ایک شخص نے اپنی بیوی کو ” تجھے طلاق ہے“ کہہ کر ایک طلاق دی اور پھر عدت میں رجوع کرلیا ۔ ایک سال بعداس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں اکھٹی دے دیں، اب رجوع کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہیں اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عدت کے بعد اس عورت کا نکاح آگے کسی دوسرے مرد سے بلا کسی شرط کے ہو اور وہاں سے بھی اتفاقا طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے تو اب پہلے شوہر کے لیے دوبارہ نکاح کرنے کی اجازت ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرہ:229،230)
اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ ۔۔۔۔۔۔ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بِعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ
وفی السنن لابی داؤود:(1/317،رحمانیہ)
عن محمد بن ایاس ان ابن عباس وابا ھریرۃ و عبداللہ بن عمروبن العاص سئلوا عن البکر یطلقھا زوجھا ثلاثا فکلھم قال لاتحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ
وکذافی اللباب:(2/183،قدیمی)
وکذافی المحیط :(4/248،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/473،رشیدیہ)
وکذافی الولوالجیة:(2/100،حرمین)
وکذافی صحیح البخاری:(2/801،قدیمی)
وکذافی شرح معانی الآثار :(2/36،رحمانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6642،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:150

ایک شخص کی صرف ایک بیٹی ہے اور اس کے علاوہ بھتیجے بھی ہیں۔اب وہ شخص اپنی سائری جائیداد اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹی کے نام کرنا چاہتا ہے ، تو کیا اس کا اپنی بیٹی کے نام ساری جائیداد کرنا درست ہے؟ جبکہ وہ شخص پہلے اپنے بھتیجوں کو بھی کچھ نا کچھ دے چکا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر وہ شخص اپنے دیگر ورثاء(بھتیجوں) کو مناسب حصہ دے چکا ہے تو اس کے لیے اپنی بقیہ جائیداد اپنی بیٹی کے نام کرنا درست ہے اور اس شخص کی طرف سے یہ اپنی بیٹی کے لیے ھبہ ہوگا۔

لما فی الدرالمختار: (5 /696 ،ایچ ایم سعید)
وفی الخانیۃ لا باس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب وکذا فی العطایاان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ فسوی بینھم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم
وفی الھندیة: (1 /391 ،رشیدیہ)
ولو وھب رجل شیئالاولادہ فی الصحۃ ، واراد تفضیل البعض علی البعض فی ذالک لاروایۃ لھذا فی الاصل عن اصحابنا۔ وروی عن ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ: انہ لا باس بہ اذاکان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین، وان کانا سواء یکرہ، وروی المعلی عن ابی یوسف علیہ الرحمہ: انہ لا باس بہ اذالم یقصد بہ الاضرار، وان قصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل مایعطی للابن وعلیہ الفتوی
وکذافی البدائع:(5/175،رشیدیہ)
وکذافی شرح المجلة:(3/362،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (7 /490 ،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/4013،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (14 /462 ،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (14 /423 ،فاروقیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (12 /553 ،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة :(3/279،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:154

ایک شخص نے کہا اگر میں نے سگریٹ پی تو میری بیوی کو طلاق، پھر اس نے حقہ یا شیشہ پی لیا تو کیا اس کی بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں سگریٹ پینے سے ہی طلاق واقع ہوگی، حقہ یا شیشہ پینے سے اس شخص کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /420 ،رشیدیہ)
واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا
وفی الھدایة:(2/115،بشریٰ)
واذا اضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط
وکذافی اللباب:(2/174،قدیمی)
وکذافی البنایة: (5 /173 ،رشیدیہ )
وکذافی البحرالرائق: (4 /12 ،رشیدیہ)
وکذافی الجوہرة النیرة:(2/177،قدیمی)
وکذافی الشامیة :(3/253،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (5 /134 ،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6972،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/4/1444
جلد نمبر: 29 فتوی نمبر:152

اپنے والدین یا کسی بزرگ ہستی سے مصافحہ کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں کو تعظیما چومنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی الھندیة: (5 /369 ،رشیدیہ)
وان قبل ید غیرہ ان قبل ید عالم او سلطان عادل لعلمہ وعدلہ لا باس بہ ھکذا ذکرہ فی فتاوی اھل سمرقند وان قبل ید غیرالعالم وغیرالسلطان العادل ان اراد بہ تعظیم المسلم واکرامہ فلا باس بہ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/193،طارق)
ولا باس بتقبیل ید الرجل العالم والمتورع علی سبیل التبرک وکذا لا باس بتقبیل یدالحاکم المتدین والسلطان العادل۔ ولا رخصۃ فی تقبیل الید لغیر عالم وحاکم عادل ووالد ووالدۃ علی وجہ البر والاحسان الیھما۔ وفی المحیط: ان لتعظیم اسلامہ واکرامہ جاز
وکذافی ملتقی الا بحر:(4/204،المنار)
وکذافی فتاوی النوازل:(276،حقانیہ)
وکذافی الشامیة :(6/380،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة :(2/349،الحرمین )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2661،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /255 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 146

سادات کو زکوۃ دینا کیسا ہے؟ جبکہ آج کل نہ تو اسلامی بیت المال باقی ہے اور نہ ہی سادات کی مدد کے لیے وہ خصوصی مد موجود ہے جو عہدِ نبوی ﷺ اور عہدِ خلافت ِ راشدہ میں ہوا کرتا تھا، تو کیا اب بھی ان کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فقہ حنفی کی عام کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ سادات کو زکوۃ دینا درست نہیں ہے۔ یہی ظاھرالروایہ ہے، اس لیے بہتر تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سادات کی قرابت کا خیال رکھتے ہوئے پورے ادب و احترام کے ساتھ دیگر مدات(ھدایا وغیرہ) سے ان کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ لیکن بیت المال کے نہ ہونے اور سادات کو بیت المال سے وہ شرعی حصہ نہ ملنے کی وجہ سے اگر کوئی سید بہت تنگ دست ہو اور کسی دوسری مد سے بھی اعانت ممکن نہ ہو تو فی زمانہ سادات کو زکوۃ کی رقم دینے میں بظاہر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ ہندستان کے مشہور عالم دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب بھی جدید فقہی مسائل میں تفصیلی بحث کرنے کے بعد بطور ِخلاصہ لکھتے ہیں:
اگر کسی دوسری مد سے اعانت کی گنجائش نہ ہو،بالواسطہ زکوۃ سے مدد پہنچانی بھی دشوار ہو اور وہ ضرورت مند ہوں تو موجودہ حالات میں سادات کو زکوۃ کی رقم دی جا سکتی ہے،جیسا کہ امام ابوحنیفہ ،قاضی ابو یوسف، امام طحاوی علامہ ابہری مالکی، اصطخری شافعی، امام رازی، علامہ ابن تیمیہ، اور ایک قول کے مطابق امام مالک اور اکابر علماہند میں علامہ انورشاہ کشمیری کی رائے ہے۔

لما فی شرح معانی الآثار للامام الطحاوی:(1/303،رحمانیہ)
وقد اختلف عن ابی حنیفۃ فی ذلک فروی عنہ انہ قال لا با س بالصدقات کلھا علی بنی ھاشم وذھب فی ذلک عندنا الی ان الصدقات انما کانت حرمت علیھم من اجل ما جعل لھم فی الخمس من سھم ذوی القربی فلما انقطع ذلک عنھم ورجع الی غیرھم بموت رسول اللہ ﷺ حل لھم بذلک ماقد کان محرما علیھم من اجل ماقد کان احل لھم
وفی فیض الباری: (3/157 ،رشیدیہ)
ونقل الطحاوی عن (( امالی ابی یوسف )):انہ جاز دفع الزکاۃ الی آل النبی ﷺ عند فقد ان الخمس فان فی الخمس حقھم ، فاذالم یوجد، صح صرفھا الیھم وفی البحر عن محمد بن شجاع الثلجی عن ابی حنیفۃ ایضا جوازہ۔ وفی عقد الجید ان الرازی ایضا افتی بجوازہ۔ قلت: واخذ الزکاۃ عندی اسھل من السؤال، فافتی بہ ایضا۔ نقل العینی عن الاصطرخی ایضا: انھم منعوا الخمس جاز صرف الزکاۃ الیھم وروی ابو عصمۃ عن ابی حنیفۃ جوازدفعھا الی الھاشمی فی زمانہ
وکذافی مجمع الانھر:(1/331،المنار)( وکذافی العرف الشذی: (1 /260 ،رحمانیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(721،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/2/11/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:169

سونے کی گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنی ہو توکونسی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا،گزشتہ سال کی قیمت کایاموجوددہ قیمت کا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گزشتہ سالوں کی زکاۃ ادا کرنے میں کس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا ؟ اس میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔ راجح قول اور حکم یہی ہے کہ موجودہ ریٹ کے مطابق زکاۃدا کی جائے، تقوی اور احتیاط اسی میں ہے، لیکن اگر کوئی سابقہ ریٹ کے مطابق ادا کرے تو اس کی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

لما فی الد ر المختار:(2/286،ایچ ایم سعید)
وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب ،وقالایوم الادا ء، وفی السوائم یوم الاداء اجماعا،و ھوالاصح
وفی الھندیة :(1/179،رشیدیہ)
واذا کان لہ مائتان قفیز حنطۃ للتجارۃ تساوی مائتی درھم فتم الحول ثم زاد السعر او انتقص فان ادی من عینھا ادی خمسۃ اقفزۃ وان ادی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب وعندھما یوم الاداء، وکذا کل مکیل او موذون او محدود وان کانت الزیادۃ فی الذات بان ذھبت رطوبتہ تعتبر القیمۃ یوم الوجوب اجماعا لان المستفاد بعد الحول لا یضم وان کان النقصان ذاتا بان ابتلت تعتبر یوم الاداء عندھم
وکذافی اللباب :(1/142،قدیمی)
وکذافی البدائع:(2/111،رشیدیة)
وکذا فی الھندیة: (1 /179،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(2/286،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1937،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:148

صدقۃ الفطر ایک سے زائد افراد کو دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی التنویر مع الدر :(2/367،ایچ ایم سعید)
وجاز دفع کل شخص فطرتہ الی)مسکین او (مسکین علی)ماعلیہ الاکثر وبہ جزم فی الو لوالجیۃ والخانیۃ والبدائع والمحیط وتبعھم الزیلعی فی الظھار س غیر ذکر خلاف وصححہ فی البرھان فکان ہو (المذھب)کتفریق الزکاۃ والامر فی حدیث ((اغنوھم))للندب فیفید الا ولویہ
وفی البدائع:(2/208،رشیدیہ)
ویجوز ان یعطی مایجب فی صدقۃ الفطر عن انسان واحد جماعۃمساکین و یعطی مایجب عن جماعۃ مسکینا واحدا،لان الواجب زکاۃ فجاز جمعھا وتفریقھا کزکاۃ المال
وکذافی التاتارخانیہ:(3/461،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/387،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2049،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/377،الطارق)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/247،حرمین شریفین)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/231،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/437،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(725،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:151

نکاح کی فیس لینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس علاقہ میں نکاح پڑھانے والا ایک ہی شخص ہو تو چونکہ نکاح پڑھانا اس کا شرعی فریضہ ہے، لہذا اس کے لیے اجرت لینا جائز نہیں، لیکن اگر اس کے علاوہ بھی کئی لوگ نکاح پڑھانے کی اہلیت رکھتے ہوں تو پھر نکاح پڑھانے اور پڑھوانے والوں کی باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم بطور اجرت لینا جائز ہے۔

لما فی الھندیة:(3 /345 ،رشیدیہ )
وکل نکاح باشرہ القاضی وقد وجبت مباشرتہ علیہ کنکاح الصغار والصغائر فلا یحل لہ اخذالاجرۃ علیہ وما لم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ اخذالاجرۃ علیہ
وفی الھندیة:(4 /411 ،رشیدیہ )
واما شرائط الصحۃ: فمنھا رضا المتعاقدین
وکذافی البدائع:(4 /43 ،رشیدیہ )
وکذا فی القرآن الکریم:(النساء :29 )
وکذا فی البحرالرائق:(5 /408،رشیدیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4 /48 ،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی :(12 /232 ،بیروت )

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:153

ایک آدمی کی نو، دس ماہ کی بچی ہے مگر دوسرا حمل بھی ہے جو تقریبا ایک ماہ سے زائد کا ہے اور اس کی وجہ سے عورت اور اس کی بچی کی صحت بھی خراب ہوتی ہے تو کیا اس حالت میں وہ حمل گرا سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بلا عذر تو حمل ضائع کروانا جائز نہیں، البتہ اگر حمل کی وجہ سے عورت کی جان کو خطرہ ہو اور کوئی ماہر، دین دار ڈاکٹر مشورہ دے تو حمل ضائع کروانا جائز ہے۔

لما فی الشامیة :(9/709،رشیدیہ)
قولہ:( وجاز لعذر) کالمرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل وانقطع لبنھا ولیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد قالوا: یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ او علقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما، وجاز لانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی
وفی الفقہ الحنفی :(5/402،الطارق)
ومن الاعذار ایضا المرضعۃ اذا ظھر بھا الحبل، وانقطع لبنھا، ولیس لاب الصبی ما یستاجر بہ الظئر المرضع ویخاف ھلاک الولد قالوا: یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ او علقۃ ولم یخلق لہ عضو۔ وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما، وجاز لانہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی
وکذافی الھندیة: (5 /356،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/83،بیروت)
وکذافی الدرالمختار: (9 /709 ،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة :(2/343،الحرمین )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2647،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /203،فاروقیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة :(3/428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:83

موبائل اگر نجس پانی میں گر جائے تو اسے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موبائل کو صاف کرنے والے کیمیکل ( تِھنَّر ) سے یا پھر اس جیسے کسی اور کیمیکل وغیرہ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا جائے۔

لما فی مختصرالقد وری :(70،بشری)
ویجوز تطھیر النجاسۃ بالماء ، وبکل مائع طاھر یمکن ازالتھابہ کالخل وماء الورد
وفی خلاصة الفتاوی :(1/42،رشیدیہ)
واصل ھذا ان ازالۃ النجاسۃ بما سوی الماء من المائعات الطاھرات جائز
وکذافی الھندیة: (1 /41،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(1/242،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (1 /414 ،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة :(1/332،ایچ ایم سعید)
وکذافی الجوہرة النیرة:(1/100،103،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /455 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:84