میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد اس کو کلمہ کی تلقین کرنا کیسا ہے؟ اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

حدیث مبارکہ میں ہے”لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ”اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں علماء اہل سنت کے دو قول ہیں۔بعض علماء نے اس کا حقیقی معنی مراد لیتے ہوئے فرمایا کہ تلقین بعد الدفن مستحب ہے،لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کے یہاں حقیقی معنی متروک ہے اور مجازی معنی مراد ہے، لہذا حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نزع کی حالت میں ہو اس کو کلمہ کی تلقین کی جائے۔”اعلاء السنن “میں مولانا ظفر احمد عثمانی علیہ الرحمہ دونوں قولوں میں محاکمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تلقین بعد الدفن فی نفسہ مستحب ہے،لیکن موجودہ دور میں چونکہ یہ روافض کا شعار بن چکاہے، اس لیے اب اسے ترک کر دینا افضل ہے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(560،قدیمی)
وتلقينه” بعد ما وضع “في القبر مشروع” لحقيقة قوله صلى الله عليه وسلم: “لقنوا موتاكم شهادة أن لا إله إلا اللّٰه” أخرجه الجماعة إلا البخاري ونسب إلى أهل السنة والجماعة “وقيل لا يلقن في القبر ونسب إلى المعتزلة “وقيل لا يؤمر به ولا ينهى عنه” وكيفيته أن يقال: يا فلان أين فلان أذكر دينك الذي كنت عليه في دار الدنيا بشهادة أن لا إلهإلا الله وأن محمدا رسول الله” ولاشك أن اللفظ لا يجوز إخراجه عن حقيقته إلا بدليل تعيبنه يقول “موتاكم” حقيقة ونفى صاحب الكافي فائدته مطلقا ممنوع نعم الفائدة الأصلية منفية ويحتاج إليه لتثبيت الجنان للسؤال في القبر قال المحقق ابن الهمام: وحمل أكثر مشايخنا إياه على المجاز – أي من قرب من الموت – مبناه على أن الميت لا يسمع عندهم
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/363،رشیدیہ)
قولہ:(ولایلقن) ای لا یؤمر بہ وان فعل لا ینھی عنہ قال فی النھر الفائق وختلفوا فی تلقینہ بعد الموت فقیل یلقن لظاھر قولہ علیہ الصلاة والسلام لقنوا موتاكم شهادة أن لا إله إلا الله وقیل لا یلقن وھو ظاھر الرویة اذا المراد بموتاکم فی الحدیث من قرب من الموت
وفی اعلاء السنن:(8/211،ادارة القرآن)
قال فی شرح المنیة وانما لا ینھی عن التلقین بعد الدفن لانہ لا ضرر فیہ بل فیہ نفع فان المیت لیستانس بالذکر علی ما ورد فی الاثار،وبالجملة فالتلقین بعد الدفن یستحب فی نفسہ لورودہ بصیغة الامر فی الحدیث ولکن الآن قد صار شعار الروافض وترکہ اہل السنة ففیہ خوف التھمة فلا یلقن فانہ ﷺ قال اتقوا مواضع التھم. . . . . نعم یستحسن الآن ایضا اذا امن التھمة
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/252،قدیمی)
وکذافی فتح القدیر:(2/105،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/191،سعید)
وکذافی الشامیہ:(2/191،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(1/264،المنار)
وکذافی النھر الفائق:(1/380،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:42

میت کو دفن کرنے کے بعد میت کے گھر والے کھانے کا انتظام کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ اسکا کھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلے دن اہل میت کے قرابت داروں اور اہل محلہ پر حق ہے کہ وہ کھانے وغیرہ کانظم کریں اور عام طور پر ہوتا بھی ایسے ہی ہے،اس طرح کی سہولت کے ہوتے ہوئےاگر اہل میت خود اصرار کریں کہ ہم خود کھانے کا انتظام کریں گےتو مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہو گا،البتہ اگر میت کے گھر دور دراز سے مہمان آئے ہوئے ہوں اور دوسرے اقرباء کی طرف سے کھانے کا انتظام نہ ہو تو میت کے گھر والے ان کے لیے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1578،رشیدیہ)
أما صنع أهل البيت طعاماً للناس، فمكروه وبدعة لا أصل لها؛ لأن فيه زيادة على مصيبتهم، وشغلاً لهم إلى شغلهم، وتشبهاً بصنع أهل الجاهلية. وإن كان في الورثة قاصر دون البلوغ، فيحرم إعداد الطعام وتقديمه. . . . وان دعت الحاجۃ ذلك، جاز، فإنه ربما جاءهم من يحضر ميتهم من القرى والأماكن البعيدة، ويبيت عندهم ولا يمكنهم إلا أن يضيفوه
وفی الموسو عة الفقھیة:(12/290،علوم اسلامیہ)
ویکرہ ان یضع اہل المیت طعاما للناس لان فیہ زیادۃ علی مصیبتھم وشغلا علی شغلھم وتشبھاباہل الجاہلیۃ
وفی مجمع الأ نھر:(1/288،المکتبة المنار)
ویستحب لجیران اہل المیت والأقرباء تھیئۃ الطعام لھم بشبعھم یومھم ولیلتھم
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق للشیخ الشلبی:(1/246،امدادیہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیہ:(4/81،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/246،امدادیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/151،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/168،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(2/240،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:70

اگر کوئی شخص سردیوں میں فوت ہو تو سردی سے حفاظت کے لیے میت کے اوپر رضائی اور نیچے گدا بچھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

میت کے اوپر رضائی ڈالنا اور نیچے گدا وغیرہ بچھانا اس لیے درست نہیں ہے کہ اس سے میت کے بدن میں جلد خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے،البتہ اس کو بڑی چادر سے ڈھانپ دینا چاہیے۔

لما فی التنویر مع شرحه:(2/195،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
ويجرد) من ثيابه (كما مات).
وفی الشامیة:(قوله كما مات) لأن الثياب تحمى عليه فيسرع إليه التغير
وفی البحر الرائق:(2/301،رشیدیة کوئٹہ)
قالوا يجرد كما مات لأن الثياب تحمى عليه فيسرع إليه التغير
وکذافی مجمع الانھر:(1/265،المنار کوئٹہ)
وکذافی الھندیة :(1/157، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی غنیة المتملی:(577، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/236،امدادیة ملتان)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/366، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:112

نومولود دس منٹ بعد فوت ہوگیا ، اس کے کان میں اذان نہیں دی گئی ، گھر والوں نے سمجھا کہ چونکہ کان میں اذان نہیں دی گئی اس لیے اس کا غسل اور جنازہ کچھ نہیں اور انہوں نے اس کو دفن کردیا ، ابھی اس واقعہ کو سولی ھنٹے گزرے ہیں ، اب کیا کیا جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر غالب گمان ہو کہ اس کا جسم ابھی تک سلامت ہے تو صورت مسئولہ میں نماز جنازہ اس کی قبر پر پڑھا جائے ، اور غسل ساقط ہوگا۔

لما فی التنویر مع الدر:(2/224،سعید)
وان دفن) واھیل علیہ التراب بغیر صلاۃ او بھا بلاغسل او ممن لاولایۃ لہ( صلی علی قبرہ) استحسانا (مالم یغلب علی الظن تفسخہ)من غیر تقدیر والاصح
وفی الولوالجیة:1(155/،حرمین)
اذادفن قبل ان یغسل ویصلی علیہ یصلی عی قبرہ لانہ صار بحال تعذر غسلہ
وفی البدائع:(2/55،رشیدیہ)
والآن فات الامکان فسقطت الطھارۃ فیصلی علیہ اما قبل مضی ثلاثۃ ایام فلما روینا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی علی قبر تلک المراۃ
وکذافی المبسوط:(2/69،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(3/79،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:1

کوہ پیما جو پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیوں پر ریکارڈ بنانے کے لیے چڑھتے ہیں ، اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو یہ موت خودکشی متصور ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ لوگ جہاں اپنے فن (کوہ پیمائی) کے ماہر ہوتے ہیں وہاں اسباب سے پوری طرح لیس شریک ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد صحیح سلامت واپس آجاتے ہیں ۔ لہذا شرعی طور پر ایسی موت کو خودکشی نہیں کہا جاسکتا ، تاہم دینی و دنیاوی ہر دو لحاظ سے حقیقی نفع سے خالی کام میں اپنی جا ن خطرہ میں ڈالنا حماقت سے کم نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورةالبقرة/آیة،195)
وانفقوا فی سبیل اللہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین
وفی الفقہ الاسلامی:(4/2662،رشیدیہ)
لایخلو کل لھو غیر نافع من الکراھۃ ، لما فیہ تضییع الوقت والانشغال عن ذکر اللہ
وفی مشکوة المصابیح:(2/427،رحمانیہ)
عن علی بن الحسین قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ رواہ مالک واحمد
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(8/585،التجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(35/268،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدرالمختار:(9/576،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(1/361،قدیمی)
وکذافی ردالمحتار:(2/212،سعید)
وکذافی فتح الباری:(3/291،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:11

ایک شخص جماعت میں گیا ہوا تھا وہیں فوت ہوگیا،بعض حضرات اس کو شہید کہہ رہے ہیں ،کیا یہ شخص شہید ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جماعت میں فوت ہونے والے شخص کو حکماًشہید کہہ سکتے ہیں۔

لمافی المعجم الکبیر للطبرانی:(5/364،بیروت)
قال:ان شہداءامتی اذن لقلیل:المقتول فی سبیل اللہ شہید،والمرءیموت علی فراشہ فی سبیل اللہ شہید۔۔۔۔۔۔۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1589،رشیدیة)
شہید فی حکم الآخرۃفقط۔۔۔۔۔۔۔طالب العلم اذا مات علی طلبہ۔۔۔۔۔۔قال الحنابلۃ:ومن مات فی سبیل اللہ کمن مات فی الحج ومن مات فی طلب العلم
وکذافی ردالمحتار:(3/195،رشیدیة)
وکذافی تفسیر القرطبی:(3/364،موسسته التاریخ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(5/292،قدیمی)
وکذافی شرح الطیبی:(7/359،دارالکتب العلمیة)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/447،حقانیة)
وکذافی المرقاۃ(7/359، التجاریة)
وکذافی تفسیر المظہری:(1/578،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ ایضاً:(2/1590،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/3/1443/2021/11/3
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:112

مرد اور عورت کے کفن کی پیمائش کتنی ہونی چاہیے؟مفتیان عظام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

فقہاء کرام نے اصولی بات بیان کی ہےکہ ”اِزار “سر کے بالوں سے پاؤں تک ہو،”کُرتہ “گردن یا کندھوں سے پاؤں تک ہواور ”لِفافہ “سر اور پاؤں دونوں جانب سے کچھ زائد ہو،تا کہ دونوں جانب سے کفن کو باآسانی باندھا جا سکے اور عورت کے کفن میں ”دوپٹہ “اتنا بڑا ہو کہ جس سے سر اور چہرہ ڈھک جائے اور ”سینہ بند “سینہ سے لےکر رانوں تک ہو تو زیادہ اچھا ہے، ورنہ ناف تک بھی کافی ہے۔

لما فی البحر الرائق:(2/307 ،رشیدیہ)
والازار واللفافۃ من القرن الی القدم والقرن ھنا بمعنی الشعر واللفافۃ ھی الرداء طولاً(وبعد اسطرٍ) والقمیص من المنکب الی القدم بلا دخاریص۔۔۔۔۔وبلاجیب ولا کمین (وعلی الصفحۃ 310)واختلف فی عرض الخرقۃ فقیل ما بین الثدی الی السرّۃوقیل ما بین الثدی الی الرکبۃ کی لا ینتشر بالفخذین وقت المشی
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ:(1/437 ،حقانیہ)
فکفن السنۃ للرجال والنساءقمیص وازارولفافۃ والقمیص من اصل العنق الی القدم والازار من قرن الراءس الی القدم ومثلہ اللفافۃ ویزاد المرءۃ علی ذالک
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/66 ،دار احیاء التراث) وکذا فی البنایہ ،شرح الھدایہ:(3/232 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/339 ،الطارق) وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(1/369 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الشامیہ:(3/112 ،رشیدیہ) وکذا فی المبسوط للسرخسی:(2/60 ،دار المعرفہ) وکذا فی الفتاوی الھندیہ:(1/160 ،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1500 ،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد نوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/02/1443/2021/09/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:20

ایک مسلمان کسی غیر مسلم کی قبر کھود سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر اس کا ہم مذہب میں سے کوئی نہ ہو تو ایک مسلمان بھی غیر مسلم کو قبر میں دفن کر سکتا ہے مگر اس میں اسلامی وشرعی آداب وہدایات کی رعایت ضروری نہ ہو گی۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/160،رشیدیة)
وإن مات الکافرولہ ولی مسلم یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ ولکن یغسل غسل الثوب النجس ویلف فی خرقۃ ویحفر حفیرۃ من غیر مراعاۃ سنۃ التکفین واللحد ولا یوضع فیہ بل یلقی
وفی المحیط البرہانی:(3/95،دار إحیاء التراث)
قال محمد رحمہ اللہ تعالی فی الجامع الصغیر:کافر مات ولہ ولی مسلم قال یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ۔۔۔۔۔ولکن الغسل فی حق المسلم یکون تطہیرا وفی حق الکافر لا یکون تطہیرا۔۔۔۔۔ولما مات ابو طالب قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی رضی اللہ عنہ إذہب وغسلہ وکفنہ ووارہ ولا تحدث بہ حدثا حتی تلقانی ای لا تصل علیہ وفی (السیر الکبیر) سئل رجل ابن عباس رضی اللہ عنہماأنّ أمی ماتت نصرانیۃ فقال(اتبع جنازتہا واغسلہا وکفنہا ولا تصل علیہا وادفنہا۔۔۔۔۔)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(3/158،رشیدیة) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/29،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/160،رشیدیة) وکذا فی النہر الفائق:(1/399،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(3/77،فاروقیة ) وکذا فی البحر الرائق:(2/334،رشیدیة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التاویل:(4/87،دار الکتب)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/05/1443/2021/12/06
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:17

آج کل قبروں پر کتبے لگائے جاتے ہیں،جو ہر خواص وعام کے لیے رائج ہیں،یہ کتبے لگا نا کیسا ہے؟اس کی جائزاور ناجائز صورت کو نسی ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر کتبہ لگا نے کی ضرورت ہو مثلا قبر کے نشانات مٹ جانے کا یا اس کی اہانت کا اندیشہ وغیرہ تو پھر کتبہ لگانا جائز ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1553،رشیدیة)
وقال الحنففیۃ لا باس بالکتابۃ ان احتیج الیھاحتی لا یذھب الاثرولایمتھن لان النھی عنھاوان صح فقد وجدالاجما ع العملی بھا۔۔۔۔۔۔والخلاصۃ ان النھی عن الکتابۃ محمول علی عدم الحاجۃ وان الکتابۃ شئ من القرآن اوالشعراو اطراء مدح لہ ونحوذلک فھو مکروہ
وفی اللباب :(132،قدیمی)
“ولا باس بالکتابۃ ان احتیج الیھا حتی لایذھب الاثر ولا یمتض”
وکذا فی الشامیة:(2/238،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(133،زمزم)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(75،ایم،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(2/340،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجدید:(1/344،طارق)
وکذا فی غنیة المتملی:(599،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2022/6/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:131

تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا جائز ہے ،جبکہ ورثاء کے پاس آنے والوں کو بٹھانے کے لیے جگہ نہ ہو ؟

الجواب حامداومصلیا

اگر مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ میسر نہ ہو تو مسجد میں بیٹھا جاسکتا ہے ،لیکن آداب کاضرور خیال کیا جائے ورنہ مسجد میں بیٹھنا مکروہ ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1572،رشیدیة)
قال الحنفیۃ: لاباس بالجلوس للتعزیۃ فی غیر المسجد ثلاثۃ ایام واولہا افضلہا ،وقال فی الفتاوی الظھیریۃ :لاباس بہا لاہل المیت فی البیت او المسجد والناس یاتونھم ویعزونھم
وفی البحرالرائق :(2/237،رشیدیة)
قال البقالی ولاباس بالجلوس للعزاء ثلاثۃ ایام فی بیت او مسجد وقد جلس رسول اللہ لما قتل جعفروزید بن حارثۃ والناس یاتون ویعزونہ والتعزیۃ فی الیوم الاول افضل والجلوس فی المسجد ثلاثۃ ایام للتعزیۃ مکروہ وفی غیر ہ جاءت الرخصۃ ثلاثۃ ایام للرجال وترکہ احسن
وکذافی الشامیة:(2/241،ایم،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(617،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/346،الطارق)
وکذافی الہندیة:(1/167،رشیدیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(12/288،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:146