ہمارے محلہ کے امام نے نماز جنازہ سے پہلے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ میت کو قبر میں قبلہ کی طرف سے رکھنا سنت ہے،اب آپ بتائیں کے اس کی شرعی حثیت کیا ہے ہے سنت ہے یا مستحب؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی میت کو قبلہ کی طرف سے داخل کرنا مستحب ہے،البتہ فقہاء کرام مستحب عمل کو کبھی کبھی سنت سےبھی تعبیرکر دیتے ہیں۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(2/235،سعید)
و)یستحب ان(یدخل من قبل القبلۃ) بأن یوضع من جھتھا ثم یحمل فیلحد
وفی جامع الترمزی:(1/330،رحمانیہ)
عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل قبرا لیلا فاسرج لہ سراج فاخذہ من قبل القبلۃ وقال رحمک اللہ ان کنت لاواھا تلاء للقرآن و کبر علیہ اربعا
وکذافی بدائع الصنائع:(2/61،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/90،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/66،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/226،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/339،رشیدیہ)
وکذافی تیین الحقائق:(1/245،امدادیہ)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/150،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/3/2023/25/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:123

اگر کو ئی عورت ایسی جگہ وفات پا جائے جہاں پر کوئی اور دوسری عورت موجود نہیں ہےجو غسل دے سکے تو اس کو مرد غسل دے سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کا کوئی محرم مرد موجود ہو تو وہ میت کو تیمم کرا دے، اگر محرم نہ ہو تو غیر محرم مرد اپنے ہاتھوں پر کچھ کپڑا وغیرہ لپیٹ کر اور نظر کی حفاظت کرتے ہوے تیمم کرا دے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(572،قدیمی)
ولو ماتت امرأۃ مع الرجال)المحارم وغیرھم(یمموھا کعکسہ)وھو موت رجل بین النساء وکن محارمہ ییممنہ(بخرقۃ)تلف علی ید المیمم الاجنبی حتی لا یمس الجسد ویغض بصرہ عن ذراعی المرأۃ
وفی البحرالرائق:(2/305،رشیدیہ)
واذا ماتت المرأۃ فی السفر بین الرجال ییممھا ذو رحم محرم منھا وان لم یکن لف الاجنبی علی یدیہ خرقۃ ثم ییممھا
وکذافی الفتاوی قاضی خان:(1/187،رشیدیہ)
وکذا فی الکتاب الفقہ علی المذھب الاربعة: (1 /429 ،حقانیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /160 ،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق: (1 /384 ،قدیمی)
وکذا فی نور الایضاح: (571 ،قدیمی)
وکذا فی المصنف لابن أبی شیبہ:(2/455،بیروت)
وکذا فی الشامیة:(3/110،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/4/13/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:9

اگر میت کو بغیر اجازت کے کسی کی زمین میں دفن کر دیا تو کیا مالک اسے نکالنے پر مجبور کر سکتا ہےاور میت کو قبر سے نکالنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر مالک وہاں تدفین پر راضی نہ ہو تو اس عذر کی وجہ سے میت کو قبر سے نکالنا جائزہے۔

لما فی الھندیة:(1/167،رشیدیہ)
اذا دفن المیت فی أرض غیرہ بغیرہ اذن مالکھا فالمالک بالخیار ان شاء أمر باخراج المیت وان شاء سوّی الارض وزرع فیھا
وفی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(3/170،رشیدیہ)
ولا یخرج منہ)بعد إھالۃ التراب (الا)لحق آدمی (ان تکون الارض مغصوبۃ أو أخذت بشفعۃ)ویخیر المالک بین اخراجہ ومساواتہ بالارض کما جاززرعہ والبناء علیہ اذا بلی وصار ترابا
وکذافی التجنیس والزید:(2/279،ادارۃالقرآن)
وکذا فی تیین الحقائق: (1 /246 ،امدادیہ)
وکذا فی الھندیة: (2 /455 ،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 149 ، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(3/304،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/276،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1556،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/31/7/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:162

میت کو تابوت سمیت دفن کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ضرورت کی وجہ سے تو جائز ہے، جبکہ بلا ضرورت میت کو تابوت سمیت دفن کرنا مکروہ ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /165 ،رشیدیہ)
ولا باس بالتخاذ تابوت ) ولو من حجر او حدید ( لہ عند الحاجۃ ) کرخاوۃ الارض
وفی الشامیة :(3/165،رشیدیہ)
ولا باس بالتخاذ تابوت الخ ) ای: یرخص ذلک عند الحاجۃ، والا کرہ
وفی الھندیة: (1 /166 ،رشیدیہ)
وحکی عن الشیخ الامام ابی بکر محمد بن الفضل رحمہ اللہ تعالی انہ جوز اتخاذ تابوت فی بلادنا لرخوۃ الارض قال ولو اتخذتابوت من حدید لا باس بہ لکن ینبغی ان یفرش فیہ التراب و یطین الطبقۃ العلیا مما یلی المیت و یجعل اللبن الخفیف علی یمین المیت وعلی یسارہ لیصیر بمنزلۃ اللحد
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /69 ،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الد ر:(1/381،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:183

میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس ذکرواذکار اورتلاوت کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ذکرواذکار وغیرہ تو درست ہیں، البتہ تلاوتِ قرآن کرنے کے وقت اگر میت کو کسی چادر وغیرہ سے چھپا دیا گیا ہو تو کوئی حرج نہیں، ورنہ مکروہ ہے۔

لما فی الشامیة:(2/194،ایچ ایم سعید)
والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یستر جمیع بدنہ، لانہ لو صلی فوق نجاسۃ علی حائل من ثوب او حصیر لا یکرہ فیما یظھر فکذا اذا قرا عند نجاسۃ مستورۃ وکذا ینبغی تقیید الکراھۃ بما اذا قرا جھرا قال فی الخانیۃ: وتکرہ قراءۃ القرآن فی موضع النجاسۃ کا المغتسل والمخرج والمسلخ وما اشبہ ذلک، ۔۔۔۔۔۔۔ فتحصل من ھذا ان الموضع ان کان معدا للنجاسۃ کا لمخرج والمسلخ کرھت القراءۃ مطلق والا فان لم یکن ھناک نجاسۃ ولا احد مکشوف العورۃ فلا کراھۃ
وفی الموسوعة الفقھیة:(16/8،رشیدیہ)
تکرہ عند الحنفیۃ قراءۃ القرآن عند المیت حتی یغسل ۔۔۔۔۔۔ قال ابن عابدین:۔۔۔۔۔ والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یستر جمیع بدنہ
وکذا فی الھندیة: (1 /57 ،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ: (3 /310 ،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/264،المنار)
وکذافی البحرالرائق: (2 /301،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/235،امدادیہ)
وکذافی الدر المختار :(2/193،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1481،رشیدیہ)
وکذافی نورالایضاح مع مراقی الفلاح:(564،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:70

ایک شخص فوت ہوااس کےورثہ نےجنازہ پراعلان کیا،اگرکسی کااس میت کےساتھ لین دین ہے تووہ ہم سے رابطہ کرےبعدمیں ایک شخص آیااوراس نےدعوی کیاکہ متوفی نے میرادس سال پہلےکاقرض دیناہےکہ اس نےمجھ سےدرخت خریدے تھےمتوفی کے حصےداروں سے پتاکیااور ساتھ کام کرنے والوں سے بھی پتا کیاتوانہوں نےانکار کردیاکہ ہمیں نہیں پتااوراس مدعی کےبارے میں یہ بھی مشہورہےکہ یہ فراڈیا ہے۔اب ورثاء کیاکریں جس سےمیت کوکوئی پکڑنہ ہو۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مدعی اگرثبوتوں یادوگواہوں کےذریعےاپنادعوی ثابت کردےتواس کےدعوےکااعتبارکیاجائےگا، ورنہ میت کے ورثہ قسم کھائیں گے۔

لما فی السنن الکبری:(10/427،دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس رضی اللہ عنھماأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:البینۃعلی المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وفی الشامیہ: (10 /529 ،رشیدیہ)
قولہ:(ویقدم دین الصحۃ)ھوماکان ثابتاًبالبینۃمطلقاًأوبالاقرارفی حال الصحۃ
وکذافی المعتصرالضروری:(736،البشری)
وکذا فی البنایہ: (8/401 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (9 /366 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(5/336،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(3/210،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط:(17/28،بیروت)
وکذا فی تبین الحقائق:(4/290،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/12/2022/20/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:125

میت کو دفن کرنے کے بعد میت کے سر کی طرف سورۃ بقرہ کا پہلا رکوع اور پاؤں کی طرف آخری رکوع پڑھا جاتاہے،کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ حدیث سے ثابت ہے۔

لما فی المعجم الکبیر للطبرانی:(6/255،بیروت)
حدثنا أبو شعیب الحرانی ،ثنایحیی بن عبد الللہ البابلتی، ثنا أیوب بن نھیک، قال:سمعت عطاء بن أبی رباح، یقول: سمعت ابن عمر یقول: سمعت النبی صلى اللہ علیہ وسلم یقول: إذا مات أحدكم فلا تحبسوہ، وأسرعوا بہ إلى قبرہ، ولیقرأ عند رأسہ بفاتحۃالكتاب، وعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ فی قبرہ
وفی اثار السنن:(338،امدادیہ)
عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن ابیہ قال قال لی ابی اللجلاج ابو خالد رضی اللہ عنہ یابنی اذا انامت فالحدلی فاذاوضعتنی فی لحدی فقل بسم اللہ وعلی وملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم سن التراب سنا ثم اقراعند راسی بفاتحۃ البقرۃ وخاتمتھا فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ذلک رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر واسنادہ صحیح
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/151،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /232 ،سعید)
وکذا فی اعلاءالسنن:(8/342،ادارة القرآن)
وکذا فی مجمع الزوائد:(3/124،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:9

ہمارے علاقے میں لوگ جنازے سے فارغ ہوکر جو قبرستان نہیں جاناچاہتے ہیں وہ میت کے لواحقین سے اجازت لے کر گھر جاتے ہیں،اگر کوئی اجازت نا لے تو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ میت جلدی اس کو اپنے پاس بلا لے گی(یعنی یہ جلدی مرجائےگا)کیا شریعت میں اس کاکوئی ثبوت ہے،کیا میت کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ نے جوسنا غلط ہے،میت کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے،بلکہ مستحب ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /165 ،رشیدیہ)
ولا ینبغی ان یرجع من جنازۃ حتی یصلی علیہ وبعد ماصلی لایرجع الا باذن اھل الجنازۃ قبل الدفن وبعدالدفن یسعہ الرجوع بغیراذنھم
وفی حاشیہ الطحطاوی علی المراقی:(590،قدیمی)
والرجل یتبع الجنازۃ فیصلی علیھا فلیس لہ ان یرجع حتی یستأمر أھلھاوفی سکب الأنھر:لوانصرف بدون إذن الولی قیل:یکرہ،وقیل:لاوھوالأوجہ
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/17،علوم اسلامیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/225، رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(593/رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ: (1 /190 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /39 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/72،بیروت)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/451،حقانیة)
وکذا فی مصنف ابن ابی شیبہ:(3/5،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:132

بیوی فوت ہوجائےتوکفن وغیرہ کاخرچہ شوہر کے ذمےہے یااس خاتون کے والدین کے ذمے ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کے ذمے ہے۔

لما فی البحرالرائق: (2 /311 ،رشیدیہ)
واشتغنی ابویوسف الزوجۃ،فإن کفنھاعلی زوجھالکن اختلف العبارات فی تحریرمذھب ابی یوسف ففی فتاوی قاضیخان والخلاصۃ والظھیریۃوعلی قول ابی یوسف یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالاًوعلیہ الفتوی
وفی الھندیة: (1 /161 ،رشیدیہ)
فالکفن علی من تجب علیہ النفقۃ الاازوج فی قولہ محمدرحمہ اللہ تعالی وعلی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالاوعلیہ الفتوی
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(13/242،علم اسلامیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/68،بیروت)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/220، رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/42،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (3 /119 ،دارالمعرفة)
وکذافی فتاوی قاضی خان :(1/189،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:8

اگرمیت کوکسی شرعی عذرکی وجہ سے تیمم کرایہ جائے توتیمم کاکیاطریقہ ہے؟پورے جسم پریاہاتھوں اورچہرے پرتیمم کرایاجائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عذرکی وجہ سے میت کوویسے ہی تیمم کرایاجائے جیسے نمازکے لئے کیاجاتاہے،یعنی جوشخص تیمم کرائے وہ مٹی وغیرہ پرہاتھ پھیر کرپہلے میت کے چہرے پرپھیردے،پھردوسری مرتبہ مٹی وغیرہ پرہاتھ پھیرکردونوں کہنیوں تک پھیردے۔

لما فی التاتارخانیة: (3 /13 ،فاروقیة )
غسل المیت یسقط باسباب،احدھا:انعدام الغاسل،حتی ان الرجل اذامات بین یدی النسآءفی السفرییمم والثانی:انعدام ماءیغسل بہ فاذامات الرجل فی السفرولیس ھناک ماءطاھرییمم ویصلی علیہ
وفی الشامیة: (1 /435 ،رشیدیة )
التیمم ضربتان:ضربۃ للوجہ،وضربۃ للیدین الی المرفقین،فقلت:کیف ھو؟فضرب بیدیہ علی الصعیدفاقبل بھماوادبرثم نفضھماثم مسح بھماوجھہ،ثم عادکفیہ علی الصعیدثانیافاقبل بھماوادبرثم نفضھما،ثم مسح بذلک ظاھرالزراعین وباطنھماالی المرفقین
وکذافی الھدایة: (1 /49 ،المیزان )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /50 ،داراحیاء )
وکذافی الھندیة: (1 /26 ،رشیدیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /61 ،المنار )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /165 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /153 ،قدیمی )
وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1 /34 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/6/15/9/1444
جلد نمبر:30فتوی نمبر:25