ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے اور عملاً اس کا رواج بھی ہے کہ شادی بیاہ اور تقریبات وغیرہ سے پہلے صدقہ کے طور پر جانور خصوصا بکرا یا مرغی وغیرہ ذبح کر کے صدقہ کیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بکرا وغیرہ دینا ہی ضروری ہے یا کسی مستحق کو اس کے پیسے یا ضرورت کا سامان بھی دے سکتے ہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ضرورت کا سامان یا پیسے دینا زیادہ بہتر ہے تاکہ مستحق اپنی مختلف ضروریات کو بآسانی پورا کر سکے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2044،رشیدیہ)
دفع القیمۃ عندھم:یجوز عندالحنفیۃ أن یعطی عن جمیع ذالک القیمۃ دراھم أو دنانیرأو فلوسا أو عروضا أو ما شاء،لان الواجب فی الحقیقۃ اغناء الفقیر،لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم:{اغنوھم عن المسا لۃ فی مثل ھذ االیوم}،والاغناء یحصل بالقیمۃ،بل أتم ووأفر وأیسر،لانھا أقرب الی دفع الحاجۃ،فتبین ان النص معلل بالاغناء
وفی الھندیہ:(1/191،192،رشیدیہ)
ثم الدقیق أولی من البر والدراھم أولی من الدقیق لدفع الحاجۃ وما سواہ من الحبوب لا یجوز الا بالقیمۃ،وذکر فی الفتاوی:ان أداء القیمۃ أفضل من عین المنصوص علیہ،وعلیہ الفتوی،کذا فی الجوھرۃ النیرۃ
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(3/376،رشیدیہ) وکذا فی ردالمحتار:(3/376،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر علی مجمع الانھر:(1/338،339،المنار) وکذا فی کتاب الفقہ:(1/531،الحقانیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/437،رشیدیہ) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/205،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/339،المنار) وکذا فی التاتارخانیہ:(3/455،فاروقیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلدنمبر:18 فتوی نمبر:122

! کسی سے قرض لیا ہو اور وہ دینا بھول جائے ، اور یہ بھی بھول جائے کہ کس کو دینا ہے، ایسی صورت میں قرض کیسے ادا کرے، جبکہ اسے حقیقی مالک کا پنہ ہی نہ ہو، یادداشت سے مٹ چکا ہو لیکن احساس ہو کہ میں نے قرض دینا ہے، کیا صدقہ کر دینے سے ادا ہو جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں اتنی مالیت کا اندازہ لگا کر فقراء میں صدقہ کر دے۔ امید ہے کہ اس سے آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہو گا۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار: ( 6/434، رشیدیہ )
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا نعلم بينهم خلافا…(و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبی.
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/283، الطارق )
“من کان عليه ديون ومظالم جهل أصحابها ورثتھم وأيس من معرفتهم فعليه التصدق بقدر ما علیہ من ماله.”
وکذافی الشامیة: ( 6/434، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 2/504، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: (5/367، رشیدیہ )
وکذافی مجمع الأنھر: ( 2/531، مکتبہ المنار )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 29/235، علوم اسلامیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :190