بیوی کی موت پر خاوند اسکو غسل دے سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خاوند اپنی مرحومہ بیوی کو غسل نہیں دے سکتا۔

لما فی الشامیہ: ( 3/106،رشیدیہ )
المرأۃ تغسل زوجھا،لان اباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح،فتبقی مابقی النکاح،والنکاح بعدالموت باق الیأن تنقضی العدۃ،بخلاف ما اذا ماتت فلا یغسلھا لانتھاء ملک النکاح لعدم المحل فصار أجنبیاً
وفی المبسوط: (2 /71 ،دارالمعرفہ )
ولو ماتت امرأۃ بین الرجال وفیھم زوجھا لم یکن لہ أن یغسلھا عندنا
وکذافی التاتارخانیہ: (3 /14 ،فاروقیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /35 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ : (1 /160 ،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر : (2 /109 ،رشیدیہ )
وکذافی البنایہ : (3 /212 ،رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ : (1 /429 ،حقانیہ )
وکذافی التجرید: (3 /1056 ،محمودیہ )
وکذافی محیط البرھانی: (3 /45 ،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ حفظہ اللہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444/9 /11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:74

جنبی اورحائضہ مردے کوغسل دے سکتے ہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جنبی اورحائضہ کامردےکوغسل دینامکروہ ہے۔

لما فی الشامیة: (2 /203 ،ایچ،ایم سعید )
ویکرہ ان یغسلہ جنب اوحائض
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /366 ،رشیدیة )
ینبغی ان یکون الغاسل جنبااوحائضااوکافراجازویکرہ
وکذافی فتح القدیر: (2 /114 ،رشیدیة ) وکذافی النھرالفائق: (1 /385 ،قدیمی )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /33 ،رشیدیة ) وکذافی الفتاوی النوازل: (120 ،حقانیة )
وکذافی البحرالرائق: (2 /306 ،رشیدیة ) وکذافی فتاوی قاضی خان : (1 /188، رشیدیة)
وکذا فی الھندیة: (1 /159 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:30

قبر پر ٹہنی گاڑنے کے مستحب اور بدعت ہونے میں کونسا قول راجح ہے؟ کیا قبر پر ٹہنی گاڑدینی چاہئے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

قبر پر ٹہنی گاڑنے کا جواز اگرچہ احادیث سے ملتا ہے، اور وہ یہ کہ پوری حیاتِ طیبہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ دو صحابہ کی قبر پر ٹہنی گاڑی تھی، مگر آج کل جس طرح اس کا اہتمام اور رواج ہوچکا ہے وہ یقیناً غیرشرعی ہے، اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/34الی 35،ط: قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:مر النبی صلی اللہ علیہ و سلم بحائط من حیطان المدینۃ اومکۃ فسمع صوت انسانین یعذبان فی قبورھما فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم یعذبان و مایعذبان فی کبیر ثم قال:بلیٰ کان احدھما لایستتر من بولہ و کان الآخر یمشی بالنمیمۃ، ثم دعا بجریدۃ فکسرھا کسرتین فوضع علی کل قبر منھما کسرۃ فقیل لہ:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! لم فعلت ھذا؟ قال:لعلہ ان یخفف عنھما مالم تیبسا
وفی الصحیح لمسلم:(1/141،ط: قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:مر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علی قبرین فقال اما انھما لیعذبان و مایعذبان فی کبیر اما احدھما فکان یمشی بالنمیمۃ و اما الآخر فکان لایستتر من بولہ، قال فدعا بعسیب رطب فشقہ باثنین ثم غرس علی ھذا واحدا و علی ھذا واحداثم قال:لعلہ ان یخفف عنھما مالم ییبسا
وکذافی بذل المجھود:(1-2/71-72،ط: قدیمی)
وکذافی المرقاہ شرح المشکوہ:(2/58،ط: مکتبہ التجاریہ)
وکذافی شرح الطیبی:(2/43،ط: دارالکتب العلمیہ)
وکذافی عون المعبود:(1/26،ط: قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(1/44،ط: مکتبہ المعارف)
وکذافی عمدہ القاری:(3-4/117،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی عمدہ القاری:(3-4/121،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی فتح الباری:(1/425،ط: قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1442/2021/04/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:148

نمازِ جنازہ سے فارغ ہوکر اگر کوئی شخص تدفین کے لئے قبرستان نہ جاسکتاہو تو کیا واپس آنے کے لئے ولی سے اجازت لینا ضروری ہے؟ اگر کوئی میت کے ولی کو بتائے بغیر آجائے تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

تدفین سے پہلے واپس جانے کے لئے میت کے لواحقین سے اجازت لینا مستحب اور اجازت لیے بغیر جانا جائز ہے لیکن ناپسندیدہ ہے۔

لما فی الھندیہ: (1/165، ط: رشیدیہ)
ولاینبغی ان یرجع من جنازۃ حتی یصلی علیہ و بعد ماصلی لایرجع الا باذن اھل الجنازۃ قبل الدفن و بعد الدفن یسعہ الرجوع بغیر اذنھم
و فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ: (1/451، ط: حقانیہ بشاور)
یکرہ الرجوع قبل الصلاۃ مطلقاً، و اما بعد الصلاۃ فلایکرہ الرجوع ان اذن بہ اھل المیت
و کذا فی الخانیہ (1/190، ط: رشیدیہ)
و کذا فی خلاصہ الفتاوی (1/225، ط: رشیدیہ)
و کذا فی غنیہ المتملی (593، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ (3/39، ط: فاروقیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (16/17، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی مصنف ابن ابی شیبہ (3/5، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)
و کذا فی مصنف عبدالرزاق (3/513، ط: المکتب الاسلامی بیروت)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (2/1544 الی 1545، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/02/19/06/07/1442
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:96

ایک دن کا بچے کا انتقال ہسپتال میں ہوا ،وہاں غیر مسلم (عیسائی)نرسوں نے اسے غسل دیا ،تو کیا یہی غسل کافی ہے یا دوبارہ غسل دیا جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ غسل بھی کافی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ سنت طریقے کے مطابق دوبارہ غسل دیا جائے ۔

لمافی البحرالرائق:(2/306،رشیدیہ)
فان کان الغاسل جنبا او حائضا او کافرا جاز
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/187،رشیدیہ)
ولم یشترط الجمھور شرطی الاسلام والنیۃ فیصح غسل الکافر
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/302،رشیدیة)
وکذافی الولوالجیة:(1/161،الحرمین شریفین)
وکذا فی المبسوط:(2/72،دار المعرفة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/34،فاروقیة)
وکذا فی الفتح القدیر:(2/113،رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/206،207،سعید)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/377،رشیدیة)
وکذا فی فتاوی النوازل:(1/120،حقانیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1442/2020/12/22
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:82

ہمارے علاقے میں قبر کی کھدائی کرتے وقت اس کی گہرائی دو سے تین فٹ ہوتی ہے،جس سے میت کو بارش کے دنوں میں پانی پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے اس کی گہرائی شرعا کتنی ہونی چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیا

قبر کی گہرائی نصف انسانی قد کے برابر ہو، البتہ بہتر یہ ہے کہ پورے قد کے برابر ہو،تاکہ میت کی حفاظت اچھی طرح ہو سکے۔

لما فی الشامیة:(3/164،رشیدیہ)
قوله مقدار نصف قامة إلخ) أو إلى حد الصدر، وإن زاد إلى مقدار قامة فهو أحسن كما في الذخيرة، فعلم أن الأدنى نصف القامة والأعلى القامة
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1549،رشیدیہ)
وعند الحنفية: مقدار نصف قامة، أو إلى حد الصدر، وإن زاد مقدار قامة فهو أحسن. فالأدنى نصف القامة، والأعلى القامة. وطوله: على قدر طول الميت، وعرضه: على قدر نصف طوله
وکذافی الھندیہ:(1/166،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(/275،المنار)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/452،حقانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/76،فاروقیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/270،قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق:(2/338،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(221،بشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(607،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/5/1442/2021/1/12
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 145

اگر کسی آدمی نے اپنی زندگی میں اپنی قبر کی جگہ اپنے گھر میں یا کھیت وغیرہ میں مختص کر رکھی ہو (کہ اسی جگہ دفن کیا جائے)تو کیا مرنے کے بعد وہاں دفنانا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

ایسی وصیت پر عمل کرنا ضروری نہیں ،بلکہ عام قبرستان میں دفن کرنا بہتر ہے۔

لما فی الھندیة:(6/95،رشیدیہ)
أوصى بأن يدفن في داره فوصيته باطلة إلا أن يوصي أن يجعل داره مقبرة للمسلمين، وفي الفتاوى والخلاصة ولو أوصى أن يدفن في بيته لا يصح ويدفن في مقابر المسلمين
وفی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(6/440،رشیدیہ)
ولو أوصى بأن يدفن في بيته لا يصح ويدفن في مقابر المسلمين
وکذافی البحر:(9/300،رشیدیہ)
وفي الظهيرية: ولو أوصى أن يكفن في ثوب كذا ويدفن في موضع كذا فالوصية في تعيين الكفن وموضع القبر باطلة
وکذا فی الشامیہ:(3/166،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/149،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4/236،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/428،بشری)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7484،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/321،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحاطوی علی مراقی الفلاح:(/612،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 58

ہمارے علاقے میں بعض لوگ میت کو رنگ دار کفن مثلا سبز وغیرہ میں کفناتے ہیں،کیا سفید رنگ کےکفن کے علاوہ دوسرے رنگوں میں میت کو کفنانا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

سفید رنگ کے علاوہ دوسرے رنگ کے کپڑےمیں بھی کفن دینا جائز ہے،البتہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ سفید کپڑے میں کفن دیا جائے،حضورﷺ نے فرمایا:تمہارے کپڑوں میں بہتر کپڑا سفید ہے،اس میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/207،رحمانیہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
وفی بدائع الصنائع:(2/39،رشیدیہ)
وأما صفة الكفن فالأفضل أن يكون التكفين بالثياب البيض لما روي عن جابر بن عبد الله الأنصاري عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه قال: «أحب الثياب إلى الله تعالى البيض فليلبسها أحياؤكم وكفنوا فيها موتاكم» وفي رواية قال: «البسوا هذه الثياب البيض فإنها خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم» ، وقال النبي: – صلى الله عليه وسلم – «حسنوا أكفان الموتى فإنهم يتزاورون فيما بينهم ويتفاخرون بحسن أكفانهم» ، وقال: – صلى الله عليه وسلم – «إذا ولي أحدكم أخاه ميتا فليحسن كفنه» والبرود والكتان والقصب كل ذلك حسن، والخلق إذا غسل والجديد سواء لما روي عن أبي بكر – رضي الله عنه – أنه قال: اغسلوا ثوبي هذين وكفنوني فيهما فإنهما للمهل والصديد، وإن الحي أحوج إلى الجديد من الميت، والحاصل أن ما يجوز لكل جنس أن يلبسه في حياته يجوز أن يكفن فيه بعد موته حتى يكره أن يكفن الرجل في الحرير والمعصفر والمزعفر، ولا يكره للنساء ذلك اعتبارا باللباس في حال الحياة
وکذافی کتاب الفقہ:(1/437،حقانیہ)
الحنفیۃ قالوا احب الاکفان ان تکون بالثیاب البیض سواء کانت جدیدۃ او خلقۃ،وکل مباح للرجال لبسہ فی حال الحیاۃ یباح التکفین بعد الوفاۃ،وکل ما لا یباح فی حال الحیاۃ یکرہ التکفین فیہ
وکذا فی مجمع الانھر:(1/267،المنار) وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/123،تجاریہ)
وکذا فی التنویر وشرحہ:(3/118،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق:(2/308،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1499،رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی الولولجیہ:(1/166،حرمین)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(576،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2020/12/31
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 111

ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد دو تین مرتبہ سانس لیکر فوت ہو گیا ، کیا اس کو غسل دیا جائے اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیا

صورت مسئولہ میں اس بچے کا عام انسانوں کی طرح کفن اور نماز جنازہ سب ہو گا۔

لما فی التنویر وشرحہ:(3/152،رشیدیہ)
ومن ولد فمات يغسل ويصلى عليه) ويرث ويورث ويسمى (إن استهل) بالبناء للفاعل: أي وجد منه ما يدل على حياته بعد خروج أكثره
وفی البحر:(2/329،رشیدیہ)
وفي الشرع أن يكون منه ما يدل على حياته من رفع صوت أو حركة عضو، ولو أن يطرف بعينه وذكر المصنف أن حكمه الصلاة عليه ويلزمه أن يغسل وأن يرث ويورث وأن يسمى، وإن لم يبق بعده حيا لإكرامه؛ لأنه من بني آدم
وکذافی الھندیہ:(1/163،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/392،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة:(1/274،قدیمی)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/10،فاروقیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/216،بشری)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1533،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/597،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/7/1442/2021/2/25
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 145

دفن کے بعد قبر پر سورت بقرہ کا پہلا اور آخری رکوع پڑھنے والی روایت کی سندی حیثیت تفصیلاً بتلا دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ روایت مرفوعاً موقوفاً دونوں طرح سے منقول ہے۔اس کی بعض اسناد قوی ہیں اور بعض میں کچھ ضعف ہے ،لیکن تعدد طرق کی وجہ سے یہ ضعف بھی مضر نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(1/151،رحمانیہ)
وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة. رواه البيهقي في شعب الإيمان. وقال: والصحيح أنه موقوف عليه
وفی المعجم الکبیرللطبرانی:(6/255،بیروت)
حدثنا أبو شعيب الحراني، ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي، ثنا أيوب بن نهيك، قال: سمعت عطاء بن أبي رباح، يقول: سمعت ابن عمر، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:إذا مات أحدكم فلا تحبسوه، وأسرعوا به إلى قبره، وليقرأ عند رأسه بفاتحة الكتاب، وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره
وفی مجمع الزوائد:(3/124،بیروت)
وعن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج قال: قال لي أبي: يا بني إذا مت فالحد لي لحدافإذا وضعتني في لحدي فقل: بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم شن التراب علي شناثم اقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة وخاتمتهافإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك،رواه الطبراني في الكبير، ورجاله موثقون
وفی الشامیة:(2/ 237،سعید)
وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها
وفی اعلاء السنن:(8/342،ادارة القراٰن)
رواہ البیھقی فی شعب الایمان وقال:والصحیح انہ موقوف علیہ وفی الاذکار للنووی وروینافی سنن البیھقی باسناد حسن”ان ابن عمر استحب ان یقرا علی القبر بعد الدفن اول سورۃ البقرۃ وخاتمتھا” وھو موقوف فی حکم المرفوع فانہ غیر مدرک بالرای
وکذافی اٰثار السنن:(338،امدادیہ) وکذافی المعجم الکبیر:(8/219،بیروت)
وکذافی شعب الایمان:(7/16،بیروت) وکذافی کنز العمال:(15/310،رحمانیہ)
وکذافی تھذیب الکمال فی اسماء الرجال:(10/716،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:72