نذر کی چیز میں تبدیلی ہو سکتی ہے ؟مثلاً ایک دیگ چاول پکانے کی نذر مانی،اب اس کی جگہ روپے دے سکتا ہے؟جبکہ دیگ کے معیار اور مقدار کے اعتبار سے قیمتوں میں کافی تفاوت ہے۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جی ہاں!نذر کی چیز میں تبدیلی ہو سکتی ہےاور نذر مانتے وقت چیز کی جتنی مقدار اور جیسے معیار کی نیت تھی اس کے بقدر یا اس سے بہتر قیمت ادا کرےاور اگر کچھ نیت نہ تھی تو درمیانے درجے کا اعتبار ہو گا،البتہ اعلیٰ درجے کے مطابق ادائیگی بہتر اورافضل ہے۔

لما فی خلاصة الفتاویٰ:(2/129،رشیدیة کوئٹہ)
ولو قال للّٰہ علی ان اذبح جذور واتصدق بلحمہ فذبح مکانہ سبع شیاہ جاز
وفی حاشیة فتاوی النوازل:(243،حقانیة پشاور)
قال الحنفیۃ:النذر المطلق لا یتقید بزمان ولا مکان ولا دراھم ولا فقیر،فاذا نذر ان یتصدق یوم الجمعۃ بھذا الدرھم علی فلان فتصدق یوم الخمیس او یوم السبت بغیر ھذا الدرھم علی شخص اٰخر جاز……اما النذر المعلق فانہ یتعین فیہ الوقت فقط،اما تعیین الفقیر والدرھم والمکان فلیس بلازم
وفی المحیط البرھانی:(6/357،دار احیاء التراث العربی بیروت)
اذا نذر بھدی شاۃ بعینھا،فاھدی مثلھا اجزأہ،وکذلک اذا نذر بعتق عبد بعینہ،فاعتق مثلہ اجزأہ،وھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ…..وفی البقالی عن ابی یوسف ومحمد رحمھما اللّٰہ تعالیٰ:انہ یجوز مثلہ او افضل منہ،وفیہ ایضاً انہ لا یجوز مطلقاً
وکذافی الھندیة:(2/66، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(244، حقانیة پشاور)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(2/16، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/271، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تنویر الابصار:(3/740،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی در المختار:(2/340، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:127

ایک آدمی نے نظر کے پیسے دینے ہیں ، اس کا بھائی اور بھتیجا مستحق ہیں ، لیکن ان کا کھانا پینا اکٹھا ہے ۔ کیا وہ ان کو نظر کے پیسے دے سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دے سکتا ہے ۔

لما فی حاشیة الطحطاوی :(1/426،رشیدیہ)
وھذا الحکم لایخص الزکاۃ بل کل صدقۃ واجبۃ کالکفارات وصدقۃ الفطر و لایجوزدفعھا الیھم و من سوی ما ذکر یجوز الدفع الیھم کلاخوۃ و الاخوات و الاعمام ……الفقراء بل ھم اولی لما فیہ من الصلۃ مع الصدقۃ
وفی الفقہ الاسلامی:(3/1970،رشیدیہ)
ویجاز الدفع الی بقیۃ الاقارب الفقراء غیر المذکورین کالاخوۃ والاخت ….. لحدیث الطبرانی عن سلیمان بن عامر الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وھی لذی الرحمۃ اثنتان صدقۃ وصلۃ
وکذافی الھندیة : ( 1/190 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق :(2/425،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(3/11،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار :(2/346،سعید)
وکذافی الدر المختار:(2/350،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/ 1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:140

ایک شخص قسم کھا کر کہتا ہے کہ فلاں کھانے کی فلاں چیز میرے اوپر حرام ہے ۔ کیا واقعی یہ چیزیں اس پر حرام ہوجائیں گی یا کوئی اور حکم ہے ؟ اگر کھائے گا تو کفارہ دے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حلال چیز کواپنے اوپر حرام کرنا قسم ہے ، اس لیے صورت مسئولہ میں قسم منعقد ہوگئی ہے ، لیکن یہ چیزیں اس پر حرام نہیں ہونگی، بلکہ اس قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کرے ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورةالتحریم/آیة،2،1)
یاایھاالنبی لم تحرم مااحل اللہ لک ، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور الرحیم ، قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم
وفی الھندیة:(2/55،رشیدیہ)
تحریم المال یمین کذا فی الخلاصۃ فمن حرم علی نفسہ شیئا ممایملکہ لم یصر محرما ثم اذافعل مما حرمہ قلیلا او کثیرا حنث و وجبت الکفارۃ
وفی التنویرمع الدر:(5/529،سعید)
ومن حرم) ای علی نفسہ……(شیئا)…..(ثم فعلہ)…..باکلہ( کفر) لیمینہ، لما تقرر ان تحریم الحلال یمین
وکذافی المختصرفی فقہ الحنفی:(1/332،بشریٰ)
وکذافی التاتارخانیة:(6/17،فاروقیہ)
وکذافی ردالمحتار:(5/530،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/697،قدیمی)
وکذافی التفسیرالمنیر:(14/694،امیرحمزہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین بن شین گل عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:136

ایک آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں 3دن مسجد میں اعتکاف کروں گا ۔اب وہ کس وقت مسجد میں جائے؟

الجواب حامداومصلیا

جس دن اس نے اعتکاف کرنا ہے اس سے پہلے والے دن سورج غروب ہونے سے پہلے مسجد میں چلا جائے۔

لما فی الھندیة:(1/214،رشیدیہ)
فلو قال للہ علیّ أن اعتکف یومین یدخل المسجد قبل غروب الشمس ویمکث تلک اللیلۃ ویومھا واللیلۃ الثانیۃ ویومھا ویخرج بعد غروب الشمس وکذا فی الأیام الکثیرۃ یدخل قبل غروب الشمس ھکذا فی فتاویٰ قاضیخان
وکذا فی السراجیة:(173،زمزم پبلشرز)
إذا نذر اعتکاف لیلتین دخلت فیہ الأیام واللیالی فیدخل المسجد قبل غروب الشمس ویخرج بعد الغروب من الیوم الثانی
وکذا فی التاتارخانیة:(3/450،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاویٰ:(1/270،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(3/511،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(267،البشریٰ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1759،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(2/277،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/383،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16-8-1443/22-3-20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:33

غصہ کی حالت میں نذرمنعقدہوگی یا نہیں؟کیونکہ حدیث میں یہ الفاظ ہیں ”لانَذرَ فِی الغَضَبِ“۔

الجواب حامدا ومصلیا

غصے کی حالت میں بھی نذر منعقد ہو جائے گی اور”لَانَذرَ فِی الغَضَبِ“کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نذر جو غصہ کی حالت میں کسی گناہ کی مان لی گئی ہواس کو پورا نہیں کرنا چاہیے،بلکہ کفارہ دے دینا چاہیے۔

لمافی بذل المجھود:(14/168،قدیمی کتب خانہ)
عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:لانذرفی معصیۃ)ولیس معناہ أنہ لاینعقد بل معناہ أنہ لیس فیہ وفاءویدل علی ذلک قولہ(کفارتہ کفارۃیمین)قال فی فتح الودود لیس معناہ أنہ لاینعقد اصلاإذلایناسب ذلک قولہ:وکفارتہ إلخ بل معناہ لیس فیہ وفاء
وکذافی المصنف:(8/434،المکتب الاسلامی)
عن یحیی بن أبی کثیر عن رجل من بنی حنیفۃ قال:إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لانذر فی غضب ولافی معصیۃ اللہ،وکفارتہ کفارۃ یمین
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،ادارةالقراٰن)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/991،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن ابوداؤد:(2/112،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(7/21،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2567،رشیدیہ)
وکذافی تحفةالاحوذی:(5/106،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/605،المکتبہ التجاریہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
3،5،1443/2021،12،8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:11

ایک شخص نے اپنے ایک جانور کے بارے میں نذر مانی کہ فلاں کام ہو گیا تو یہ جانور اللہ کے نام پہ دوں گا ، لیکن پھر اس نے یہ جانور بیچ دیا ،تقریبا 10 سال کے بعد اسے خیال آیا کہ میں نے تو اس جانور کی نذر مانی ہوئی تھی، حالانکہ وہ تو میں نے بیچ دیا تھا تو اب کیا کرے جبکہ اس کا کام بھی اب ہوا ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

وہ آدمی اس جیسا جانور یا اس کی قیمت ادا کر دے۔

لما فی المحیط البرھانی :(6/ 356،احیاء تراث العربی )
وفیہ ایضا اذا نذر بھدی شاۃ بعینھا فاھدی مثلھا اجزأہ، وکذا اذا نذر بعتق عبد بعینہ فاعتق مثلہ اجزأہ،وھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔انہ یجوز مثلہ او افضل منہ
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : (2/ 66، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : (4/ 499، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : ( 6/ 294،فاروقیہ)
وکذا فی کتا ب الاصل : ( 3/157،عالم الکتب )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (2/ 354،الطارق )
وکذا فی البنایہ : ( 6/ 42، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : ( 2/ 339، رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر : (5/88، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 4/2552، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26، 5، 1440/ 2019، 2، 2
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:145

ایک آدمی نے نذر مانی تھی کہ اگرمیرا بیٹاٹھیک ہوگیا تو میں500روپے اپنے علاقےکی مسجدمیں دوں گا اب وہ کسی دوسری مسجدمیں دے سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر شرعاًمنعقد نہیں ہوئی،اس لیے اس کو پورا کرنا آپ کے ذمہ لازم نہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع: (5/573 ، رشیدیہ)
وأما) الذي يرجع إلى المنذور به فأنواع: (ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة
وفی الشامية: (4 / 498 ،رشیدیہ )
وفي البدائع: ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة
وکذافی الفتاوی التا تارخانية: (6 / 281 ، فاروقية)
وکذا فی تنویرالابصارعلی الدر المختار : ( 5/537 ، رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق : ( 4/498 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 4/ 2555، رشیدیہ)
وکذافی : الفتاوی السراجية:( 270 ، دارالعلوم زکریا)
وکذا فی اللباب: (3 / 110 ، قدیمی)
وکذافی مجمع الانھر : ( 2/ 274، المنار)
وکذا فی فتاوی النوازل: ( 242 ، الحقانية)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18-6-1440،2019-02-24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:21

ایک شخص بغیر کسی کام کے بس یونہی کہتا ہے کہ میں حج کی نذر مانتاہوں ،میں حج کرنے جاؤں گا ،حالانکہ اس پر حج فرض نہیں ہے تو کیا یہ نذر منعقد ہوجائے گی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شخص مذکورکے الفاظ میں اپنے ذمہ حج کا لزوم مفہوم نہیں ہوتابلکہ وعدہ اور ارادہ کا اظہار ہے اس لیے یہ نذر منعقدنہ ہوگی ۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/345 ،الطارق )
“وھو فی الشرع التزام المکلف شیئا لم یکن علیہ . “
وفی الموسوعةالفقہیة: (40 /136 ،علوم اسلامیہ )
” والنذر اصطلاحا:الزام مکلف مختار نفسہ للہ تعالی بالفعل شیئا غیر لازم علیہ باصل الشرع . “

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :15

ايك آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلان کام ہو گیا تو میں ایک ہزا ر روپے اللہ کے نام پر دوں گا ، پھر اس کا وہ کام ہو گیا، اب وہ ایک ہزار کی دینی کتابیں خرید کر گاؤ ں کی مسجد میں جو بچے پڑھتے ہیں ان کو دینا چاہتا ہے،یعنی وہ اس مسجد میں پڑھنے والے بچوں پر وقف کرنا چاہتا ہے ، کیا وہ اس رقم سے یوں کتب دے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مستحق بچوں کو مالک بنا کر کتا بیں دینے سے نذر پوری ہو جائے گی، مسجد میں محض وقف کرنے سے نذر پوری نہیں ہوگی۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:(2/344،سعید)
ویشترط ان یکون الصرف (تملیکا ) لا اباحۃ کما مر (لا) یصرف (الی بناء) نحو (مسجدو) لاالی(کفن میت وقضاء دینہ)
وفی خلاصةالفتاوی:(1/242،رشیدیہ)
واذا دفع الزکوۃ الی الفقیر لا یتم الدفع ما لم یقبض الفقیر او یقبضھا للفقیر من لہ ولایۃ علی الفقیر.
وکذ ا فی رد المحتار:(3/735، سعید)
وکذا فی البحر الرائق :(4/498،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2555،رشیدیہ)
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(721،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/214،بیروت)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/162،رشیدیہ)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440، 2019/3/31
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :112

ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر فلاں دو خاندانوں میں صلح ہوگئی تو میں10 روزے رکھوں گا،کیا یہ نذر درست ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ نذر ماننا درست ہے اور اگر صلح ہو گئی تو اس پر دس روزے لازم ہو ں گے۔

لما فی تنویر الابصارمع شرحہ: (3/735،سعید)
(ومن نذر نذرا مطلقا او معلقا بشرط وکان من جنسہ واجب )ای فرض کما سیصرح بہ تبعا للبحر والدرر(وھو عبادۃ مقصودۃ)….(ووجد الشرط) المعلق بہ(لزم الناذر لحدیث [من نذر وسمی فعلیہ الوفاء بما سمی]( کصوم وصلاۃ وصدقۃ).
وفی الھندية:(2/65،رشیدیہ)
من نذر نذرا مطلقا فعلیہ الوفاء بہ كذا في الهداية.ولو جعل عليه حجة او عمرة او صوما او صلاة أو صدقة أو ما أشبه ذلك مما هو طاعة إن فعل كذا ففعل لزمه ذلك الذي جعله على نفسه ولم تجب كفارة اليمين فيه في ظاهر الرواية عندنا.وقد روي عن محمد – رحمه الله تعالى قال: إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط ويلزمه عين ما سمى.
وكذا فی الصحیح لمسلم:(2/44،قدیمی) وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/352،الطارق)
وکذا فی المدونةالکبری:(1/585،دارالکتب) وکذا فی المبسوط للسرخسی:(8/140،دارالمعرفة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(6/351،داراحیاء) وکذا فی البحر الرائق:(4/496،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(4/2559،رشیدیہ) وکذا فی التاتارخانیة:(6 /281،82،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440، 2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :92