ایک شخص نے کہا کہ اگر میں نے سگریٹ پی تو میری بیوی کو طلاق، تو کیا سگریٹ پینے سے طلاق ہوجائےگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اس شخص نے اگر سگریٹ پی لی تو اس کی بیوی کو ایک طلاق ِ رجعی واقع ہوجائے گی۔

لما فی الشامیة :(4/471،رشیدیہ)
والمعلق بالشرط کا لمنجزعند وجود ہ
وفی الھندیة :(1/420،رشیدیہ)
واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا
وکذافی الھدایة:(2/115،بشریٰ)
وکذافی البنایہ: (5 /173،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة :(1/354،رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة :(2/72،امدادیہ)
وکذافی البحرالرائق: (4 /16،رشیدیہ)
وکذافی الجوہرة النیرة:(2/177،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق: (3 /570،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة :(3/253،ایچ ایم سعید)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/28،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6973،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:85

ایک شخص نے سجدہ سے اٹھتے ہوئے ”سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ“ کہدیا تو کیا اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ جبکہ اس نے سجدہ سہو بھی نہیں کیا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص کی نماز ہوگئی ، کیونکہ سجدہ سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہنا سنت ہے اور سنت کے چھوٹنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔

لما فی غنیة المستملی:(455،رشیدیہ)
فلا یجب بترک السنن والمستحبات کالتعوذ والتسمیۃ والثناء والتامین وتکبیرات الانتقالات والتسبیحات
وفی البدائع:(1/407،رشیدیہ)
واما سائرالاذکار من الثناء والتعوذ وتکبیرات الرکوع والسجود وتسبیحاتھما فلا سہو فیھا عند عامۃ العلماء
وکذافی البنایہ: (2 /734،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة: (1 /126،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:( 1/ 519، رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (2 /174،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/309،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/178،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /389،فاروقیہ)
وکذافی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط:(1/213،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:82

عید کے دن قبرستان جانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عید کے دن قبرستان جانا مستحب ہےضروری نہیں، لہذا اسے لازم نہ سمجھا جائے۔

لمافی الموسوعة الفقھیة:(31/118،رشیدیہ)
تستحب فی العید زیارۃ القبور والسلام علی اھلھا والدعاء لھم، لحدیث:(( نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا)) وفی روایۃ:(( فانھا تذکرۃ الآخرۃ))
وفی الھندیة: (5 /350،رشیدیہ)
وافضل ایام الزیارۃ اربعۃ یوم الاثنین والخمیس والجمعۃ والسبت والزیارۃ یوم الجمعۃ بعد الصلاۃ حسن ویوم السبت الی طلوع الشمس و یوم الخمیس فی اول النھار وقیل فی آخرالنھار وکذا فی اللیالی المتبرکۃ لا سیما لیلۃ براءۃ وکذلک فی الازمنۃ المتبرکۃ کعشر ذی الحجۃ والعیدین وعاشوراء وسائر المواسم کذا فی الغرائب
وکذافی البحر:(2/342،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/177،رشیدیہ)
وکذافی الجامع للترمذی:(1/329،رحمانیہ)
وکذافی السنن لابی داؤود:(2/107،رحمانیہ)
وکذافی الصحیح للمسلم:(1/370،رحمانیہ)
وکذافی المصنف لعبدالرزاق :(3/569،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/156،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(619،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:71

میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس ذکرواذکار اورتلاوت کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ذکرواذکار وغیرہ تو درست ہیں، البتہ تلاوتِ قرآن کرنے کے وقت اگر میت کو کسی چادر وغیرہ سے چھپا دیا گیا ہو تو کوئی حرج نہیں، ورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الشامیة:(2/194،ایچ ایم سعید)
والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یستر جمیع بدنہ، لانہ لو صلی فوق نجاسۃ علی حائل من ثوب او حصیر لا یکرہ فیما یظھر فکذا اذا قرا عند نجاسۃ مستورۃ وکذا ینبغی تقیید الکراھۃ بما اذا قرا جھرا قال فی الخانیۃ: وتکرہ قراءۃ القرآن فی موضع النجاسۃ کا المغتسل والمخرج والمسلخ وما اشبہ ذلک، ۔۔۔۔۔۔۔ فتحصل من ھذا ان الموضع ان کان معدا للنجاسۃ کا لمخرج والمسلخ کرھت القراءۃ مطلق والا فان لم یکن ھناک نجاسۃ ولا احد مکشوف العورۃ فلا کراھۃ
وفی الموسوعة الفقھیة:(16/8،رشیدیہ)
تکرہ عند الحنفیۃ قراءۃ القرآن عند المیت حتی یغسل ۔۔۔۔۔۔ قال ابن عابدین:۔۔۔۔۔ والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یستر جمیع بدنہ
وکذا فی الھندیة: (1 /57 ،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ: (3 /310 ،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/264،المنار)
وکذافی البحرالرائق: (2 /301،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/235،امدادیہ)
وکذافی الدر المختار :(2/193،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1481،رشیدیہ)
وکذافی نورالایضاح مع مراقی الفلاح:(564،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:70

