ایک خاتون نے ساٹھ ہزار نوافل کی نذر مانی تھی، اب اس میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اس نذر کو پورا کر سکے اب وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں یہ خاتون کفارہ قسم ادا کرے، کفارہ قسم یہ ہے کہ دس مساکین کو کپڑوں کے سوٹ دے یا پھر انہیں دو وقت کا کھانا کھلائے یا پھر کھانے کی قیمت ادا کرےاور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین دن کے روزے رکھے۔

لما فی القدوری:(232،الخلیل)
و ان علق نذرا بشرط فوجد الشرط فعلیہ الوفاء بنفس النذر و روی ان ابا حنیفۃ رحمہ اللہ رجع عن ذلک وقال اذا قال ان فعلت کذا فعلی حجۃ او صوم سنۃ او صدقۃ ما املکہ اجزأہ من ذلک کفارۃ یمین وھو قول محمد رحمہ اللہ
وفی الھندیة:(2/65،رشیدیہ)
و ان علق بشرط لا یرید کونہ کدخول الدار او نحوہ یتخیر بین الکفارۃ و بین عین ما التزمہ وروی ان ابا حنیفۃ رحمہ اللہ رجع الی التخیر ایضا
وکذافی الھدایہ:(2/236،البشری)
وکذافی البنایة:(6/44،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(6/282،فاروقیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/474،قدیمی)
وکذافی سنن ابن ماجة:(رحمانیہ،)
وکذافی سنن ابی داؤد :(2/117،رحمانیہ)
وکذافی عون المعبود:(9/93،قدیمی)
وکذافی بذل المجھود:(14/185،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2023/26/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی :128

یہ جو لوگ قرآن کی قسم کھاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے، یہ درست ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن کریم کی قسم اٹھا نے سے ہو جاتی ہے۔

لما فی الھندیة: (2 /53 ،رشیدیہ)
وقال محمد رحمہ اللہ تعالی فی الاصل لو قال والقرآن لا یکون یمینا ذکرہ مطلقا والمعنی فیہ وھو ان الحلف بہ لیس بمتعارف فصار کقولہ وعلم اللہ وقد قیل ھذا فی زمانھم اما ما فی زماننا فیکون یمینا وبہ ناخذ و نامر ونعتقد و نعتمد، وقال محمد بن مقاتل الرازی لو حلف بالقرآن قال یکون یمینا وبہ اخذ جمھور مشیخنا رحمھم اللہ تعالی کذا فی المضمرات
وفی الشامیة :(3/713،ایچ ایم سعید)
لا ) یقسم ( بغیر اللہ تعالی کا لنبی والقرآن والکعبۃ ) ۔۔۔۔۔ امافی زماننا فیمین وبہ ناخذ و نامر ونعتقد، وقال محمد ابن مقاتل الرازی: انہ یمین۔ وبہ اخذ جمھور مشایخنا
وکذافی البدائع:(3/11،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(238،حقانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/67،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (6 /16 ،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(7/256،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:182

میں نے منت مانی تھی کہ اگر میری والدہ صحت یاب ہوگئی تو پانچ روزےرکھوں گا،اب لگاتار رکھوں یا الگ الگ رکھ سکتا ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آپ نے لگاتارروزےرکھنے کی نیت کی تھی تولگاتار رکھنے ہوں گے،ورنہ الگ الگ روزے بھی رکھ سکتے ہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /209 ،رشیدیہ)
ولوقال للہ علی ان اصوم یومین او ثلاثۃاوعشرۃلزمہ ذلک ویعین وقتا یؤدی فیہ فان شاءفرّق وان شاءتابع الاان ینوی التتابع عندالنذر فحینئذیلزمہ متتابعافان نوی فیہ التتابع وافطر یوما فیہ اوحاضت المراۃ فی مدۃ الصوم استأنف واستانفت کذافی سراج الوھاج
وفی البحرالرائق: (2 /519 ،رشیدیہ)
وان ارادبہ فی التتابع فعلیہ ان یتابع وان لم یکن لہ نیۃفلہ ان یصوم متفرقاً
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /481تا484 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/373،بیروت)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/262، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /434 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/3/2023/18/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 113

میں نے قسم کا کفارہ ادا کرنا تھا تو میں نے کھانا پکوا کر محلے کے لوگوں کو بلوا کر کھانا کھلادیا،تواس طرح میری قسم کاکفارہ اداہوگیایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں محلے والے اگر مستحق زکوۃ ہیں تو کفارہ قسم ادا ہوگیا،ورنہ دوبارہ مستحق لوگوں کو کھلانا پڑے گا۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدہ،89)
فَکَفَّارَتُہٗ اِطْعَامُ عَشَرَۃِمَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَاتُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ
وفی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (5 /523 ،رشیدیہ)
وکفارتہ)ھذہ اضافۃ للشرط لان السبب عندنا الحنث(تحریر رقبۃأوإطعام عشرۃ مساکین)کمامر فی الظھار۔۔۔۔۔
وکذا فی الھدایة:(2/460، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/343،طارق)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (6 /300 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/367،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:12

بکری بیمار ہے مالک کہتا ہے اگر ٹھیک ہوگئی تو میں اللہ کے نام پر ذبح کروں گا تو ٹھیک ہونے کے بعد اس بکری کو ذبح کرکے خود کھاسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ منت اورنذر ہے اورنذر کی چیز سے خود کھانا صحیح نہیں،اگرکھالیا تواتنی مقدار کی قیمت صدقہ کرے۔

لما فی الشامیة: (6 /320 ،ایچ،ایم،سعید )
ولوترکت التضحیۃ ومضت ایامھا تصدق بھا حیۃ ناذر )فاعل تصدق(لمعینۃ)ولوفقیرا،ولوذبحھاتصدق بلحمھا،ولونقصھا تصدق بقیمۃ النقصان ایضاً ولایاکل الناذر منھا،فان اکل تصدق بقیمۃ ما اکل
وفی البحرالرائق: (8 /327 ،رشیدیة )
وانما وجبت بالنذر فلیس لصاحبھاان یاکل منھا شیئا ولاان یطعم غیرہ من الاغنیاء،سواءکان الناذر غنیا او فقیرا لان سبیلھاالتصدق ولیس للمتصدق ان یاکل من صدقتہ ولا ان یطعم الاغنیاء
وکذافی المجمع الانھر: ( 4/ 170 ،المنار ) وکذافی التاتارخانیة: (6 / 226 ،فاروقیة )
وکذافی الھندیة: (5 /295 ،رشیدیة ) وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2739 ،رشیدیة )
وکذافی شرح الوقایة: (4 /42 ،رحمانیة ) وکذافی بدائع الصنائع: (4 /224 ،رشیدیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (8 /460 ،داراحیاء ) وکذا فی تبیین الحقائق: (6 /5 ،امدادیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:65

کچھ عورتیں نذر مانتی ہیں کہ میری اولاد ہوگی تو میں گھر،گھر جا کر بھیک مانگوں گی اور اس کو لوگوں پر خیرات کروں گی تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر ٹھیک نہیں ہے،لہذااس کا پورا کرنا درست نہیں ہے۔

لما فی الشامیة: (5 /548 ،رشیدیة )
نذران یتصدق بالف من مالہ وھو یملک دونھا لزمہ)ما یملک منھا(فقط)لانہ فیما لم یملک لم یوجد النذر فی الملک ولا مضافا الی سببہ فلم یصح۔۔۔۔۔۔۔۔وشرط صحۃ النذر ان یکون المنذور ملکا للناذر او مضافا الی السبب
وفی سنن ابی داود: (2 /115 ،رحمانیة )
عن عمران بن حصین عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیما لا یملک ابن ادم
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2558 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (6 /284 ،فاروقیة )
وکذافی البحرالرائق: (4 /498 ،رشیدیة ) وکذافی النھرالفائق: (3 /63 ،قدیمی )
وکذافی بدائع الصنائع: (4 /102 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (6 /352 ،داراحیاء )
وکذافی التجرید: (12 /6512 ،محمودیة ) وکذا فی سنن النسائی: ( 2/115 ،رحمانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:95

ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر میں امتحان میں پاس ہو گیا تو چلہ لگاؤں گا اور نتیجہ آنے سے پہلے نذر کو ختم کردیا،اب آیا اس کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر منعقد ہی نہیں ہوئی،کیو نکہ نذر عبادت مقصودہ(مثلا نماز،حج،زکوۃ،روزہ اور قربانی وغیرہ)کی مانی جاسکتی ہے،چلہ لگانا کوئی عبادت مقصودہ نہیں ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /208 ،رشیدیة )
الاصل ان النذر لا یصح الا بشروط (احدھا)ان یکون الواجب من جنسہ شرعا فلذلک لم یصح النذر بعیادۃ المریض(والثانی)ان یکون مقصودا لا وسیلۃ فلم یصح النذر بالوضوءوسجدۃالتلاوۃ(والثالث)ان لایکون واجبا فی الحال وفی ثانی الحال فلم یصح بصلاۃالظھروغیرھامن المفروضات(والرابع)ان لایکون المنذور معصیۃ باعتبارنفسہ
وفی المبسوط: (8 /137 ،دارالمعرفة )
اذاحلف بالمشی الی بیت اللہ ان فعل کذا ففعل ذلک الفعل لم یلزمہ شیئ فی القیاس لانہ انما یجب بالنذر ما یکون من جنسہ واجب شرعا والمشی الی بیت اللہ لیس بواجب شرعا
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2555 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: ( 6/ 352 ،داراحیاء )
وکذافی الشامیة: (5 /539 ،رشیدیة ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (692،قدیمی)
وکذافی الھندیة: (1 / 208 ، رشیدیة) وکذافی البحرالرائق: (4 /498 ،رشیدیة )
وکذافی النھرالفائق: (2 /39 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/1444/5/9
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:66

ایک شخص قسم اٹھاتا ہے کہ”فلاں کام کروں تو کافر ہوجاؤں“کیا وہ کام کرنے سے کافر ہوجائے گا؟کام سے پہلے ایسی قسم کھانا موجبِ کفر ہے؟کیونکہ وہ بظاہراپنے کفر پر راضی ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

عام طور پرایسی قسم اٹھانے والااپنے آپ کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے یقینی اور قطعی طورپر روکنا چاہتے ہوتے ہیں،ان کی نیت العیاذباللہ کفر میں داخل ہونے کی نہیں ہوتی،اس لئے ایسی قسم اٹھانے والاقسم ٹوٹنے کے باوجودکافر نہ ہوگا۔

وکذا فی بدائع الصنائع:(3/16،رشیدیة)
ولوقال ان فعل کذا فھو یہودی أونصرانی أومجوسی أوبرئ من الاسلام أویعبدمن دون اللہ أویعبدالصلیب اونحو ذٰلک مما یکون اعتقادہ کفرا فھویمین
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2468،رشیدیة)
اذاحلف انسان بالخروج من الاسلام مثل ان یقول:ان فعلت کذا فھو یہودی اونصرانی اومجوسی أوبرئ من الاسلام أومن رسول اللہ أومن القرآن أوکافرا أویعبدمن دون اللہ أویعبدالصلیب اونحوہ ذٰلک ممایکون اعتقادہ کفرافھٰذامااخلتف فیہ فقھاؤنافقال الحنفیۃ وفی روایۃ عن احمد:یکون یمیناموجبۃ للکفارۃ اذافعل الشئ المحلوف علیہ
وکذافی الھندیة:(2/54،رشیدیة)
وکذافی الدرالمختار:(3/713،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(6/68،دار احیاء)
وکذا فی المبسوط:(8/134 ،دار المعرفة)
وکذا فی البحرالرائق:(4/480،رشیدیة)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(2/127،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(6/17،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/7 /1442/2021/3/22
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:99

ایک غریب آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو گیا تو یہ جانور اللہ کے نام پر دوں گا ۔ وہ کام تو ہو گیا لیکن یہ مذکور جانور اس وقت جوان ہے اور خاصا قیمتی ہے ،اس غریب آدمی کو فی الحال پیسوں کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ چاہتا ہے کہ اس جانور کو فروخت کر کے پیسے استعمال کر لےاور ایک دوسرے جانور کو جو کہ ابھی چھوٹا ہےجب وہ بڑا اور تیار ہو جائے تو اسے اللہ کے نام پر دے دے ۔ اس طرح کرنا شرعا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !ایسا کرنا درست ہے ،بشرطیکہ دوسرا جانور قیمت میں پہلے جانور کے برابر یا زائد ہو،کم نہ ہو،لیکن نذر پورا کرنے میں بلا وجہ تاخیر کرنا درست نہیں۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(5/545،رشیدیہ)
ولو قال :للہ علی ان اذبح جزورا و اتصدق بلحمہ فذبح مکانہ سبع شیاہ جاز
وفیہ ایضا:(5/546،رشیدیة)
نذر ان یتصدق بعشرۃ دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان ساوی العشرۃ )کتصدقہ بثمنہ
وفی المحیط البرھانی:(6/357،بیروت)
اذا نذر بھدی شاۃبعینھا فاھدی مثلھا اجزاہ وکذالک اذا نذر بعتق عبد بعینہ فاعتق مثلہ اجزاہ و ھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ـ ـ ـ وفی البقالی عن ابی یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالی انہ یجوز مثلہ او افضل منہ وفیہ ایضا انہ لا یجوز مطلقا
وکذا فی التاتار خانیہ:(6/290،فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/276،مکتبة المنار)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(330،البشری)
وکذا فی فتح القدیر:(5/88،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/129،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(2/340،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(244،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/12/2020/1442/4/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:38

ایک آدمی نے نذر مانی کہ بیٹا پیدا ہوا تو حافظ قرآن بناؤں گا،اب بیٹا پیدا ہوا اور جوان ہو گیا،اب یہ آدمی کہتا ہے کہ حافظ قرآن نہیں بناتا تو کیا اس پر کوئی کفارہ لازم ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں کفارہ وغیرہ کچھ لازم نہیں،لیکن اللہ تعالی سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا یقیناً خیر و برکت اور دنیوی واخروی سعادتوں کا ذریعہ ہو گا اور ایسے نیک وعدےکی خلاف ورزی بلا شبہ بڑی محرومی کی بات ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(4/228،رشیدیہ)
ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2555،رشیدیہ)
أن يكون قربة مقصودة: فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء وتكفين الميت والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد ونحوها؛ لأن هذه الأمور، وإن كانت قُرَباً لله إلا أنها ليست قرباً مقصودة لذاتها عادة
وکذافی البحر الرائق:(4/498،رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق:(4/498، رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/736،سعید)
وکذافی الشامیہ:(3/736،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(2/274،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،بیروت)
وکذافی النھر الفائق:(2/38،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(338،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 49