہ میں شامل ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں دیت کی رقم مقتول بھائی کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی، شرعی ورثاء یعنی اگرشادی شدہ تھا تو اس کی اولاد، بیوی،والدہ اور بہن بھائی وغیرہ کی تفصیل بتلا کر ان کا حصہ معلوم کیا جا سکتا ہے اور دس ایکڑ میں سے جو ایک ایکڑ زمین مدرسہ کو وقف کی ہے، اگر تمام ورثاء خوش دلی سے اس پر راضی ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ صرف اجازت دینے والوں کے حصہ سے وقف ہو گی۔

لما فی الشامیة :(10/528،رشیدیہ)
واعلم انہ یدخل فی الترکۃ الدیۃ الواجبۃ با لقتل الخطا او بالصلح عن العمد
وفی الھندیة: (6 /7 ،رشیدیہ)
ویستحق القصاص من یستحق میراثہ علی فرائض اللہ تعالی فید خل فیہ الزوج والزوجۃ وکذا الدیۃ
وکذافی الھدایة:(4/239،بشریٰ)
وکذافی البنایہ: (12 /153 ،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/121،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر: ( 10/ 264 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/6/15/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:185

ایک ضعیف العمر حافظِ قرآن جو کہ فرض نماز کرسی پر بیٹھ کا پڑھتا ہے، تو کیا وہ بیٹھ کر ترواویح پڑھاسکتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی! پڑھا سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ زمین پر درست طریقہ سے باقاعدہ سجدہ کرسکتا ہو،سجدہ کا صرف اشارہ نہ کرتا ہو۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (1 /579 ،ایچ ایم سعید)
و ) لا ( قادرعلی الرکوع وسجود بعاجزعنھما )
وفی الشامیة :(1/579،ایچ ایم سعید)
قولہ: بعاجز عنھما ) ای بمن یؤمی بھما قائما او قاعدا بخلاف مالو امکناہ قاعدا فیصح
وفی الھندیة: (1 /85 ،رشیدیہ)
ویصح اقتداءالقائم بالقاعد الذی یرکع ویسجد لا اقتداءالراکع والساجد بالمؤمی ھکذا فی فتاوی قاضیخان
وکذافی الھدایة:(1/204،بشریٰ)
وکذافی البدائع:(2/647،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(2/147،بیروت)
وکذافی الشامیة :(2/603،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة: (1 /118 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/255،بیروت)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة :(1/89،243،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:181

یہ جو لوگ قرآن کی قسم کھاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے، یہ درست ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن کریم کی قسم اٹھا نے سے ہو جاتی ہے۔

لما فی الھندیة: (2 /53 ،رشیدیہ)
وقال محمد رحمہ اللہ تعالی فی الاصل لو قال والقرآن لا یکون یمینا ذکرہ مطلقا والمعنی فیہ وھو ان الحلف بہ لیس بمتعارف فصار کقولہ وعلم اللہ وقد قیل ھذا فی زمانھم اما ما فی زماننا فیکون یمینا وبہ ناخذ و نامر ونعتقد و نعتمد، وقال محمد بن مقاتل الرازی لو حلف بالقرآن قال یکون یمینا وبہ اخذ جمھور مشیخنا رحمھم اللہ تعالی کذا فی المضمرات
وفی الشامیة :(3/713،ایچ ایم سعید)
لا ) یقسم ( بغیر اللہ تعالی کا لنبی والقرآن والکعبۃ ) ۔۔۔۔۔ امافی زماننا فیمین وبہ ناخذ و نامر ونعتقد، وقال محمد ابن مقاتل الرازی: انہ یمین۔ وبہ اخذ جمھور مشایخنا
وکذافی البدائع:(3/11،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(238،حقانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/67،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (6 /16 ،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(7/256،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:182

میت کو تابوت سمیت دفن کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ضرورت کی وجہ سے تو جائز ہے، جبکہ بلا ضرورت میت کو تابوت سمیت دفن کرنا مکروہ ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /165 ،رشیدیہ)
ولا باس بالتخاذ تابوت ) ولو من حجر او حدید ( لہ عند الحاجۃ ) کرخاوۃ الارض
وفی الشامیة :(3/165،رشیدیہ)
ولا باس بالتخاذ تابوت الخ ) ای: یرخص ذلک عند الحاجۃ، والا کرہ
وفی الھندیة: (1 /166 ،رشیدیہ)
وحکی عن الشیخ الامام ابی بکر محمد بن الفضل رحمہ اللہ تعالی انہ جوز اتخاذ تابوت فی بلادنا لرخوۃ الارض قال ولو اتخذتابوت من حدید لا باس بہ لکن ینبغی ان یفرش فیہ التراب و یطین الطبقۃ العلیا مما یلی المیت و یجعل اللبن الخفیف علی یمین المیت وعلی یسارہ لیصیر بمنزلۃ اللحد
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /69 ،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الد ر:(1/381،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:183

ہمارا وطن اصلی بلوچستان ہے جبکہ اس وقت ہم لاہور میں مقیم ہیں اور ستائیسویں روزے کو بوقتِ دن دس یا گیارے بجے ہم نے وطن اصلی جانے کے لیے سفر پر نکلنا ہے۔ یہ سفر اگرچہ دن کو شروع کرنا ہے لیکن اس کا ارادہ اور تیاری رات ہی سے کی ہوئی ہے تو کیا اس دن ( جس میں ہم نے سفر پر نکلنا ہے ) ہم روزہ چھوڑ سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت اس مسافر کو حاصل ہوگی جو سحری کے وقت حالت سفر میں ہو، لہذا اگر سحری کے وقت ( روزہ بند ہونے )کے بعد سفر کرنے کا ارادہ ہو تو اس دن کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔

لما فی الشامیة :(3/479،رشیدیہ)
ان السفر لا یبیح الفطر ، وانما یبیح عدم الشروع فی الصوم، فلو سافر بعد الفجر لا یحل الفطر ۔ قال فی البحر: وکذا لو نوی المسافر الصوم لیلا واصبح من غیر ان ان ینقض عزیمتہ قبل الفجر ثم اصبح صائما لایحل فطرہ فی ذالک الیوم۔ ولو افطر لا کفارۃ علیہ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/437،طارق)
ولا یحل لہ ان یفطر فی الیوم الذی سافر فیہ اذا انشأ السفر بعد طلوع الفجر ای بعد بدءالصوم۔ لانہ شرع فی السفر بعد الصیام فیجب علیہ ان یتمہ، والسفر لا یبیح الفطر وانما یبیح عدم الشروع فی الصوم واذا افطر فعلیہ القضاءفقط
وکذافی الھندیة: (1 /206 ،رشیدیہ)
وکذافی الجوہرة النیرة:(1/343،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق: (2 /492 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/358،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1695،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:184