اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے عید کے دن صدقۃ الفطر ادا نہ کرسکے تو کیا یہ اس کے ذمہ میں باقی رہے گاس یا ساقط ہو جائے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ساقط نہیں ہوگا اس کے ذمہ باقی رہے گا ۔

لما فی الھندیة:(1/192،رشیدیہ)
وان قدموھا علی یوم الفطر جاز ولا تفضیل بین مدۃ و مدۃ وھو الصحیح وان أخروھا عن یوم الفطر لم تسقط وکان علیم اخراجھا
وفی بدائع الصنائع:(2/207،رشیدیہ)
واما وقت ادائھا فجمیع العمر عند عامۃ اصحابنا ولا تسقط بالتأخیر عن یوم الفطر
وکذافی المحیط البرھانی:(2/384،بیروت)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(3/366،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(3/110،بیروت)
وکذافی البحر الرائق:(2/445،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/451،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2041،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2023/26/8/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر:117

صدقۃ الفطر ایک سے زائد افراد کو دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی التنویر مع الدر :(2/367،ایچ ایم سعید)
وجاز دفع کل شخص فطرتہ الی)مسکین او (مسکین علی)ماعلیہ الاکثر وبہ جزم فی الو لوالجیۃ والخانیۃ والبدائع والمحیط وتبعھم الزیلعی فی الظھار س غیر ذکر خلاف وصححہ فی البرھان فکان ہو (المذھب)کتفریق الزکاۃ والامر فی حدیث ((اغنوھم))للندب فیفید الا ولویہ
وفی البدائع:(2/208،رشیدیہ)
ویجوز ان یعطی مایجب فی صدقۃ الفطر عن انسان واحد جماعۃمساکین و یعطی مایجب عن جماعۃ مسکینا واحدا،لان الواجب زکاۃ فجاز جمعھا وتفریقھا کزکاۃ المال
وکذافی التاتارخانیہ:(3/461،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/387،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2049،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/377،الطارق)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/247،حرمین شریفین)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/231،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/437،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(725،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:151

بیماری سے نجات کے لیے جانور ذبح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیماری اور آفات وغیرہ سے حفاظت کے لیے احادیث میں صدقہ کرنے کا ذکر ملتا ہے اور صدقہ کسی بھی چیز کاکیا جا سکتا ہے،خواہ اجناس کا ہو یا لباس کا ،نقدی کا ہو یا گوشت کا ،بہر حال ہر ذی قدر چیز کا صدقہ کیا جا سکتا ہے،البتہ کسی ایک ہی چیز کو لازمی سمجھ لینا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اسی مقررہ چیز مثلاًبکرا یا گوشت کے صدقہ ہی سے مجھے صحت ملے گی یا میری مراد پوری ہو گی،یہ کسی طرح بھی درست نہیں بلکہ آہستہ آہستہ آدمی کو بدعت کی طرف لے جائے گی۔

وفی الترمذی:(1/261،رحمانیہ)
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء
وفی الترغیب والترھیب:(2/11،رشیدیہ)
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم باكروا بالصدقة فإن البلاء لا يتخطى الصدقة
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/371،قدیمی)
عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أحدث فی امرنا ما لیس منہ فھو رد
وکذافی الموسوعة:(26/324،326،علوم اسلامیہ)
إن أداء الصدقة من باب إعانة الضعيف، وإغاثة اللهيف، وإقدار العاجز، وتقويته على أداء ما افترض الله عليه من التوحيد والعباداتوالصدقة شكر لله تعالى على نعمه، وهي دليل لصحة إيمان مؤديها وتصديقه، ولهذا سميت صدقة… قال النووي: الصدقة مستحبة، وفي شهر رمضان آكد، وكذا عند الأمور المهمة، وعند الكسوف، وعند المرض، والسفر
وکذافی مرقاة:(1/366،تجاریہ)
وکذافی الھندیہ:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/376،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2051،2056،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 117

ایک آدمی نے کسی کو پیسے دیے کہ ان کو فقراء پر صدقہ کر دو۔وکیل پر انہی پیسوں کا صدقہ کرنا ضروری ہے یا دوسرے پیسے بھی صدقہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

چونکہ عرف میں ایسی رقم تبدیل کرنے کی اجازت ہوتی ہے،اس لیے ایسا کرنے کی گنجائش ہے،تاہم صراحتاً اجازت لے لینا زیادہ بہتر ہے۔

لما فی تبیین الحقائق:(4/90،امدادیة ملتان)
الفلوس الرائجة أثمان والثمن لا يتعين بالتعيين ولهذا إذا قابل الفلوس بخلاف جنسها لا يتعين كالدراهم والدنانير حتى كان له أن يعطي غيرها
وفی البحر الرائق:(6/219، رشیدیة کوئٹه)
الفلوس الرائجة أثمان، وهو لا يتعين، ولذا لا تتعين الفلوس إذا قوبلت بخلاف جنسها كالنقدين
وکذافی البنایة:(7/362،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی فتح القدیر:(7/21، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی العنایة علی فتح القدیر:(7/21، رشیدیة کوئٹه)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:128

ایک آ د می نے کہا کہ میں اپنی آمد نی کا بیس فیصد حصہ غر یبو ں پر خر چ کر و ں گا ، اس کے وا لد کے ما لی حالا ت بہت کمز ور ہیں ۔ ا ب کیا یہ بیس فیصد اپنے وا لد پر خرچ کر سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نفلی صد قہ دے سکتا ہے اور اس سے دہر ا اجر ملے گا وا جبی صد قہ مثلا زکوٰۃ وغیرہ نہیں دے سکتا ۔

لما فی بد ائع الصنا ئع:(2/162،رشید یة)
وأما صد قۃ التطو ع فیجوز د فعھا الی ھؤ لاء وا لد فع ا لیھم أو لی لأ ن فیہ أ جر ین أ جر الصد قۃ و أجر الصلۃ
وفی الفقہ الا سلا می و ادلتہ :(3/1970،رشید یة)
اما صد قا ت التطو ع: فیجو زد فعھا ا لا صو ل و الفر وع و الز و جا ت و الا ز واج ، وا لد فع ا لیھم أو لی لأ ن فیہ أ جر ین أ جر الصدقۃ و أجر الصلۃ
وکذافی الشا میة:(2/349،سعید )
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/426،رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(1/242،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق:(2/425،رشید یة)
وکذا فی النھر الفا ئق :(1/462،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:45

ایک شخص کا کاروباردبئی میں ہےاوروہ وہیں رہتاہے،لیکن اس کااصل گھرپاکستان میں ہے،تووہ کس ملک کے اعتبارسےصدقہ فطراداکرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صدقہ فطرکی ادائیگی میں اسی جگہ کااعتبارہوتاہےجہاں صدقہ اداکرنےوالاخودموجودہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں یہ شخص دبئی کےاعتبارسےصدقہ فطراداکرےگا۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1977،رشیدیہ)
والمعتبرعندالحنفیۃوالشافعیۃوالحنابلۃفی زکاۃالمال:المکان الذی فیہ المال،والمعتبرفی صدقۃالفطر:المکان الذی فیہ المتصدق ،اعتبارًابسبب الوجوب فیھما
وفی الھندیة:(1/190،رشیدیہ)
ثم المعتبرفی الزکاۃمکان المال حتی لوکان ھوفی بلد ومالہ فی بلدآخریفرق فی موضع المال،وفی صدقۃالفطریعتبرمکانہ لامکان ﺃولادہ الصغاروعبیدہ فی الصحیح
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(23/345،اسلامیہ)
وکذافی البدائع:(2/208،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(3/106،دارالمعرفة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/387،ادارةالقرآن)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/305،امدادیہ)
وکذافی الشامیة:(2/355،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(2/436،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/462،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/246،حرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:185

دھوکہ سےکسی کی رقم ہتھیاکرآگےصدقہ کرسکتےہیں؟جبکہ مالک موجودہو۔

الجواب حامداومصلیا

رقم مالک کوواپس کرناضروری ہے،صدقہ نہیں کرسکتے۔

لمافی سنن ابی داؤد:(2/341،رحمانیة)
عن عبداللہ بن السائب بن یزیدعن ابیہ عن جدہ :انہ سمع النبی ﷺیقول لایأخذن احدکم متاع اخیہ لاعباجادا،وقال سلیمان: لعباولاجدا،ومن اخذ عصااخیہ فلیردہا
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/209،الطارق)
“وحکم الغصب الاثم لمن علم انہ مال الغیر،وردالمغصوب ان کان قائما،وضمان قیمتہ ان کان ھالکاً ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4800،رشیدیة)
“اتفق الفقہاءعلی انہ یجب رد العین المغصوبۃالی صاحبھاحال قیامہاووجودہابذاتھا۔”
وکذافی الجامع الترمذی:(1/90،رحمانیة)
وکذافی المحیط البرہانی:(8/205،ادارةالقرآن)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/146،رحمانیة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(26/334،علوم اسلامیة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(402،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/9/1443/2022/4/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:127

صدقۃ فطر اگر عید کے دن ادا نہ کیا تو اس کے ذمہ باقی رہے گا یا ساقط ہو جائے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

ساقط نہیں ہو گا بلکہ اس کے ذمہ باقی رہے گا۔

لمافی الفتاویٰ الھندیہ:(1/192،رشیدیہ)
“وان قدموھا علی یوم الفطر جاز ولا تفصیل بین مدۃومدۃ وھو الصحیح وان اخرھا عن یوم الفطر لم تسقط وکان علیہم اخراجھا ۔ “
وفی بدائع الصنائع:(2/207،رشیدیہ)
” واما وقت ادائھا فجمیع العمر عند عامۃ اصحابنا ولا تسقط بالتاخیر عن یوم الفطر۔ “
وکذافی المبسوط:(3/110،دارالمعرفہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/384،ادارہ القرآن)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/451،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2041،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/445،رشیدیہ)
وکذافی التنویر والدر:(3/362،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:152

ایک آدمی پر صدقۃ الفطر واجب ہوا اور اس نے ادا نہ کیا بعد میں وہ فقیر ہو گیا تو اس سے صدقۃ الفطر ساقط ہو جائے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں صدقۃ الفطر ساقط نہیں ہو گا۔

لمافی التنویر والدر:(3/366،رشیدیہ)
فلا یسقط ا)فطرۃ ولذا الحج( بھلاک المال بعد الوجوب )کما لا یبطل النکاح بموت الشھود۔
وفی بدائع الصنائع:(2/208،رشیدیہ)
“ان صدقۃ الفطر تتعلق بالذمۃ وذمتہ قائمۃ بعد ھلاک المال ،فکان الواجب قائما والزکاۃ تتعلق بالمال فتسقط بھلاکہ ۔ “
وکذافی المبسوط:(3/110،دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/439،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2040،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/374،الطارق)
وکذافی فتح القدیر:(2/291،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/471،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:5

اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھ سکا تو کیا اس پر صدقۃ الفطر لازم ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی صدقۃ الفطر تو بھی لازم ہے۔

لمافی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/433،رشیدیہ)
المسافر والمریض اذا افطر فی رمضان لا تبطل عنھا صدقۃ الفطر لان سبب الوجوب موجود فی حقھما وھو طلوع الفجر یوم الفطر
وفی فتاویٰ قاضیخان علی ھامش الھندیہ:(1/230،رشیدیہ)
وتجب صدقۃ علی من یسقط عنہ الصوم لمرض او کبر
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/462،فاروقیہ)
وکذافی فتاویٰ نوازل:(142،حقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(158،زمزم)
وکذافیالمبسوط :(3/104،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:8