ایک شخص مسجد عائشہ سے ڈیڑھ کلو میٹر اندر رہتا ہے ، تو کیا وہ گھر سے احرام باندھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حرم میں رہنے والے کو، حدود حرم سے باہر(حِل) جاکر عمرے کا احرام باندھنا ہوتا ہے، پس اس کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ عمرہ کا احرام مسجد عائشہ سے باندھے۔

لما فی اللباب:(1/166،قدیمی)
ومن کا بمکۃ فمیقاتہ فی الحج الحرم وفی العمرۃ الحل )لیتحقق وقوع السفر ۔۔۔۔۔۔۔الا ان التنعیم افضل، لورود الاثر بہ
وفی ارشاد الساری:(93،فاروقیہ)
فوقتہ الحرم للحج)۔۔۔۔۔۔(والحل للعمرۃ )لیحصل لھم نوع من السفر و فی الجملۃ مشقۃ تو جب زیادۃ الاجر ثم احرام المکی من التنعیم افضل عندنا للعمرۃ
وکذافی الھندیة:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/393،المنار)
وکذافی غنیة الناسک:(57،ادارة القرآن)
وکذافی الشامیة:(2/479، ایچ ایم سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/412،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/478،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/2126،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/10/18/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:26

عمرہ کرنے سے حج فرض ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کوئی عمرہ کے لیے جائے اور حج کے مہینے شروع ہوجائیں یا وہ حج کے مہینوں ہی میں عمرہ کے لیے جائے اور اس کے لیے حج ادا کرنے تک،خرچہ کی دستیابی اور حکومتی اجازت کے ساتھ، وہاں رہنا ممکن ہو تو پھر اس پر حج فرض ہوجائے گا۔

لما فی غنیة الناسک:(22/ادارةالقرآن)
السابع: الوقت، ای وجود القدرۃ فیہ، وھو اشھرالحج، او وقت خروج اھل بلدہ ان کانوا یخرجون قبلھا ، فلا یجب الا علی القادر فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ فقیر آ فاقی قدم مکۃ قبل اشھرالحج ، او صبی مکی بلغ، او عبد عتق، او کافر اسلم بمکۃ قبل اشھر الحج، ھل یجب علیھم الحج فی الحال ام لا یجب ما لم یدرکوا الا شھروھم بمکۃ؟ فعلی القول بان الوقت شرط الوجوب لا یجب ، وعلی القول بانہ شرط الاداء یجب
وفی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /471،فاروقیہ)
وان کان صحیح البدن الا انہ لا یملک الزاد والراحلۃ لکن بذل لہ الغیر الزاد والراحلۃ فی طریق الحج، ومعناہ انہ اباح لہ غیرہ لا تثبت الاستطاعۃ عندنا ۔۔۔۔۔۔۔ وکان الکرخی یقول: انما تشترط الراحلۃ فی حق من بعد عن مکۃ، فاما اھل مکۃ ومن حولھا فلا تشترط الراحلۃ فی حقھم۔ وفی الینابیع: اذا کانوا قادرین علی المشی، ولکن لا بد ان یکون لھم من الطعام بمقدار ما یکفیھم ولعیالھم بالمعروف الی حین عودھم
وکذافی البنایة:(4/7،رشیدیہ)
وکذافی العنایة:(2/420،رشیدیہ)
وکذافی لباب المناسک:(54،فاروقیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(54،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/415،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/539،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الشلبی علی تبیین الحقائق:(2/5،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/07/15/7/1444
جلد نمبر؛29 فتوی نمبر:25

اگرشوہر ہم بستری کے لیے بلائے اور بیوی نفلی روزے سے ہو تو وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کو چاہیے کہ وہ نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہ رکھے ، لیکن اگر وہ نفلی روزہ رکھ لیتی ہے اور شوہر ہم بستری کے لیے بلائے تو بیوی شوہر کو بتادے کہ میرا روزہ ہے، اگر شوہر پھر بھی بلائے تو بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کی بات مانے اور بعد میں روزے کی قضاء کرلے۔

لما فی الھندیة :(1/201،رشیدیہ)
ویکرہ ان تصوم المراۃ تطوعا بغیراذن زوجھا الا ان یکون مریضا او صائما او محرما بحج او عمرۃ فان صام احد من ہؤلاء فللزوج ان یفطر المراۃ
وفی موسوعة الفقھیة:(22/99،رشیدیہ)
واذا صامت الزوجۃ تطوعا بغیر اذن زوجھا فلہ ان یفطرھا
وفی الصحیح لمسلم:(1/387،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ (رضی اللہ عنہ)عن محمد رسول اللہ ﷺ فذکر احادیث منھا وقال رسول اللہ ﷺ لا تصم المراۃ وبعلھا شاھد الا باذنہ ۔۔۔۔۔۔
وکذافی القدوری:(231،بشری)
وکذافی کنز الدقائق:(68،حقانیہ)
وکذافی الھدایة:(1/237،المیزان)
وکذافی فتح الباری:(9/369،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(2/30،ایچ ایم سعید)
وکذافی الدرالمختار:(2/430،ایچ ایم سعید)
وکذافی شر ح المسلم للنووی علی ھامش الصحیح المسلم:(1/387،رحمانیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/5/13/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:196

گندم کی پسوائی کے لیے اجیر کا اسی آٹے میں سے اجرت کی مد میں آٹا کاٹنا کیسا ہے؟

الجواب ومنہ الصدق واصواب

گندم پیسنے کی اجرت میں اسی گندم سے بنا ہوا آٹا ، دینے کی شرط نہ ہو تو یہ صورت جائز ہے، پھر چاہے وہی آٹا اجرت میں دیا جائے یا کوئی اور آٹا۔

لما فی الھندیة:(4/444،رشیدیہ)
والحیلۃ فی ذالک لمن اراد الجواز ان یشترط صاحب الحنطۃ قفیزا من الدقیق الجید ولم یقل من ھذہ الحنطۃ او یشترط ربع ھذہ الحنطۃ من الدقیق الجید لان الدقیق اذا لم یکن مضافا الی حنطۃ بعینھا یجب فی الذمۃ والاجر کما یجوز ان یکون مشار الیہ یجوز ان یکون دینا فی الذمۃ ثم اذا جاز یجوز ان یعطیہ ربع دقیق ھذہ الحنطۃ ان شاء کذا فی المحیط
وفی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة:(5/35،رشیدیہ)
وحیلۃ الجواز فیہ ان یشترط للطحان قفیزا جیدا من دقیق ولا یضیفہ الی ھذالدقیق وکذا فی تذریۃ الکدس و حلج القطن ثم یعطیہ من ذالک فیجوز
وکذافی البحر:(8/41،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(9/360،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(6/57،ایچ ایم سعید)
وکذا فی تبیین الحقائق: (5/30،امدادیہ )
وکذافی المحیط البرھانی:(11/33،بیروت)
وکذا فی الدر المختار:(6/57،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(15/114،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الشلبی علی ھامش التبیین :(5/130،امدادیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:195

گندم کی پسوائی کے وقت آٹا چکی والےجو آٹا لیتے ہیں مثلا:اگر انہیں ایک من گندم دی جائے تو وہ آٹا بنانے کے بعد 38 یا 39 کلو آٹا واپس کرتے ہیں جبکہ ایک یا دو کلو آٹا رکھ لیتے ہیں، تو ان کا یہ آٹا رکھ لینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں چکی والے کی طرف سے” جلن اور اڑان“ کے عنوان سے آٹا اپنے پاس رکھنا درست ہے، بشرطیکہ یہ کٹوتی مناسب اور عرف کے مطابق ہو۔ نیز اس میں دھوکہ اور عوام کے ساتھ زیادتی بھی نہ ہو۔

لما فی دررالحکام شرح مجلة الاحکام:(1/46،المکتبة العربیة)

والحاصل ان استعمال الناس غیر المخالف للشرع و لنص الفقہاء یعد حجۃ

وفی مشکوة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ ﷺ الا لا تظلموا الا لا یحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ۔ رواہ البیھقی فی شعب الایمان والدار قطنی فی المجتبی
وکذافی القرآن الکریم:(ھود،85)
وکذافی القرآن الکریم:(النساء،29)
وکذافی الشامیة :(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی شرح المجلة:(1/100،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/189،رشیدیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(21،قدیمی)
وکذافی جامع الترمذی :(1/378،رحمانیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/27،معارف القرآن)
وکذافی الدر المختار:(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(31/220،مکتبہ علوم اسلامیہ)
وکذافی الجامع الصغیر مع فیض القدیر :(6/241،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/5/13/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:192

طاہرشاہ نامی ایک شخص فوت ہوگیا اور اس کے ورثاء میں ایک زوجہ(بیوی)، چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھی جبکہ مرحوم کا ترکہ ایک رہائشی مکان اور کچھ زمینوں پر مشتمل تھا۔زمینوں کی تقسیم تو ابھی تک نہیں کی گئی البتہ مکان ورثاء نے آپس میں تقسیم کرلیا ہے۔تمام ورثاء کے باہمی مشورہ سے چاروں بھائیوں کو ایک ایک حصہ دینے کے لیے مکان کے چار حصے کیے گئے، جبکہ میت کی بیوی اور بیٹیوں کے لیے خود میت کی بیوی ( ورثاء کی والدہ ) نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر بھائی کے ذمہ ایک بہن ہے جس کو وہ اپنے مکان کے حصے میں سے حصہ دے گا، لہذا تین بھائیوں کہ ذمہ تین بہنوں کا حصہ ہوگیا جبکہ چوتھے بھائی کے ذمہ والدہ کا حصہ ہے مثلا: زید کے ذمہ ساجدہ، خالد کے ذمہ عابدہ، بکر کےذمہ زاہدہ اور عمر کے ذمہ اس کی والدہ کا حصہ ہے۔ اب ان چار بھائیوں میں سے جو بھی اپنا حصہ بیچے گا یا اگر نہیں بیچتا تو اس کی قیمت لگا کر اپنی اس مقررہ بہن کو حصہ دے گا۔ یہ سارا معاملہ ورثاء کے والدہ کی سرپرستی میں تمام ورثاء کی باہمی رضا مندی سے طے پایا ہے۔ پھر ان چار بھائیوں میں سے زید نے اپنے حصہ کا مکان بیچ دیا ہے۔اب مطلوبہ امر یہ ہے کہ زید اپنے اس مکان میں سے صرف اپنی اس متعلقہ بہن (ساجدہ) کو حصہ دے گا یا تمام بہنوں کو حصہ دینا پڑے گا؟ واضح رہے کہ ہر بھائی کے ذمہ ایک بہن کا حصہ لگانے میں بہنوں کی رضا مندی شامل ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زید اپنے مکان میں سے صرف اپنی بہن ساجدہ کو حصہ دے گا۔

لما فی الھندیة: (4 /268،رشیدیہ )
اذا کانت الترکۃ بین ورثۃ فاخرجوا احدھم منھا بمال اعطوہ ایاہ والترکۃ عقار او عروض صح قلیلا کان ما اعطوہ او کثیرا
وفی السراجی:( 76 ،شرکة علمیہ )
ومن صالح علی شیئ من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح ثم اقسم ما بقی من الترکۃ علی سھام الباقین
وکذا فی الجوھرة:(2 /12، ) وکذا فی البنایہ:(9 /344 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: (4 /279،المنار ) وکذافی المحیط: (23 /325 ،بیروت )
وکذا فی البدائع: (5 /170 ،رشیدیہ ) وکذا فی الشامیہ :(10 /602 ،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیة:(14 /311 ،فاروقیہ ) وکذا فی المبسوط: (20 /181،دارامعرفہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: (5 /126،امدادیہ ) وکذا فی البحرالرائق :(8 /36 ،رشیدیہ )
وکذافی المبسوط: (20 /181،دارالمعرفہ) وکذا فی حاشیة الشلبی علی تبیین الحقائق: (5 /26،امدادیہ )

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/01/31/8/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:136